نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۵؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ اقبال احمد صاحبہ اہلیہ مکرم نذیر احمد صاحب مرحوم (لندن۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ اقبال احمد صاحبہ اہلیہ مکرم نذیر احمد صاحب مرحوم (لندن۔یوکے)
۱۰؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۸۹؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، نرم مزاج اور ملنسار شخصیت کی حامل ایک مخلص خاتون تھیں۔ جماعتی کاموں اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔ غرباء خصوصاً بیوگان کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ مرحومہ مکرم منشی محمد یعقوب صاحب مرحوم (سابق خوش نویس روزنامہ الفضل)کی بیٹی، مکرم مولوی محمد صدیق ننگلی صاحب مرحوم (سابق مبلغ سلسلہ سرینام و سیرالیون) کی چھوٹی بہن اور مکرم محمود احمد طلحہ صاحب (مربی سلسلہ واستاد جامعہ احمدیہ یو کے) کی پھوپھی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے، سات بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اورنواسے نواسیاں شامل ہیں۔ مرحومہ کے ایک بیٹے مکرم شکیل احمد صاحب حلقہ بیت الفتوح ساؤتھ میں جنرل سیکرٹری کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرمہ امۃ العزیز صاحبہ اہلیہ مکرم محمد احسان بٹ صاحب (المعروف احسان برقعہ ہاؤس گولبازار ربوہ)
۳۰؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۸۸؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت امام دین سیکھوانی صاحب رضی اللہ عنہ کی نواسی اور حضرت مولاناجلال الدین شمس صاحب رضی اللہ عنہ کی بھانجی تھیں۔ مرحومہ کا نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ عشق اور فدائیت کا تعلق تھا اور احمدی ہونے پر ہمیشہ فخر کیا کرتی تھیں۔آپ کے بیٹے بتاتے ہیں کہ ۱۹۷۴ء کے دنوں کی بات ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے گھر واقع ہرنائی صوبہ بلوچستان میں چار مولوی آگئے اور انہوں نے والد صاحب کو کہا کہ ہم آپ کو کلمہ پڑھانے آئے ہیں۔ وہاں پر چونکہ قبائلی رہن سہن تھا۔ والد صاحب یہ صورتحال دیکھ کر کچھ گھبرا گئے اور خاموش ہو گئے۔ یہ سارا معاملہ ہماری والدہ دروازے کے پاس اندر والی سائیڈ سے دیکھ اور سن رہی تھیں۔ والدہ کے ساتھ ان کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا۔ قبائلی سسٹم کی وجہ سے عموماً عورتوں کو مردوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن والدہ نے اندر سے باآواز بلند کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے اس سے کلمہ سن لو اور ساتھ ہی اونچی آواز میں کلمہ طیبہ ان کو سنا دیا کہ یہ کلمہ ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ والدہ کی پر جوش آواز سے کلمہ سننے کے فوراً بعد ان پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا رعب طاری ہوا کہ تمام مولوی اٹھ کر باہر چلے گئے اور کہا کہ اس کلمہ کے مطابق تو یہ مسلمان ہیں۔ مرحومہ صوم صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند ایک نیک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔آپ نے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم محمد افضل بٹ صاحب (سیکرٹری مال) کی والدہ اور مکرم نصیر احمد قمر صاحب (ایڈیشنل وکیل الاشاعت یوکے) کی خالہ تھیں۔
۲۔مکرم منیر احمد صدیقی صاحب ابن مکرم چودھری بشیر احمد صاحب مرحوم (کوارٹرز صدر انجمن احمدیہ ربوہ)
۲۳؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۸۰؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے مئی ۱۹۶۴ء میں میٹرک کا امتحان دینے کے بعد جماعتی کارکن کی حیثیت سے ۲۰۲۴ء تک خدمت کی توفیق پائی۔ شروع میں کافی عرصہ احمدنگر سے سائیکل پر دفتر آتے رہے۔ اس کے بعد ربوہ شفٹ ہوگئے۔ ملازمت کے پہلے چند ماہ آپ کو دفتر بیت المال آمد میں اپنے والد مکرم چودھری بشیر احمد صاحب مرحوم کی جگہ اور پھر اگست ۱۹۶۵ء تا ۱۹۸۴ء دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں خدمت کی توفیق ملی۔ خلافت رابعہ کے دور میں آپ کا تبادلہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے نظامت جائیداد میں ہو گیا جہاں ۱۹۸۴ء سے ۲۰۱۹ء تک خدمت کی توفیق ملی۔ ۲۰۰۵ء میں آپ حسب قواعد ریٹائر ہو کر ری ایمپلائی ہو ئے تو پھر ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۴ء تک دوبارہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کوسن ۲۰۱۲ء میں جماعتی وفد کے ہمراہ جلسہ سالانہ یو کے میں شمولیت کا بھی موقع ملا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم حفیظ احمد صاحب کارکن اورمکرم باسل احمد طاہر صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے۔
۳۔مکرمہ زینب پر وین صاحبہ اہلیہ مکرم حمید اللہ صاحب پیر کوٹی (ناصر آباد شرقی ربوہ)
۹؍جون ۲۰۲۶ء کو ۷۸؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت میاں امام دین صاحب پیرکوٹی رضی اللہ عنہ کی پوتی اورحضرت میاں نور محمد صاحب پیرکوٹی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بیٹی، اسی طرح حضرت میاں پیرمحمد صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت حافظ محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کی بھتیجی تھیں۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ، خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز،ایک نیک اور مخلص بزرگ خاتون تھیں۔ اپنے تمام چندے بروقت اد ا کرتیں اورغرباء اور ضرورتمندوں کی خاموشی سے مدد کیا کرتی تھیں۔ خلافت سےگہرا عقیدت کا تعلق تھا اور حضورانور کے خطبات اور خطابات با قاعدگی سے سنتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک نواسے مکرم ثاقب احمد صاحب مربی سلسلہ اور دوسرے نواسے مکرم مرزافراز احمد طاہر صاحب بطور مبلغ سینیگال خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ آپ مکرم اکبر احمد طاہر صاحب کی پھوپھی اور ساس تھیں۔
۴۔مکرم عدیل احمد صاحب ابن مکرم مرزا حفیظ احمد صاحب (دار النصر شرقی محمود۔ ربوہ)
۱۴؍جون ۲۰۲۶ء کو ۳۷؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ مکرم روشن دین صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے دور میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ مرحوم تحریک وقف نو میں شامل تھے۔آپ نارووال سے ۱۹۹۶ء میں ہجرت کرکے ربوہ آئے۔ جماعتی مخالفت کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کرسکے اور حضور انور کی اجازت سے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ربوہ میں کاروبار کرتے رہے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند،بہت محنتی،خوش اخلاق، مخلص اور باوفا نوجوان تھے۔ عہدیداروں کا بہت احترام کرتے۔ جماعتی کاموں خصوصاً سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ غریبوں کی چھپ کر مدد کرنا بھی ان کا خاص وصف تھا۔ ربوہ میں نصر سیکٹر پر ۱۵؍سال سے بطور والنٹیرخدمت سرانجام دے رہے تھے۔ دو بار جلسہ سالانہ قادیان جانے اور وہاں ڈیوٹی دینے کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں والدین، تین بھائی، دو بہنیں، اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔
۵۔مکرمہ سلمیٰ صدیق صاحبہ اہلیہ مکرم محمد صدیق صاحب (دار الصدر شمالی انوار ربوہ)
۳۰؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۷۴؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے اور سات بیٹیاں شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ بلقیس بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم صفدر حسین صاحب مرحوم (۱۶۶مراد ضلع بہاولنگر)
۲۷؍مئی۲۰۲۶ء کو ۶۷؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند،ہمدرد، ملنسار، مخلص اور نیک خاتون تھیں۔ اپنے چندہ جات بڑی باقاعدگی سےاور بروقت ادا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭



