ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۴)(قسط ۱۴۹)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
ہیماٹوکسی لون
Haematoxylon
معدے میں ہوا، درد اور کھرچن کا احساس اٹھتا ہے جو گلے تک پہنچتا ہے اور دل کے مقام پر درد اور تشنج پیدا کرتا ہے۔چھونے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔(صفحہ۴۲۳ )
ہیڈی اوما
Hedeoma
یہ دوا عورتوں اور مردوں دونوں کی تکلیفوں میں نمایاں اثر رکھتی ہے۔ اس دوا کے مریضوں کی بیماریاں اعصابی پریشانی سے بڑھ جاتی ہیں۔(صفحہ۴۲۵)
ہیکلا لاوا
Hekla lava
مرطوب موسم میں اس کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔(صفحہ ۴۲۹)
ہیلی بورس نائیگر
Helleborus niger
(Snow Rose)
مرگی کے ایسے دورے جن میں مریض ہوش و حواس نہیں کھوتا اور آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہیلی بورس بہت مفید ہے۔جب ایسی مرگی کا دورہ ختم ہوجائے تو مریض پر اچانک سخت تھکاوٹ اور غنودگی طاری ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۴۳۲ )
ہیلی بورس میں عمومی کمزوری بہت نمایاں ہوتی ہے جو بعض اوقات فالج کا باعث بن جاتی ہے۔ (صفحہ۴۳۲)
ہیلونیس
Helonias
ہیلونیس کی مریضہ اپنی توجہ بیماری سے ہٹائے تو بہتر محسوس کرتی ہے۔حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔(صفحہ۴۳۶ )
ہیپرسلفیورس کلکیریم
Hepar sulphuris calcareum
(Calcium Sulphide)
ہیپرسلف بکثرت روز مرہ کام آنے والی دوا ہے۔ سلیشیا کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔ جہاں سلیشیا اثر دکھانا چھوڑ دے وہاں بھی ہیپرسلف مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ روز مرہ کی عام چھوت کی بیماریوں میں بھی ہیپرسلف بہت اچھا کام کرتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے سلیشیا استعمال نہ کروائی جا سکے تو ہیپر سلف بغیر کسی خوف وخطر کے دی جا سکتی ہے۔ ہیپر سلف مرکری اور سلیشیا کے درمیان اس لئے دی جاتی ہے کہ مرکری کے بعد براہ راست سلیشیا دینا مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سے کئی قسم کے نقصانات پہنچنے کا احتمال ہو تا ہے۔ مرکری کے بعد سلیشیا دینے سے پہلے ہیپر سلف دینی ضروری ہے۔ اسی طرح اگر سلیشیا کے بعد مرکری دینا ہو تو بھی ہیپر سلف درمیان میں دے کر سلیشیا اور مرکری کےتصادم کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ (صفحہ۴۳۷)
غدودوں کا سخت ہونا اور سوج جانا بہت سی دواؤں میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہیپر سلف کی بھی علامت ہے۔ اگر سختی اور سوزش مستقل ٹھہر جائیں تو اس کا علاج حسب حالات مختلف دواؤں سے کیا جا تا ہے لیکن اگر ان کے اندر پیپ پیدا ہونے لگے تو اس صورت میں ہیپر سلف دینے میں تامل نہیں کرنا چاہئے۔ کلکیر یا سلف بھی بہت اچھی دوا ہے۔ (صفحہ۴۳۸)
نزلے میں ناک اور گلے کے اندر بلغم سا چپکا رہے اور اس وجہ سے چھینکیں آئیں تو ہیپر سلف ہی دینی چاہئے۔ سردی کی وجہ سے چھینکیں آنا بھی ہیپر سلف کی علامت ہے۔ اگر سرد موسم میں گرم کمرے میں آنے سے چھینکیں شروع ہو جائیں تو اس کی دوا پلسٹیلا ہے۔ اگر گرمی سے سرد ماحول میں داخل ہونے سے چھینکیں آنے لگیں تو سباڈیلا، سلیشیا اور نیٹرم میور اور ہیپ سلف کا خیال آنا چاہئے۔ اگر سوتے ہوئے ہاتھ پاؤں لحاف سے باہر رہ جائیں اور باہر کے ماحول میں ٹھنڈ ہو اور چھینکوں کا سلسلہ شروع ہوجائے تو یہ ہیپر سلف کی خاص علامت ہے۔ہیپر سلف کا مریض سرد ہوا کا ذرا سا جھونکا بھی برداشت نہیں کرسکتا۔شوروغل بھی اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔(صفحہ۴۳۹ )
ہیپر سلف بہت گہری دوا ہے۔ اگر اچانک شدید بیماری کا حملہ ہو تو اونچی طاقت میں دینے سے فائدہ ہو تا ہے اور بار بار اونچی طاقت میں دینا بھی نقصان دہ نہیں۔ ایک ہزار طاقت میں بیماری کی شدت توڑنے کے لئے ایک دن میں دو بار بھی دی جا سکتی ہے لیکن جب مرض قابو میں آجائے تو پھر وقفہ بڑھانا لازم ہے۔ دوا کی طاقت کے استعمال کے بارے میں اپنے تجربہ سے سبق سیکھیں۔ رفتہ رفتہ تجربہ سے پوٹینسی کے استعمال کا سلیقہ آ جاتا ہے۔ اگر بیماری طویل ہو جائے تو ایسی مزمن حالت میں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ مریض اونچی طاقت سے آناً فاناً ٹھیک ہو سکتا ہے۔ پرانے مرض میں سارے جسم کے نظام میں گہری تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو فوری طور پر پیدا نہیں ہو سکتیں۔ اگر جسم کا دفاعی نظام کمزور ہو چکا ہو اور مریض میں مقابلہ کی طاقت بہت کمزور ہو چکی ہو تو اونچی طاقت میں دوا دینے سے شدید رد عمل کا خطرہ ہو تا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتاہے۔ (صفحہ۴۴۰)
ہیپر سلف میں کلکیریا اور سلفر دونوں عناصر پائے جاتے ہیں لیکن سلفر کا اثر زیادہ غالب ہو تا ہے اور سلفر کو جو مشابہت سلیشیا سے ہے وہ اسے بھی ہے۔(صفحہ۴۴۱)
ہورا برازیل
Hura braziliensis
یہ دوا کوڑھ یعنی جذام میں اس وقت کام آتی ہے جب یہ احساس ہو کہ جلد بہت موٹی ہو گئی ہے اور سکڑ گئی ہے۔ لہذا یہ لیوپس میں بھی مفید ہے۔ ہو را میں جلد پر تناؤ آجاتا ہے اور وہ کھینچی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ہو را اور ہائیڈ رو کو ٹائل کے علاوہ میڈو را ( Madura) بھی جذام اور لیوپس کی قسم کی بیماریوں میں کام آنے والی دوا ہے۔ (صفحہ۴۴۳)
ہائیڈراسٹس
Hydrastis
(Golden Seal)
ہائیڈراسٹس کی تکلیفوں میں آرام کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔بیماری بڑھنے سے چہرے پر یرقان کے اثرات ظاہر ہوجاتے ہیں۔(صفحہ۴۴۸)
اگر نزلہ کا مریض کمرے میں رہے تو ناک بہنا رک جاتا ہے۔باہر کھلی ہوا میں جانے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ہائیڈراسٹس کے مریض کی کھانے سے نفرت جب بڑھ جائے تو اسے دودھ پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہےجسے وہ شوق سے پیتا ہےاور آسانی سے ہضم کرسکتا ہے۔اعصاب میں تشنج اوراینٹھن پائے جاتے ہیں۔(صفحہ۴۴۸)
ہائیڈ رائٹس کے مریض کے جسم میں اور ٹانگوں میں دردوں کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامات ملتی ہیں جنہیں ہلکی حرکت سے کچھ آرام ملتا ہے۔ اس پہلو سے یہ رسٹاکس سے ملتی ہے۔ اگر چہ اس میں آرام کرنے سے مریض کو عموماً افاقہ ہو تا ہے لیکن دردوں میں آہستہ آہستہ چلنے سے آرام آتا ہے۔ ایسے مریض کے پاؤں بھی سوج جاتے ہیں۔ جگر کی ورم اکثر چہرے اور پیٹ پر ظاہر ہوتی ہے اور پھر پاؤں پر اثر پڑتاہے۔(صفحہ۴۴۸)
ہائیڈ رائٹس عموماً بوڑھے، نحیف اور جلد تھکنے والے لوگوں کی بیماریوں میں نمایاں اثر کرنے والی دوا ہے۔ اس کا مریض پژمردہ رہتا ہے۔ اسے اپنی جلد موت کا یقین سا ہو جاتا ہے بلکہ مرنے کی تمنا بھی رکھتا ہے۔ سست رو اور پست ہمت ہو تا ہے۔(صفحہ۴۴۸)
ہائیڈروکوٹائل
Hydrocotyle
ہائیڈ رو کو ٹائل ایک ایسی دوا ہے جو کوڑھ کے لئے بہت مؤثر ہے اور بہت سی دوسری جلدی بیماریاں بھی اس سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ کوڑھ ایک ایسا مرض ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ یہ فوری لگنے والا مرض نہیں ہے بلکہ خون میں اس کا مادہ آہستہ آہستہ نشوونما پاتا ہے اور کسی کوڑھی کے ساتھ بہت لمبے عرصہ تک مسلسل لمس کرتے رہنے کے نتیجہ میں یہ منتقل بھی ہو سکتا ہے۔ اگر جلد پر کوڑھ کے ابتدائی آثار ظاہر ہونے لگیں تو فوراً ہائیڈ رو کو ٹا ئل دینی چاہئے ورنہ آخر کار جب کوڑھ میں جابجا زخم اور ناسور بن گئے ہوں تو پھر یہ کام نہیں آتی۔ میں نے کئی مریضوں میں ہائیڈ رو کو ٹائل استعمال کی ہے۔ خدا کے فضل سے ہمیشہ ہی اسے بہت مفید پایا ہے۔ بعض دفعہ تو مکمل شفا ہو گئی اور بعض دفعہ بیماری بالکل معمولی رہ گئی۔(صفحہ۴۵۱)
کوڑھ کے علاوہ لیوپس (Lupus) بھی ایک ایسی جلدی بیماری ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لاعلاج ہے۔ یہ کئی قسم کی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ آبلہ دار وانے، زخم اور خارش کے علاوہ اس میں جلد کھنچ کر سکڑنے لگتی ہے اور بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہائیڈ رو کو ٹائل اس مرض میں بھی بہت مفید ہے۔ عمومی خارش جو بغیر کسی جلدی ابھار دانوں یا زخم کے ہو اس کے لئے بھی ہائیڈ رو کو ٹائل کو فائدہ مند پایا گیا ہے۔اسی طرح ایک اور دوا ڈولی کوس (Dolichos) بھی خشک ضدی خارش میں بہت مفیدجلد موٹی ہو جائے اور مچھلی کی جلد کی طرح کے چھلکے اترنے لگیں تو یہ سورائسس (Psoriasis) کی علامت ہے۔ اسے کوڑھ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ سورائسس کا علاج ہوناچاہئے جو بہت لمبی توجہ اور گہری دواؤں کے استعمال کا محتاج ہو تا ہے۔ (صفحہ۴۵۱-۴۵۲)
لیوپس (Lupus) کی قسم کی ایک اور جلدی بیماری ہے جس میں سارے جسم پر مچھلی کی طرح چانے بننے لگتے ہیں، اس میں سورائینم ایک ہزار یا آرسنک ایک ہزار طاقت میں دینی چاہئے۔ سورائینم اور آرسنک میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سو رائنیم کے مریض کے اخراجات میں شدید بد بو پائی جاتی ہے اور یہ بدبو بہت نمایاں ہوتی ہے۔ اگر کسی معین بیماری کے بغیر ہی منہ بغلوں یا پاؤں سے سخت بو آتی ہو تو رس گلا برا ۶X طاقت میں بہت اچھا کام کرتی ہے۔ میں نے اسے ہومیوپیتھک ۶ پوٹینسی میں بھی استعمال کرا کے دیکھا ہے اور بہت مفید پایاہے۔(صفحہ۴۵۲)
ہائیڈ رو کو ٹائل سورائسس میں بھی بہت مفید ہے۔ اگر سورائسس ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں پر نمایاں ہو تو اس میں بھی ہائیڈ رو کو ٹائل کو استعمال کرنا چاہئے۔ تلوؤں اور ہتھیلیوں میں سورائس کے بغیر بھی خارش ہو تو یہ دوا مفید ہے۔(صفحہ۴۵۲)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۳)(قسط ۱۴۸)




