خلاصہ خطبہ جمعہ

شکرگزاری کے حوالہ سے حضرت مسیح موعودؑ کا عملی نمونہ اور آپؑ کی تعلیمات۔ خلاصہ خطبہ ۱۴؍اگست ۲۰۲۶ء

٭… جب انسان کسی اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ مغرور ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس عرصے میں بہت کچھ نیک کام کر سکتا ہے اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے

٭… مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیےکہ جس نے اُن کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہرایک نوع کی قباحت سے پاک ہے

٭… آج کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو مان لیں اور اپنے آپ کو وحدت کی لڑی میں پرو لیں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں

٭… میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر کے ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا، میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے، جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے، محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں، نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں… (حضرت مسیح موعودؑ)

٭… خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو اور سوالی کو نہ جھڑکو۔ خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہیے اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۴؍اگست ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۴؍ظہور ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۱۴؍اگست ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

گذشتہ خطبات میں شکر گزاری کے اظہار کے لیے آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور اسوہٴ حسنہ بیان کیا تھا۔

شکر گزاری کے اس اعلیٰ معیار کو آپؐ کے غلام صادق اور اس زمانے کے امام حضرت مسیح موعودؑ نے کس طرح سمجھا اور اپنے عمل سے گھر میں بچوں کو کیسے سمجھایا، اس کے متعلق بعض حوالے پیش کروں گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نعمتوں پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی اہمیت اور حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

جب انسان کسی اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ مغرور ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس عرصے میں بہت کچھ نیک کام کر سکتا ہے اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے

یعنی انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب نازل کرتا ہے ۔

پھر آپؑ فرماتےہیں کہ سب سے مقدّم اللہ کا شکر کرو جس نے ہمیں زندگی دی، صحت دی، تندرستی بخشی، امن دیا اور اشاعتِ دین کے سامان مہیا کیے ہیں اور حقیقت میں سچی بات یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرنا چاہیں تو ہرگز ممکن نہیں کہ اس خدا کی مہربانی اور احسانوں کا شمار کر سکیں۔

پھر ایک موقع پر آپؑ فرماتے ہیں کہ

مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیے کہ جس نے اُن کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہرایک نوع کی قباحت سے پاک ہے

اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اُس کو معلوم ہوگا کہ واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمد و ثنا کا مستحق نہیں ہے۔ اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اُس پر بدیہی طور پر کُھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اِس لیے مستحق ہوسکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ کسی وجود کی خبر تھی وہ اس کا پیدا کرنے والا ہو یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاءِ وجود اورحفظِ صحت اور قیامِ زندگی کے لیے کیا کیا اسباب ضروری ہیں اور اس نے وہ سب سامان مہیّا کیے ہوں یا ایسے زمانہ میں کہ اُس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں اُس نے رحم کیا ہو اور اُس کو محفوظ رکھا ہو۔ اور یا اِس وجہ سے مستحق تعریف ہوسکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے۔ اگرچہ بظاہر اُجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہوسکتا ہے جو پورے طور پر حقوق ادا کرے۔ یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو مستحق حمدوثنا بنا سکتی ہیں۔ اب غور کرکے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر اِن سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متّصف ہے اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں۔

پھر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور سلسلہ احمدیہ کے قیام پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اے دانشمند و !تم اس سے تعجب مت کرو کہ خدا تعالیٰ نے اس ضرورت کے وقت میں اور اس گہری تاریکی کے دنوں میں ایک آسمانی روشنی نازل کی اور ایک بندہ کو مصلحت عام کے لیے خاص کر کے بغرض اعلائے کلمہٴ اسلام واشاعت نور حضرت خیر الا نام اور تائید مسلمانوں کے لیے اور نیز اُن کی اندرونی حالت کے صاف کرنے کے ارادہ سے دنیا میں بھیجا۔ تعجب تو اس بات میں ہوتا کہ وہ خدا جو حامی دین اسلام ہے، جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ تعلیم قرآنی کا نگہبان رہوں گا اور اسے سرد اور بےرونق اور بے نو رنہیں ہونے دوں گا ۔ وہ اس تاریکی کو دیکھ کر اور اِن اندرونی اور بیرونی فسادوں پر نظر ڈال کر چُپ رہتا اور اپنے اُس وعدہ کو یاد نہ کرتا جس کو اپنے پاک کلام میں مؤ کد طور پر بیان کر چکا تھا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر تعجب کی جگہ تھی تو یہ تھی کہ اس پاک رسولؐ کی یہ صاف اور کھلی کھلی پیشگوئی خطا جاتی جس میں فرمایا گیا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر خدا تعالیٰ ایک ایسے بندہ کو پیدا کرتا رہے گا کہ جو اس کے دین کی تجدید کرے گا…سو یہ تعجب کا مقام نہیں بلکہ ہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدے کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیش گوئی میں ایک منٹ کا بھی فرق پڑنے نہیں دیا اور نہ صرف پیشگوئی کو پورا کر دیا بلکہ آئندہ کے لیے بھی ہزاروں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا ۔

اگرتم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدے بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے ہمارے بزرگ آباء اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں سفر کر گئیں وہ تم نے پا لیا۔ اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا، اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔

آج کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو مان لیں اور اپنے آپ کو وحدت کی لڑی میں پرو لیں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔

ایک متلاشیٴ حق کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ خدا کا شکر کرو کہ اس نے عین وقت پر دستگیری فرمائی ہے اور اس سلسلے کو قائم کیا ۔اس لیے تم کو مناسب ہے کہ اس فضل کو جو تم کو دیا گیا ہے، ضائع نہ کرو اور ادب کی نگاہ سے دیکھو اور اس مدد اور نصرت کی جو تمہیں دی گئی ہے قدر کرو…

اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو لوگ شناخت کر لیتے ہیں۔ پس تم پر یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ قوت عطا کی ہے اور شناخت کی آنکھ بخشی ہے۔

پھر آپؑ نے میاں عبدالحق صاحب کی مثال دی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی اور ان کو عیش کی جگہ سے نکال کر حق قبول کرنے کی توفیق دی۔ حضرت میاں عبد الحق صاحب قصور کے رہنے والے تھے۔طالب علم تھے اور عیسائی ہو گئے۔ پھر حضرت صاحبؑ کی بعض تحریروں کو پڑھ کر آپؑ کی خدمت میں خط لکھا کہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کو عملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔آپؑ نے فرمایاکہ کم از کم دو ماہ کے لیے قادیان آ کر رہیں۔چنانچہ انہوں نے آنے کا ارادہ کیا۔ ان کو بہت سے لوگوں نے روکا اور نصیحت کی کہ قادیان مت جاؤ۔ ایک نے گالی بھی دی۔ لیکن ان تمام باتوں پر خدا کا فضل غالب آ گیا اور ان کو کھینچ لایا۔

سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے والوں کے اخلاص و محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا، میرے ساتھ تعلقِ اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے، جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے، محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں، نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں…

سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لیے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام اُن کے نورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے۔میں اُن کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مالِ حلال کے خرچ سے اعلائے کلمہ اسلام کے لیے وہ کر رہے ہیں، ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔اُن کے دل میں جو تائید دین کے لیے جوش بھرا ہے اُس کے تصور سے قدرتِ الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو اُن کو میسر ہیں ہر وقت اللہ، رسول کی اطاعت کے لیے مستعد کھڑے ہیں اور میں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک سے دریغ نہیں۔ اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہردم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔

یہ ۱۸۹۰ء کا ذکر ہے بعد میں تو حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپؑ کی خدمت میں قادیان حاضر ہو گئے اور پھر تمام عمر آپؑ کے ساتھ رہے۔

پھر دعا کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ

اے رب العالمین تیرے احسانوں کامیں شکر نہیں کر سکتا۔ تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پراحسان ہیں ۔ میرے گناہ بخش تامیں ہلاک نہ ہو جاؤں ۔ میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے ۔ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتاہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وار د ہو ۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس جگہ میں اس شکر کے ادا کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنی وحی کے ذریعہ سے کفار کو ملزم کیا اور فرمایا کہ یہ میرا نبی اس اعلیٰ درجہ کا نیک چال چلن رکھتا ہے کہ تمہیں طاقت نہیں کہ اس کی گذشتہ چالیس برس کی زندگی میں کوئی عیب اور نقص نکال سکو۔ باوجود اس کے کہ وہ چالیس برس تک دن رات تمہارے درمیان ہی رہا ہے۔ اور نہ تمہیں یہ طاقت ہے کہ اس کے اعلیٰ خاندان میں جو شرافت اور طہارت اور ریاست اور امارت کا خاندان ہے، ایک ذرہ عیب گیری کر سکو۔ پھر تم سوچو کہ جو شخص ایسے اعلیٰ اور اطہر اور انفس خاندان میں سے ہے اور اس کی چالیس برس کی زندگی جو تمہارے رو بروئے گزری گواہی دے رہی ہے کہ افترا اور دروغ بانی اس کا کام نہیں ہے تو پھر ان خوبیوں کے ساتھ جبکہ آسمانی نشان وہ دکھلا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہو رہی ہیں اور تعلیم وہ لایا ہے جس کے مقابل پر تمہارے عقائد سراسر گندے اور ناپاک اور شرک سے بھرے ہوئے ہیں تو پھر اس کے بعد تمہیں اس نبیؐ کے صادق ہونے میں کون سا شک باقی ہے۔ اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکد بین کو ملزم کیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۲؍ میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر بیس برس گزر گئے اور وہ یہ ہے : وَلَقَدْ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَیعنی ان مخالفین کو کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتےرہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ نہیں ہے اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے۔

آپؑ اپنے گھر میں بچوں میں بھی شکر گزاری کے جذبات پیدا کرنے کوشش فرماتے۔ ایک روایت آتی ہے کہ ایک مرتبہ آپؑ نے گھر میں بچوں کو کہانی سنائی کہ ایک گنجا اور ایک اندھا تھا ۔ اللہ نے ان کے پاس ایک فرشہ بھیجا ۔ اس نے گنجے سے پوچھا تُو کیا چاہتا ہے ۔ اس نے کہا کہ میرے سر پر بال ہوں اور مجھے مال و دولت مل جائے۔ فرشتے نےاس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے بال اُگ گئے اور اس کو مال ودولت مل گئی۔پھرفرشتہ اندھے کے پاس آیا۔اس نے اندھے سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے ۔ اس نے کہا میری آنکھیں ہوں اور مجھے مال و دولت مل جائے۔ فرشتے نےاس کے سر پر ہاتھ پھیرا تواس کی بینائی ٹھیک ہو گئی اور اس کو بھی مال ودولت مل گئی۔ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کے لیے فرشتے کو دوبارہ غریب آدمی کے روپ میں بھیجا ۔ اس نے جا کر گنجے سے سوال کیا تو اس نے ترش روئی سے، بڑی بد مزاجی سے جواب دیا اور جھڑک دیا اور کہا کہ چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ دوبارہ گنجا ہو گیا اورما ل جاتا رہا۔پھر وہ اندھے کے پاس آیا اور سوال کیا۔ اندھے نے کہا سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے دیا ہے اور اسی کا مال ہے تم لے لو۔ پھر اللہ نے اس کو اور مال و دولت دی۔ سو عزیز بچو تم بھی یاد رکھو کہ

خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو اور سوالی کو نہ جھڑکو۔ خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہیے اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے ۔

پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ مولوی شیر علی صاحبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسے زمانے میں مبعوث فرمایا کہ رمضان کا مہینہ سردیوں میں آتا ہے اور روزے زیادہ جسمانی تکلیف کا موجب نہیں ہوتے اور ہم آسانی کے ساتھ رمضان میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ میں نے اس زمانے کی جنتری (کیلنڈر)دیکھی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ۱۸۹۰ء کے آخر میں فرمایا تھا۔ ۱۸۹۱ء میں رمضان کا مہینہ ۱۱؍اپریل کو شروع ہوا تھا، گویا رمضان کے مہینے کے لیے موسمِ سرما میں داخل ہونے کی ابتدا تھی۔ ۱۹۰۸ء میں جب آپؑ کی وفات ہوئی، اس سال رمضان کے مہینے کی ابتدا یکم اکتوبر کو ہوئی۔ گویا آپؑ کی بعثت کا سارا وقت رمضان سردیوں میں آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقطہ شناس طبیعت نے اس میں بھی شکر گزاری کا پہلو نکالا۔

پھرایک موقع پر آپؑ نے حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کے بارہ میں فرمایا :

حضرت حکیم مولوی صاحب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ان کے ذریعے کئی غریبوں کا علاج ہو جاتا ہے ۔علاج تو دوسروں کا ہوتا تھا مگر شکر آپؑ کر رہے تھے کہ انسانی خدمت کر رہے ہیں اور انسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

خطبہ جمعہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے چند مرحومین کا ذکر فرمایا

٭…مکرم حافظ شہباز احمد صاحب مربی سلسلہ آئیوری کوسٹ ۔۱۸؍ جولائی کو ۳۱؍ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ موصی تھے۔۲۰۱۹ء میں جامعہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔نمل یورنیورسٹی سے فرنچ میں ایم اے کیا۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور اہلیہ شامل ہیں۔

٭… مکرم یلننگانہ مومنی صاحب برکینا فاسو ۔ یہ شہید ہیں۔ کھیتوں میں کام کر رہے تھے کہ دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ ۱۹۸۹ء میں بیعت کی ۔پسماندگان میں دو بیوگان اور ۱۳؍ بچے ہیں۔

٭… مکرم یحییٰ سو ماری صاحب آف مالی۔۳۲؍سال کی عمر میں شہید ہو گئے ۔ مالی کی فوج میں شامل تھے۔۴؍ جولائی کو راوٴنڈ پر جاتےہوئے دہشتگردوں کے حملہ میں شہید ہو گئے۔

٭… مکرم سراج الحق قریشی صاحب ۔نائب افسر جلسہ سالانہ ربوہ تھے۔ قمر الحق قریشی صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے۔

٭… مکرم لاوال طیب صاحب معلم سلسلہ نائیجیریا سے تھے۔

٭… مکرم ماسٹر غفور احمد صاحب کینیڈا۔ سانگلہ ہل میں ایک جماعت کے صدر رہے۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button