متفرق مضامین

نیشنلزم کا عروج اور انسانی اقدار کا زوال

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری امام الزمانؑ کی جماعت پر ڈالی ہے کہ دنیا کو انصاف اور ہدایت کی طرف بلائیں۔ امام جماعت احمدیہ نے جہاں طاقتور ممالک اور ان کے سربراہان کو بارہا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہیں مسلم مہاجرین کو بھی ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے

دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا ورلڈ آرڈر اب زوال پذیر ہوتا نظر آ رہاہے۔ گذشتہ اَسّی سال سے امریکہ کی قیادت میں مغر بی طاقتوں نے معاشی،اقتصادی، ٹیکنالوجی اور فوجی برتری کی بدولت اپنے مفادات اور مرضی کے فیصلے دنیا بھر میں نافذ کیے۔ لیکن تاریخ کا سبق ہے کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ ہر عروج کے بعد زوال ہوتا ہے۔ آج ہمیں مغربی بالادستی کمزور ی اورزوال کی طرف جاتی نظر آرہی ہے۔ عالمی معیشتیں کساد بازاری کا شکار ہیں۔ کئی دہائیوں سے مغرب نے دنیا بھر میں جنگیں مسلّط کیں۔ ان کے نتیجہ میں ملکوں کے ملک تو راکھ کا ڈھیر بن گئے مگر اس کے ساتھ لاکھوں کی تعدا د میں مہاجرین نے بہتر ز ندگیوں کے لیے مغربی ممالک کا ر خ کر لیا جن میں سےبڑی تعداد کا تعلق مسلم ممالک سے ہے۔ اس رجحان کے رد عمل میں دائیں بازو کے انتہا پسند سیاسست دانوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے نیشنلزم کے نعرہ کو ایک مرتبہ پھر بلند کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کی تہ میں در اصل اسلام سے نفرت پنہاں ہے۔ جدید اصطلاح میں اس کو Neo-nationalism کہا جا تا ہے۔

نیشنلزم جو اپنی قوم سے محبت اور شناخت کے تحفظ کا نام ہے ایک خوبصورت اور دلوں کو موہ لینے والا تصوّر ہے۔ اسلام نے بھی وطن سے محبت کو ایمان کا جزو قرار دیاہے۔ تصویر کا دوسرا رخ خطرناک ہے۔ اگر نیشنلزم سےصرف اپنی ہی قوم کی برتری، فلاح،ترقی اور نسل پرستی مراد ہو چاہے اس کے لیے دنیا بھر کے قاعدے قانون اور انصاف کو بالائے طاق رکھنامقصود ہو تو یہی سوچ انسانیت اور عالمی امن کے لیے زہر ِقاتل اور سنگین خطرہ بھی بن جاتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ انتہا پسند نیشنلزم نے عالمی جنگوں، نسل کشی، اور بے شمار علاقائی تنازعات کو جنم دیا۔ گذشتہ صدی میں وقوع پذیر ہونے والی دو عالمی جنگوں کی تاریخ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ہٹلر نے قوم پرستی کو ہوا دے کر پوری دنیا کو عالمی جنگ میں دھکیل دیا تھا۔۱۹۲۰ء میں جب ہٹلر نے نازی پارٹی کے منشور میں جرمن قوم پرستی کو ہوا دیتے ہوئے کہا:

  1. None but members of the Volk (a people; large tribe) may be citizens of the state. None but those of German blood, whatever their creed, may be members of the Volk. No Jew, therefore, may be a member of the Volk.
  2. Whoever has no citizenship is to be able to live in Germany only as a guest and must be regarded as being subject to foreign laws.

(https://en.wikipedia.org/wiki/National_Socialist_Program)

۱۹۲۸ء کی ایک تقریر میں ہٹلر نے کہا:

“I am a German nationalist. This means that I proclaim my nationality. My whole thought and action belong to it. I am a socialist. I see no class and no social estate before me, but that community of the Folk, made up of people who are linked by blood, united by a language, and subject to a same general fate.” (Zweites Buch, Hitler‘s Secret Book) )https://en.wikiquote.org/wiki/Adolf_Hitler(

قوم پرستی کی اس لہر کا نتیجہ پوری دنیا اور خصوصاً یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے تباہ کن اثرات کی صورت میں بھگتا جس میں کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ ہولناک جنگ کے بعد بااثر ممالک نے اس حقیقت کو سمجھا اور اقوام متحدہ کے بینر تلے اقوام عالم کو جمع کر کے برابری اور انصاف کے قیام کی مشترکہ کوششیں کیں۔ اقوام متحدہ نے متعددشعبوں میں انسانیت کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بہت سارے ممالک کی آزادی، صحت، تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔لیکن بین الاقوامی زمینی،معاشی، فوجی اورسیاسی تنازعات میں طاقتور ممالک نے گویا اقوام متحدہ کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ طاقتور اور کمزور ممالک کے تنازعات اورعالمی طاقتوں کی جنگوں کی روک تھام میں اقوام متحدہ بےدست و پا نظر آتی ہے۔اسرائیل فلسطین تنازعہ اس کمزوری کی ایک واضح مثال ہے۔

آج دنیا ایک مرتبہ پھر تباہی کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے۔خوف اور تصادم کی اس فضا میں ایک مرتبہ پھر ذاتی مفادات کے لیے نیشنلزم کے دلآویز غلاف میں وہی زہریلا منجن بیچا جا رہا ہے اور Globalization کی بجائے امیگریشن میں سختی، مہاجرین کو بے دخل کرنے،عالمی تجارت کو اپنے فائدے کے لیے محدود کرنے، قومی مفاد میں آزادی اظہار پر قدغن وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے America Firstکے نعرے بلند کئے جا رہے ہیں۔ (https://hr.usembassy.gov/president-trumps-inaugural-address/)

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت AFD کی مقبولیت ہر الیکشن میں بڑھتی جا رہی ہے۔ہنگری کے سخت گیر وزیر اعظم امیگریشن نظام کو سخت کر نے، سرحد پر باڑیں تعمیر کرنے اور پناہ گزینوں کا نکالنے کے حوالے سے مقبول ہیں۔بھارت جو کہ سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے، میں وزیر اعظم مودی کے آنے کے بعد سے ہندوقوم پرستی(Hindutva) اور اقلیتوں کے خلاف مظالم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح،یوکے، اٹلی، فرانس، اسپین اور دیگر یورپی ممالک میں دائیں بازوکی قوم پرست سیاسی جماعتوں کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا جا رہاہے۔

مہاجرین کی مخالفت کی ایک جائز وجہ

اس سارے منظر نامے میں ایک امر میں صداقت نظر آتی ہے کہ بعض پناہ گزین اور مہاجرین مغربی ممالک میں خلاف قانون معاملات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یورپ میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بعض مشکوک افراد پناہ گزینوں کی شکل میں یورپ میں داخل ہوئے۔ان میں اکثریت کا تعلق اسلام سے جوڑا جاتا ہے۔بہت سارے لوگ جعلی کاغذات بنا کر جھوٹے طور پر بھی ان ممالک میں آتے ہیں۔ اسی طرح بعض واقعات میں نوجوان پناہ گزین تشدّد میں ملوث پائے گئے ہیں جن میں چھوٹے بچوں اور خواتین سے بدتہذیبی اور جنسی ہراسانی و تشدد کے واقعات شامل ہیں۔ کچھ لوگ گینگ تشدد، منشیات کے استعمال اور پولیس پر حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

بہت سارے مہاجرین ایسے ہیں جو ان ممالک میں آ کر حکومت سے امداد لیتے ہیں اور کسی قسم کا ٹیکس نہیں دیتے۔ساتھ ساتھ وہ غیر قانونی کام بھی کرتے رہتے ہیں۔مہاجرین کی کثرت سے امیر ممالک کے سسٹم پر بھی بہت بھاری مالیاتی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر دائیں بازو کے متعصّب لوگ پناہ گزینوں کے خلاف محاذ بناتے ہیں اور انہیں واپس ان کے ممالک میں بھجوانے کی مہم جوئی کرتے رہتے ہیں۔ مہاجرین کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس مہم میں تیزی آتی جا رہی ہے۔حالیہ دنوں میں مہاجرین کو نکالنے کے حق میں ہونے والے جلوسوں میں لاکھوں لوگ شامل ہوئے ہیں۔

قرآن کریم کی عالمی برادری قائم کرنے کی آفاقی تعلیم

ان تمام مسائل اور خدشات کا حل صرف اسلام کی حقیقی تعلیمات میں ہی پنہاں ہے۔قرآنِ کریم تمام اقوامِ عالم کے لیے ابدی ہدایت اور دائمی نور کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ پہلی اور واحد الہامی کتاب ہے جس نے نسل، قوم اور رنگ و زبان کی بنیاد پر قائم تعصبات کی اصلاح کے لیے نہایت جامع اصول بیان فرمائے۔ قبل ازیں نازل شدہ مذہبی کتب مختص الزمان و اقوام تھیں، اس لیے ان کے مخاطبین محدود تھے۔ یہی سبب ہے کہ بائبل میں صرف یہودکو ہی خدا کے بیٹے قرار دے کر باقی اقوام سے ممتاز قرار دیا گیا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی اپنی تعلیم غیر اقوام میں پھیلانے سے منع فرمایا۔ اسی طرح ہندو مت میں بھی ایسے تصورات پائے جاتے ہیں جن کے مطابق وہ اولین شریعت کے حامل ہونے کے باعث باقی اقوام سے برتر ہیں۔ اس کے برعکس قرآنِ کریم نے ایسی عالمگیر اخوت اور مساوات کی بنیاد رکھی ہے جس کی مثال ملنا ممکنات میں نہیں۔

اللہ تعالیٰ سب اقوام کا خالق، مربی اور ترقی دینے والاہے: قرآن کریم کی پہلی آیت ہی اس کی عالمگیریت اور اقوام عالم کی برابری کی دلیل ہے۔ قرآن کا آغاز ہی اس سے ہوتا ہے اللہ ہی تمام اقوام، نسلوں اور تمام جہانوں کا خالق، مالک اور حقیقی مربی ہے۔ فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (الفاتحہ) یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لیےہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اسی نے نفس واحدہ (النساء)سے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ہمارا خدا کسی ایک قوم، خطے یا نسل تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کی پرورش فرمانے والا ہے۔فرمایا: اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ رَزَقَکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ (الروم:۴۱) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ پس جو بھی خدا کے قائم کردہ قوانین قدرت کوسامنے رکھتے ہوئے محنت کر ے گا وہ اس کا اجر ضرور حاصل کرےگا: فرمایا: وَاَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی (النجم: ۴۰) یعنی انسان کے لیے نہیں ہے مگر جو وہ محنت کرتا ہے اور یقینا اس کی محنت کو مد نظر رکھا جائے گا۔

رسول اللہﷺ اور قرآن سب اقوام کا مخاطب: قرآن کریم نے پہلے اعلان میں تمام اقوام عالم کو اپنا مخاطب قرار دے کر برابری کا واضح اصول قائم فرما دیا کہ ہر قوم خدا کی تعلیم کو قبول کرنے اور عمل پیرا ہونے کی اہل ہونے کی باعث برابر ہے۔دنیا کا کوئی بھی قبیلہ یا قوم محض اس لیے دوسروں سے کمتر نہیں کہ رسول اللہﷺ ان میں مبعوث نہیں ہونے اور عرب محض رسول اللہ کی قوم ہونے کی وجہ سے دوسروں سےہرگز برتر نہیں۔ قرآن کریم نے رسول اللہﷺ کی طرف سے اعلان فرمایا: وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا۔ (سبا:۲۹) اور ہم نے تجھےتمام انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

اقوام میں تقسیم کا مقصد صرف تعارف اور شناخت ہے: قرآن کریم کا راہنما اصول ہے کہ خدا نے انسانوں کو مختلف قبائل میں محض شناخت اور تعارف کےلیے تقسیم کیا ہے۔ فرمایا: یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّاُنۡثٰی وَجَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ۔(الحجرات :۱۴) اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔

اللہ کے نزدیک امتیاز کی وجہ محض تقویٰ ہے: اللہ نے فرمایا کہ انسان ہونے کے اعتبار سے تما م لوگ برابر ہیں۔ ان میں سے جو بھی خدا کے احکام پرعمل کرے گا اور اس کا خوف اپنے دل میں رکھے گا خدا کے نزدیک وہ دوسروں سے زیادہ معزز ہے۔

اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ۔ (الحجرات :۱۴) یقیناً اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) باخبر ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں اسی بات کا اعلان لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں فرمایا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى، أَبَلَّغْتُ؟ قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ (مسند احمد بن حنبل: حدیث نمبر ۲۳۴۸۹) اے لوگو! خبردار ہو جاؤ، تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدمؑ) ایک ہے۔ یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی (غیر عرب) پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، سوائے تقویٰ کے۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ انہوں نے (صحابہؓ نے) عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ نے پیغام پہنچا دیا۔

اقوام عالم میں تضادات کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے: قرآن کریم نے مساوات اور برابری کا بنیادی اصول وضع کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں میں عدل اور انصاف سے فیصلے کرو۔ اگر کوئی بھی ملک یا قوم محض اپنے لوگوں یا اپنے بلاک کو فائدہ دے گی تو کبھی بین الاقوامی برادری اور انصاف پر مبنی معاشرہ کا قیام نہیں ہو پائے گا۔فرمایا:وَاِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ (النساء :۵۹) اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔

پھر فرمایا کہ اگر دشمن قوم سے بھی معاملہ ہو تب بھی انصاف سے ہی کام لینا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَلَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی (المائدہ :۹)اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔

جھگڑے کی صورت میں بلاک بنانے کی بجائے صلح کرواو اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے: اگر کسی بھی وجہ سے مختلف ممالک میں جنگ شروع ہو جائے تو محض اپنے مفادات اور قوم پرستی کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی بجائے صلح کروا نے کی کوشش کرو۔ اگر ایک فریق صلح پر آمادہ نہ ہو اور سرکشی کرے تو سب مل کر ظالم کا ہاتھ روکو۔فرمایا:وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۔ (الحجرات :۱۰۔ ۱۱)اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔ پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو اس سے لڑو جو سرکشی کر رہی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یقیناً مومن تو بھائی بھائی ہی ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرواؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

رسول خداﷺ نے بھی جھگڑوں کے مابین صلح کروانے پر بہت زور دیا ہے۔ ایک حدیث میں صلح کروانے کو نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی افضل قرار دیا ہے۔ فرمایا: عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :كلُّ سُلامى مِنَ الناسِ عليه صَدقَةٌ كلَّ يومٍ تَطْلُعُ فيه الشمسُ، يَعْدِلُ بينَ الاثْنَيْنِ صدقَةٌ (صحیح بخاری کتاب الصلح باب فضل الإصلاح بين الناس والعدل بينهم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:انسان کے جسم کے ہر جوڑ پر ہر اس دن صدقہ لازم ہے جس دن سورج طلوع ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل اور صلح کروانا بھی صدقہ ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسولِ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قال: ما عُمِلَ شَيءٌ أفْضَلَ مِنَ الصلاةِ، وصَلاحِ ذاتِ البَيْنِ، وخُلُقٍ جائزٍ بَيْنَ المسْلمِين(الترغیب والترہیب ۔باب: الترغیب فی الإصلاح بین الناس)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز، لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کرانا، اور مسلمانوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا سے افضل کوئی عمل نہیں۔

جھوٹی خبرو ں اور پراپیگنڈا کا سدّ باب بہت ضروری ہے: ذرائع ابلاغ میں ترقی سے جہاں بہت سی سہولیات بھی پیدا ہوئی ہیں وہیں جھوٹی خبروں کے طوفان نےایک نیا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ طاقتور ممالک اور گروہ مضبوط سرمایہ کاری سے اپنے مفادات کے لیے تمام ذرائع استعمال کر کے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کے خلاف قومی اور مذہبی جذبات کو بڑھکانے کے لیے جھوٹی خبروں کا بہت سہارا لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جھوٹ کو پھیلانے میں آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیاہے۔قرآن کریم نے اس معاملہ کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ۔(الحجرات :۷)اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔

دوسری اقوام کی تحقیر اور توہین کرنا منع ہے: قرآن کریم نے ہر قوم کے معززین اور عوام کی عزت و احترام کی تلقین فرمائی ہے۔ چاہے کوئی غریب یا کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ محض دولت، حسب نسب،رنگ، قومیت کی بنا پر دوسری اقوام و قبائل کی توہین، دلوں میں ایسی تفریق ڈالتی ہے جو صدیوں تک جھگڑوں کو جاری رکھتی ہے۔فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ (الحجرات :۱۲)اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں)، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور اپنے لوگوں پر عیب نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو چڑانے والے ناموں سے نہ پکارا کرو۔

قرآن کریم نے تکبر اور تفاخر کو بھی ناپسند فرمایا ہے۔فرمایا: وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا(لقمان:۱۹) اور (نخوت) سے انسانوں کے لیے اپنے گال نہ پھلا اور زمین میں یونہی اکڑتے ہوئے نہ چل

دوسری اقوام سے معاہدات اور تعلقات ہمیشہ سچائی اور نیکی پر ہوں نہ کہ دھوکے اورکسی کو نقصان پہنچانے کے لیے: آج دنیا بھر میں ڈپلومیسی اور سفارت کاری کے نام پر جھوٹ اور دھوکے کا راج ہے۔کہا جاتا ہے کہ ممالک کی دوستی نہیں ہوتی، اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ اقوام متحدہ کی چھتری تلے امن ، باہمی تعاون اورترقی کے نام پر معاہدات ہونے کے باوجود بھی ہمیں انصاف اور امن نظر نہیں آتا۔ قرآن نے اس پہلو میں بھی ہماری راہنمائی فرمائی ہے۔فرمایا: وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ۔ (المائدۃ:۳) نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرواور گناہ اور دشمنی میں ہرگز ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔

عہد و پیمان کی پابندی: اسلام نے عہد و پیمان کو بہت اہمیت دی ہے۔ وعد وں کی پابندی اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام بنیادی اسلامی تعلیمات میں سے ایک ہے۔فرمایا:وَاَوۡفُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡکِیۡدِہَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰہَ عَلَیۡکُمۡ کَفِیۡلًا (النحل:۹۲)اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرلو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد نہ توڑو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن بنا چکے ہو۔

دوسروں کے عقائد اوررسومات کا احترام: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں خدا کی شناخت اوراس سے تعلق کا جذبہ رکھا ہے۔ اسی طرح ہر قوم میں انبیاء اور صالحین بھیجے ہیں۔باہمی محبت اور احترام کو فروغ دینے کے لیے اسلام نے تعلیم دی ہے کہ دوسروں کےمعبودوں اور معززین کو بھی برا بھلا نہ کہا کرو ورنہ وہ اللہ کو برا بھلا کہیں گے۔ فرمایا: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ۔ (الانعام :۱۰۹)اور اُن کو گالی نہ دو جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔

غریب قوموں کی معاشی مدد: دنیا میں فتنہ و فساد کی ایک بڑی وجہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔امیر اور ترقی یافتہ ممالک اپنی طاقت اور ٹیکنالوجی میں برتری کے سبب غریب ممالک کے وسائل اور دولت پر قابض ہیں۔ تیسری دنیا کے اکثر ممالک اپنے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں۔ اس لیے بڑی کمپنیوں کو سامنے رکھتے ہوئے طاقتور ممالک ان کا معاشی استحصال کرتے ہیں اور وہاں عوام بھوک اور غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس طرف بھی راہنمائی فرمائی ہے کہ دولت کا ارتکاز صرف امراء میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کومنصفانہ طور پر گردش میں رہنا چاہیے تاکہ غریب، محتاج اور کمزور طبقات بھی فائدہ اٹھا سکیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ (الحشر :۸) جو کچھ اللہ نے بستیوں والوں میں سے اپنے رسول کو بطور غنیمت عطا کیا ہے وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے۔تا ایسا نہ ہو کہ یہ تمہارے امراء کے دائرےمیں ہی گردش کرتا رہے۔ اور جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس سے وہ تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

اسی طرح قرآن کریم نے غریب اقوام کو بھی نصیحت فرمائی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ امراء کو دیکھ کر ان کی دولت پر قبضہ کرنےکا نہیں سوچنا چاہیے لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمْۡ۔ (الحجر:۸۹) بلکہ اپنے وسائل کے استعمال سےاپنی حالت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔

ناپ تول میں انصاف: اقوام عالم کے مابین ہونے والی تجارت میں بھی شفافیت اور دیانت داری کی طرف بھی قرآن کریم نے ہماری توجہ مبذول فرمائی ہے۔چنانچہ فرمایا:وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ۔ الَّذِیۡنَ اِذَا اکۡتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسۡتَوۡفُوۡنَ۔ وَاِذَا کَالُوۡہُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمۡ یُخۡسِرُوۡنَ۔ (المطففین:۲ تا ۴) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے بڑی تباہی ہے۔ وہ لوگ کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب انہیں ناپ کر دیتے ہیں یا انہیں تول کر دیتے ہیں تو نقصان پہنچاتے (یعنی کم دیتے) ہیں۔

اسلام نے ان امور کی محض تعلیم ہی نہیں دی بلکہ رسول اللہﷺ نے ایسامعاشرہ بھی قائم کر کے دکھایا۔ جس میں امیر طبقوں اور غرباء کے مابین مکمل انصاف اور ہم آہنگی تھی۔ غلاموں، یتیموں اور غرباء کے حقوق بھی محفوظ تھے اور حضرت عبد الرحما ن بن عوفؓ جیسے مالداروں کو بھی دیانت داری سے تجارت کی اجازت تھی۔یہ انصاف صرف مسلمانوں کے لیے نہیں تھا بلکہ میثاق مدینہ کے تحت مدینہ میں رہنے والے یہود اور غیر مسلموں کے حقوق کی بھی مکمل حفاظت کی گئی۔ رسول اللہﷺ اور یہود کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طاقت اور غلبہ کے باوجود رسول اللہﷺ نے انہیں ہر طرح کے حقوق دیے اور سیاسی اور مذہبی آزادی سے رہنے دیا۔

امام جماعت احمدیہ کا یورپین پارلیمنٹ سے خطاب

حضرت امام جماعت احمدیہ خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مہاجرین کی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل کو بھانپتے ہوئے تیرہ سال قبل مغربی ممالک اور مہاجرین کو ان کی اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔ ۲۰۱۲ء میں یورپین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’’ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کثیر تعداد میں مہاجرین کی آمد کے باعث مختلف ممالک میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ اس چیز کی ذمہ داری دونوں فریق یعنی مہاجرین اور مقامی لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ ایک طرف تو بعض مہاجرین ایسے ہیں جو مقامی آبادی میں گھلنا ملنا نہیں چاہتے اور اس وجہ سے وہ مقامی افراد کے جذبات کو برانگیخت کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف بعض مقامی ایسے ہیں جو عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آنے والوں کے لیے تنگ دلی ظاہر کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نفرت خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں بعض مسلمانوں اور بالخصوص مہاجرین کے منفی رویہ کے ردّعمل کے طور پر مقامی لوگوں میں اس نفرت اور دشمنی کا اظہار اسلام کے خلاف ہوتا ہے۔(عالمی بحران اور امن کی راہ،صفحہ ۹۱)

مسلمانوں کے خلاف پابندیاں لگانے سے امن حاصل نہیں ہو گا: حضورانور ایدہ اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں: حکومتوں کو ایسی پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں جن سے باہمی احترام کو فروغ اور تحفظ ملے اور جن پالیسیوں سے دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو یا کسی طور پر نقصان پہنچتا ہو ایسی پالیسیوں کو خلاف قانون قرار دینا چاہیے۔ جہاں تک مہاجرین کا تعلق ہے انہیں بخوشی نئے معاشرہ میں ہم آہنگ ہونا چاہیے اور مقامی افراد کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والوں کے لیے اپنا دل کھولیں اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کے خلاف پابندیاں لگانے سے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ صرف یہ پابندیاں لوگوں کے ذہنوں اور تصورات کو تبدیل نہیں کر سکتیں یہ صرف مسلمانوں سے متعلق نہیں بلکہ جب کبھی بھی کسی شخص کو مذہبی یا اعتقادی طور پر زبردستی دبایا جاتا ہے تو اس کا رد عمل منفی ہوتا ہے جو کہ امن کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔(عالمی بحران اور امن کی راہ،صفحہ ۹۲)

امیگریشن کے بغیر مغربی ممالک شدید خطرہ میں ہیں: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پناہ گزینوں کو ملک کے تمام مسائل کی جڑ قرار دینا بالکل غیر منصفانہ ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ امیگریشن کے بغیر بہت سے امیر مغربی ممالک شدید خطرہ میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور اب ہم ایک جڑی ہوئی عالمی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اس لیے بجائے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور دوسروں سے علیحدہ ہونے کے یہ ضروری ہے کہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور مشترکہ فائدے کے لیے مل کر کوشش کریں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں اور مقامی سطح پر مہاجرین کو معاشرے کا حصہ بنانے کے لیے ان کی مدد کی جائے۔ (الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍اگست ۲۰۱۹ءصفحہ۳)

مہاجرین اور پناہ گزینوں کی ذمہ داریاں

عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری امام الزمان کی جماعت پر ڈالی ہے کہ دنیا کو انصاف اور ہدایت کی طرف بلائیں۔ امام جماعت احمدیہ نے جہاں طاقتور ممالک اور ان کے سربراہان کو بار ہا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہیں مسلم مہاجرین کو بھی ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے۔

مغربی حکومتوں کے لیے شکر کے جذبات پیدا کریں،قوانین کی پابندی کریں: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں: آپ (سویڈن)کی یہ فراخدلی یہاں آنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد کردیتی ہے اور ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہاں ایک پُرامن شہری کی حیثیت سےرہیں اور یہاں کی حکومت اور یہاں کے باشندوں کے مشکور و ممنون بن کر رہیں… حضرت محمدﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ شخص جو اپنے ساتھی کا شکرگزار نہیں بن سکتا ہو وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں کہلاسکتا۔ پس ان مسلمان مہاجرین اور پناہ گزینوں کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ اس ملک نے اُن کو یہاں رہنے اور یہاں سے فائدے حاصل کرنے کی اجازت دے کر جو احسان کیا ہے وہ ہمیشہ اس کو یاد رکھیں۔ یہ پناہ گزین امن کی تلاش میں اپنی پرانی زندگیاں چھوڑ کر نکلے تھے اور اب جب انہیں سلامتی اور تحفظ مل گیا ہے تو ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس ملک کے اندر پُرامن طور پر رہیں اور اس ملک کے قوانین کی پاسداری کریں۔ (الفضل انٹرنیشنل، ۱۵ تا ۲۱ جولائی۲۰۱۶ء صفحہ ۱۱ و ۱۲)

مہاجرین مقامی معاشرے اور لوگوں سے integrateکریں اور اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں: مہاجرین جومغربی ممالک کی طرف آتے ہیں وہ اس معاشرے میں آ کر integrate نہیں ہوتے اور اس سے ہٹ کر بہت سے ایسے ہیں جو کام بھی نہیں کرتے۔ یا اگر وہ کام بھی کرتے ہیں تو ٹیکس ادا نہیں کرتے اور خود کو مقامی لوگوں سے الگ رکھتے ہیں۔ جب مقامی باشندے دیکھتے ہیں کہ یہ معاشرے کا حصہ نہیں بن رہے جبکہ یہ گورنمنٹ سے benefits بھی حاصل کر رہے ہیں جو ان مقامی لوگوں کے ٹیکسز سے ادا ہوتے ہیں تو یہ بات انہیں غصہ دلاتی ہے۔اور ایسے لیڈ رز جو مہاجرین کے لیے نفرت رکھتے ہیں وہ عوام الناس کو ان کے خلاف اکساتے ہیں…اگر مہاجرین خود کو لوکل معاشرے کے ساتھ integrate کرنے کی کوشش کریں تو وہ مقامی لوگوں کے شبہات دور کر سکتے ہیں۔ Integration کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ مقامی لوگوں کی طرح کا لباس پہنیں یا کلبز میں جائیں یا الکوحل والے مشروبات پینا شروع کر دیں۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ ان کے کلبز میں جا کر ڈانس کریں۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ اپنے اخلاق سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔(الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍اگست ۲۰۲۱ء، صفحہ ۳)

حکومتی مدد لینے کی بجائے ٹیکس دیں: حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ہمارے جو بھی آنے والے امیگرنٹس ہیں ان کو یہاں آکے کام کرنا چاہیے تاکہ taxpayer کا ٹیکس کھانے، ہیلپ لینے کی بجائے ٹیکس دینے والے بنیں۔ (حضورِانور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کی روشنی میں فرمایا) دینے والا ہاتھ بنو، لینے والا ہاتھ نہ بنو، اس پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ یہ اسلامی تعلیم ہے تو ہم تو اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں اور اس کے مطابق ہی ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ (الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍فروری ۲۰۲۵ء)

Integrationکا مطلب ہے قوم کی خدمت کریں: ایک خاتون کے سوال پر حضورِانور نے حقیقی Integration کی بنیاد خدمتِ وطن قرار دیتے ہوئے فرمایا: integrate ہونا یہ ہے کہserve the country، وہ اگر آپ کر رہی ہیں تو ٹھیک ہے۔… ہم سروس کر رہے ہیں، ہم ملک کے loyal بھی ہیں، اورloyalty کیا ہے، یہی ہے کہ ملک کے خلاف بات نہیں کرنی، ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے سروس کرنی ہے۔احمدیوں کو اپنی خدمات سے ملک کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے۔ اگر جماعت کہتی ہے کہ ہماری ملک کے ساتھ loyalty ہے تو اس loyaltyکا ثبوت ہونا چاہیے کہ ہم ملک کو ڈاکٹر، ٹیچر یا انجینئر کے طور پر یا کسی بھی طرح کی service ہو۔(الفضل انٹرنیشنل ۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۵ء)

ہجرت کے بعد آبائی وطن کی بجائے جس ملک میں رہتےہو، اس سے وفاداری کریں: جرمنی میں ایک خطاب میں حضور انور نے فرمایا: اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر جرمنی کی کسی مہاجر کے آبائی وطن سے جنگ ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ اگر اس مہاجر کے دل میں اپنے آبائی وطن کی خاطر ہمدردی موجود ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس کے دل میں یہ خواہش جنم لے سکتی ہے کہ جرمنی کو نقصان پہنچے یا وہ خود جرمنی کو نقصان پہنچائے تو ایسے آدمی کو فوراً اپنی شہریت ترک کر کے اپنے آبائی وطن واپس چلے جانا چاہیے۔لیکن اگر وہ وہیں رہے گاتو اسلام اپنے ملک سے کسی قسم کی عدم وفاداری کی اجازت نہیں دیتا۔(عالمی بحران اور امن کی راہ،صفحہ ۱۰۵ و ۱۰۶)

comprehensive plan بنا کر اپنا پیغام پھیلائیں: امیگریشن کے مخالفین کی مہم کا حل پیش کرتے ہوئے فرماتےہیں: ہمارا یہ کام ہے کہ جس طرح وہ لوگcampaignکرتے ہیں، چلا رہے ہیں، ہم بھی کوئی ایسی moveچلائیں کہ لوگوں کو awareness دیں کہ اسلامی تعلیم کیا ہے اور یہ کہ immigrant کے طور پر یا مسلمان کے طور پر ہم کیاrole ادا کرتے ہیں اور ہمیں کیا تعلیم دی جاتی ہے۔(حضورِانور نے یاد دلایا کہ )تبھی تو سترہ اٹھارہ سال پہلے مَیں نے کہا تھا کہ اپنے ملکوں میں ہر سال پانچ پرسنٹ، جو ملک کی پاپولیشن ہے، اس کو awareness دو کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے اور کس طرح وہ امن اور سلامتی کا مذہب ہے، لیکن ابھی تک تم لوگ پانچ پرسنٹ تک بھی بیس سال میں نہیں پہنچے، تو ایک سال میں کیا پہنچنا تھا؟ اب تک معاملہ کہیں کا کہیں ہوتا، اگر اس ٹارگٹ کو seriously حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔

حضورِانور نے اس حوالے سے عملی راہنمائی فرماتے ہوئے تاکید کی کہ نئے طریقے دیکھو اور اس کے لیے یہی ہے کہ سیمینار بھی کرو۔ خدام الاحمدیہ یوتھ سیمینار کرے، یونیورسٹیوں میں ہوں، پڑھے لکھے academics میں ہو، تا کہ ان کو awareness ہو کہ اسلامی تعلیم کیا ہے اور ہم کیا چاہتے ہیں اور ہم ملک کی activitiesمیں اور ملک کی بہتری کے لیے integrateہوتے ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں بتانی پڑیں گی۔ مزید برآں حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک بڑا comprehensive plan بنانا پڑے گا، وہ بناؤ تو پھر ہی ہو گا۔گھر بیٹھے تو کچھ نہیں ملے گا۔ ہر چیز کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ (الفضل انٹرنیشنل ۹؍اکتوبر ۲۰۲۵ء)

ایک سوال کے جواب میں فرمایا: پریس اینڈ میڈیا والوں کے ساتھ مل کر اس طرح کے آرٹیکل اخباروں میں لکھیں اور چھوٹے چھوٹے کلپ سوشل میڈیا پر بھی ڈالے جاسکتے ہیں۔ اس کی ایک ٹیم بنائیں۔ باقاعدہ اینٹی مسلم ریس ازم کے متعلق بھی بتا دیں کہ اسلام کی اصل تعلیم کیا ہے۔اینٹی مسلم ریس ازم کے خاتمے کےحوالے سے حضورِانور نے یاددہانی کرائی کہ اس بارے میں تو مَیں جرمنی میں بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، کئی تقریریں ہیں، اس میں سے quote لے کے بتائیں۔ قرآن شریف کی آیتیں ہیں، حدیثیں ہیں کہ مسلمانوں کی کیا تعلیم ہے اور مسلمان امن پسند ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیم عورتوں کے بارے میں کیا ہے اور شرعی حقوق کے بارے میں کیا ہے، حکومت کے بارے میں کیا ہے، deprived لوگوں کے بارے میں کیا ہے، تو اس طرح کی باتیں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کریں۔ (الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍فروری ۲۰۲۵ء)

احمدی مہاجرین اپنا مذہب اور ہجرت کے مقصد کو نہ بھولیں: نئے آنے والے احمدی مہاجرین کی تربیت کے متعلق سوال پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان(مہاجرین) کو بتاؤ کہ تم پاکستان سے چھوڑ کر آئے ہو، اگر تو اس لیے آئے ہو کہ وہاں تمہارے پر سختیاں تھیں، ہمیں نماز نہیں پڑھنے دیتے، ہمیں مسجدوں میں نہیں جانے دیتے، ہم آزادی سے عبادت نہیں کر سکتے، اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتے۔ احمدی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں مارا پیٹا جاتا ہے۔ وجہ تو مذہب ہے۔جب مذہب وجہ ہے تو یہاں آ کر مذہب کو نہ بھولو۔مذہب کو یاد رکھو اور مذہب کو یاد رکھنے کے لیےاللہ تعالیٰ نے جو بہترین طریقہ بتایا ہے، وہ یہی ہے کہ اس کی عبادت کرو۔ پانچ وقت نمازیں فرض ہیں، ان کو پڑھو۔استغفار کرو اور دنیا کی، یہاں کی ویسٹرن جوattractions اور charms ہیں ان کے پیچھے نہ پڑ جاؤ بلکہ اپنے مقصد کو یاد رکھو۔ (الفضل انٹرنیشنل ۲۹؍ مئی ۲۰۲۵ء)

آج ایک مرتبہ پھردنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اگر دنیا فتنہ وفساد سے بچنا چاہتی ہےتو اقوام عالم کو اسلام کے راہنما اصولوں پر کاربند ہونا پڑے گا۔

محض اپنے ملک اور قوم کی بہتری اور برتری کے خیال سے بلند ہوکر عالمی سطح پر انصاف اور ترقی کے لیے اکھٹے ہونا ہو گا۔

ممالک کے مابین جھگڑوں کو انصاف سے حل کرنا ہو گا۔ اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے بلاک بنانے اور کمزور ممالک کو دبانے کا سلسلہ ترک کرنا ہو گا۔

آزادیٔ اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب اور خصوصاً اسلام کی توہین و تحقیر سے رکنا ہو گا۔ جو لوگ نعوذ باللہ رسول اللہﷺ کے خاکے بناتے ہیں ان کو سمجھ آ جانا چاہیے کہ وہ ایسی نفرت کی آگ جلا رہے ہیں جو سب کو جلا کر راکھ کر دے گی۔

جھوٹے پراپیگنڈا کی بجائے سچائی اور دیانت داری پر مبنی صحافت کی ضرورت ہے۔ صرف اپنے مقاصد کو پھیلانے کے لیے یک طرفہ جھوٹ سے رکنا ہو گا۔

عالمی معاہدوں کی پابندی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہو گا۔

غریب اقوام کی ہمدردانہ معاشی مدد کرکے ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا۔

عالمی تجارت کو بھی منصفانہ طور پر چلانا ہو گا نہ کہ اپنے مفادات کےلیےٹیرف اورٹیکس کی یکطرفہ جنگوں میں اپنی توانائیاں خرچ کرتے رہیں۔

غریب ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے او ر اپنی مرضی کی حکومتیں بنانے کے لیے ان پر جنگیں مسلّط کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔یہی و ہ صورت ہے جس سے مہاجرین اور پناہ گزینوں کا مسئلہ بھی حل ہو گا۔

جو مہاجرین قانونی طورپر مغرب میں آ چکے ہیں ان کو قانون کی پابندی کرتے ہوئے ملک کا وفار دار بنناہو گا۔

مغربی ممالک میں پناہ لینے والوں کو بھی حکومتوں پر بوجھ بننے کی بجائے محنت کرکے ملک کے کارآمد شہری بننا چاہیے تاکہ مقامی لوگوں کے وسائل پر بوجھ نہ بنیں۔

مسلم ممالک کو بھی اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اپنے لوگو ں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔سیاسی، معاشی اور مذہبی آزادی دینا ہو گی تاکہ لوگ اپنے گھروں اور ممالک میں بہتر زندگی گزار سکیں۔

بطور احمدی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کے با اثر طبقات تک اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں جنگ کے اسلامی اصول و آداب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button