قصیدہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام
(جلسہ سالانہ برطانیہ کے اختتامی اجلاس میں پڑھے جانے والے اشعار)
بِكَ الْحَوْلُ يَا قَيُّوْمُ يَا مَنْبَعَ الْهُدٰى فَوَفِّقْ لِي أَنْ أُثْنِيْ عَلَيْهِ وَأَحْمَدَا
اے قیوم! اے سرچشمۂ ہدایت! تجھ ہی سے طاقت ملتی ہے۔ پس مجھے توفیق دے کہ میں تیری ثنا کروں اور حمد کروں۔
تَتُوْبُ عَلٰى عَبْدٍ يَّتُوْبُ تَنَدُُّمًا وَتُنْجِيْ غَرِيْقًا فِي الضَّلَالَةِ مُفْسِدَا
تو رجوع برحمت ہوتا ہے اس بندے پر جو ندامت سے توبہ کرے اورتو ہی مفسد کو جو ضلالت میں غرق ہو ،نجات دیتا ہے۔
كَبِيْرُ الْمَعَاصِيْ عِنْدَ عَفْوِكَ تَافِہٌ فَمَا لَكَ فِيْ عَبْدٍ اَلَمَّ تَرَدُّدَا
تیرے عفو کے سامنے بڑے سے بڑا گناہ بھی ایک معمولی بات ہے۔ پس تیرا کیا سلوک ہو گا اس بندے سے جس نے حالتِ تردّد میں چھوٹا گناہ کیا۔
تُحِيْطُ بِكُنْهِ الْكَائِنَاتِ وَسِرِّهَا وَتَعْلَمُ مِنْهَاجَ السِّوٰی وَمُحَدَّدَا
تو نے کائنات کی حقیقت اور اس کے بھید کا (علم سے) احاطہ کر رکھا ہے اور تو سیدھے اور ٹیڑھے راستے کو جانتا ہے۔
وَنَحْنُ عِبَادُكَ يَا اِلٰهِيْ وَمَلْجَأِىْ نَخِرُّ أَمَامَكَ خَشْيَةً وَّتَعَبُّدًا
اے میرے معبود اور اے میری پناہ! ہم تیرے بندے ہیں۔ ہم تیرے آگے خشیت اور عبودیت سے سجدے میں گرتے ہیں۔
فَسُبْحَانَ مَنْ خَلَقَ الْخَلَائِقَ كُلَّهَا وَجَعَلَ كَشَيْءٍ وَاحِدٍ مُّتَبَدِّدَا
پاک ہے وہ ذات جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور منتشر (ذرّات) کو ایک شَے کی طرح بنا ڈالا۔
غَيُوْرٌ يُّبِيْدُ الْمُجْرِمِيْنَ بِسُخْطِهٖ غَفُوْرٌ يُّنَجِّي التَّائِبِيْنَ مِنَ الرَّدٰى
وہ غیرت مند ہے، مجرموں کو وہ اپنے غضب سے ہلاک کر دیتا ہے ،وہ غفور ہے توبہ کرنے والوں کو ہلاکت سے نجات دیتا ہے۔
فَلَا تَأْمَنَنْ مِنْ سُخْطِهٖ عِنْدَ رُحْمِهٖ وَلَا تَيْئَسَنَّ مِنْ رُّحْمِهٖ إِنْ تَشَدَّدَا
اس کی رحمت کے وقت اس کے غضب سے بے خوف نہ ہو اور نہ کبھی اس کے رحم سے ناامید ہو نا اگر وہ سختی کرے۔
وَحِيْدٌ فَرِيْدٌ لَاشَرِيْكَ لِذَاتِهٖ قَوِيٌّ عَلِيٌّ فِي الْكَمَالِ تَوَحَّدَا
وہ واحد و یگانہ ہے ، اس کی ذات میں کوئی شریک نہیں۔ وہ طاقتور ہے ،برتر ہے ،کمال میں یکتا ہے۔
(کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۸۹تا ۹۵)