گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
کسی سے بغض نہ رکھو
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
’’ہماري جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقي ترقي کريں۔ کيونکہ الاسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ مشہور ہے ۔ وہ يا درکھيں کہ اگر کوئي ان پر سختي کرے تو حتي الوسع اس کا جواب نرمي اور ملاطفت سے ديں ۔ تشدد اور جبر کي ضرورت انتقامي طور پر بھي نہ پڑنے ديں ۔
انسان ميں نفس بھي ہے اور اس کي تين قسم ہيں۔ اَمَّارَة، لَوَّامَة ، مُطْمَئِنَّة – اَمّارہ کي حالت ميں انسان جذبات اور بے جا جوشوں کو سنبھال نہيں سکتا اور اندازہ سے نکل جاتا اور اخلاقي حالت سے گر جاتا ہے مگر حالتِ لوّ امہ ميں سنبھال ليتا ہے۔
مجھے ايک حکايت ياد آئي جو سعدي نے بوستان ميں لکھي ہے کہ ايک بزرگ کو کتے نے کاٹا۔ گھر آيا تو گھر والوں نے ديکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھايا ہے۔ ايک بھولي بھالي چھوٹي لڑکي بھي تھي وہ بولي آپ نے کيوں نہ کاٹ کھايا ؟ اس نے جواب ديا بيٹي ! انسان سے کُت پن نہيں ہوتا ۔
اسي طرح سے انسان کو چاہيے کہ جب کوئي شرير گالي دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے ۔ نہيں تو وہي کُت پن کي مثال صادق آئے گي۔ خدا کے مقربوں کو بڑي بڑي گالياں دي گئيں ۔ بہت بري طرح ستايا گيا مگر ان کو اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِينَ(الاعراف: 200) کا ہي خطاب ہوا۔ خود اس انسان کامل ہمارے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو بہت بُري طرح تکليفيں دي گئيں اور گالياں ، بد زباني اور شوخياں کي گئيں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ ميں کيا کيا۔ ان کے لئے دعا کي۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفح87 ایڈیشن2022ء)
سوال جواب
ملاقات واقفاتِ نو
حضور کے لیے کون سی دعا کی جائے؟
٭… ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ ہمیں آپ کےلیے کون سی دعا کرنی چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ جوخلافت کا کام ہے، ان میں برکت ڈالے اور ان کے منصوبے جو ہیں، وہ پُورے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتیجے پیدا کرے۔ اور تم سارے لوگوں کو جو احمدی ہیں، ان کو ایمان و اخلاص میں بڑھائے اور خلیفۂ وقت کے مددگار بن جائیں۔
ہم دوسروں سے مختلف کیوں ہیں؟
٭… ایک ناصرہ نے عرض کیا کہ بطور مسلمان بعض اوقات ہمیں اپنے دوستوں کے درمیان یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم دوسروں سے مختلف ہیں کیونکہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں حیا کا اہتمام کرنا اور بعض سرگرمیوں سے اجتناب کرنا بھی شامل ہے۔ان احساسات سے نمٹنے کےلیے حضورِ انور ہمیں کیا راہنمائی عطافرما سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے نیک اور صالح دوستوں کے انتخاب کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے سکول میں ساری لڑکیاں تو ایسی نہیں جو تمہیںisolateکرتی ہیں اور علیحدہ کر دیتی ہیں۔کچھ اچھی دوست ہوں گی ۔ اس لیے اچھے دوست کو تلاش کرنا چاہیے۔جو اچھی لڑکیاں ہوں۔
پھر حضورِ انور نے استفسار فرمایاکہ تمہاری لجنہ کے اندر، تمہارے گھر جہاں تم رہتی ہو، اس کے گرد احمدی بچیاں کوئی نہیں ہیں؟ناصرہ کے اثبات میں جواب عرض کرنے پرحضورِ انور نے جماعتی ماحول سے وابستگی مضبوط کرنے اور نیک صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے دوستی کرو۔ احمدی بچوں سے دوستی کرو۔ اجلاس میں، ہفتے کے ہفتے میٹنگ ہے، دو ہفتے بعد ناصرات کی میٹنگ ہوتی ہے۔ وہاں جاؤ۔ وہاں ان سے اچھی باتیں کرو۔ اپنے سکول کی جو اچھی لڑکیاں ہیں، اچھے کریکٹر کی لڑکیاں ہیں، ان سے دوستی کرو۔
دوست اچھے بنانے چاہئیں۔ جو تمہیں ویسے ہی کہتی ہیں کہ تمہاراdifference ہے، تم اسلامک ٹیچنگ پر عمل کرتی ہو اور تمہیں اچھی نظر،اچھےطریقے سے نہیں دیکھتیں تو ان کو تم چھوڑ دو اور بہتر ہے ان سے دوستی نہ کی جائے۔ اچھے دوست بناؤ اس لیے کیونکہ اچھے دوستوں کا اثر ہوتا ہے۔ اگر تم ان دوستوں میں سے دوست بناؤگی تو تم بھی ایک وقت میں نمازیں پڑھنی چھوڑ دو گی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان ختم ہو جائے گا۔
اس لیےتمہیں چاہیے کہ بجائے اس بات پر پریشان ہونے کے کہ لوگ کیا کہیں گے ، لڑکیاں کیا کہیں گی، تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے اور ہم مسلمان ہیں اور ہم نے ساری دنیا میں اسلام کے پیغام کو پہنچانا ہے اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنانا ہے۔ اس کےلیے ہم خود بھی اچھے عمل کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اچھے دوست مہیا کرے۔اچھے دوست بھی اللہ کے فضل سے ہی ملتے ہیں۔ اس لیے دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اچھے دوست دے۔ اور جو اس طرح کی باتیں کرنے والے دوست سہیلیاں ہیں، ان کو چھوڑ دو تو اچھا ہے۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔اور اچھی اچھی لڑکیاں بھی تلاش کرو ۔ تمہاری کلاس میں ہی مختلف سیکشن میں سو پچاس بچیاں پڑھتی ہوں گی تو ان میں سے جو اچھی لڑکیاں ہیں، ان سے دوستی کرو۔ جو مذہب کو اچھا نہیں سمجھتیں ان سے دوستی کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
باقی اپنا نمونہ اچھا دکھاؤ ۔ اچھا behaveکرو۔تمہارا اچھا کریکٹر جب ان کےسامنے آئے گا تو وہ خود تمہارے سے پوچھیں گی اور پھر وہ تمہاری بات بھی سنیں گی۔
(الفضل انٹرنیشنل 9؍جولائی 2026ء)
