ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۵)(قسط ۱۵۰)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
ہائیڈروسائینک ایسڈ
Hydrocyanic acid
یہ بہت خطرناک تشنج پیدا کرنے والا تیزاب ہے جو خشک سالی کی وجہ سے کڑوے باداموں اور مویشیوں کے چارے میں پیدا ہو جا تا ہے۔ اسے ہلکا سا چکھنے سے بھی انتڑیوں میں شدید تشنج پیدا ہو جاتا ہے اور چکھتے وقت ذرا سی بھی بے احتیاطی کی جائے تو سانس کی نالی کےتشنج کی وجہ سے فوری موت واقع ہو سکتی ہے۔ کڑوے باداموں اور چارے میں اس زہر کا جو عنصر پایا جاتا ہے وہ بہت خفیف ہو تا ہے اس لیے کڑوے بادام کھانے والوں کو نہ تو لازما انتڑیوں میں تشنج ہو گا اور نہ سانس کی نالیوں میں۔ لیکن تشنج کا کچھ احتمال بہرحال باقی رہتا ہے۔ چارے میں اس کی مقدار نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس لیے ایسا چارہ کھانے والے جانوروں کو لازماً انتڑیوں کا تشنج ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ان کا جانبر ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیٹ کے تشنج میں اس کے اثر کو زائل کرنے کے لیے کالچیکم بہترین دوا ہے جو 200 طاقت میں بہت اچھا کام کرتی ہے۔اکثر طبیبوں نے ہائیڈ روسائینک ایسڈ کو اپھارے اور پیٹ کے تشنج تک ہی محدود رکھا ہے حالانکہ یہ دمہ ، مرگی اور کالی کھانسی کے تشنج کے لیے بھی بہترین دوا ہے۔ اگر دمہ یا کالی کھانسی کی وجہ سے سانس بند ہو جائے اور مریض بے ہوش ہو جائے تو فوراً ہائیڈ روسائینک ایسڈ دینے سے مریض کئی قسم کے خطرات سے بچ جاتا ہے ورنہ تشنج کے نتیجہ میں دماغ کو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے بعض اوقات وہ مستقل ذہنی مریض بن جا تا ہے یا بعض دفعہ تشنج کی سختی کی وجہ سے اس کی فوری موت واقع ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ہائیڈ روسائینک ایسڈ چوٹی کی کام آنے والی دوا ہے۔ اسے ہائیڈ روفوبینم کے ساتھ ملا کر ۲۰۰ طاقت میں دیا جائے تو بہترین ایلو پیتھک ان ہیلر (Inhaler) سے بھی بہترکام کرتی ہے اور اس کے استعمال سے ان ہیلر (Inhaler) والے نقصانات بھی نہیں ہوتے۔ (صفحہ۴۵۳۔۴۵۴)
اگر کسی عورت کو ہسٹیریا کے دورے پڑتے ہوں اور مرگی بھی ہوجائے تو اس کے لیے بھی یہ بہت ہی مؤثر دوا ہے۔اگر تشنج کی وجہ سے دماغ میں خون رک جائے تو چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور مریض بے ہوش ہوجاتا ہےیااس کی یادداشت ختم ہوجاتی ہے جو آہستہ آہستہ واپس آتی ہےیا مستقل طور پر ضائع ہوجاتی ہے۔اس بیماری کو Catalepsyکہا جاتا ہے۔اس میں بھی ہائیڈروسائینک ایسڈ مفید ثابت ہوتی ہے۔(صفحہ۴۵۴ )
ہائیڈروفوبینم Hydrophobinum
یہ تشنج کی بہت اہم دوا ہےخصوصاً سانس کی نالی کے تشنج میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔اس کے تشنج کا روشنی اور پانی کی زود حسّی سے تعلق ہوتا ہے۔مریض کو تیز روشنی ،چمک دار اشیاء یا پانی دکھائی دے تو اسے تشنج ہوجاتا ہے۔ویسے تو اس تشنج اور خوف کا تعلق پانی دیکھنے سے ہے لیکن خوف کی وجہ سے مریض آنکھیں بند کرکے بھی پانی کا گھونٹ نہیں بھرسکتا۔(صفحہ۴۵۵)
بہتے ہوئے پانی کی آواز سے یا اس کے تصور سے ہی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔خفیف سی ہوا کے جھونکےسے بھی تکلیفیں بڑھتی ہیں۔(صفحہ۴۵۵ )
ہائیوسمس
Hyoscyamus (Henbane)
ہائیوسمس کے مریض کے سب عضلات پھڑکتےرہتے ہیں،اعصاب میں جیسے شعلہ سا لپکتا ہےاور تشنجی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے،ایسی چبھن جیسے سوئی سے ٹانکا بھرا ہو۔ اعصاب میں تشنج اور اکڑاؤ پیدا ہوجاتا ہےاور جھٹکے لگتےہیں۔بعض جگہ کے اعصاب پھڑکنے لگ جاتے ہیں،کمزوری بہت ہوتی ہےاور مریض کا سر کمزوری کی وجہ سے کھسک کر تکیے سے نیچے آجاتا ہے۔یہ علامت میوریٹک ایسڈ(Muriatic acid) کے مریض میں بھی پائی جاتی ہے۔(صفحہ۴۵۸ )
ہائیوسمس میں عورتوں میں وضع حمل کے وقت نہایت خطرناک تشنج شرو ع ہوجاتا ہے۔(صفحہ۴۵۸ )
ہائیوسمس کے مریض کو رات سوتے ہوئے مرگی کے دورے پڑجاتے ہیں۔تشنجی کیفیت ہوتی ہے۔پاؤں کی انگلیوں میں بھی اینٹھن ہوتی ہے۔بچہ سوتے ہوئے روتا ہےاور کراہتا ہے۔مریض رات کو بہت بے چین ہوتا ہےاوراسے نیند نہیں آتی۔ جسم کا ہر پٹھا پھڑکتا ہے۔مریض کپڑا لینا پسند نہیں کرتا۔ہائیوسمس کے مریض کی تکلیفیں رات کو سوتے میں اور کھانا کھانےکے بعد اور لیٹنے سے بڑھ جاتی ہیں۔مریض تنہائی سے ڈرتا ہے۔البتہ جھکنے سے تکلیف کی شدت میں کمی ہوجاتی ہے۔(صفحہ۴۶۱ )
اگنیشیا Ignatia
اگنیشیا کا مزاج رکھنے والی عورت کا غم کے اثر سے دل کی مریض یا دماغی مریض بن جانا بعید از قیاس نہیں ہے۔ اسے بعض اوقات ہسٹیریا کے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگنیشیا کو یاد رکھنا چاہئے۔ (صفحہ۴۶۳)
اگنیشیا کی ایک ظاہری پہچان یہ ہے کہ اس کا مریض کافی (Coffee) نہیں پی سکتا۔ چونکہ اعصاب بہت زود حس اور لطیف ہوتے ہیں ، کافی اس حس کو بڑھا دیتی ہے اور سخت تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے کافی کے ایک دو گھونٹ بھرنا بھی اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا مریض بہت جذباتی ہو جائے تو کھل کر غصہ نکالنے کے بجائے تنہائی میں کڑھتا رہے گا یا بہت افسردگی محسوس کرے گا۔ سٹیفی سیگریا کے مریض میں بھی غصہ دبانے کا رجحان پایا جاتا ہے لیکن جب صورت حال حد سے بڑھ جائے تو پھر اس سے پیدا ہونے والی گھٹن جسمانی عوارض میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگنیشیا میں بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ اگر اس کی مریض عورت کسی مجلس میں جائے اور وہاں اسے کوئی طعنہ دیا جائے یا اس کا مذاق اڑایا جائے تو وہ اسے خاموشی سے برداشت تو کر لے گی اور کوئی جواب نہیں دے گی لیکن گھر واپس آ کر اسے شدید سردرد ہو گا اور اعصابی تناؤ اور بے چینی محسوس ہو گی۔ ایسی کیفیت میں اگنیشیا کی ایک ہی خوراک اسے سکینت بخشے گی اور اسے جذبات دبانے کے بداثرات سے محفوظ رکھے گی۔(صفحہ۴۶۳۔۴۶۴)
بعض اوقات مریضه نروس (Nervous) ہو تو وہ کانپتی ہے اور اعصاب جھر جھری سی محسوس کرتے ہیں۔ یہ کیفیت بڑھ کر تشنج میں تبدیل ہو جاتی ہے اور مریضہ بے ہوش ہو جاتی ہے جیسے ہسٹیریا کی مریضہ ہو۔ یہ بے ہوشی مرگی کی علامت نہیں ہے بلکہ ایسی عورتوں میں بے ہوشی کا دورہ پڑنا ان کی اعصابی کمزوری کی علامت ہوا کرتا ہے۔ اس بے ہوشی میں مرگی کی دوسری علامتیں موجود نہیں ہو تیں۔ غم یا خوف وغیرہ کے اثرات کی شدت کے وقت جو بے ہوشی ہوتی ہے وہ اعصابی کمزوری کی بے ہوشی ہے۔ گرم ممالک میں ہجوم اور جمگھٹے میں کئی عورتیں بے ہوش ہو جاتی ہیں۔ اگنیشیا میں غم کے نتیجہ میں ایسے اثرات ظاہر ہوتے ہیں جو مرگی کی علامتوں سے مشابہ ہوتے ہیں۔ اگنیشیا کی مریضہ میں مزاجی لحاظ سے یہ حیران کن بات پائی جاتی ہے کہ بعض دفعہ جب یہ توقع ہوتی ہے کہ اسے غصہ آ جائے گا وہ خوش ہوتی ہے اور خوشی کی بات پر اچانک ناراض ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جسمانی عوارض میں بھی یہ تعجب انگیز بات دکھائی دیتی ہے کہ جوڑ سوج جانے سے سخت تناؤ ہو اور جلد پر سرخی اور تمازت ظاہر ہو جائیں تو اس کے باوجود مریضہ کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ غرضیکہ جس مریضہ میں نفسیاتی عوارض یا جسمانی عوارض میں تضادات پائے جائیں ان کے لیے اگنیشیا ایک لازمی دوا ثابت ہوتی ہے۔(صفحہ۴۶۴)
اگنیشیا کے مریض کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے۔اس کے باوجود ٹھنڈا پانی پینےکی خواہش رکھتا ہے۔عام کھانے سے بے رغبتی ہوجاتی ہے۔آرام سے سکون محسوس کرتا ہے۔(صفحہ۴۶۶)
اگنیشیا کی تکلیفیں صبح کے وقت اور کھلی ہوا میں بھی بڑھ جاتی ہیں ،کھانا کھاتے ہوئے،آرام کرنےسےیا کروٹ بدلنے سے تکلیفوں میں کمی محسوس ہوتی ہے۔(صفحہ۴۶۶ )
انسولین Insulin
زخم چھالے، بیڈ سور، کار بنکل وغیرہ جو ذیا بیطس کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ان میں اچھا اثر دکھاتی ہے۔(صفحہ۴۶۷)
اگر گردن کے غدودوں میں پیپ پڑنے کا رجحان ہو تو اس صورت میں تیس طاقت میں انسولین دی جاتی ہے۔ اگر خون میں شوگر موجود ہو لیکن پیشاب میں نہ ہو تو انسولین مفید ہے۔ نقرس کی تکلیف میں بھی مفید بتائی گئی ہے۔(صفحہ۴۶۷)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۴)(قسط ۱۴۹)




