جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مختلف ممالک کے وفود، مہمانان ، نمائندگان اور نَومبائعین سے ملاقاتوں اور بصیرت افروز راہنمائی کا اجمالی خاکہ
ایک شریکِ مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ حضورِ انور کے اتنے قریب رہنا میرے لیے ایک طرح سے بیداری کا باعث ہے۔
یہاں آ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم یہاں تقویٰ کے حصول کے لیے آئے ہیں۔ یہی تقویٰ ہے جو ہمیں یہاں لایا ہے کہ ہم اپنے اہلِ خانہ اور گھر کے تمام وسائل پیچھے چھوڑ کر صرف اس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں کہ خیمے میں قیام کریں اور اپنے امام کی بات سنیں
جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء کی کارروائی کے باقاعدہ اختتام پذیر ہونے کے بعد بھی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی گوناگوں بابرکت مصروفیات کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔
جلسہ کے اختتام کے بعد مورخہ ۲۷؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز پیر سے لے کر بعد کے ایّام میں بھی حضورِ انور نے دنیا بھر سے آنے والے متعدد مہمانوں اور مختلف وفود کو باری باری ازراہِ شفقت شرفِ ملاقات عنایت فرمایا۔ ان ملاقاتوں کا سلسلہ پیر کے روز کے علاوہ منگل، بدھ اور ہفتہ کے روز بھی جاری رہا، جن میں مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں اور وفود نے حضورِ انور سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ ذیل میں ان ایمان افروز ملاقاتوں کا مختصر احاطہ کیا جا رہا ہے۔

پیر کے روز حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں سے ایک وفد انڈونیشیا سے بھی تعلق رکھتا تھا۔
حضورِ انور نے ایک شریکِ مجلس مہمان سے دریافت فرمایا کہ آپ نے اس تقریب کو کیسا پایا؟ مہمان نے عرض کیا کہ یہ تقریب بہت اچھی تھی۔ میرے لیے پچاس ہزار سے زائد افراد کے اس اجتماع میں شرکت کرنا اب تک کا بہترین تجربہ تھا۔
حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ یہاں اسلام کے خلاف تو کچھ نہیں تھا؟ مہمان نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ سب کچھ بہت اچھا، خوبصورت اور شاندار تھا۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ کم از کم آپ اس بات کے گواہ ہیں کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ اب آپ اپنے لوگوں کو جا کر یہ بتا سکتے ہیں۔ اس پر مہمان نے عرض کیا کہ یہ میرے لیے بہت ہی شاندار تجربہ رہا۔
حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ آپ انہیں بتا سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی آپ نے یہاں مشاہدہ کیا ہے، وہ سب عین اسلامی تھا، غیر اسلامی کچھ بھی نہیں تھا۔ ہم ایک ہی خدا، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم مقدس کتاب قرآنِ کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے، ہمارے وہی عقائد ہیں، جو دیگر مسلمانوں کے ہیں۔ لہٰذا اب آپ یہ اپنے لوگوں کو بتا سکتے ہیں۔
مہمان نے عرض کیا کہ مَیں اپنے لوگوں کو ضرور بتاؤں گا۔
بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو ازراہِ شفقت حضورِ انور کے ساتھ انفرادی تصاویر بنوانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
اسی روز حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں سے ایک وفد کیریبین آئی لینڈ سے بھی تعلق رکھتا تھا۔
دورانِ ملاقات ایک شریکِ مجلس خاتون نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ کالج کی پروفیسر ہیں۔ حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کیا پڑھاتی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ سیاسیات اور عمرانیات پڑھاتی ہیں۔
پھر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں اس تقریب کو کیسا پایا؟ اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ مجھے یہ تقریب بہت پسند آئی اور اس سے مَیں نے بہت کچھ سیکھا۔
حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ کیا آپ خواتین کی طرف بھی گئی تھیں؟ توانہوں نے عرض کیا کہ مَیں دونوں طرف گئی تھی۔ جب آپ نے خطاب فرمایا تھا تو مَیں خواتین کی طرف موجود تھی۔ میرے لیے وہاں کا نظم و ضبط، حسنِ انتظام اور لوگوں کا خلوص و عقیدت انتہائی متاثر کن تھا۔
بعدازاں اس وفد کے شرکاء کو بھی ازراہِ شفقت حضورِ انور کے ہمراہ انفرادی تصاویر بنوانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
اسی طرح پیر کے روز حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والا ایک وفد فلپائن سے بھی تھا۔
ایک شریکِ مجلس مہمان نے اپنا تعارف کراتے ہوئے عرض کیا کہ میں اپنے ملک میں مسلمانوں سے متعلق امور کا نائب وزیر رہ چکا ہوں۔ اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ اب آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں دوبارہ تدریس کی طرف واپس جا رہا ہوں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ آپ کسی ایسے مسلم راہنما کو کیا مشورہ دے سکتے ہیں جو آپ کی جماعت کے بارے میں لوگوں کے تصورات بدلنے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ احمدیہ مسلم جماعت کو بھی فلپائن کے مسلمانوں کا ہی ایک حصّہ تسلیم کریں؟
اس پر حضورِ انور نے مفصّل راہنمائی عطا فرمائی کہ اگر آپ احمدیت کے قیام کے پسِ منظر کو جانتے ہیں، تو یہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ آخری زمانے میں لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو بھول جائیں گے، اور ایسا ہی ہوا۔بعض نام نہاد علماء کی طرف سے اسلامی تعلیمات میں بہت سی بدعات شامل کر دی گئیں۔ پھر آپؐ نے خبر دی تھی کہ اس وقت ایک شخص مسیح موعود علیہ السلام کے لقب سے ظاہر ہوگا۔ اور پھر آپؐ نے اس کے ظہور کے بعض نشانات بھی بیان فرمائے، جن میں کچھ آسمانی نشانات اور کچھ دیگر نشانات تھے، اور آسمانی نشانات میں سے ایک نشان رمضان کے مہینے میں چاند اور سورج گرہن کا تھا۔
حضورِ انور نے فرمایا، چنانچہ ہمارا ایمان ہے کہ اس پیشگوئی کے مطابق وہ شخص مرزا غلام احمد صاحب کی صورت میں ظاہر ہو چکا ہے، جنہوں نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، اور ہم آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پیشگوئی اور قرآن کریم کی سورۃ الجمعہ کی اس پیشگوئی وَاٰخَرِیۡنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِھِمۡ [اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔]کے مطابق یہ مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک شخص ظاہر ہو گا یاآنحضرت صلی الله علیہ وسلم اپنی تمام تر تعلیمات کے ساتھ دوبارہ مبعوث ہوں گے اور کیونکہ آپؐ خود تو دوبارہ جسمانی طور پر ظاہر نہیں ہو سکتے،لہٰذا آپؐ کے متبعین میں سے ہی کوئی ایک شخص آئے گا۔
حضورِ انور نے مزید فرمایا، چنانچہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ عطا کیا گیا ہے، وہ ان دعاؤں اور درود کا ہی طفیل ہے، جو مَیں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم پر بھیجا ہے۔ پس! اب یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ احادیث اور قرآنِ کریم کو سمجھیں اور پھر لوگوں کو بتائیں کہ یہی احمدیوں کا دعویٰ ہے اور قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کی تجدید و احیائے دین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ شخص آ چکا ہے۔ اور ہم یہی کام کر رہے ہیں۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں اسلام کا پیغام پھیلانے، قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم کرنے اور دیگر لٹریچرشائع کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ پس! اگر لوگ اور علماء اس بات کو سمجھ جائیں، جیسا کہ مَیں نے اپنی رپورٹ میں بھی ذکر کیا کہ افریقہ اور دیگر ممالک میں کچھ علماء اور ائمہ ایسے ہیں کہ جو اس بات کو سمجھتے اور قبول کرتے ہیں، اور پھر ان کے پیروکار بھی احمدیت کو قبول کرلیتے ہیں۔ تو اس طرح آپ بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس وفد کے تمام شاملینِ مجلس کو بھی ازراہِ شفقت حضورِ انور کے ساتھ انفرادی تصاویر بنوانے کا شرف حاصل ہوا۔
وفود کی ملاقاتوں کے دوران ایک مہمان خاتون نے جلسہ میں پائی جانے والے اخوّت و بھائی چارے کے ماحول کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہاں سب لوگ آپ سے محبّت سے ملتے ہیں۔ جب بھی آپ کہیں رک جائیں اور آپ کو معلوم نہ ہو کہ کہاں جانا ہے تو فوراً کوئی نہ کوئی آگے بڑھ کر پوچھتا ہے کہ کیا مَیں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟ یہ بات میرے لیے انتہائی بیش قیمت اور ناقابلِ فراموش ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اور مَیں نے آپ کی دعاؤں سے بھی خوب حظّ اُٹھایا۔
اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازراہِ شفقت تبصرہ فرمایا کہ تو یہاں آپ کو گرم موسم کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خلوص کی گرمجوشی بھی ملی۔ جس پر تمام شاملینِ مجلس بھی خوب محظوظ ہوئے۔
ایک اور شریکِ مجلس نے حضورِ انور سے دریافت کیا کہ کام کے بعد تھکن دُور کرنے اور آرام و تفریح کے لیے اسلام اور قرآنِ کریم کیا راہنمائی فراہم کرتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام کہتا ہے کہ جب تم تھک جاؤ تو اپنی تھکاوٹ دُور کرنے کے لیے enjoyment (تفریح)بھی کرو۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں نے بہت سارے نظارے بنائے ہیں، ملک، دنیا میں پھرو، سیر کرو اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھو۔ اس کی قدرت پر غور کرو اور اس کی حمد اور شکر ادا کرو۔ اورپھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس سے تمہارے دل کو بھی اطمینان ملے گا اور تمہاری تھکاوٹ بھی دُور ہوگی۔
آخر پرحضورِ انور نے فرمایا کہ مختصر جواب اس کا یہ ہے۔
بروز پیرحضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں سے ایک وفد ارجنٹائن سے بھی تھا۔
مترجم نے ایک مہمان کا تعارف پیش کرتے ہوئے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ یہ ایک صحافی ہیں اور ارجنٹائن کے سب سے بڑے صحافتی گروپ گروپو کلارین (Grupo Clarín) میں شعبۂ مذہبی اُمور کے ایڈیٹر ہیں۔ نیز ایک ٹی وی چینل کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔
مترجم نے عرض کیا کہ موصوف کہہ رہے ہیں کہ ان کے لیے اسلام کا حقیقی چہرہ دکھانا بہت اہم ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں متعدد تعصبات رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب یہ یہاں آ رہے تھے تو اس وقت بھی بعض لوگوں کے ذہنوں میں تحفظات تھے۔ تاہم ان کے لیے اسلام کا حقیقی اور سچا چہرہ دکھانا بہت اہم ہے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر آپ جیسے دیانت دار صحافی ہوں تو وہ اسلام کے خلاف لوگوں کے شکوک وشبہات کو دُور کر سکتے ہیں۔
اس پر مہمان نے کامل بشاشت کے ساتھ حضورِ انور کی فرمودہ ہدایت پر عمل کرنے کی حامی بھرتے ہوئے پُرعزم انداز میں عرض کیا کہ جی ضرور! شکریہ۔
پیر کے روز ہی حضورِ انور سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں سے ایک وفد سکینڈینیوین ممالک سے بھی تھا۔
ایک مہمان، جنہوں نے اپنا تعارف ایک اگنوسٹک (Agnostic) کے طور پر کروایا، نے عرض کیا کہ بہت سے غیر مسلم افراد جماعت ِاحمدیہ مسلمہ کے اصولوں اور اس کے شعار ’محبّت سب کے لیےنفرت کسی سے نہیں ‘کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اگرچہ وہ ذاتی طور پر اسلام کی تعلیمات کو قبول نہیں کرتے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ Agnostic (اگنوسٹک) ایسے شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو خدا کے وجود یا عدمِ وجود کے بارے میں کسی قطعی یقین کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کا خیال ہوتا ہے کہ انسان خدا کے وجود کے بارے میں یقینی علم حاصل نہیں کر سکتا، یا وہ خود اس بارے میں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا۔ سادہ الفاظ میں، اگنوسٹک کا موقف یہ ہوتاہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ خدا موجود ہے یا نہیں، اور شاید یہ بات یقینی طور پر معلوم بھی نہ ہو سکے۔]
اس پرایک تفصیلی جواب میں حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ ہمارے شعار’محبّت سب کے لیےنفرت کسی سے نہیں‘ اور اسلام کی تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ ان دونوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام مسلمانوں کو تمام انسانیت کی دیکھ بھال کا درس دیتا ہے، بالخصوص ان لوگوں کی کہ جو کسی بھی طرح تکلیف میں یا کمزور ہیں، قطع نظر ان کے مذہب یا عقائدکے۔ اور یہی اسلامی تعلیم ہمارے اس شعار’محبّت سب کے لیےنفرت کسی سے نہیں‘ کا سرچشمہ ہے۔
مزید برآں قرآنِ کریم کی سورۃ الحج (آیات ۴۰ تا ۴۱ ) کا حوالہ دیتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ تیرہ سال کے سخت مظالم کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ابتدائی مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی، تو وہ صرف اسلام کی حفاظت کے لیے نہیں تھی، بلکہ تمام مذاہب اور مذہبی آزادی کے اصول کے تحفظ کے لیے تھی۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ وہ دوسروں کی خدمت کریں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں۔
بعدازاں اسی مہمان نے یہ بھی استفسار کیا کہ حضورِ انور بالخصوص اور عمومی طور پر عام احمدی مسلمان خدا تعالیٰ پر اتنا محکم ایمان کیسے قائم رکھ پاتے ہیں؟
اس کے جواب میں حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارا ایمان تعلیمات اور ذاتی تجربات، دونوں پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء نے اپنے پیروکاروں کے دلوں میں ایک زندہ خدا پر ایمان پیدا کیا، جو اخلاص کے ساتھ کی جانے والی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ مزید برآں یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہی تھے کہ جنہوں نے دنیا کو اخلاقی اقدار اور اعلیٰ تعلیمات سے روشناس کروایا، اور اس حقیقت کو بہت سے غیر مذہبی لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں۔
ذاتی تجربے کے حوالے سے حضورِ انور نے فرمایا کہ مَیں نے خود اور ہماری جماعت کے بے شمار افراد نے دعاؤں کی معجزانہ قبولیت کے واقعات کا مشاہدہ کیا ہے، جس سے ان کے ایمان اور اللہ تعالیٰ پر توکّل میں مزید اضافہ ہوا۔
ملاقات کے بعد انہی مہمان نے حضورِ انور کی عطا فرمودہ راہنمائی پر گہرے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ ان باتوں نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
اس وفد کے تمام افراد کو بھی ازراہِ شفقت حضورِ انور کے ساتھ انفرادی تصاویر بنوانے کاموقع نصیب ہوا۔
جلسہ سالانہ کی دیگر برکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دنیا بھر سے جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے تشریف لانے والے احبابِ جماعت کو بھی حضورِ انور سے شرفِ ملاقات حاصل ہوتا ہے۔ دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمت میں اپنا تعارف پیش کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
ایک ایسا ہی وفد جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے احمدیوں پر بھی مشتمل تھا۔
شرکائے مجلس میں سے ایک مخلص احمدی نے حضورِ انور کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہا، لیکن شدتِ جذبات پر قابو نہ پا سکے اور ان پر رِقّت طاری ہوگئی، جس کے باعث وہ اپنی بات مکمل نہ کر سکے۔ اس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت انہیں بیٹھنے کی ہدایت فرمائی۔
مترجم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں ان کے قلبی جذبات پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ موصوف کہہ رہے ہیں کہ کئی سال قبل مجھے حضورِ انور سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر یہ بابرکت موقع عطا فرمایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضورِ انور سے دوبارہ ملاقات نہ ہونے پر وہ بہت اداس تھے، لیکن آج ایک بار پھر حضورِ انور کی زیارت اور شرفِ ملاقات نصیب ہونے پر ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں۔
پھر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ انہوں نے ایم ٹی اے کو بھی کوئی انٹرویو دیا تھا؟ اس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
مزید برآںمترجم نے عرض کیا کہ وہ رشین ڈیسک کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کی معاونت اور مدد کرتے ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور سے مخاطب ہو کر موصوف نے اپنے فرطِ محبّت و جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ حضور! مَیں آپ سے محبّت کرتا ہوں اور مَیں آپ کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔
اس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت فرمایا کہ الله تعالیٰ ان کو جزا دے اور ایمان اور اخلاص میں بڑھائے۔
حضورِ انور سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں سے ایک ایسا ہی وفد عرب احمدیوں پر بھی مشتمل تھا۔ دورانِ ملاقات حاضرین کو حضورِ انور کی خدمت میں اپنے قلبی جذبات پیش کرنے کا بھی موقع ملا۔
ایک عرب خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو، ہماری جماعت کو اور ہماری خلافت کو برکت دے۔ براہِ کرم ہم سب کےلیے دعا کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ دعا کرتے ہیں، لیکن ہم ہمیشہ امیر صاحب کے لیے، اپنی جماعت، اپنے خاندان اور اپنے والد کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے مَیں اپنے والد سے ملی اور مَیں نے ان سے پوچھا تھا کہ جب میری حضور سے ملاقات ہوگی تو آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ مَیں کیا کہوں! اور کہا کہ اِنِّیْ مَعَكَ يَا مَسْرُوْرُ [اَے مسرور! مَیں آپ کے ساتھ ہوں]۔ موصوفہ نے مزید عرض کیا کہ حضور! ہم آپ سے محبّت کرتے ہیں اور ہماری بس یہی درخواست ہے کہ آپ ہمارے لیے دعا کریں۔ جزاکم اللّٰه!
اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازراہِ شفقت فرمایا کہ آپ اپنے شوہر سے زیادہ اچھی گفتگو کر لیتی ہیں۔جس پر تمام شاملینِ مجلس بھی بے اختیار مسکرا دیے۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور شریکِ مجلس بچوں میں ازراہِ شفقت چاکلیٹ بھی بطور تبرک تقسیم فرماتے رہے۔
بعدازاں ایک اور عرب احمدی خاتون نے امسال جلسہ سالانہ کے حوالے سے حضورِ انور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ مہمانوں کے لیے فراہم کی گئی رہائش اور دیگر سہولیات نہایت آرام دہ اور اطمینان بخش تھیں۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ آرام تو مل گیا، ان کا کھانا پینا بھی ہو گیا، کچھ انہوں نے یہاں سیکھا بھی اور یہاں سے کچھ لے کے بھی جا رہے ہیں کہ نہیں؟
اس پر مترجم نے عرض کیا کہ انہوں نے یہ ذکر بھی کیا ہے کہ حضورِ انور کے خطابات بہت پیارے تھے، اب حضور دعا کریں کہ ہم ان پر عمل کی بھی کوشش کر سکیں۔
جس پر حضورِ انور نے دورانِ جلسہ بعض وفود سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک نہایت بصیرت افروز واقعہ بیان فرمایا کہ وہاں ایسٹرن یورپ کا بھی ایک مسلمان تھا، مَیں نے اس سے پوچھا کہ تم مسلمان تو ہو، یہاں سے لے کے کیا جا رہے ہو؟ تو کہتا ہے کہ تقویٰ۔
حضورِ انور سے شرفِ ملاقات پانے والا ایک اور وفد جماعتِ احمدیہ آسٹریلیا کے اُن احباب پر مشتمل تھا کہ جو امسال جلسہ سالانہ کے بعد وائنڈ اَپ کے کاموں میں بطور وقفِ عارضی اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔
ملاقات کے آغاز پر حضورِ انور نے تمام شاملینِ مجلس کو السّلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
پھر حضورِ انور نے ایک شریکِ مجلس سے دریافت کیا کہ کتنا وقارِ عمل کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ مرکزی لجنہ گاہ کی جو مارکیز ہیں، وہ مکمل کر دی ہیں۔
جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اچھا! وائنڈ اَپ کے لیے آئے تھے، تو موصوف نے اثبات میں جواب دیتے ہوئےعرض کیا کہ جی! وقفِ عارضی کے لیے آپ نے ازراہِ شفقت اجازت دی تھی۔
اس پر حضورِ انور نے استفسارفرمایا کہ ابھی آپ خادم ہیں؟ موصوف نے عرض کیا کہ جی! صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی ذمہ داری ہے۔
دورانِ ملاقات طلبہ کو ازراہِ شفقت حضورِ انور کے دستِ مبارک سے قلم بطور تبرک حاصل کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔
اسی اثناء میں ایک خادم نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس کا تعلق جہلم، پاکستان سے ہے۔
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ پڑھ رہے ہو؟
اس پر موصوف نے عرض کیا کہ وہ منہ اور دانتوں کی حفظانِ صحت کے شعبے میں اپنی تعلیم مکمل کرچکاہے۔ نیز حضورِ انور کی شفقت سے فیض یاب ہونے کی خاطر عرض کیا کہ مَیں بھی قلم استعمال کر سکتا ہوں۔
جس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازراہِ شفقت فرمایا کہ اچھا! استعمال کر سکتے ہو۔ پھر اپنے دستِ مبارک سے قلم کا تحفہ عنایت فرماتے ہوئے ازراہِ تفنّن فرمایا کہ اس سے دانت تو نکال نہیں سکتے۔ حضورِ انور کے اس برجستہ اور ازراہِ شفقت تبصرے سے شاملینِ مجلس بھی خوب محظوظ ہوئے۔
ایک خادم نے ملاقات کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئےبیان کیا کہ حضورِ انور نے ہر ایک کو اپنا تعارف کروانے کا موقع عطا فرمایا، جیسے ہی حضورِ انور تشریف لائے، دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی۔ مجھے اس سے قبل کبھی حضورِ انور سے ملاقات کا موقع نہیں ملا تھا، اس لیے پہلی مرتبہ آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کرنا، انتہائی قریب سے آپ کی زیارت کرنا اور اپنا تعارف کروانا میرے لیے ایک نہایت شاندار اور حیرت انگیز تجربہ تھا۔ اس وقت میرا دل خوشی سے لبریز ہے اور مَیں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایسا احساس ہے کہ جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مورخہ ۲۸؍جولائی، بروز منگل بھی حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے مختلف وفود کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان وفود میں بیلیز سے آنے والا احمدی احباب پر مشتمل ایک وفد بھی شامل تھا۔
دورانِ ملاقات ایک مہمان نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ہمیں بیلیز کی نمائندگی کے لیے بطورِ مندوب موقع ملا ہے۔ تاہم مَیں نے مشاہدہ کیا کہ اس سال ہمارا پرچم نہیں لہرایا گیا، اس بات کا مجھ پر کوئی منفی اثر مرتّب نہیں ہوا، مَیں نے محض اس کی نشاندہی کے لیے اس کا ذکر کیا ہے۔ تاہم مَیں یہ جاننے کے لیے متجسس ہوں کہ کیا آپ بیلیز کی جماعت کی روحانی ترقی کی رفتار سے غیر مطمئن ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت فرمایا کہ آپ براہِ مہربانی اگلے سال جھنڈا ساتھ لے کر آسکتے ہیں اور ہم اس کو لہرا دیں گے۔ان کے پاس وہ پرچم نہیں تھا، لہٰذا اگر آپ اپنا پرچم ہمیں بھجوادیں، تو وہ اگلے سال اسے لہرا دیں گے۔
ایک شریکِ مجلس خاتون نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں راہنمائی کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کے شوہر چاہتے ہیں کہ وہ اپنی جماعتی ذمہ داریوں کی بجائے اپنے بچوں کو زیادہ وقت دیں۔
اس پر حضورِ انور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ اپنے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کریں اور اسے اس طرح ترتیب دیں کہ آپ کے شوہر بھی خوش رہیں اور آپ جماعتی کام سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔ آپ کو اپنی انتظامی حکمتِ عملی تبدیل کرنا ہوگی۔
بروز منگل ہی حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیزسے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں عرب احمدیوں پر مشتمل ایک اور وفد بھی شامل تھا۔
ایک شریکِ مجلس سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے احمدیت کیوں قبول کی؟
انہوں نے عرض کیا کہ مَیں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ پڑھے اور مَیں نے کہا کہ یہی میرا ایمان ہے۔
اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ اپنے ایمان میں مضبوط ہیں یا کوئی چیز ہے کہ جو آپ کو متزلزل کرسکتی ہے؟
انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ الحمد لله! مَیں آپ کو دیکھتا ہوں اور اپنے ایمان میں مضبوطی محسوس کرتا ہوں۔
ایک اور شریکِ مجلس سےحضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کب احمدی ہوئے تھے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ وہ تین سال قبل احمدی ہوئے تھے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ ایمان میں پکے اور مضبوط ہیں؟ ان کے عرض کرنے پر کہ الحمدلله! حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ پر پکا یقین ہے؟
مترجم نے عرض کیا کہ موصوف کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کے عقیدہ سے مجھے اطمینان نہیں ہے۔
جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ ہیں کہ عیسیٰؑ کو مرنے دو اسی میں اسلام کی زندگی ہے۔
اسی روز امریکہ سے تشریف لائے ہوئے احمدیوں کو بھی حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔
ایک نَو مبائع نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مَیں سان خوان، پورٹو ریکو (San Juan, Puerto Rico)سے ہوں اور پہلی بار یہاں آیا ہوں۔
اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کو احمدیت قبول کیے کتنا عرصہ ہوا ہے؟
تو انہوں نے عرض کیا کہ اگلے مہینے مجھے دو سال ہو جائیں گے۔
جس پر حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ آپ کے احمدی ہونے کا کیا محرّک بنا؟
انہوں نے عرض کیا کہ مَیں اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک روز کام سے گھر واپس آتے ہوئے میری نظر ایک سائن بورڈ پر پڑی، جس پر ’’احمدیہ مسلم جماعت پورٹو ریکو‘‘ لکھا ہوا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ کیوں نہ انہیں فون کر کے معلومات حاصل کی جائیں۔ چنانچہ مَیں نے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا۔
اسی دوران موصوف کے طرزِ گفتگو کی بنا پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ ہسپانوی علاقے سے ہیں؟ جس کی انہوں نے اثبات میں تصدیق کی۔
اپنی گذشتہ بات کو جاری رکھتے ہوئےانہوں نے مزید عرض کیا کہ چنانچہ مَیں نے اس نمبر پر رابطہ کیا، دراصل مَیں نے انہیں اِی میل کی تھی، جس کا انہوں نے جواب دیا۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک ہماری ہفتے میں دو مرتبہ ملاقات ہوتی رہی۔ انہوں نے مجھے مطالعہ کے لیے بہت سا لٹریچر دیا، جس نے اسلام کے بارے میں میری سوچ کو بہت وسیع کر دیا۔ مَیں مطمئن ہو گیا اور مَیں نے کلمۂ شہادت پڑھا، پھر بیعت کرلی۔ الحمدللہ!
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ اور اس کے بعد آپ مطمئن ہیں؟
انہوں نے کامل بشاشت کے ساتھ اثبات میں تصدیق کرتے ہوئے عرض کیا کہ مَیں بہت زیادہ مطمئن ہوں۔ اس سے پہلے مَیں عیسائی تھا۔
حضورِ انور نے شریکِ مجلس ایک بچی سے دریافت کیا کہ کیا آپ سٹوڈنٹ ہیں؟
موصوفہ کے اثبات میں جواب عرض کرنے پر حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ آپ کیا پڑھ رہی ہیں؟تو طالبہ نے عرض کیا کہ سب کچھ۔
اس پر حضورِ انور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا، سب کچھ! جس پر طالبہ نے عرض کیا کہ مَیں مڈل سکول میں ہوں۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازراہِ شفقت فرمایا کہ تم مڈل سکول میں ہو، مَیں تو سمجھا کہ تم ہر چیز کی ماہر ہو۔
حضورِ انور کے اس مشفقانہ تبصرے پر بشمول طالبہ، تمام حاضرینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔
ایک شریکِ مجلس لجنہ ممبر نے اپنی ایسی مسلمان سہیلیوں کی راہنمائی کے حوالے سے درخواست پیش کی کہ جو آج کل کے معاشرے میں روحانی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اپنے اخلاق اور عمل سے ان کے سامنے مثال قائم کرو۔ انہیں بتاؤ کہ یہ اسلامی تعلیمات ہیں، ہمیں اس طرح زندگی گزارنی چاہیے اور قرآن ہمیں یہی بتاتا ہے۔ اور مَیں نے کئی مواقع پر اس موضوع پر بات کی ہے اور اس مرتبہ جلسہ کے مستورات کے خطاب اور دیگر خطابات کے دوران بھی اس پر بات کی ہے۔ آپ بتا سکتی ہیں کہ اگر ہم سچے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اسلام کی تعلیمات پر صحیح طرح سے عمل کرنا چاہیے، ورنہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اندر کچھ منافقت ہے، اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
لجنہ ممبر نے مزید راہنمائی کی غرض سے عرض کیا کہ اگر وہ زیادہ حسّاس ہوں تو کیا کیا جائے؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر آپ ان کے سامنے اپنا عملی نمونہ پیش کر رہی ہیں اور ان کے لیے دعا کر رہی ہیں ، تو یہ کافی ہے۔ ان کے سامنے اس بات پر مغرور یا متکبر نہ ہوں کہ آپ ان سے مختلف ہیں، بلکہ انہیں اپنے بہن بھائیوں کی طرح سمجھیں اور پھر ان کی راہنمائی کریں۔ یہی آپ کا فرض ہے اور یہی وہ چیلنج ہے کہ جس کا مَیں نے اپنے خطاب میں پہلے ہی ذکر کیا تھا کہ احمدی لڑکیوں اور خواتین کے لیے ایک چیلنج ہے کہ انہیں پوری دنیا کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر آپ کے اپنے لوگ نہیں بدل رہے تو آپ دنیا میں کیسے تبدیلی لا سکتی ہیں؟ اس لیے ایک لیڈر بننے کی کوشش کریں۔
اس پر موصوفہ نے اپنے مضبوط عزم کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان شاء الله! جزاک الله۔ جس پر حضورِ انور نے بھی انہیں ان شاء الله کے دعائیہ کلمات سے نوازا۔
ایک اور شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ مَیں گیمبیا سے ہوں، لیکن مَیں بوسٹن میں رہتا ہوں۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اچھا! ما شاء اللہ! تو کیا آپ وہاں پیدا ہوئے ہیں؟انہوں نے اثبات میں جواب عرض کیا، تو حضورِ انور نے دوبارہ تصدیق فرمائی کہ وہ گیمبیا ہی میں پیدا ہوئے ہیں، نیز ازراہِ شفقت فرمایا کہ تو آپ کے بولنے کا لہجہ بالکل ہی بدل گیا ہے۔ اب یہ گیمبین لہجہ نہیں رہا۔
موصوف نے حضور انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مجھے گذشتہ ملاقات یاد ہے کہ جب آپ نارتھ ایسٹ کا دَورہ کر کے آئے تھے، تو آپ نے مجھے ایک عُرفی نام ’دِی گیمبین‘ (The Gambian) عطا فرمایا تھا۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازاراہِ شفقت انتہائی محبّت سے دریافت فرمایا کہ اب آپ کیا امسال کوئی اور نام چاہتے ہیں؟حضورِ انور کی اس مشفقانہ پیشکش پر شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے اور خوب محظوظ ہوئے۔
موصوف نے عرض کیا کہ نہیں، میرا خیال ہے کہ یہ ایک بہترین نام ہے۔
اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
انہوں نے عرض کیا کہ میرا ایک سوال بیرونِ ملک، خصوصاً امریکہ میں مقیم افریقی نوجوانوں سے متعلق ہے کہ ہم افریقہ کی ترقی میں سرمایہ کاری کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ چونکہ آپ امریکہ یا کسی بھی ترقی یافتہ دنیا میں رہ رہے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے ملک میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ دیانتداری سے آپ وہاں کوئی سرمایہ کاری کا منصوبہ شروع کر سکتے ہیں۔جو لوگ ایماندار ہیں، جب آپ انہیں اپنا پیسہ بھیجتے ہیں، تو وہ وہاں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اور پھر وہ سب مقامی لوگوں کی بہتری پر خرچ ہونا چاہیے۔ پھر اسی طرح آپ ان کی مدد کر سکتے ہیں۔صرف امریکہ یا کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں رہنا اور محض اپنے مغربی یاذاتی مفادات کا پُورا کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ آپ کو اپنے ملک میں رہنے والے اپنے ساتھی انسانوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔لہٰذا ایک منصوبہ بنائیں۔
اسی دوران حضورِ انور نے موصوف سےدریافت فرمایا کہ کیا آپ ابھی بھی کام کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ نہیں، میرا سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک اچھا کاروبار ہے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ تو آپ وہاں اپنا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کریں اور کچھ ایماندار لوگ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ تو پہلے اپنا علاقہ، اپنا آبائی شہر منتخب کریں اور پہلے اسے ترقی دیں۔ اور پھر اس کو وسعت دیں۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والے مختلف وفود میں شامل احمدیوں نے اپنے پُرخلوص جذبات کا اظہار بھی کیا، جن میں سے چند ایک بطور تحدیثِ نعمت پیشِ خدمت ہیں۔ ان تاثرات میں جہاں حضورانور سے روح پرور ملاقات اور ملنے والے قلبی سکون کا ذکر ملتا ہے، وہاں خلافتِ احمدیہ سے وابستگی، حضورِ انور کی بے مثال شفقت و محبّت، اور آپ کی صحبت ِ قدسی سے تقویٰ، دینی غیرت اور عملی نمونہ اختیار کرنے کے جذبات بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
ایک شریکِ مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ جب بھی مَیں اپنے پیارے حضور کو دیکھتا ہوں تو ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور دل کو بہت سکون محسوس ہوتا ہے۔
اپنے الفاظ میں عرض کروں، تو جب مَیں چھوٹا تھا، تو میرے والدین کو ایمان کے معاملے میں کچھ مشکلات کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے ہم کچھ عرصہ جماعت سے دُور رہے۔ چنانچہ بچپن میں مَیں نے خلافت کے بغیر حنفی اسلام کو بھی دیکھا اور خلافت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو بھی دیکھا۔ کم عمری ہی سے مَیں واضح طور پر محسوس کر سکتا تھا کہ دونوں میں نمایاں فرق ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خلافت ہمیں متحد کرنے کے لیے موجود ہے، خواہ ہمارا تعلق کسی بھی پسِ منظر سے ہو، چاہے ہم امریکہ، یورپ، ایشیا یا افریقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہم سب ایک ہی پرچم تلے جمع ہوتے ہیں اور وہ خلافت ہے۔
ایک اور شریکِ مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ جب حضورِ انور آپ سے گفتگو فرماتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ براہِ راست آپ ہی سے بات کر رہے ہوں اور گویا وہ آپ کو پہلے سے جانتے ہیں۔ جب آپ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے گفتگو کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ اپنے والد یا بھائی، یا کسی ایسے شخص سے بات کر رہے ہیں کہ جو آپ کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔
انہوں نے مزید بیان کیا کہ جب مَیں نے احمدیت قبول کرنے کے زمانہ کا اندازاً ذکر کیا تو حضورِ انور کو تقریباً معیّن تاریخ بھی یاد تھی کہ مَیں نے اپنے بیعت فارم پر کب دستخط کیے تھے۔یہ بات میرے لیے بہت حیران کن تھی اور مَیں یہ سن کر بالکل ششدر رہ گیا۔ چنانچہ جب آپ حضورِ انور سے گفتگو کرتے ہیں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی ایسے شخص سے بات کر رہے ہیں کہ جو آپ کو بہت اچھی طرح بالکل اپنے والد یا بھائی کی طرح جانتا ہے۔
اسی طرح ایک شریکِ مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ حضورِ انور کے اتنے قریب رہنا میرے لیے ایک طرح سے بیداری کا باعث ہے۔ یہاں آ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم یہاں تقویٰ کے حصول کے لیے آئے ہیں۔ یہی تقویٰ ہے جو ہمیں یہاں لایا ہے کہ ہم اپنے اہلِ خانہ اور گھر کے تمام وسائل پیچھے چھوڑ کر صرف اس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں کہ خیمے میں قیام کریں اور اپنے امام کی بات سنیں۔
انہوں نے مزید بیان کیا کہ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کا مَیں اپنے بیٹے کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنا چاہتا ہوں، تاکہ کل اگر مَیں موجود نہ ہوں تو اس کے پاس اس راہ پر چلنے کے لیے کوئی مثال اور بنیادموجود ہو۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے افریقہ کے مختلف ممالک سے تشریف لانے والے احمدیوں سے ملاقات فرمائی اور دورانِ ملاقات ازراہِ شفقت اپنے دستِ مبارک سے بچوں کو چاکلیٹ اور قلم کے تحائف بطور تبرک عطا فرمائے۔
حضورِ انور کی غیر معمولی محبّت اور شفقت کا ایک نہایت دلآویز نمونہ اس وقت دیکھنے میں آیا کہ جب اسی ملاقات کے دوران ایک ناصرہ نے انتہائی معصومیت سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کیاآپ میرے سر پر ہاتھ رکھ سکتے ہیں؟
اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کمال محبّت و شفقت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اس ناصرہ کے سر پر اپنا دستِ مبارک رکھا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دو بابرکت انگوٹھیوں، جن پر اَلَیْسَ اللّٰهُ بِکَافٍ عَبْدَهٗ اور مولیٰ بس کے الفاظ کندہ ہیں، کو اس کے سر پر مَس فرمایا۔سبحان الله! یہ سعادت تو نصیبوں سے ہی ملا کرتی ہے۔
مورخہ۲۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء، بروز بدھ، ترکی سے تشریف لائے ہوئے احمدی احبابِ جماعت کے ایک وفد کو حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور نے ایک خادم کو بیش قیمت راہنمائی عطا فرمائی کہ ایک اچھا احمدی بننے کی کوشش کرو۔ روزانہ پنج وقتہ نماز ادا کرو۔ قرآنِ کریم کی تلاوت کرو۔ اور سوشل میڈیا، ٹی وی دیکھنے، انٹرنیٹ اور ان تمام چیزوں پر کم وقت صَرف کرو۔ اپنی پڑھائی پر زیادہ توجہ دو۔ اور پھر تم ایک اچھے احمدی بن سکتے ہو۔
اسی روز حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں گھانا اور دیگر افریقی ممالک سے تشریف لانے والے وفود بھی شامل تھے۔
دورانِ ملاقات ایک شریکِ مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضورِ انور! یہ میری پہلی مرتبہ ملاقات نہیں، لیکن اس جلسہ کے دوران مجھے ایک نہایت خاص تجربہ ہوا، خصوصاً حضورِ انور کے افتتاحی خطاب اور اختتامی خطاب کے دوران۔ یہ خطابات مجھے بہت ذاتی نوعیت کے محسوس ہوئے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے حضورِ انور جب خطاب فرمارہے ہوں تو کمرے میں صرف حضورِ انور اور مَیں ہوں اور حضورانور براہِ راست مجھ سے مخاطب ہوں، جیسے وہاں کوئی اور موجود ہی نہ ہو۔
انہوں نے مزید عرض کیا کہ مَیں حضورِ انور سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے لیے، میرے خاندان اور جماعتِ احمدیہ گھانا کے لیے دعا فرمائیں تاکہ حضورِ انور کے خطابات کا ہم سب کی زندگیوں پر دیرپا اثر قائم رہے۔ جزاکم اللہ حضور!
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ آپ پر اپنا فضل فرمائے۔
انہی افریقی وفود میں سے ایک اور وفد سے ملاقات کے دوران ایک شریکِ مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ یہ میری پہلی مرتبہ شرکت ہے اور مَیں نے جلسہ سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ خصوصاً مَیں حضورِ انور کی قوّتِ برداشت اور استقامت سے بہت متاثر ہوا۔ اگر ہم سب جلسہ کے آخری روز ہونے والے خطاب کو اچھی طرح یاد کریں، تو اس دوران حضورِ انور مسلسل کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے، جبکہ ہم میں سے جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی بار بار اپنے بیٹھنے کا انداز اور پہلو بدل رہے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے حضورِ انور ماشاء اللہ ! اب بھی کس قدر مضبوط اور توانا ہیں۔
انہوں نے مزید عرض کیا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ حضورِ انور کو ہمارے لیے ہمیشہ صحت و تندرستی، قوّت اور عافیت عطا فرماتا رہے۔
اس پر حضورِ انور نے جزاک اللہ کے دعائیہ کلمات سے نوازتے ہوئے دریافت فرمایا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ جس پر انہوں نے عرض کیا کہ مَیں سول انجینئر ہوں۔
انہی وفود میں شامل ایک شریکِ مجلس افریقن احمدی نے بعد از ملاقات اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ایک ایمان افروز واقعہ بیان کیا کہ جس واقعہ نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ جلسہ کا آخری روز تھا۔ اس روز سینیگال اور سیرا لیون سے ایک وفد آیا تھا، ان میں سے ایک شخص مسلمان تھا، لیکن احمدی نہیں تھا۔ گذشتہ روز ہماری اس موضوع پر گفتگو ہوئی تھی کہ حضورِ انور کی باتیں سن کر اسے کس طرح کا تجربہ ہوگا۔
انہوں نے مزید بیان کیا کہ جب مَیں واپس اپنے ہوٹل پہنچا ، تو اس شخص نے سب سے پہلی بات جو مجھے بتائی، وہ یہ تھی کہ آج مَیں نے بیعت کر لی ہے۔ حضورِ انور کو سننے کے بعد اس نے کہا کہ اب مَیں احمدی ہوں۔یہ سن کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
اسی طرح بیان کیا کہ مَیں ذاتی طور پر اگرچہ پیدائشی احمدی ہوں اور کینیڈا اور امریکہ میں متعدد جلسہ جات میں شرکت کی توفیق پا چکا ہوں، لیکن جب حضورِ انور بنفسِ نفیس موجود ہوتے ہیں، تو ان کا قرب ایک طرح کا جوش بھر دیتا ہے۔
ایک اور شریکِ مجلس افریقن احمدی نے بعد از ملاقات اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ حضورِ انور سادگی کا مجسم نمونہ ہیں۔ مَیں ان کے انداز اَور وسعتِ قلبی پر حیران تھا ۔ مَیں نے ان سے صرف ایک بات عرض کی کہ ہمارے ملک میں امسال دسمبر تک انتخابات ہونے والے ہیں اور مَیں درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہمارے ملک کے لیے دعا کریں کہ وہاں دوبارہ امن قائم ہو جائے اور ہم پُر امن طریق سے انتخابات کے اس مرحلے سے گزر سکیں اور اس کا نتیجہ بھی پُر امن ہو۔
تو اس پر حضورِ انور نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ ہاں! لیکن سب کچھ ہم پر منحصر ہے۔ ہمیں پُر عزم ہونا پڑے گا، ہم جو بھی کام کریں، اس میں ایماندار ی کی جھلک نظر آئے۔
حضورِ انور نے یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو حکومت عوام کے لیے اور عوام کے مفاد میں کرنی چاہیے۔
انہوں نے بیان کیا کہ مجھے انتہائی حیرت ہوئی کہ وہ میرے ملک کو جانتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس لیے اسے ترقی دینا انتہائی آسان ہے۔ اور مَیں یہ سن کر حیران رہ گیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ادراک رکھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور انہوں نے تعلیم بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی پر زور دیا۔
اپنی گفتگو کے آخر میں موصوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تو جی ہاں! حضورِ انور سادگی کا مجسم نمونہ ہیں، اور مجھے اس پر واقعی بالکل بھی حیرانی نہیں ہوئی ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک حوصلہ افزائی ہے کہ ہم حضورِ انور سے سیکھیں اگرہم اپنے ملک میں موثر قیادت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
اس روز حضورِ انور سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں مشرقی ایشائی ممالک سے تعلق رکھنے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
دورانِ ملاقات ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں جلسہ کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور! یہ میرا دوسرا جلسہ ہے، جبکہ مَیں پہلی مرتبہ ۲۰۱۷ء میں جلسہ میں شامل ہوا تھا۔ اس وقت حدیقۃ المہدی میں جلسہ گاہ مجھے بہت بڑی محسوس ہوئی تھی، لیکن اب یہ نسبتاً چھوٹی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! اللہ تعالیٰ کے الہام وَسِّعْ مَکَانَكَ کی برکتیں ہمیشہ پُوری ہوتی رہیں۔
اس پر حضورِ انور نے دعائیہ کلمات ادا فرمائے کہ انشاءالله!
دورانِ گفتگو حضورِ انور ازراہِ شفقت اپنے دستِ مبارک سے شرکائے مجلس کو قلم کا تحفہ بطور تبرک بھی عنایت فرماتے رہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ابھی تو ویسے بھی یہاں بہت جگہ ہے، ابھی تو ہم اس کا تقریباً ایک تہائی حصّہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہاں! اگر بارش ہو جائے تو مشکل پیش آئے گی، لیکن موسم خشک ہو تو کوئی مشکل نہیں، اس سال تو موسم خشک ہی رہا ہے۔
ایک اور شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ کیا حضورِ انور کے مشرقِ بعید کے دَورے کا کوئی امکان ہے، ہم آپ کی صحت کے لیے دعاگو ہیں، اگر صحت اجازت دے تو کیا ایسا ممکن ہے؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ نے کوئی منصوبہ تو نہیں بنایا، کیا آپ نے بنایا ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ جی! ہم تیار ہیں۔
جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ لیکن انڈونیشیا اور ملائیشیا میں وہاں کچھ پابندیاں ہیں، مَیں وہاں آسانی سے سفر نہیں کر سکتا، یا اپنی مرضی کے مطابق بات نہیں کر سکتا ۔ اس لیے مَیں صرف سنگاپور میں ہی آزاد ہوں۔ اور کمبوڈیا میں بھی ۔
موصوف نے دوبارہ عرض کیا کہ سنگاپور تیار ہے اور انڈونیشیا اور ملائیشیا کے لوگ بھی حضورِ انور سے شرفِ ملاقات پانے کے لیے وہاں آنے کو تیار ہیں۔ ہم دعاگو ہیں۔
حضورِ انور نے اس اَمر سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! وہ سب وہاں آسکتے ہیں، جیسا کہ وہ پچھلی دفعہ بھی ایسا کر چکے ہیں۔
مورخہ یکم اگست۲۰۲۶ء، بروز ہفتہ ، حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پانے والا ایک وفد جزیرہ مایوٹ (Mayotte Island) کے نَو مبائع احمدیوں پر مشتمل تھا۔
ایک شریکِ مجلس خاتون نے اُردو میں حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اپنے جذبات پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اور آپ ہماری دنیا کی روشنی ہیں۔
اس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت فرمایا کہ اچھا! بس، مَیں سمجھا کہ اس نے کوئی سوال کرنا ہے، نیز مسکراتے ہوئے انتہائی شفقت بھرے انداز میں اچھا !جزاک الله! کے دعائیہ کلمات سے اظہارِ تحسین فرمایا۔
اسی روز حضورِ انور سے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے والا ایک اور وفد جزیرہ روڈریگز(Rodrigues Island) سے تشریف لایا تھا، جس میں وہاں کے سپیکر اسمبلی اور وزیرِ صحت بھی شامل تھے۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا حکومت وہاں کوئی ہسپتال چلا رہی ہے؟
جس پر مترجم نے عرض کیا کہ ایک ہسپتال، دو ہیلتھ سینٹرز اور گیارہ ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں۔
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ وہاں کی کُل آبادی کتنی ہے؟ تقریباً پینتالیس ہزار؟
اس پر اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے فرمایا کہ جب مَیں وہاں آیا تھا ، تو آبادی چھتیس ہزار تھی، یعنی بیس سالوں میں تقریباً دس ہزار کا اضافہ ہوا ہے؟
وزیرِ صحت نے جلسہ میں شرکت کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ میرے لیے ایک نہایت بہترین موقع تھا اور مَیں اسے زندگی بھر یاد رہنے والا تجربہ قرار دوں گا۔ جہاں سے ہم آئے ہیں، یعنی روڈریگز، آپ اس سے واقف ہیں کہ یہ ایک نہایت چھوٹا سا جزیرہ ہے اور وہاں ہم سب باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن یہاں ۵۱؍ہزار سے زائد افراد کو ایک ہی جگہ پر محبّت ، شفقت، ہمدردی اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے دیکھنا میرے لیے نہایت حیرت انگیز تھا۔ مَیں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایک لحاظ سے اس تجربے نے اسلام کے بارے میں میری سوچ کو بھی بدل دیا ہے۔
الحمد للہ! ثمّ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء کے بابرکت موقع پر اور بعد ازاں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا کے ۸۰؍ سے زائد ممالک سے آنے والے معززین، صحافیوں، مہمانوں اور احمدی احبابِ جماعت پر مشتمل مختلف وفود کو شرفِ ملاقات عطا فرمایا۔ ان ممالک میں البانیہ، الجزائر، ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلاروس، بیلجیم، بیلیز، بینن، بولیویا، برازیل، بلغاریہ، برکینا فاسو، کمبوڈیا، کینیڈا، جزائرِ کیمن، چلّی، کانگو کنشاسا، جمہوریہ چیک، مصر، ایلسلواڈور، استوائی گنی، فن لینڈ، گبون، گیمبیا، گھانا، یونان، گواڈیلوپ، گوئٹے مالا، گنی کناکری، ہالینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، اٹلی، آئیوری کوسٹ، جاپان، اُردن، کبابیر، قازقستان، کینیا، کوسووو، کرغزستان، لٹویا، لائبیریا، لیتھوانیا، لکسمبرگ، ملائیشیا، ماریشس، مایوٹ، عرب ممالک، مراکش، نائیجر، نائیجیریا، ناروے، فلپائن، پولینڈ، جزیرۂ روڈریگز، سینیگال، سیرالیون، سنگاپور، سپین، شام، سوئٹزرلینڈ، تنزانیہ، ٹوگو، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، تیونس، ترکی، ترکمانستان، یوگنڈا، امریکہ، یُوراگوائے، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔
الغرض!محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ حضرت امیرالمومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان ملاقاتوں کے ذریعے دنیا بھر سے آنے والے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کروانے، بصیرت افروز راہنمائی عطا فرمانے اور دعاؤں سے نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس بابرکت سلسلہ کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے اور حضورِ انور کی مساعی کو دنیا بھر میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ اور انسانیت کی روحانی و اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنائے اور آپ کا مبارک سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ آمین یا ربّ العالمین!
اَللّٰهُمَّ اَيِّدْ اِمَامَنَا بِرُوْحِ الْقُدُسِ
وَبَارِكْ لَنَا فِیْ عُمُرِهِ وَاَمْرِهِ
٭…٭…٭



