خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 10؍جولائی 2026ء

’’ یہ بات ہر طرح ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے۔ ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقیناً قابل تحسین ہے۔ صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے جان دے دی مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔ مَیں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور ان کے جذب اور کھینچ لینے والی شخصیت کو پیش کیا‘‘ (پادری والٹر (Walter)ایم اے ،مصنف کتاب The Ahmadiya Movement)

آپ علیہ السلام کی زندگی میں جُودو عطا کی ایک اَور شان بھی جلوہ گرہے جو شفاعت و سفارش کا رنگ رکھتی ہے۔بعض اوقات آپؑ کی خدمت میں کوئی ایسا سائل آتا جس کے سوال کو پورا کرنا آپؑ کے اختیار میں نہ ہوتا بلکہ اس کا تعلق دوسروں سے ہوتا۔اس حالت میں آپؑ اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ اس کے فائدے کے لیے ایسے لوگوں کو بھی سپارش کر دیتے جن کو اپنی کسی ذاتی ضرورت کے لیے بھی کبھی کچھ نہ کہتے۔… یہ ایک ایسی کریمانہ اور مخلصانہ شان ہے کہ بہت ہی کم دنیا میں پائی جاتی ہے

یہ واضح امر ہے کہ مرزا امام الدین صاحب کی دشمنی اور عداوت کوئی مخفی امر نہ تھا مگر جب بھی نیکی اور احسان کرنے کا معاملہ آیا تو اس عداوت کا کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خیال بھی نہیں آیا۔ اور اسے فائدہ پہنچانے میں کبھی تامّل نہیں کیا

آپؑ ہر طرح سے مخلوقِ خدا کی نفع رسانی کے لئے آمادہ رہتے تھے اور داد و دہش اور شفاعت و سپارش سے کبھی دریغ نہ فرماتے۔
باوجود ان باتوں کے جہاں آپؑ دیکھتے کہ کچھ دینا مسرفانہ رنگ رکھتا ہے آپؑ اس سے پرہیز فرماتے

آپؑ کی عام عادت یہ تھی کہ جو کچھ کسی کو دیتے تھےوہ کسی نمائش کے لئے نہ ہوتا تھا بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے نقطۂ خیال سے۔ اوراس لئے عام طور پر آپؑ نہایت مخفی طریقوں سے یہ عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو تحریک کرنے کے لیے اور عملی سبق دینے کے واسطے علانیہ بھی کرتے تھے

متعدد بار ایسا ہوتا اور مخفی طور پر آپؑ عموماً حاجت مند لوگوں سے سلوک کرتے رہتے اور اس میں کسی دوست دشمن، ہندو یا مسلمان کا امتیاز نہ تھا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھا کہ بعض اوقات وہ کسی کی حاجت اور ضرورت کااحساس کر کے اس کے سوال یا اظہار کے منتظر نہ رہتے تھے بلکہ خود بخود ہی پیش کر دیا کرتے تھے

حضرت اقدس ؑکو اپنے خدام کی دلداری کا بہت بڑا خیال رہتا تھا اور حضورؑ اس کے لیے خود اپنی ذات سے ہر قسم کی قربانی اور ایثار کا عملاً اظہار فرماتے تھےکام آپؑ کرواتے تھے تو کام کرنے والوں کی سہولت کا بھی خیال رکھتے تھے

یہ آپؑ کے چند سخاو احسان کے واقعات ہیں جن کا نمونہ آپؑ نے اپنے آقا ؐکی اتباع میں دکھایا اور اس احسان و سخا سے اپنے اور غیر حتیٰ کہ دشمن بھی فیض یاب ہوتے رہے

امام الزمان سیدناحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی شفقتوں اورجُود و سخا کے ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 10؍جولائی 2026ء بمطابق 10؍وفا1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی سیرت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ

آپ علیہ السلام کی زندگی میں جُودو عطا کی ایک اَور شان بھی جلوہ گرہے جو شفاعت و سفارش کا رنگ رکھتی ہے۔ بعض اوقات آپؑ کی خدمت میں کوئی ایسا سائل آتا جس کے سوال کو پورا کرنا آپؑ کے اختیار میں نہ ہوتا بلکہ اس کا تعلق دوسروں سے ہوتا۔اس حالت میں آپؑ اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ اس کے فائدے کے لیے ایسے لوگوں کو بھی سپارش کر دیتے جن کو اپنی کسی ذاتی ضرورت کے لیے بھی کبھی کچھ نہ کہتے۔

یعنی دوسرے لوگوں کا کام تو کروا لیتے تھے لیکن اپنا کام کبھی اس شخص سے نہیں کروایا۔ لکھتے ہیں کہ اور

یہ ایک ایسی کریمانہ اور مخلصانہ شان ہے کہ بہت ہی کم دنیا میں پائی جاتی ہے۔

پھر آپؓ مرزا امام الدین صاحب کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ کوئی مخفی امر نہیں کہ مرزا امام الدین صاحب اس سلسلے کے سخت دشمن تھے اور حضرتؑ کے خاندان کے ساتھ ان کو عداوت تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی عداوت کو دنیوی معاملات میں ہمیشہ نظر انداز کر دیتے تھے۔ دین کی حد تو ٹھیک تھی۔ آپؑ دین کے معاملے میں عداوت برداشت نہیں کرتے تھے لیکن دنیا کے معاملات میں آپؑ نے کبھی پرواہ نہیں کی۔ یعنی ان سے حسن سلوک میں کبھی بھی آپؑ نے فرق نہیں کیا۔وہ بسا اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مالی مدد لے لیتے اور باوجود ان احسانات کے مخالفت میں بھی لگا رہتا تھا اور اس طرح پر تلخ دشمن تھا۔

ایک مرتبہ اس نے ایک گھوڑا فروخت کرنا تھا اور اس کے لیے اس نے بہتر موقع یہ تجویز کیا اس گھوڑے کو جموں لے جاوے اور حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے پیش کرے تاکہ اس پر اسے ایک معقول رقم مل جائے۔ وہاں راجوں مہاراجوں سے ان کی واقفیت تھی وہ اس کو خرید لیں۔ اس تجویز کو زیرِ نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خود مرزا امام الدین نے درخواست کی کہ آپؑ ایک سپارشی خط حضرت حکیم الامت کے نام لکھ دیں۔ آپؑ نے اس درخواست کو ردّ نہ فرمایا اور بلاتامّل حضرت مولوی صاحبؓ کے نام ایک سپارشی خط دے دیا۔ اور لکھتے ہیں کہ

یہ واضح امر ہے کہ مرزا امام الدین صاحب کی دشمنی اور عداوت کوئی مخفی امر نہ تھا مگر جب بھی نیکی اور احسان کرنے کا معاملہ آیا اس عداوت کا کبھی خیال بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں آیا۔ اور اسے فائدہ پہنچانے میں کبھی تامّل نہیں کیا۔

(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 296 تا 297)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خط حضرت مولوی نور الدینؓ  کو لکھا وہ تھا۔’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم ‘‘کے بعد کہ’’ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ تعالیٰ۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اس خط کی تحریر سے مطلب آپ کو ایک تکلیف دینا ہے۔ امید ہے کہ آپ توجہ اور سعی سے دریغ نہ فرمائیں گے‘‘ یعنی بڑی توجہ کی تاکید کی ہے ’’اور وہ یہ ہے کہ مرزا امام الدین صاحب جو میرے ایک چچازاد بھائی ہیں ایک بیش قیمت گھوڑا ان کے پاس ہے جو خوش رفتار اور راجوں رئیسوں کی سواری کے لائق ہے۔ اب وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں چونکہ ایسے گراںقیمت گھوڑوں کو عام لوگ خرید نہیں سکتے اور رئیس خود ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں لہٰذا مکلّف ہوں کہ آپ برائے مہربانی رئیس جموں یا اس کے کسی بھائی کے پاس تذکرہ کر کے جدوجہد کریں کہ تا مناسب قیمت سے وہ گھوڑا خرید لیں۔ اگر خریدنے کا ارادہ ان کی طرف سے پختہ ہو جائے تو گھوڑا آپ کی خدمت میں بھیجا جاوے۔ ضرور کوشش بلیغ کے بعد اطلاع بخشیں۔‘‘ بہت کوشش کریں۔ ’’والسلام۔ خاکسار مرزاغلام احمد‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 297 تا 298)

1888ء کا یہ واقعہ ہے۔اس وقت دشمنی تو مرزا امام الدین کی تھی لیکن ابھی آپؑ کادعویٰ نہیں تھا۔ تو بہرحال اس طرح بھی آپؑ نے اپنے اس دشمن بھائی کی مدد کی۔

حضرت شیخ محمد نصیب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں کسی زمانے میںان سکھ ترکھانوں کے مکان میں کرایہ پر رہتا تھا جو مرزا نظام الدین صاحب سربراہ نمبردار کے مکان کے پاس ہی تھے۔ کسی بات پر مالکہ مکان نے میرے ساتھ بے جا جھگڑا کیا اور مجھے مکان خالی کرنے کو کہا۔ مَیں نے کہا کہ جب سٹامپ لکھا ہوا ہے، معاہدہ ہوا ہوا ہے۔ باقاعدہ کرایہ ادا کر رہا ہوں تو مَیں مکان خالی نہیں کرتا۔ اس نے اس معاملے میں مرزا نظام الدین صاحب سے امداد لینی چاہی اور وہ بار بار ایک شخص خیر الدین صاحب جو چوکیدار تھے اس کے ذریعے سے وہ مجھے بلاتے۔کبھی تو مَیں چلا جاتا اور کبھی نہیں جاتا تھا۔ بہرحال وہ مجھےڈرا کر کہ فساد ہو جائے گا مکان خالی کرانا چاہتے تھے اور مَیں خالی نہیں کرتا تھا۔ اس پر مرزا صاحب نے شیخ یعقوب علی صاحبؓ سے امداد چاہی۔ مرزا نظام الدین صاحب نے شیخ یعقوب علی صاحبؓ  کو کہا تو شیخ صاحبؓ نے مجھے کہا بہتر ہے مکان خالی کر دو۔ ان دنوں میرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی تھی۔مکان تبدیل کرنا مشکل تھا۔مَیں نے اس کا ذکر حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ سے کیا۔ مولوی صاحبؓ، شیخ یعقوب علی صاحبؓ  کو ناراض ہوئے اور لکھا کہ آپ اسے کوئی مکان پہلے لے دیں پھر خالی کرائیں۔ شیخ صاحبؓ مولوی صاحبؓ  کی ناراضگی پر بالکل خاموش ہو گئے اور مرزا نظام الدین نے تقاضا جاری رکھا۔ کہتے ہیں آخر ایک روز مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سارا حال لکھا۔آپؑ کو بہت افسوس ہوا اور کہا کہ مجھے پڑھ کر سخت رنج ہوا ہے۔ اگر میرے پاس کوئی مکان خالی ہوتا تو ضرور دے دیتا۔ آئندہ خیال رکھوں گا۔اور ساتھ پھرآپؑ نے فرمایا کہ آج نماز ظہر کے لیے جب آؤں اور شیخ یعقوب علی صاحبؓ  بھی آئے ہوں تو مجھے یاد کرانا۔ ان دنوں مسجد مبارک کی توسیع ہو رہی تھی اور نماز اس مکان میں پڑھی جاتی تھی جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  کا مکان تھا۔ کہتے ہیں جب مَیں نماز ظہر کے لیے گیا تو حضورؑ تشریف لائے۔مَیں نے ابھی کچھ نہیں کہا۔ مجھے دیکھ کر خود ہی فرمایا کہ مرزا نظام الدین کے ہاں سے ایک عورت آئی تھی۔مَیں نے پیغام دے بھیجا ہے انہیں۔ اب تمہیں تکلیف نہیں ہوگی۔چنانچہ مجھے بعد میں کسی نے کچھ نہیں کہا اور مَیں کافی دیر تک اس مکان میں رہا جب تک کہ مجھے صدر انجمن احمدیہ نے کوارٹر الاٹ نہیں کر دیا۔جب مَیں نے انجمن کی طرف سے مکان ملنے پر خالی کیا تو اس وقت پھر اس عورت کی بالکل کایا پلٹ گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر کوئی احسان کیا تو اب مجھے جانے نہیں دیتی تھی اور زار وزار رو رہی تھی کہ کیوں جاتے ہو۔ یا تو لڑائی کی حالت تھی یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رویّے کی وجہ سے اور اس پر آپؑ نے جو احسان کیا اس کی وجہ سے وہ بالکل ہی بدل گئی۔ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑکی اپنے ایک ادنیٰ خادم سے یہ مروّت و مہربانی حالانکہ مرزا نظام الدین صاحب کے ساتھ کسی قسم کی بول چال بھی نہیں تھی، نہ آنا جانا تھا۔ سب جانتے ہیں بالکل قطع تعلق تھا لیکن پھر بھی آپؑ کا یہ احسان مجھ پہ ہوا۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد5 صفحہ445-446روایت حضرت شیخ محمد نصیب صاحبؓ)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓکہتے ہیں کہ ’’مرزا محمد بیگ خلف مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیارپوری کا واقعہ بھی درج کر دیتا ہوں۔ مرزا محمد بیگ کے خاندان کے ساتھ بھی تعلقات اچھے نہ تھے اور یہ تعلقات کی ناخوشگواری محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے تھی‘‘ یہ احمد بیگ اور محمدی بیگم کا خاندان تھا جو سخت بے دین تھا اور سلسلے کا مخالف تھا۔ ’’مرزا محمد بیگ نے جموں جا کر ملازمت کرنی چاہی اور حضرت مسیح موعودؑ سے سپارش چاہی کہ حضرت حکیم الامت کے نام سپارشی خط دے دیا جاوے۔ حضرتؑ نے بلاتأمل مندرجہ ذیل خط لکھ دیا اس لئے کہ آپؑ کسی جائز سوال کو ردّ نہ کرتے تھے۔‘‘ اس میں لکھا کہ ’’محمد بیگ لڑکا جو آپ کے پاس ہے آنمکرم کو معلوم ہوگا اس کا والد مرزا احمد بیگ بوجہ اپنی بے سمجھی اور حجاب کے اس عاجز سے سخت عداوت اور کینہ رکھتا ہے… کچھ مضائقہ نہیں کہ ان لوگوں کی سختی کے عوض میں نرمی اختیار کر کے اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ…‘‘ یعنی اس طریق سے جو بہترین ہے ہٹا دے، ’’کا ثواب حاصل کیا جائے۔‘‘ جواب احسن طریقے سے اس کو دوں، اس کے ساتھ نیکی کروں۔ تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم پہ چل کے اس کا ثواب کیوں نہ حاصل کروں۔ ’’اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خط اس مضمون کے پہنچے ہیں کہ مولوی صاحب پولیس کے محکمہ میں مجھ کو نوکر کرا دیں۔ اس خط کے بعد حضرت مولوی صاحبؓ نے اس کو پولیس میں نوکر کروا دیا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ

آپؑ ہر طرح سے مخلوقِ خدا کی نفع رسانی کے لئے آمادہ رہتے تھے اور داد و دِہَش‘‘ یعنی فیاضی ’’اور شفاعت و سپارش سے کبھی دریغ نہ فرماتے۔ باوجود ان باتوں کے جہاں آپؑ دیکھتے کہ کچھ دینا مُسرفانہ رنگ رکھتا ہے آپؑ اس سے پرہیز فرماتے‘‘ اسراف نہیں ہونا چاہیے۔

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 298، 299)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ ہی لکھتے ہیں کہ ’’قادیان میں ایک شخص نہال چند ( نہالا) ‘‘ کہتے تھے اسے ’’بَہَارُو رَاج ایک برہمن تھا۔ ایک شخص نہال چند ’’بہارو راج ایک برہمن تھا، ہندو تھا‘‘ اپنی جوانی کے ایام میں وہ ایک مشہور مقدمہ باز تھا۔ آخر عمر تک قریباً اس کی ایسی ہی حالت رہی۔وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت اقدسؑ کے خاندان کے ساتھ عموماً مقابلہ اور شرارتیں کرتے رہتے تھے۔ پھر سلسلہ کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہ رہتا تھا۔ اخیر عمر میں اس کی مالی حالت نہایت خراب ہو گئی اور یہاں تک کہ بعض اوقات اس کو اپنی روزانہ ضروریات کے لئے بھی مشکلات پیش آتی تھیں۔‘‘ کھانا پینا مشکل ہو گیا۔’’ اس نے ایک مرتبہ حضرت اقدسؑ کے دروازے پر آ کر ملاقات کی خواہش کی اور اطلاع کرائی۔‘‘ دشمن تھا لیکن ایسے لوگ تو پھر بہرحال شرم نہیں رکھتے۔وہ آپؑ کے در پہ حاضر ہو گیا۔ ملاقات کی خواہش کی اطلاع کروائی گئی ’’حضرت صاحبؑ فوراً تشریف لے آئے۔ اس نے سلام کر کے اپنا قصہ کہنا شروع کیا۔ حضرت اقدسؑ نے نہ صرف تسلی دی بلکہ پچیس روپے کی رقم لا کر اس کے ہاتھ میں دے دی اور فرمایا کہ فی الحال اس سے کام چلاؤ پھر جب ضرورت ہو مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ اس کے بعد اس شخص کامعمول ہو گیا کہ وہ مہینے دو مہینے کے بعد آتا اور ایک معقول رقم آپؑ سے اپنی ضروریات کے لئے لے جاتا۔ وہ نہ صرف حضرت اقدسؑ سے لیتا بلکہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اس نے بطور قرض ایک معقول رقم ایک خاص وعدہ پر لی تھی۔

جب وہ وعدہ کا وقت گزر گیا تو حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے اس سے مطالبہ کرایا۔مگر اس نے یوں ہی سرسری جواب دے کر ٹال دیا۔ آخر حضرت خلیفہ اوّلؓ نے‘‘ یہ کہتے ہیں’’ مجھے فرمایا (راوی)کہ مَیں اس سے مطالبہ کروں۔ مَیں نے جب اس کو کہا تو اس نے مندرجہ بالا واقعہ‘‘ جو ابھی بیان ہوا ہے وہ ’’اپنا بیان کیا اور کہا کہ ’’مولوی صاحب بار بار آدمی بھیجتے ہیں مرزا جیؑ تو مجھے ہمیشہ روپیہ دیتے ہیں اور اس سے میرا گزارا چلتا ہے۔‘‘ مَیں نے آ کر حضرت خلیفہ اوّلؓ سے واقعات عرض کئے تو فرمایا کہ اچھا اب اس کو نہ کہنا۔‘‘ حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ نے بھی پھر اس سے نہیں مانگا۔

’’اسی طرح ایک شخص پنڈت بیج ناتھ بھی تھا ‘‘کہتے ہیں ’’…مجھے معلوم ہے کہ بعض اوقات حضرتؑ نے اس کے ساتھ بھی سلوک کیا‘‘حالانکہ اس کا اچھا رویّہ نہیں تھا۔

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 289، 290)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ اپنی انگریزی کتاب احمدیہ موومنٹ میں پادری والٹر(Walter) ایم اے جو وائی ایم سی اے (YMCA)کے سیکرٹری تھے، پادری تھے انہوں نے کتاب ’’احمدیہ موومنٹ‘‘ لکھی۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ رائے لکھی کہ

’’ یہ بات ہر طرح ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے۔ ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقیناً قابل تحسین ہے۔ صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے جان دے دی‘‘

افغانستان کے شہداء کا ذکر ہے اس نے بھی ان کا ذکر کیا۔ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رویے کی وجہ سے ہی تھا

’’مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔ مَیں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور ان کے جذب اور کھینچ لینے والی شخصیت کو پیش کیا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ 1 صفحہ 268 ، 269 روایت 297)

عمومی مجالس میں بھی آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ مخالفین کابھی خرچ اٹھانے کو تیار ہوں اگر وہ آئیں اور اپنے شبہات دُور کرنے کے لیے مجھ سے سوال کریں۔ چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؑ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ میاں فخرالدین صاحب ملتانی نے مجھے بتایا کہ ’’حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ایک دفعہ میرے والد یہاں آئے۔ وہ سخت مخالف اور بدگو تھے۔ اور یہاں آ کر بھی بڑی تیزی کی باتیں کرتے رہے اور وہ جب ملتان میں تھے تو کہتے تھے کہ مَیں اگر کبھی مرزا سے ملا تو (نعوذ باللہ) اس کے منہ پر بھی لعنتیں ڈالوں گا۔ یعنی سامنے بھی یہی کہوں گا جو یہاں کہتا ہوں۔خیر مَیں انہیں حضرت صاحبؑ کے پاس لے گیا۔ حضورؑ جب باہر تشریف لائے تو وہ‘‘ کہتے ہیں میرے والد اس وقت تو بڑے ’’ادب سے کھڑے ہو گئے اور پھر خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئے۔ اس وقت مجلس میں اَور لوگ بھی تھے۔ حضورؑ نے بیٹھے بیٹھے‘‘ بغیر کوئی سوال کے ’’تقریر فرمانی شروع کی اور کئی دفعہ کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس آئیں اور ہماری باتیں سنیں اور ہم سے سوال کریں اور ہم ان کے واسطے خرچ کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن اوّل تو لوگ آتے نہیں اور اگر آتے ہیں تو خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور پھر پیچھے جا کر باتیں کرتے ہیں۔ غرض حضورؑ نے کھول کھول کر تقریر کی اور تبلیغ فرمائی اور انہیں بات کرنے پر کئی دفعہ ابھارا۔ میرا والد بڑا چرب زبان ہے مگر ان کے منہ پر گویا مہر لگ گئی اور وہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکے۔ وہاں سے اٹھ کر مَیں نے ان سے پوچھا کہ آپ وہاں بولے کیوں نہیں؟…‘‘ تو انہوں نے کچھ نہیں کہا بس ٹال دیا باتوں باتوں میں۔ بہرحال ’’میاں فخر الدین صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحبؑ نے تقریر میں میرے والد کو مخاطب نہیں کیا تھا بلکہ عام تقریر فرمائی تھی‘‘ لیکن بدقسمتی سے میاں فخر الدین صاحب بھی خلافت ثانیہ میں جماعت چھوڑ گئے تھے۔

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ 1 صفحہ 54، 55روایت 74)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ صفیہ بیگم بنت مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی جو نصرت ہائی سکول میں معلمہ ہیں انہوں نے مجھے بیان کیا کہ ’’ایک دفعہ ایک سوالی دریچے کےذریعےکُرتا مانگتا تھا۔‘‘ ایک سوالی آیا۔ اس نے کُرتا مانگا۔ ’’حضرت صاحبؑ نے اپنا کُرتا اتار کر دریچہ سے فقیر کو دے دیا۔ والد صاحب مرحوم نے فرمایا‘‘ وہ دیکھ رہے تھے ’’کہ اللہ اللہ!کیسی فیاضی فرما رہے ہیں۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 2 حصہ 5 صفحہ 311 روایت 1565)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم جو مولوی عبدالرحمان صاحب فاضل جٹ کی خوشدامن تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمارا تمام خرچ روٹی کپڑے کا حضورؑ ہی دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضورؑ نے ایک کپڑے کی واسکٹ اپنے اور ایک حافظ حامد علی صاحب کے لیے بنوائی۔ ایک ہی طرح کی واسکٹ۔ سردی کا موسم تھا۔مَیں نے حافظ صاحب کو کہا کہ مَیں صبح جب نماز تہجد کے لیے اٹھتی ہوں اور سحری پکاتی ہوں تو مجھے سردی لگتی ہے۔ حافظ صاحب نے گرم صدری جو حضورؑ نے ان کو بنا کے دی تھی مجھے دے دی کہ تم پہن لیا کرو۔ جب مَیں اس کو پہن کر گئی اور انگیٹھی میں، چولہے میں آگ جلا رہی تھی تو حضورؑ آگئے۔ انہوں نے پوچھا رسول بی بی !کیا یہ میری واسکٹ چرا لی ہے۔ مذاقاً کہا۔ تومَیں نے عرض کیا کہ

حضور !سب کچھ آپ کا ہی ہے۔آپ کا ہی کھاتے ہیں ،آپ کا ہی پہنتے ہیں۔ اس پر حضورؑ ہنسے۔ آپؑ نے فرمایا خوب کھاؤ اور پیو۔

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 حصہ 5 صفحہ 288 روایت 1517 )

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ

’’آپؑ کی عام عادت یہ تھی کہ جو کچھ کسی کو دیتے تھےوہ کسی نمائش کے لئے نہ ہوتا تھا بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے نقطۂ خیال سے اور اس لئے عام طور پر آپؑ نہایت مخفی طریقوں سے یہ عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو تحریک کرنے کے لیے اور عملی سبق دینے کے واسطے علانیہ بھی کرتے تھے۔

مخفی طور پر عطاکرنے میں آپؑ کا یہ بھی ایک طریق تھا کہ بعض اوقات ایسے طور پر دیتے تھے کہ خود لینے والے کو بھی بمشکل علم ہوتا تھا۔ اس سلسلہ میں‘‘ کہتے ہیں ’’مَیں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔منشی محمد نصیب صاحب (جو آج کل قادیان سے قطع تعلق کر چکے ہیں)‘‘ پیچھے ہٹ گئے بعد میں’’ ایک یتیم کی حیثیت سے قادیان آئے تھے اور حضرت اقدسؑ کے رحم و کرم سے انہوں نے قادیان میں رہ کر تعلیم پائی۔ ان کے اخراجات اور ضروریات کا سارا بار سلسلہ پر تھا۔ جب وہ جوان ہو گئے اور انہوں نے شادی کر لی تو وہ لاہور ایک اخبار کے دفتر میں محرر ہوئے اور پھر دفتر بدر قادیان میں آ کر بارہ روپے ماہوار پر ملازم ہوئے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکو جب اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا بیٹا نصیر احمد… عطا فرمایا۔‘‘ یہ بعد میں فوت ہو گیا تھا ’’تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مرحوم نصیر احمد صاحب کے لئے ایک اَنّا کی ضرورت پیش آئی‘‘ دائی کی۔ پالنے والی عورت کی۔ کہتے ہیں ’’مَیں نے شیخ محمد نصیب صاحب کو تحریک کی کہ ایسے موقع پر تم اپنی بیوی کی خدمات پیش کر دو۔ ہم خُرما و ہم ثواب کا موقع ہے‘‘ یعنی وہ کام جس میں لذّت بھی ہے اور ثواب بھی ہے۔ تمہیں دوہرا فائدہ ہوگا۔ ’’میرے مشورہ کو شیخ صاحب نے قدر و عزّت کی نظر سے دیکھا اور ان کو یہ موقعہ مل گیا اور ان کی بیوی صاحبزادہ نصیر احمد صاحب کودودھ پلانے پر مامور ہو گئیں۔ اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باتوں ہی باتوں میں دریافت فرمایا کہ شیخ محمد نصیب صاحب کو کیا تنخواہ ملتی ہے۔جب آپ ؑکو معلوم ہوا کہ صرف بارہ روپے ملتے ہیں تو آپؑ نے محسوس فرمایا کہ اس قدر قلیل تنخواہ میں شاید گزارہ نہ ہوتا ہو۔ اگرچہ وہ‘‘ بڑا سستا زمانہ تھا ’’ارزانی کے ایام تھے لیکن حضرت اقدسؑ کو یہ احساس ہوا اور آپؑ نے ایک روز گزرتے ہوئے ان کے کمرہ میں بیس پچیس روپے کی پوٹلی پھینک دی۔ شیخ صاحب کو خیال گزرا کہ معلوم نہیں یہ روپیہ کیسا ہے۔ آخر یہ معلوم ہوا کہ حضرت اقدسؑ نے ان کی تنگی کا احساس کر کے رکھ دیا ہے تاکہ تکلیف نہ ہو اور آرام سے گزارہ کر لیں۔چنانچہ انہوں نے اس روپیہ کو زیور بنانے میں خرچ کیا کیونکہ اس وقت ان کی کھانے پینے کی ضروریات حضرتؑ کے وسیع دسترخوان سے پوری ہوجاتی تھیں۔‘‘

(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ294، 295)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ ہی فرماتے ہیں کہ ’’جہاں آپؑ کی عادت میں یہ تھا کہ آپؑ سائل کو کبھی ردّ نہ کرتے تھے یہ امر بھی آپ کے معمولات میں تھا کہ بعض لوگوں کی ضرورتوں کا احساس کر کے قبل اس کے کہ وہ کوئی سوال کریں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ چنانچہ 28 اکتوبر 1904ء‘‘ کی بات بتا رہے ہیں کہ فجر سے پہلے آپؑ نے کچھ روپیہ جس کی تعداد آٹھ یا دس ہوگی ایک مخلص مہاجر کو یہ کہہ کر دیئے کہ موسم سرما ہے۔ آپ کو کپڑوں کی ضرورت ہوگی ‘‘اس مہاجر کی طرف سے کوئی سوال نہ تھا۔خود حضور علیہ السلام نے اس کی ضرورت محسوس کر کے یہ رقم عطا کی۔

یہ واقعہ ایک واقعہ نہیں

متعدد بار ایسا ہوتا اور مخفی طور پر آپؑ عموماً حاجت مند لوگوں سے سلوک کرتے رہتے اور اس میں کسی دوست دشمن، ہندو یا مسلمان کا امتیاز نہ تھا۔

(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 288،289)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ لکھتے ہیں

’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھا… کہ بعض اوقات وہ کسی کی حاجت اور ضرورت کااحساس کر کے اس کے سوال یا اظہار کے منتظر نہ رہتے تھے بلکہ خود بخود ہی پیش کر دیا کرتے تھے۔‘‘

اس بارے میں’’ مکرمی شیخ فتح محمد صاحب پنشنر انسپکٹر ریاست کشمیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرصہ دراز سے آنے والے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں جب کبھی حضرتؑ کی خدمت میں آتا تو ہمیشہ میرا کرایہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے۔مگر مجھ کو چونکہ ضرورت نہ ہوتی تھی مَیں نے کبھی لیا نہیں۔لیکن حضرتؑ کی روحِ سخاوت اس قدر عظیم الشان تھی کہ آپؑ بغیر استفسار ہمیشہ پیش کر دیتے۔اور یہ میرے ساتھ ہی معاملہ نہ تھا بلکہ اکثر کو دیتے رہتے تھے۔ شام اور عرب سے بعض لوگ آتے اور آپؑ ان کو بعض اوقات بیش قرار رقوم زادِراہ کے طور پر دے دیتے کیونکہ حضورؑ جانتے تھے۔وہ دور دراز سے آئے ہیں۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 309)

اسی طرح شیخ یعقوب علی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’اکثر… اس قسم کے سائل بھی آ جاتے جو عام طور پر سوال نہ کرتے مگر رقعہ لکھ کر دیتے اور کسی کو یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ اس نے سوال کیا ہے لیکن جب حضرت اقدسؑ اندر سے سائل کے لئے کچھ بھیجتے تو پتہ لگتا یا کبھی اندر تشریف لے جاتے وقت کہہ جاتے کہ تم بیٹھو مَیں آتا ہوں اور بعض لوگ اس خیال سے ٹھہر جاتے کہ حضرت صاحبؑ  آئیں گے تو معلوم ہوتا کہ آپؑ سائل کے لئے اس کی مطلوبہ چیز نقدی یا کپڑا لے کر آ رہے ہیں۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 294)

حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ  کہتے ہیں :’’میاں جی نظام الدین احمدی ساکن کپور تھلہ نہایت غریب آدمی تھے۔ پیدل چل کر وہ قادیان گئے اور دو آنے حضورؑکو نذر کے طور پر پیش کیے۔ حضورؑ نے جزاکم اللہ کہہ کر دو آنے لے لیے۔ چند دن بعد نظام الدین صاحب رخصت ہونے لگے تو حضورؑ نے فرمایا: ٹھہرو۔ آپؑ اندر سے جا کر سات یا آٹھ روپے لائے اور میاں جی نظام الدین کو عنایت فرما دئے۔‘‘

(اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 215)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ منشی علی گوہر صاحب کپور تھلہ میں ڈاکخانہ میں ملازم تھے۔ اڑھائی روپیہ ان کی پنشن ہوئی۔ گزارہ ان کابہت تنگ…‘‘ہو گیا ریٹائرہونے کے بعد۔ ’’وہ جالندھر اپنے مسکن پر چلے گئے ‘‘جہاں ان کا گھر تھا وہاں چلے گئے۔ ’’انہوں نے مجھے خط لکھا کہ جب تم قادیان جاؤ تو مجھے ساتھ لے جانا۔ بڑے مخلص احمدی تھے۔‘‘ کہتے ہیں ’’چنانچہ مَیں جب قادیان جانے لگا تو ان کو ساتھ لینے کے لیے جالندھر چلا گیا۔ وہ بہت متواضع‘‘ مہمان نواز ’’ آدمی تھے۔ میرے لیے انہوں نے پُرتکلف کھانا پکوایا اور بعد میں مجھے یہ پتہ لگا کہ انہوں نے کوئی برتن وغیرہ بیچ کر دعوت کا سامان کیا ہے…۔‘‘ یہ حال تھا ان صحابہؓ کا بھی جن کی تربیت آپؑ کے ذریعہ ہو ئی۔ تو کہتے ہیں: ’’مَیں نے منشی علی گوہر صاحب کا ٹکٹ خود ہی خرید لیا۔ وہ اپنا کرایہ دینے پر اصرار کرنے لگے۔مَیں نے کہا یہ آپ حضرت صاحبؑ کی خدمت میں پیش کر دیں۔‘‘ مجھے ان کے حالات کا پتہ تھا۔ ٹکٹ مَیں نے اپنے پاس سے لے لیا اور جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو مَیں نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر یہ روپے آپ حضرت مسیح موعودؑکی خدمت میں پیش کر دیں ’’چنانچہ دو روپے انہوں نے حضرت صاحبؑ کی خدمت میں پیش کر دیے۔ آٹھ دس دن رہ کر جب ہم واپسی کے لیے اجازت لینے گئے تو حضورؑ نے اجازت فرمائی اور منشی صاحب کو کہا کہ ذرا آپ ٹھہرئیے۔ پھر آپؑ نے دس یا پندرہ روپے منشی صاحب کو لا کر دیے۔ منشی صاحب رونے لگے اور عرض کی کہ حضور! مجھے خدمت کرنی چاہیے یامَیں حضورؑ سے لوں۔ حضرت صاحبؑ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ یہ آپ کے دوست ہیں آپ انہیں سمجھائیں۔ پھر میرے سمجھانے پر کہ ان میں برکت ہے‘‘ تم لے لو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا ہے ’’انہوں نے لے لیے اور ہم چلے آئے۔حالانکہ حضرت صاحب ؑکو منشی صاحب کے حالات کا بالکل علم نہیں تھا۔‘‘

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 96 تا 97روایت نمبر 1123)

حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ ہی لکھتے ہیں کہ

حضرت اقدس ؑکو اپنے خدام کی دلداری کا بہت بڑا خیال رہتا تھا اور حضورؑ اس کے لیے خود اپنی ذات سے ہر قسم کی قربانی اور ایثار کا عملاً اظہار فرماتے تھے۔

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عید کا دن تھا اور میرا صافہ، پگڑی، سر پہ باندھنے والا کپڑا صاف نہیں تھا۔ اس لیے کہ جب کبھی ہم لوگ آتے تھے تو ایک آدھ دن کی فرصت نکال کر آتے تھے لیکن جب یہاں قادیان آتے تو حضورؑ قیام کا حکم دیتے کہ یہیں کچھ دن رہو۔ تو پھر ہمیں ملازمت پر چلے جانے کا بھی خیال نہ ہوتا اور ہم وہاں رہتے۔ اسی طرح ایک دفعہ جب ہم آئے تو عید کا دن آگیا اور مَیں ایک ہی صافہ لے کر آیا تھا یعنی سر پہ باندھنے والا کپڑا پگڑی لے کر آیا تھا۔ وہ میلا ہو گیا۔ مَیں نے چاہا کہ بازار سے جا کر خرید لاؤں۔چنانچہ مَیں بازار کی طرف جا رہا تھا۔ آپؑ نے مجھے دیکھ لیا اور آپؑ کی فراست تو خداداد فراست تھی۔ پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ مَیں نے عرض کیا کہ عید کا دن ہے ،میرا صافہ میلا ہے۔ مَیں بازار سے خریدنے جا رہا ہوں۔ اسی وقت وہاں ہی کھڑے کھڑے اپنا عمامہ شریف اتار کر مجھے دے دیا۔پگڑی اپنی اتاری اور دے دی اور فرمایا یہ آپ کو پسند ہے آپ لے لیں۔ مَیں دوسرا باندھ لیتا ہوں۔ مجھ پر اس محبت و شفقت کا جو اثر ہوا الفاظ اسے ادا نہیں کر سکتے۔ مَیں نے نہایت احترام کے ساتھ اس عمامے کو لے لیا اور آپؑ بے تکلّف گھر تشریف لے گئے اور بعد میں دوسرا عمامہ باندھ کر وہاں آ گئے۔

(ماخوذ از اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 225-226)

حضرت میاں خیر الدین صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ حضورؑ نے ابھی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ حضورؑ کے بڑے بھائی کی شادی تھی اور انہوں نے کچھ بکرے منگوائے تھے جنہیں ننگل باغباناںکا ایک شخص چَرایا کرتا تھا۔ ایک دن حضورؑ سیر کو چلے جا رہے تھے کہ راستے میں وہ بکرے چَرا رہا تھا۔اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اور وہ بیٹا ننگے پاؤں تھا۔ حضورؑ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: میاں! تم ننگے پاؤں پھر رہے ہو۔تمہیں کانٹے نہیں چبھتے؟ اس نے عرض کی کہ حضور!میرے پاس جوتی نہیں ہے اور باپ میرا غریب ہے وہ خرید نہیں سکتا۔ حضورؑ نے اپنے پاؤں سے ایک جوتی کا پاؤں اتارا اور فرمایا کہ اسے پہنو۔دیکھو پوری آتی ہے۔ اس نے معذرت کی کہ مَیں کس طرح آپؑ کی جوتی پہنوں۔ حضورؑ نے کہا :نہیں! اس سے زبردستی کہا کہ پہنو۔ اس نے ایک پاؤں پہن لیا۔ حضورؑ نے فرمایا: ہاں! ٹھیک ہے تمہیں پورا آگیا ہے۔ پھر آپؑ نے دوسرا پاؤں اتارا اور فرمایا:اس کو بھی پہنو۔ اس نے وہ بھی پہن لیا۔اس پر حضورؑ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: بس اب ٹھیک ہے۔ تم یہ استعمال کرو۔ چنانچہ آپ اس طرح ننگے پاؤں واپس گھر تشریف لے آئے۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جبکہ حضورؑ شاید بیس یا تیس سال کے ہوں گے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 5 صفحہ 380)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنے محسن اورپیشوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جُود و سخا کے پیکر تھے تاہم بعض دفعہ ہمیں یہ بھی نظر آتا کہ کسی حکمت و مصلحت کے پیش نظر آپؑ نے سوالی کو دینے سے اعراض بھی فرمایا۔

چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحبؓ ہی لکھتے ہیں کہ ’’آپؑ 1889 ء میں جو بیعت کا سال ہے لدھیانہ میں موجود تھے۔ ایک موقع پر آپؑ کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے ذکر کیا کہ میرا ایک عزیز فوت ہوگیا ہے۔ میرے پاس کفن دفن کے لئے کچھ انتظام نہیں ہے اور اس نے کچھ سکّے چاندی اور تانبے کے‘‘ پیالے میں ’’رکھے ہوئے تھے یہ دکھانے کے لئےکہ کسی قدر چندہ ہوا ہے‘‘ مانگ مانگ کر گزارا کر رہا ہوں تاکہ اس کا کفن دفن کروں ’’اور ابھی اَور ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکرمی حضرت قاضی خواجہ علی صاحب کو (جو بڑے ہی مخلص اور حضرتؑ کی راہ میں فدا شدہ بزرگ تھے) فرمایا کہ ’’قاضی صاحب ان کے ساتھ جا کر کفن کا سامان کر دو۔‘‘ یہ کفن کا انتظام کہتا ہے ناں کرنا ہے تو جو بھی کفن کا سامان ہے وہ سب اس کی ضروریات پوری کر دو۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس قسم کی عادت نہ تھی‘‘ عام طور پر تو جو مانگتا تھا دے دیتے تھے لیکن یہاں کہتے ہیں ہم نے ایک نئی چیز دیکھی جو عادت کے خلاف تھی ’’بلکہ عام طور پر جو مناسب سمجھتے دے دیتے۔ اس ارشاد پر خدام کو تعجب بھی ہوا۔ قاضی صاحب نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ کیا دے دوں بلکہ وہ ساتھ ہی ہو گئے۔ اور اسے کہا کہ چلو بھائی مَیں چل کر تمام انتظام کرتا ہوں۔ وہ سائل قاضی صاحب کو لے کر رخصت ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد قاضی صاحب ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہا کہ ’’حضرتؑ !وہ تو بڑا دھوکہ باز تھا۔ راستہ میں جاکر اس نے میری منّت وخوشامد شروع کی کہ خدا کے واسطے آپ نہ جائیں جو کچھ دینا ہو دے دو۔ مَیں نے کہا مجھے تو خود جانے کا حکم ہے جو کچھ تمہارے پاس ہے مجھے دو جو کچھ خرچ آئے گا مَیں کروں گا۔ آخر اس نے جب دیکھا کہ مَیں نہیں ٹلتا تو اس نے ہاتھ جوڑ کر ندامت کے ساتھ کہا کہ نہ کوئی مرا ہے نہ کفن دفن کی ضرورت ہے یہ میرا پیشہ ہے۔ اب میری پردہ دری نہ کرو۔ تم واپس جاؤ اور مجھے چھوڑ دو۔ مَیں اب یہ کام نہیں کروں گا۔‘‘ تو یہ بھی حال ہوتا تھا بعض دفعہ مانگنے والوں کا۔ ’’جب قاضی صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو طبعی طور پر اس کے سننے سے ہنسی بھی آئی مگر آپؑ کی فراست مومنانہ اور اخلاق کا بھی عجیب اثر ہوا۔آپؑ نے حُسنِ ظن کر کے اس کو جواب تو نہ دیا مگر ایسا طریق اختیار کیا جس سے اس کی اصلاح ہو گئی اور غیر محل پر آپؑ کو خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حصہ دوم صفحہ 287، 288)

اس سے یہ واقعہ یا اس طرح کا ایک اَور واقعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی بیان فرمایا ہے کہ ’’ایک سائل لدھیانہ میں میرے پاس آیا اور ظاہر کیا کہ ایک آدمی مر گیا ہے۔ اس کے کفن کے واسطے سامان کرتا ہوں۔ چار آنے کی کسر باقی ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ پہلے دیکھنا چاہیے کہ وہ میت کہاں ہے؟ پھر اس کی پوری مدد کرنی چاہیے۔ چنانچہ وہ آدمی ساتھ گیا تو تھوڑی دور جا کر سائل بھاگ گیا کیونکہ وہ سب جھوٹا قصہ بنایا ہوا تھا۔‘‘

(ملفوظات جلد 8 صفحہ 15 ایڈیشن 2022ء)

اسی طرح ایک مرتبہ کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبرکاً آپؑ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا ہم دے تو سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں ہے مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔ یہاں جو مسجد خدا بنا رہا ہے وہی مسجد اقصیٰ ہے وہ سب سے مقدم ہے۔ اب لوگوں کو چاہیے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔‘‘آپؑ نے فرمایا کہ

’’ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدّم رکھے۔‘‘

پھر آپؑ نے مثال دی کہ ’’ حضرت امام ابو حنیفہؓ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔ انہوں نے عذر کیا کہ مَیں اس میں کچھ دے نہیں سکتا۔ حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیتے۔ اس شخص نے کہا کہ ہم آپ سے بہت کچھ نہیں مانگتے صرف تبرکاً دے دیجئے۔ آخر انہوں نے ایک دوَنّی کے قریب سکہ دیا‘‘ ایک چھوٹا سکہ تھا وہ دے دیا۔ ’’شام کے وقت وہ شخص وہ دوَنّی لے کر واپس آیا اور کہنے لگا کہ حضور یہ تو کھوٹی نکلی ہے۔‘‘ تو امام ابو حنیفہ ’’ بہت خوش ہوئے اور فرمایا، خوب ہوا۔ دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں‘‘ تمہیں جس طرح کہ تم مسجد بنا رہے ہو۔ ’’مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 170 – 171 ایڈیشن 2022ء)

نمازیں تم لوگ پڑھتے نہیں اور دکھاوے کے لیے مسجدیں بناتے ہو۔

بچوں کو بھی بچوں کی خواہش کے مطابق عطا فرمایا کرتے تھے۔

چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ بی بی رانی موصیہ والدہ عزیز بیگم زوجہ حکیم محمد عمر صاحب قادیان نے بیان کیا ’’کہ مَیں نے 1901ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی۔چونکہ میری لڑکی عزیزہ بیگم اہلیہ حکیم محمد عمر صاحب قادیان میں تھیں۔اس واسطے مجھ کو بھی 1902ء میں قادیان آنے کی رغبت ہوئی۔ میرے ساتھ میری چھوٹی لڑکی تھی جب حضرت صاحبؑ  صبح کو کسی وقت سیر کو باہر باغ کی طرف تشریف لے جاتے تو مَیں بھی اکثر اوقات ساتھ جاتی تھی۔ بوجہ معمر ہونے کے اور دیر ہو جانے کے باتیں یاد نہیں رہیں…‘‘ لکھتی ہیں۔ لیکن ایک بات کہتی ہیں مجھے’’ یاد ہے کہ ایک دفعہ صبح کے وقت جب حضرت صاحبؑ  کھانا کھا رہے تھے مَیں بھی آ گئی۔ میری چھوٹی لڑکی نے رونا شروع کیا۔ حضرت صاحبؑ نے دریافت کیا‘‘ کہ کیا وجہ ہے؟ ’’تو عرض کی روٹی مانگتی ہے۔ آپؑ نے روٹی منگوا کر دے دی مگر لڑکی چپ نہیں ہوئی‘‘ پھر بھی روتی رہی۔ ’’حضور علیہ السلام کے دوبارہ دریافت کرنے پر عرض کی کہ یہ وہ روٹی مانگتی ہے جو حضورؑ کھا رہے ہیں۔ تب حضورؑنے وہ روٹی اسےدی جو حضورؑ خود کھا رہے تھے۔ سو لڑکی نے وہ روٹی جو تھوڑی تھی لے لی اور چپ کر کے کھانے لگ گئی۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 2 حصہ پنجم صفحہ 188 روایت نمبر 1281)

کام آپؑ کرواتے تھے تو کام کرنے والوں کی سہولت کا بھی خیال رکھتے تھے۔

ڈاکٹر عطر دین صاحب کہتے ہیں کہ حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ جو کہ اس وقت بچے تھے۔ آپؓ کہیں باہر چلے گئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ملی تو آپؑ فوراً فکرمند ہو گئے اور اپنے خادم بورڈنگ ہاؤس میں بھیج کر بہت تیز دوڑنے والے بورڈر طلب کیے۔ جو طالب علم وہاں پڑھتے تھے ان کو بلوایا۔ چنانچہ اس وقت قبلہ بھائی عبدالرحیم صاحب نومسلم بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ تھے انہوں نے کہتے ہیں مجھے بھی اور تین چار اَور لڑکوں کو روانہ کیا اور اس پارٹی کا لیڈر یاکیپٹن خاکسار کو بنایا۔ جب ہم حضورؑ کے پاس گئے تو حضورؑ نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ آپ لوگوں کو بڑی تکلیف ہوئی ہے مَیں نے بلایا ہے اور کام کے لیے تمہیں جانا پڑے گا اور ہو سکتا ہے تمہیں دیر بھی لگ جائے اور پھرنا پڑے اور بھوک بھی لگے اس لیے آپؑ نے مجھے بہت سی روٹیاں دیں اور فرمایا کہ یہ روٹیاں ہیں اور سالن دال کے طور پہ پکا ہوا تھا وہ بھی حضورؑ خود لے کر آئے اور ہمیں دیا۔ کیونکہ تلاش میں جا رہے تھے۔ راستے میں ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں بہرحال ہم چلنے کے لیے تیار ہوئے تو قبلہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ جناب میر صاحبؓ  کو لے کر اسی وقت حاضر ہو گئے اور وہ مل گئے۔ اس لیے ہم نہیں گئے لیکن حضور علیہ السلام کی شفقت اپنے خادموں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 346 روایت حضرت ڈاکٹر عطر الدین صاحبؓ )

حضرت محمد دین صاحب ولد بھاگو صاحب جو قادیان سے متصل قادر آباد گاؤں میں رہتے تھے بیان کرتے ہیں کہ

’’کئی بار حضرت صاحبؑ اپنے گھر سے کھانا وغیرہ ہمراہ لا کر ہمارے گاؤں کی مسجد میں کھایا کرتے تھے اور ہمیں بھی عطا فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 378 روایت حضرت محمدی (محمد دین) صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد بھاگوصاحب)

بیوی کے قرض کی بھی واپسی ضروری ہے۔

گذشتہ خطبے میں مَیں نے واقعہ بیان کیا تھا کہ لنگر کا خرچ بڑھ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے زیور بیچ کر خرچ پورا کیا۔اس پر مجھے کسی نے گذشتہ ہفتے سوال کیا کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ بیوی کا زیور اگر ضرورت پڑے تو خرچ کیا جا سکتا ہے اور رقم خاوند کے تصرف میں آسکتی ہے ۔تو

واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام یہ قرض لیا کرتے تھے اور واپس فرمایا کرتے تھے۔

چنانچہ اس بارے میں ایک اَور روایت ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول بی بی صاحبہ بیوہ حضرت حامد علی صاحبؓ نے بیان کیا کہ ’’ قحط پڑا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ام المومنین سے روپیہ قرض لیا۔‘‘ وہ جو پہلی دفعہ مثال تھی اس میں بھی قرض یا رہن کی بات تھی۔ تو رہن جب چھڑایا گیا تو آپؑ نے ہی ادا کیا تھا۔ بہرحال کہتے ہیں ’’روپیہ قرض لیا اور گندم خرید کی اور گھر کا خرچ پورا کیا‘‘ اور لنگر کا بھی خرچ پورا کیا۔ یہ صرف گھر کے خرچ کے لیے نہیں تھا بلکہ لنگر کے لیے بھی بہت سارا کھانا تو آپؑ کے گھر سے ہی پکتا تھا۔ ’’اس کے بعد آپؑ نے چوہدری رستم علی صاحب سے حافظ حامد علی صاحب کے ذریعہ سے 500 روپیہ منگوایا اور کچھ گھی کی چاٹیاں منگوائیں۔ روپیہ آنے پر آپؑ نے حضرت اُم المومنین کا قرض ادا کر دیا اور‘‘ کہتے ہیں ’’مَیں نے کئی دفعہ دیکھا کہ حافظ صاحب تھیلیوں کے تھیلے روپوں کے لایا کرتے تھے‘‘ ان دنوں میں قحط پڑ گیا ضرورت تھی ’’جن کی حفاظت رات کو مجھے کرنی پڑتی تھی۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 2 حصہ 4 صفحہ 117 روایت 1145)

اور وہ قرض ہوتا تھا نہ کہ لوگوں کی طرف سے مدد ہوتی تھی۔ بہرحال

حضرت اماں جانؓ کا قرض یا کسی سے بھی قرض لیتے تھے واپس فرماتے تھے۔

حضرت بابو غلام محمد صاحب بیان کرتے ہیں: ’’قادیان میں بعض دفعہ دیہاتی عورتیں جن کے ہاتھ گوبر سے بھرے ہوئے اور کپڑے بھی میلے کچیلے ہوتے،حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتیں کہ مرزا جی! کاکی بیمار ہو گئی ہے۔ ہوش میں نہیں آتی ،بہت بخار چڑھا ہوا ہے۔ پھر ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے کہتیں کہ دیکھو! ہم ہاتھ بھی دھو کر نہیں آئیں۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک عورت جس کے ہاتھ گوبر سے بھرے ہوئے تھے‘‘ گند سے بھرے ہوئے تھے، اپنا کام کر رہی تھی، ’’حضورؑ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری بیٹی بیمار ہے۔ بہت زیادہ بخار ہے۔ بالکل بے ہوش ہے۔ فرمایا: کیا کوئی برتن لائی ہوتم ؟ اس نے گوبر بھرے ہاتھوں سے ایک مٹی کا پیالہ حضورؑ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضورؑ نے پیالہ لے کر روح کیوڑا سے بھر دیا اور کوئی پانچ رتی کے قریب کستوری دی اور فرمایا کہ دو دفعہ آدھا آدھا پیالہ اور یہ دوائی کھلا دو۔ نیز فرمایا کہ مجھے اطلاع کرنا کہ بچی کا کیا حال ہے؟‘‘

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 249روایت حضرت بابو غلام محمد صاحبؓ)

غریبوں سے بھی بڑا حسنِ سلوک اور عنایت تھی۔

شیخ محمد نصیب صاحب بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ مجھے ضرورت پڑی تو میں نے حضرتؑ کی خدمت میں لکھا کہ دس روپے بطور قرض بھیجیں۔ مَیں دو دفعہ کر کے واپس کروں گا۔ آپؑ نے بھیج دیے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد5 صفحہ446 روایت حضرت شیخ محمد نصیب صاحب)

اور یہ تو بہرحال آپؑ کی عادت تھی کہ آپؑ نے انکار کبھی نہیں کیا اور ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ آپؑ واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کرتے تھے بلکہ اگر کوئی واپس لوٹاتا تھا تو اسے کہتے تھے کہ نہیں ہمارا مال تمہارا مال ایک ہے۔ تم اپنے پاس ہی رکھو اور یہی آپؑ کی عادت تھی۔

(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 307)

کھانے میں برکت کا بھی ایک واقعہ ملتا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی اور ان کے واسطے گھر میں کھانا تیار کروایا مگر عین جس وقت کھانے کا وقت آیا اتنے ہی اَور مہمان آ گئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی۔ چھوٹی سی مسجد تھی۔ حضرت صاحبؑ نے اندر کہلا کر بھیجا کہ اَور مہمان آگئے ہیں کھانا زیادہ بھجواؤ۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ آپؑ کے دسترخوان پہ کوئی آئے اور کچھ لوگ کھائیں اور باقیوں کو آپؑ نہ دیں۔ یہ تو آپؑ کی طبیعت کے خلاف تھا۔ آپؑ کی عطا کے خلاف تھا۔ آپؑ نے تو بہرحال سب کو کھانا کھلانا تھا۔ اس پر حضرت بی بی صاحبہ حضرت اماں جانؓ نے حضرت صاحبؑ  کو اندر بلوایا اور کہا کہ کھانا تو تھوڑا سا ہے صرف ان چند مہمانوں کے لیے پکایا گیا ہے جن کے واسطے آپؑ نے پہلے کہا تھا اور کہا کہ شاید باقی کھانا تو کچھ کھینچ تان کے انتظام ہو سکے گا لیکن زردہ تو بہت تھوڑا ہے اس کا کیا کیا جاوے۔ تو خود ہی حضرت اماں جانؓ نے فرمایا کہ زردہ بھجواتی نہیں۔ باقی کھانا نکال دیتی ہوں۔ حضرت صاحبؑ نے فرمایا نہیں!یہ مناسب نہیں ہے۔تم زردے کا برتن میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ

حضرتؑ نے اس برتن پر رومال ڈال دیا اور پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردے میں داخل کر دیں اور پھر کہا :اب تم سب کے واسطے کھانا نکالو۔خدا برکت دے گا۔

چنانچہ میاں عبداللہ صاحبؓ  کہتے ہیں کہ زردہ سب کے واسطے آیا اور سب نے کھایا اور پھر کچھ بچ بھی گیا۔ میاں عبداللہ صاحبؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے یہ گھر والی بات خود حضرت صاحبؑ نے بیان فرمائی تھی کہ گھر میں جب بلا کے یہ کہا گیا تھا تو مَیں نے اس طرح کہا اور اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی۔

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1 حصہ 1 صفحہ 133 تا 135 روایت 144)

بے تکلّفی سے دوستوں کو موسمی پھل وغیرہ بھی کھلایا کرتے تھے۔

پیش کیا کرتے تھے۔کوئی تکلّف نہیں تھا۔ آپؑ کی عطا ہوتی تھی ہمیشہ۔حضرت ممتاز علی صاحب صدیقیؓ کہتے ہیں: ’’مجھے یاد ہے کہ باغ میں ایک شہ نشین ہوتی تھی جو دوبارہ درست کر دی گئی ہے۔ اس میں حضورؑ مع اپنے دوستوں کے آکر بیٹھا کرتے تھے اور کبھی کبھی یہاں بیٹھ کر موسمی پھل بھی کھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کا مجھے بھی یاد ہے کہ حضورؑ نے اپنے دست شفقت سے دو آم‘‘ مجھے ’’ مرحمت فرمائے اور اسی طرح باقی دوستوں کو بھی دو دو آم دیے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 384 روایت حضرت ممتاز علی صدیقی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

یہ آپؑ کے چند سخاو احسان کے واقعات ہیں جن کا نمونہ آپؑ نے اپنے آقاؐ کی اتباع میں دکھایا اور اس احسان و سخا سے اپنے اور غیر، حتیٰ کہ دشمن بھی فیض یاب ہوتے رہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍جولائی 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button