نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۵؍اگست ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم مسعود احمد گوندل صاحب ابن مکرم عبد الغنی صاحب (آلڈر شاٹ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم مسعود احمد گوندل صاحب ابن مکرم عبد الغنی صاحب (آلڈر شاٹ۔یوکے)

۲۹؍جولائی۲۰۲۶ء کو ۷۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نہایت دیانتداری اور خدمت کے جذبہ کے ساتھ ۴۰ سال تک پولیس میں ملازمت کرکے ملک کی خدمت کرتے رہے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، خدمت کے جذبہ سے سرشار، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ نیک فطرت اور مخلص انسان تھے۔ آپ کو تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں اور نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرمہ امۃ الحکیم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری حفیظ احمد صاحب شہید (آسٹریلیا)

۲۳؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۱۰۰سال سےزائد عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم نواب محمد دین صاحب کی پوتی تھیں جوکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل وائسرائے کی کونسل کے ممبر تھے اور قیام پاکستان کے بعد انہیں ربوہ کی زمین حاصل کرنے میں بنیادی کر دار ادا کرنے کی توفیق ملی۔ مرحومہ کے والد حضرت محمد شریف صاحب رضی اللہ عنہ نے ۱۳سال کی عمر میں قادیان جاکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت پائی۔ بعدازاں انہیں بطور امیر ضلع منٹگمری (ساہیوال) ۳۰سال سے زائد عرصہ تک خدمت کی توفیق ملی۔ آپ کا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کے ساتھ خاص تعلق تھا۔ ۱۹۲۴ء کی کانفرنس میں شامل ہونے والے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بھی شامل تھے۔ مرحومہ کے خاوند مکرم چودھری حفیظ احمد صاحب سپریم کورٹ کے وکیل تھے جنہوں نے ۲۸ مئی کے واقعہ میں ماڈل ٹاؤن (لاہور) میں جام شہادت نوش کیا۔ مرحومہ نے لاہور میں فیصل ٹاؤن کی صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی اور اس سے قبل لمبا عرصہ سیالکوٹ میں بطور جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ خدمت بجالاتی رہیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، دعا گو، غرباء کی دل کھول کر مدد کرنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آخری وقت تک دعاؤں اور عبادات میں مصروف رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے بڑے بیٹے مکرم ناصر کاہلوں صاحب جماعت آسٹریلیا کے نائب امیر اور دوسرے بیٹے مکرم رشید کاہلوں صاحب نیشنل آڈیٹر کے طور پر خدمت بجالا رہے ہیں۔

۲۔مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم میاں منور احمد صاحب مرحوم (جرمنی)

۱۸؍جون ۲۰۲۶ء کو ۹۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مولوی غوث محمد صاحب رضی اللہ عنہ آف سعداللہ پور ضلع گجرات کی پوتی اور مکرم مولوی غلام محمد صاحب (ریٹائرڈ ہیڈماسٹر و سابق صدر جماعت سعد اللہ پور) کی بیٹی تھیں۔مرحومہ ۱۶سال سے اپنے بچوں کے پاس جرمنی میں مقیم تھیں۔مرحومہ پنجوقتہ نمازوں کی پابند،تہجد گزار،ملنساراور غرباء کا خیال رکھنے والی ایک مخلص خاتون تھیں۔ بچوں کو بھی پنجوقتہ نمازوں کی پابندی اور بیویوں سے حسن سلوک کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔ دیہات میں لجنہ کے وفود کے ساتھ اکثر تبلیغ کے لیے بھی جایا کر تی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹی، چار بیٹے، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔

۳۔مکرم چودھری گلزار احمد صاحب ابن مکرم محمد رفیق صاحب (آف وزیر آباد )

۲۷؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۸۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے وزیرآباد میں نائب صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی اورلمبے عرصے تک وہاں مہمان نوازی کا شعبہ بھی آپ کے سپرد رہا۔ مرکز سےآنے والے ہر مہمان کی تواضع بڑی خوش دلی سے کیا کرتے تھے۔ غریبوں، محتاجوں، ضرورت مندوں کی حاجات بھی پوری کرتے۔ بعض غیر از جماعت افراد کی بھی مستقل مدد کرتے حتیٰ کہ ان کے وظائف بھی مقرر کررکھے تھے۔ چندوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔تحریک جدید اور وقف جدید میں ہر سال زائد ادائیگی کیا کرتے تھے۔جلسہ سالانہ یو کے اور جرمنی میں کئی بار شامل ہونے کی توفیق پائی۔مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، خلافت کے ساتھ گہرا فدائیت کاتعلق رکھنے والے ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ۲ بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔آپ مکرم منصور احمد شاہد صاحب (ریٹائرڈ مربی سلسلہ حال کینیڈا) کے خسر تھے۔

۴۔مکرم تہامی جوید صاحب (مراکش)

۲؍جولائی ۲۰۲۶ء کو مراکش کے قصبے اراش میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم حافظِ قرآن تھے اور آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ کی لندن میں مقیم بیٹی اور داماد نے اپنے مراکش کے سفر کے دوران دو ہفتے تک آپ کو صبر و حکمت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچایا جس پر آپ نے کسی بحث کے بغیر قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں سچائی کو سمجھا اور نہایت اخلاص و عاجزی کے ساتھ احمدیت قبول کر لی۔ قبول احمدیت کے بعد آپ کو لوکل سطح پر شدید مخالفت اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑالیکن آپ اپنے قصبے میں احمدیت کا ایک مضبوط مینار بن کر ڈٹے رہے۔ آپ امام مسجد تھے۔احمدی ہونے کے بعد آپ نے مخالفت کے باوجود بڑی جرأت کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ اگر لوگ امام وقت کو تسلیم کریں گےتو تبھی وہ نمازوں کی امامت کروائیں گے۔ جب جماعت کےلیے دوسرے دروازے بند تھے توآپ نے اپنے گھر کو لوکل احمدیوں اور مرکز سے آنے والے مہمانوں کے لیے ایک پناہ گاہ میں بدل دیا جہاں نماز جمعہ اور جماعتی اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا رہا۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا،چاربیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ کی ایک بیٹی اسماء صاحبہ ایک پرانے مخلص احمدی جمال اغزول صاحب کی اہلیہ اور دوسری بیٹی فاطمہ صاحبہ برطانیہ میں مقیم پرانے مخلص احمدی محمد الصروخ صاحب کی اہلیہ ہیں۔

۵۔مکرمہ فہمیدہ اختر صاحبہ اہلیہ مکرم ماسٹر عزیز الرحمٰن صاحب مرحوم (آف محمود آباد فارم ضلع عمر کوٹ سندھ)

۴؍جولائی ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے ددھیال میں احمدیت آپ کے دادا مکرم چودھری جلال الدین صاحب پٹواری (آف مست پور سیالکوٹ) کے ذریعہ حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دور میں آئی جبکہ ننھیال میں احمدیت مکرم چودھری مولا داد صاحب پٹواری (آف ٹھروہ سیالکوٹ) کے ذریعہ ۱۹۰۴ء میں آئی۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، سادہ مزاج، دعاگو، مہمان نواز، خاموش طبع، صابرہ و شاکرہ، غریب پرور اور صاف دل کی مالک ایک نیک، خوش اخلاق اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے بے انتہا عقیدت کا تعلق تھا اور اپنے بچوں کو بھی حتّی المقدور اس کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔ سکول میں ہیڈ مسٹریسں ہونے کی حیثیت سے ساتھی اساتذہ کا ہر طرح سے خیال رکھتی تھیں۔ انہیں موسمی پھل اور تحائف بھی دیا کرتی تھیں۔ ہمیشہ بروقت سکول آتیں اور اپنی ڈیوٹی احسن طریق سے سرانجام دیتی تھیں۔ جب گورنمنٹ سکول میں تھیں تو اکثر غریب طالبات کو اپنی جیب سے قلم اورکاپیاں وغیرہ دلواتی تھیں۔ واقفینِ زندگی کی بہت عزت اور احترام کرتی تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اورچھ بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم مجیب الرحمن صاحب سینیگال میں بطور مبلغ سلسلہ جبکہ چھوٹے بیٹے قائد مجلس کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔اسی طرح آپ کے دو پوتے اس وقت جامعہ احمد یہ میں زیر تعلیم ہیں جبکہ تین پوتیاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ڈاکٹر بن کر جماعت کی خدمت کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button