کلام حضرت مسیح موعود ؑ

منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

(جلسہ سالانہ برطانیہ کے دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس میں پڑھے جانے والے اشعار)

اَے خدا اَے کارساز و عیب پوش و کردگار
اَے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار

کس طرح تیرا کروں اے ذُوالمِنَن شکر و سپاس
وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار

کیا تماشا ہے کہ مَیں کافر ہوں تم مومن ہوئے
پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار

یہ اگر انساں کا ہوتا کاروبار اے ناقصاں!
ایسے کاذب کے لیے کافی تھا وہ پروردگار

کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نہ تمہارے مکر کی
خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہریار

ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر
میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار

میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر
میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار

یہ فتوحاتِ نمایاں یہ تواتر سے نشاں
کیا یہ ممکن ہے بشر سے کیا یہ مکاروں کا کار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button