حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

عملی کمزوری کو دور کرنے کے طریق

(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳۱؍جنوری ۲۰۱۴ء)

عملی کمزوری کو دور کرنے کا طریق یا عملی قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں آج کچھ کہوں گا۔ اس کے لئے جیسا کہ پہلے خطبات میں ذکر ہو چکا ہے، بیرونی علاج یا مدد کی ضرورت ہے۔ یا کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہے۔ اور عملی اصلاح کے لئے یہ سہارا دو قسم کا ہوتا ہے یا دو قسم کے سہاروں، ایک نگرانی کی اور دوسرا جبر کی ضرورت ہے۔

نگرانی یہ ہے کہ مستقل نظر میں رکھا جائے، زیرِ نگرانی رکھا جائے کہ کہیں کوئی بد عمل نہ کر لے۔ اس قسم کی نگرانی دنیاوی معاملات میں بھی ہوتی ہے۔ گھروں میں ماں باپ بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ سکولوں میں استاد علاوہ پڑھانے کے نگرانی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ حکومت کے کارندے نگرانی کر رہے ہوتے ہیں اور یہ بتا دیتے ہیں کہ ہم نگرانی کریں گے۔ سڑکوں پر ٹریفک کے لئے مستقل کیمرے لگائے ہوتے ہیں اور بورڈ لگے ہوتے ہیں کہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔ یہ نگرانی کا ایک عمل ہے۔ جو بچے ماں باپ کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں اُن کے والدین کو warning دی جاتی ہے کہ ہم نگرانی کریں گے۔ اگر بچوں کوزیادہ تنگ کیا گیا تو پھر بچوں کی بہبود کا جوادارہ ہے وہ کہتا ہے کہ ہم بچے لے جائیں گے۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ بہت عام ہے۔ بلکہ میرے خیال میں تو بچوں کے معاملے میں ناجائز حد تک یہ نگرانی ہوتی ہے۔ اور ماں باپ بچوں سے ڈر کر یا اس ادارے سے ڈر کر جائز روک ٹوک بھی بچوں پر نہیں کرتے اور نتیجۃً بسا اوقات بچے بھی بگڑ جاتے ہیں۔ دنیا کے معاملات میں تو یہ نگرانی بعض دفعہ نقصان کا باعث بھی بن رہی ہوتی ہے۔ پھر خاوند بیوی کے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے بھی اُن کی نگرانی ہوتی ہے۔ پھر ملزمان کی نگرانی ہوتی ہے۔

بہر حال اس ساری نگرانی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُس کو اُن کاموں سے روکا جائے جن کی وجہ سے فساد پیدا ہو سکتا ہے یا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ہو۔ بہر حال نگرانی ہر معاشرے کے قانون میں اصلاح کاایک ذریعہ ہے اور عملی اصلاح کرنے کے لئے دین بھی اس کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے۔ اور بہت سے غلط کاموں سے انسان اس وجہ سے بچ رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ ماں باپ اپنے دائرے میں نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ مربیان کا اپنے دائرے میں یہ نگرانی کرنا کام ہے۔ اور باقی نظام کو بھی اپنے اپنے دائرے میں نگران بننا ضروری ہے۔ اور جب اسلام کی یہ تعلیم بھی سامنے ہو کہ ہر نگران نگرانی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب الجمعۃ فی القریٰ و المدن حدیث نمبر893)

تو نہ صرف اُن کی اصلاح ہو گی جن کی نگرانی کی جا رہی ہے بلکہ نگرانوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہو گی۔ بہرحال عملی اصلاح کے لئے نگرانی بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

دوسری بات جو اصلاح کے لئے ضروری ہے جبر ہے۔ یہاں کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ ’’دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے‘‘دوسری طرف عملی اصلاح کے لئے جو علاج تجویز کیا جا رہا ہے، وہ جبر ہے۔ پس واضح ہو کہ یہ جبر دین قبول کرنے یا دین چھوڑنے کے معاملے میں نہیں ہے۔ ہر ایک آزاد ہے، جس دین کو چاہے اختیار کرے اور جس دین کو چاہے چھوڑ دے۔ اسلام تو بڑا واضح طور پر یہ اختیار دیتا ہے۔ یہاں جبر یہ ہے کہ دین کی طرف منسوب ہو کر پھر اُس کے قواعد پر عمل نہ کرنا اور اُسے توڑنا، ایک طرف تو اپنے آپ کو نظامِ جماعت کا حصہ کہنا اور پھر نظام کے قواعد کو توڑنا۔ یہ بات اگر ہو رہی ہے تو پھر بہر حال سختی ہو گی اور یہاں جبر سے یہی مراد ہے۔ نظام کا حصہ بن کر رہنا ہے تو پھر تعلیم پر بھی عمل کرنا ہو گا۔ ورنہ سزا مل سکتی ہے، جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، بعض قسم کی پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہے۔ اور ان سب باتوں کا مقصد اصلاح کرنا ہے تا کہ قوتِ عملی کی کمزوری کو دور کیا جا سکے۔ جماعت میں بھی جب نظامِ جماعت سزا دیتا ہے تو اصل مقصد اصلاح ہوتا ہے۔ کسی کی سبکی یا کسی کو بلا وجہ تکلیف میں ڈالنا نہیں ہوتا۔ یہ جبر حکومتی قوانین میں بھی لاگو ہے۔ سزائیں بھی ملتی ہیں، جیلوں میں بھی ڈالا جاتا ہے، جرمانے بھی ہوتے ہیں، بعض دفعہ مارا بھی جاتا ہے۔ اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرے میں امن رہے اور جودوسرے کو نقصان پہنچانے والے ہیں وہ نقصان پہنچانے کا کام نہ کر سکیں بلکہ بعض دفعہ تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے کام پر بھی سزا مل جاتی ہے۔ لیکن اس سزا کے دوران اصلاح کرنے کے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر کسی کو پھانسی بھی دی جاتی ہے تو یہ جبر اس لئے ہے کہ قاتل نے ایک جان لی اور قاتلوں کو اگر کھلی چھٹی مل جائے تو پھر معاشرے کا امن برباد ہو جائے اور کئی اور قاتل پیدا ہو جائیں۔ پس قتل کی سزا قتل دینے سے کئی ایسے لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے یا وہ اس کام سے رُک جاتے ہیں جو قتل کا رجحان رکھتے ہیں، جو زیادہ جوشیلے ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ جبر اصلاح کا ایک پہلو ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔

دنیا دار کے جبر سے یا دنیاوی سزاؤں کے جبر سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن ایک دین کی طرف منسوب ہونے والے پر جب جبر کیا جاتا ہے اور دینی نظام کے تحت اُس کو سزا دی جاتی ہے یا کسی بھی قسم کی سزا یا جرمانہ ہو، کوئی اور سزا ہو یا بعض پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ جماعت میں بعض دفعہ بعض چندے لینے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں تو بیشک جبراً ان کاموں سے روکا جا رہا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی جب وہ باتیں یا اعمال جو صالح اعمال ہیں، اُن کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہو اور کوئی شخص اس لئے کر رہا ہو کہ سزا سے بچ جاؤں یا خلیفہ وقت کی ناراضگی سے بچ جاؤں یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جاؤں تو آہستہ آہستہ دل میں ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور ایسے لوگ برائیوں کو چھوڑ کر خوشی سے نیک اعمال بجا لانے والے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ نیک اعمال بجا لانے کی عادت ڈالنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاحِ اعمال میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پس ان ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ یعنی ایمان کا پیدا کرنا، علمِ صحیح کا پیدا کرنا، ان باتوں کا تو گزشتہ خطبہ میں ذکر ہو گیا تھا۔ اور قوتِ عملی پیدا کرنے کے ضمن میں نگرانی کرنا اور جبر کرنا، جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے۔

یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر اصلاح مشکل ہے۔ جب ہم گہرائی میں جائزہ لیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ ایساہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا۔ یعنی وہ معیار نہیں رکھتا جو اصلاحِ عمل کے لئے ایک انسان میں ہونا ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر قوتِ ایمانیہ بھر دی جائے تو ان کے اعمال درست ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مرتبۂ شہادت کی نہایت پُرمعارف تشریح

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button