امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مسجد فضل لندن کے صد سالہ جشن کی تقریب کے موقع پر پُر معارف خطاب کا خلاصہ
مسجد فضل کی سو سالہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ مسجد ہمیشہ امن، محبت اور ہمدردی کی ایک روشن علامت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے
٭… مسجد دراصل اس لیے تعمیر کی جاتی ہےتا کہ انسان اپنے خدا کی عبادت کرسکیں، اس کا قرب حاصل کرسکیں اور اس عبادت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اوراس کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرسکیں۔ ایک حقیقی مسجد مقامی معاشرے اور دنیا بھر میں امن، محبت اور باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہوا کرتی ہے
٭… مسجد فضل کے سنگ بنیاد کے موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے اس امر کو بھی واضح فرمایا تھا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہے، وہ اس مسجد میں عبادت کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مسجد کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرے اور وہاں عبادت کرنے والوں کے مذہبی عمل میں مداخلت نہ کرے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسجد فضل کو ابتدا ہی سے مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ قائم کیا گیا تھا
٭… اللہ تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ ایک صدی کے دوران مسجد فضل نے ہمیشہ امن اور ہمدردی کے جذبات کو ظاہر کیا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ہمیشہ ان ہی اعلیٰ اقدار کی عکاسی کرتی رہے گی
مسجد فضل لندن کے افتتاح پرایک سو سال مکمل ہونے کے حوالے سے مورخہ ۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ایک خصوصی تقریب مسجد فضل لندن کے احاطے میں منعقد کی گئی۔ اس پُر مسرت موقع پر امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اسلام آباد ٹلفورڈ سے ایک خصوصی خطاب مورخہ ۲؍اکتوبر۲۰۲۶ء کو قبل نماز مغرب ریکارڈ کروایا جو اس تقریب میں موجود حاضرین کو بڑی سکرین پر دکھایا گیا۔ یاد رہے کہ اس تقریب کو ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے یوٹیوب چینل پر بھی لائیو سٹریم کیا گیا۔
خلاصہ خطاب حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ مسلمہ برطانیہ، لندن میں پہلی باقاعدہ مسجد، یعنی مسجد فضل، کے افتتاح کی سو سالہ تکمیل کے موقع پر یہ تقریب منعقد کر رہی ہے۔
آج کی یہ محفل دو سال قبل منعقد ہونے والی اُس تقریب کے تسلسل میں ہے جو مسجد فضل کا سنگ بنیاد رکھے جانے کی سو سالہ تکمیل کے موقع پر منعقد ہوئی تھی۔ اُس موقعے پر بھی اس بات کا ذکر ہوا تھا کہ وہ زمانہ کہ جب یہ مسجد تعمیر ہوئی تھی، اُس وقت بھی ان معاشروں میں مسلمانوں کے بارے میں بعض تحفظات اور خدشات پائے جاتے تھے۔ افسوس کہ ایک صدی گزرجانے کے باوجود آج بھی ہم بعض جگہ مسلمانوں کے بارے میں اُسی قسم کے تحفظات اور بدگمانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں؛ بلکہ حالیہ زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خوف اور خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورت حال ایک سچّے مسلمان کے لیے باعث فکر اورافسوس ہے۔
تعمیر مسجد کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
مسجد دراصل اس لیے تعمیر کی جاتی ہےتا کہ انسان اپنے خدا کی عبادت کرسکیں، اس کا قرب حاصل کرسکیں اور اس عبادت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرسکیں۔ ایک حقیقی مسجد مقامی معاشرے اور دنیا بھر میں امن، محبت اور باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہوا کرتی ہے۔
اس حقیقت کے برخلاف اسلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تعلیم دینے والا مذہب ہے، غور کیا جائے تو یہ الزام سراسر غلط ہے۔ اسلام تو تمام انسانوں کے حقوق قائم کرنے اور ان کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یاعقیدے سے ہو۔ اسلام پر تنقید کرنے والے جب ابتدائےاسلام کی جنگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو وہ بعض اوقات یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے مفادات کے حصول کے لیے جنگیں کرتے تھے، یہ تنقید کرنے والے ان جنگوں کے حقیقی تاریخی پس منظر کو سامنے نہیں رکھتے۔

بانیٔ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپؐ کے ابتدائی صحابہؓ کو اسلام کے آغاز ہی سے اپنے وطن میں نہایت سخت ظلم و ستم اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طویل عرصےتک ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئےاور انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکا گیا۔ بالآخر وہ ایک دوسرے شہر کی طرف ہجرت کر گئے تاکہ وہاں آزادانہ اور پُرامن طور پر اپنے مذہب پر عمل کر سکیں۔ لیکن اُن کے مخالفین نے وہاں بھی اُن کا تعاقب کیا اور اُن کے خلاف جنگ مسلط کر دی۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دفاع میں مقابلہ کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔
قرآن کریم کی سورۃ الحج کی آیات ۴۰؍اور ۴۱؍میں اس اجازت کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے۔ اگر مسلمانوں کو ظلم کے مقابلے میں دفاع کی اجازت نہ دی جاتی تو نہ صرف یہ کہ مساجد بلکہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہ رہتیں۔ پس اسلام میں جنگ کی اجازت کسی مذہب یا قوم کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں دی گئی تھی بلکہ ظلم کو روکنے، اپنے دفاع اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے دی گئی تھی۔ اس اجازت کا مقصد یہ تھا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی حاصل رہے۔
پس یہ تصوّر بالکل غلط ہے کہ اسلام کی مساجد خطرناک منصوبے بنانے یا انتہا پسندی پھیلانے کی جگہیں ہیں۔ اسلام میں کوئی حقیقی مسجد ضرر یا فساد کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اگر کسی مسجد کو انتہا پسندی یا فساد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ خود اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
عہد نبویؐ میں بھی ایک ایسی عمارت مسجد کے نام پر تعمیر کی گئی تھی جس کا مقصد مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا اور ان کے درمیان فساد اور بغاوت کی فضا پیدا کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی حقیقت ظاہر فرمادی اور اسے منہدم کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا نام رکھ دینا کافی نہیں، بلکہ مسجد کا مقصد اور اس میں ہونے والا عمل بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
جماعت احمدیہ کا مقصد ہمیشہ سے امن اور خیرسگالی کو فروغ دینا رہا ہے۔ ہم محبت، صلح اور باہمی میل جول کے جذبات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ تمام مذاہب اور مختلف عقائد رکھنے والوں کے ساتھ ہماری مخلصانہ دوستی اور حسن سلوک ہونا چاہیے۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مذہب اور عقیدہ دل کا معاملہ ہے۔ کسی انسان کو اس کے مذہب یا عقیدے کے معاملہ میں مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ہر مذہب کے ماننے والے کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے مذہب پر عمل کرسکے، عبادت کرسکے۔ اس لیے ہمیں اس ملک کے باشندوں کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مختلف شہروں اورقصبوں میں مساجد تعمیر کرنے اور اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

برطانیہ میں جماعت احمدیہ کی جو پہلی مسجد تعمیر ہوئی، وہ مسجد فضل ہے۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد ۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے رکھا تھا۔ درحقیقت تو مساجد ایک ہی معبود، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ان میں آنے والوں کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے معمور ہوں۔
مسجد فضل کے سنگ بنیاد کے موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے اس امر کو بھی واضح فرمایا تھا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہے، وہ اس مسجد میں عبادت کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مسجد کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرے اور وہاں عبادت کرنے والوں کے مذہبی عمل میں مداخلت نہ کرے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسجد فضل کو ابتدا ہی سے مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔
اسلام ہمیں تمام مذاہب کا احترام کرنے اور ان کے حقوق کا دفاع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دنیا میں حقیقی امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ان اصولوں پر عمل کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء انسانیت کے لیے لے کر آئے۔ حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سمیت تمام انبیاء نے انسانیت کو امن اور سلامتی کا راستہ دکھایا۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور آزادانہ طور پر عبادت کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اس امید کا اظہار فرمایا تھا کہ مسجد فضل رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کی ایک مستقل علامت بنے گی۔
مسجد فضل کی سو سالہ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ اس مسجد نے اُس بنیادی مقصد کےحصول کے لیےہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ مسجد امن، محبت اور ہمدردی کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی رہی ہے۔
مسجد فضل پہلی عالمی جنگ کے بعد تعمیر ہوئی تھی، لیکن اس کے افتتاح کے کچھ ہی عرصہ بعد دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی۔ یہ ایک نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ ایک عالمی جنگ کے بعد امن کی امیدوں کے باوجود دنیا دوبارہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گئی۔
اگر آج کے زمانے پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں ایک مرتبہ پھر تنازعات اور جنگیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بارہا اس خدشے کا اظہار کیاجاتا رہا ہے کہ انسانیت گذشتہ عالمی جنگوں کے واقعات اور ان کی تباہ کاریوں سےسیکھے ہوئے وہ سبق بھول چکی ہے جو اسے ہمیشہ یاد رکھنے چاہیے تھے۔ نتیجتاً دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

خدا کرے کہ دنیا اس تباہ کن جنگ کی طرف تیزی سے بڑھنے کی بجائےاب بھی سنبھل جائے۔ دنیا کی حکومتیں اور سربراہان عقل سے کام لیں اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ جنگ کی بجائے ایسے راستے اختیار کریں جن کے ذریعہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔
احمدیوں کی طرف سے ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ امن کے مقصد کے لیے سب سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا جائے۔ جہاں کہیں ہم مسجد تعمیر کرتے ہیں، وہاں ہماری یہ پختہ نیت ہوتی ہے کہ وہ مسجد مقامی معاشرے اور دنیا بھر میں باہمی ہمدردی، محبت اور خیرسگالی کی روح پیدا کرنے کا ذریعہ بنے۔
ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان خواہ کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں، بہرحال تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عزت و احترام کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کا سلوک کرنا چاہیے اور انسانی اقدار کو قائم رکھنا چاہیے۔
ہمیں قرآن کریم کی اس قطعی اور واضح تعلیم سے راہنمائی اور تحریک ملتی ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔ کسی کو اس کے مذہب یا عقیدے کے معاملہ میں مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی مذہبی آزادی اور باہمی احترام کا بنیادی اصول ہے جس کے مطابق انسانوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے امن کے ساتھ رہنا چاہیے۔
مسجد فضل کی سو سالہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ مسجد ہمیشہ امن، محبت اور ہمدردی کی ایک روشن علامت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔
یہ مثال صرف مسجد فضل تک محدود نہیں بلکہ ہماری تمام مساجد اسی اصول پر قائم کی جاتی ہیں۔ کشادہ دلی اور سب کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنا ہماری جماعت کی فطرت اور مزاج کا حصہ ہے۔ اس کی ایک مثال ہر سال ہیمپشائر میں منعقد ہونے والا ہمارا سالانہ اجتماع، جلسہ سالانہ، ہے جہاں دنیا بھر سے ہزاروں لوگ تین دن کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس جلسہ میں مقامی معاشرے کے علاوہ دور دراز علاقوں سے بھی بہت سے غیر مسلم مہمان شریک ہوتے ہیں۔ جلسہ سالانہ کے دوران ہر طرف امن اور رواداری کا پیغام سنائی دیتا ہے۔ جلسہ میں شریک ہونے والوں کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ انسانوں کے درمیان موجود دوریوں اور تقسیم کی دیواروں کو ختم کیا جائے، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے اور دنیا میں امن قائم کیا جائے۔ یقیناً یہی اس وقت کی سب سے اہم اور فوری ضرورت ہے۔
لیکن افسوس کہ دنیا کے بہت سے سیاسی راہنما اور حکومتیں انسانیت کو جنگ اور تباہی کی طرف لے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں گذشتہ عالمی جنگوں کی ہولناکیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دوسری عالمی جنگ کا اختتام بالآخر جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر ہوا، جس کے نتیجے میں ناقابل تصور جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔
آج ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ اگر موجودہ تنازعات ایک مکمل عالمی جنگ میں تبدیل ہو گئے تو اس کے نتیجے میں کس قدر تکلیف، خونریزی اور تباہی برپا ہو سکتی ہے۔ موجودہ دور میں جنگ کے پھیلنے کی صورت میں انسانیت کو جس سطح کے مصائب اور خونریزی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا اندازہ کرنا بھی انتہائی مشکل ہے۔
اگر موجودہ تنازعات ایک مکمل عالمی جنگ میں تبدیل ہوگئے تو اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا تصور ہی انسان کو لرزا دیتا ہے۔ اس لیے آج ہمیں صرف اپنے مقاصد یا اپنی خواہشات کی تکمیل کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے بلکہ اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق اور ضروریات کو بھی سامنے رکھنا اور انہیں ترجیح دینی چاہیے۔
جو لوگ بھی مذاہب سے وابستہ ہیں، خواہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں، ہندو ہوں، مسلمان ہوں یا کسی بھی دوسرے مذہب کے پیروکار ہوں، انہیں اپنے مذاہب کی اصل تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء انسانیت کو امن اور رواداری کی طرف لےجانے کے لیے ہی کوشش کرتے رہے؛ تمام انبیاء کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ انسان امن، محبت اور بقائے باہمی کےاصول کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
ان بنیادی باتوں کے بیان سے یہ امر ایک مرتبہ دوبارہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہماری تمام مساجد امن، محبت اور ہمدردی کی علامت ہیں۔ وہ نمازیوں کو جارحیت یا انتہا پسندی کی طرف نہیں لے جاتیں بلکہ ان کے اندر یہ عزم پیدا کرتی ہیں کہ وہ امن پھیلائیں، اپنے معاشروں کی خدمت کریں اور ان لوگوں کے حقوق ادا کریں جو کسی بھی طرح محروم، کمزور یا ضرورت مند ہیں۔
یہی ہماری تمام مساجد کا حال ہے، خواہ وہ برطانیہ میں ہوں، یورپ میں، ایشیا میں، افریقہ میں، شمالی یا جنوبی امریکہ میں یا دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے میں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ ایک صدی کے دوران مسجد فضل نے ہمیشہ امن اور ہمدردی کے جذبات کو ظاہر کیا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ہمیشہ ان ہی اعلیٰ اقدار کی عکاسی کرتی رہے گی۔
یہ مسجد محبت اور رحم کے پھیلانے کا ذریعہ بنتی رہے گی، کیونکہ ہم سب اسی خدا کی مخلوق ہیں جو تمام مخلوقات کا پروردگار اور رزق پہنچانے والا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا پروردگار اور رزق پہنچانے والا ہے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ بغیر کسی امتیاز کے تمام انسانوں کی خبرگیری کریں اور ایسے معاشرے کے قیام کی کوشش کریں جو محبت اور مہربانی پر قائم ہو۔ اگر کوئی احمدی مسلمان ان اقدار کو قائم نہیں رکھتا تو وہ اسلام کی تعلیمات سے انحراف کر رہا ہے۔
اسی لیے حاضرین میں موجود احمدیوں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا طرز عمل ایسا ہونا چاہیے جو اسلام کی پُرامن اور انسان دوست تعلیمات کی گواہی دے۔ مسجد میں ان کا ہر قدم انہیں اس بات کی تحریک دے کہ وہ دوسروں کی خدمت میں مزید آگے بڑھیں اور محبت و ہمدردی کے پرچم تلے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کریں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں امن پھیلانے، تمام انسانوں کے لیے اپنی محبت بڑھانے اور ان کی خدمت میں مزید آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آخر میں حضور انور نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مسجد فضل کی سو سالہ تکمیل کی اس تقریب میں شرکت کرکے اپنی محبت اور حسن سلوک کا اظہار کیا۔
٭…٭…٭
لندن کی پہلی مسجد، مسجد فضل، کے افتتاح کو ۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ایک سو سال مکمل ہوگئے۔ اس تاریخی موقع پر مسجد فضل میں صد سالہ جشن کی ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں برطانیہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے احباب جماعت کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ، مقامی سیاسی و انتظامی شخصیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معززین اور دیگر مہمانان نے شرکت کی۔
مسجد فضل محض ایک عمارت یا عبادت گاہ نہیں بلکہ برطانیہ میں اسلام اور احمدیت کی ایک صدی پر محیط تاریخ کی روشن علامت ہے۔ گذشتہ سو سال کے دوران اس مسجد نے اسلام کی حقیقی تعلیمات، خلافت سے وابستگی، امن و محبت، رواداری اور خدمت انسانیت کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
صد سالہ جشن کے لیے خصوصی انتظامات
صد سالہ جشن کے سلسلے میں دن کے وقت بھی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کا اہتمام کیا گیا۔ دوپہر ۲ بجے سے ۴؍بجے تک خصوصی اسٹریٹ فوڈ پارٹی منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں احباب جماعت اور اُن کے خاندانوں نے شرکت کی۔ مختلف کھانے اور ریفریشمنٹ کے انتظام کے ساتھ شرکائے تقریب کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا۔ بچوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ کینڈی فلاس، باونسی کاسل اور مہندی لگانے کا اہتمام کیا گیا جس سے بچوں نے بھرپور لطف اٹھایا۔ مہمانوں اور شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہنے کے لیے منتظمین موجود تھے اور ہر آنے والے کی سہولت کا خصوصی خیال رکھا گیا۔
اس موقع پر مسجد فضل کے احاطہ، مسجد کی عمارت اور دیگر جماعتی عمارات کو خوبصورت چراغاں سے سجایا گیا تھا، جس سے پورا ماحول نہایت دلکش اور پُروقار نظر آ رہا تھا۔ جماعت احمدیہ اور مسجد فضل لندن کی ایک صدی پر محیط تاریخ، خدمات اور اہم واقعات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی تاریخی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں مسجد فضل کے قیام سے لے کر آج تک کے اہم ادوار اور جماعتی خدمات کو نمایاں کیا گیا۔ اس نمائش نے آنے والے مہمانوں اور احباب کو مسجد فضل کے تاریخی کردار اور جماعت احمدیہ کی ایک صدی پر محیط خدمات سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مقامی کونسل کی خصوصی اجازت سے تقریب کے دوران مسجد فضل کے سامنے والی سڑک کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا جس سے شرکائے تقریب کو باہمی میل ملاقات اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ایک پُرسکون اور محفوظ ماحول میسر آیا۔
مرکزی تقریب
مرکزی تقریب میں شرکت دعوت نامہ کے ذریعہ تھی۔ سیکرٹری امور خارجہ جماعت احمدیہ یوکے مکرم فرید احمد صاحب نے بتایا کہ اس موقع پر مجموعی طور پر ۶۵۰؍دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔ شرکائے تقریب میں برطانیہ کے علاوہ بعض دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ اور معزز مہمان بھی شامل تھے۔ مرکزی تقریب کی کمپیئرنگ کی ذمہ داری مکرم فرید احمد صاحب نے ادا کی۔ تقریباً شام ساڑھے سات بجے محترم امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیرصدارت پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کی سعادت مکرم عثمان بٹ صاحب مبلغ سلسلہ نے حاصل کی جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ مکرم بلال ایٹکنسنصاحب نے پیش کیا۔
مسجد فضل …ایک صدی سےحضرت مسیح موعودؑ کے مشن کی ترجمان
محترم امیر صاحب نے اپنے خطاب میں مسجد فضل کی صدسالہ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج سے سو سال قبل اسی دن اس مسجد کا افتتاح ہوا تھا۔ یہ مسجد آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو دنیا بھر میں پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ یہاں سے پیار، محبت، نیکی اور امن کا پیغام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مسجد فضل کی تعمیر کے لیے احمدی احباب کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر میں کئی احمدی احباب نے اپنے وقت اور مال کی قربانیاں پیش کیں۔ حضرت چودھری سر محمدظفر اللہ خان صاحبؓ اور نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا بھی اس مسجد سے گہرا تعلق رہا۔ دونوں عظیم شخصیات مسجد فضل سے مسلسل رابطے میں رہے اور مقامی کمیونٹی کی راہنمائی اور مدد میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ۱۹۸۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پاکستان سے ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بعد مسجد فضل کو ایک منفرد تاریخی حیثیت حاصل ہوئی اور یہ ایک عرصہ تک قصر خلافت بن گئی۔ اسی مسجد سے ایم ٹی اے کا آغاز ہوا اور خلافت احمدیہ کا پیغام دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے لگا۔ اسی مسجد میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے انتخاب کا تاریخی مرحلہ بھی پیش آیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سولہ سال اسی مسجد فضل سے وابستہ رہتے ہوئے گزارے اور اس دوران اسلام اور احمدیت کا پیغام دنیا بھر میں مزید وسیع پیمانے پر پہنچا۔ محترم امیر صاحب نے کہا کہ مسجد فضل اپنے آغاز سے آج تک ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا پیغام دے رہی ہے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت تک اپنے عظیم مقاصد کی تکمیل کی توفیق عطا فرماتا رہے۔
تقریب کے دوران وزیراعظم برطانیہ اور عزّت مآب بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے مسجد فضل کی صد سالہ تکمیل کے موقع پر بھجوائے گئے تہنیتی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ بعد ازاں مسجد فضل کی تاریخ، اس کے قیام اور گذشتہ ایک صدی کے دوران اس سے وابستہ اہم تاریخی واقعات پر مشتمل ایک خصوصی ویڈیو حاضرین کو دکھائی گئی۔
تقریب کا سب سے اہم اور روح پرور حصہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی ریکارڈ شدہ پیغام تھا جس کا خلاصہ اوپر دیا جا چکا ہے۔
معزز مہمانوں کے خطابات
تقریب سے مختلف معزز شخصیات نے خطاب کیا جن میں ڈپٹی لیفٹیننٹ آف گریٹر لندن مکرمہ کولین ہیرس صاحبہ، کونسلر میئر وانڈز ورتھ ایملن اوینز صاحبہ، ہائی شیرف لندن مکرم دھرو پٹیل صاحب، ممبر آف پارلیمنٹ سٹن اینڈ چیم مکرم لوک ٹیلر صاحب اور ممبر آف پارلیمنٹ مچم اینڈ مورڈن مکرمہ ڈیم شیوبہن میکڈونخ صاحبہ شامل تھیں۔ تمام مقررین نے مسجد فضل کے سو سال مکمل ہونے پر جماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کی اور مسجد فضل کے ذریعہ مقامی کمیونٹی، پڑوسیوں اور وسیع تر معاشرے کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر مکرم دھرو پٹیل صاحب، ہائی شیرف لندن، نے محترم امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کو مسجد فضل کے ذریعہ مقامی کمیونٹی اور پڑوسیوں کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کے اعتراف میں ایک خصوصی High Recognition Award بھی پیش کیا۔
دعا اور عشائیہ
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کے بعد محترم امیر صاحب نے دعا کروائی۔ بعد ازاں مہمانان اور شرکائے تقریب کی خدمت میں ایک پُرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ عشائیے کے دوران مہمانوں اور شرکائے تقریب کے درمیان باہمی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر مسجد فضل کی صد سالہ تاریخ اور اس کے ذریعہ گذشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والی خدمات کا بھی ذکر ہوتا رہا۔
ایک صدی کا روشن سفر
مسجد فضل لندن کا صد سالہ سفر دراصل برطانیہ میں اسلام اور احمدیت کے سو سالہ سفر کا ایک اہم باب ہے۔ اس مسجد نے مختلف ادوار میں تبلیغ، تربیت، خلافت سے وابستگی، خدمت انسانیت اور قیام امن کے پیغام کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ وہ تاریخی مرکز ہے جس نے برطانیہ میں اسلام کے حقیقی پیغام کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ خلافت احمدیہ کی آواز کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتے دیکھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے بعد یہ مسجد ایک عرصہ قصر خلافت رہی، ایم ٹی اے کے ابتدائی سفر کا مرکز بنی اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے انتخاب کی بھی شاہد بنی۔ آج مسجد فضل اپنی تاریخ کے دوسرے سو سال میں داخل ہوچکی ہے۔ صد سالہ جشن کا یہ موقع محض ایک تاریخی سنگ میل کی یاد نہیں بلکہ گذشتہ ایک صدی کی قربانیوں، خدمات اور کامیابیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور آئندہ کے لیے نئے عزم کی تجدید کا موقع بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ مسجد فضل کو آئندہ صدی میں بھی خلافت احمدیہ کی راہنمائی میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ، امن و محبت کے قیام، انسانیت کی خدمت اور دنیا کو اپنے خالق سے جوڑنے کا ذریعہ بنائے، اور اسے قیامت تک اپنے عظیم مقاصد کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ادارہ الفضل انٹرنیشنل کی جانب سے جماعت احمدیہ عالمگیر کے تمام احباب کو مسجد فضل لندن کے افتتاح کے سو سال مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ مسجد فضل گذشتہ ایک صدی سے اسلام کی حقیقی تعلیمات، خلافت احمدیہ، امن و محبت اور خدمت انسانیت کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کا ایک عظیم مرکز رہی ہے۔ اس تاریخی مسجد نے خلافت احمدیہ کے کئی اہم ادوار دیکھے اور اسلام کے عالمی پیغام کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ مسجد فضل کو آئندہ صدی میں بھی اسلام، خلافت، امن اور انسانیت کی خدمت کا روشن مرکز بنائے اور جماعت احمدیہ عالمگیر کو اس تاریخی ورثے کی برکتوں سے ہمیشہ فیضیاب فرمائے۔ مسجد فضل لندن کے صد سالہ جشن پر تمام احباب جماعت کو دلی مبارکباد۔ آمین
(رپورٹ:لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)




