یقینا اللّٰہ نے مجھے اس صدی کے سر پر مبعوث فرمایا کیونکہ اس نے اسلام کو کمزوری کے گڑھے میں پڑے ہوئے دیکھااور جب میں اپنے ربّ کی طرف سے ان کے پاس آیا تھا توانہوںنے اعراض کیا اور کہاکہ یہ توجھوٹایا مجنون ہے۔ اُس شخص سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللّٰہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ حق تو یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہ پائیں گے۔
{ارشادات عالیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام}
’’یقینا اللّٰہ نے مجھے اس صدی کے سر پر مبعوث فرمایا کیونکہ اس نے اسلام کو کمزوری کے گڑھے میں پڑے ہوئے دیکھا اور اسے ایک نکمّی سیاہ زمین یا گلے سڑے سبزہ یا بدبودار گوشت کی طرح پایا جو قریب تھا کہ ایسے درخت کی طرح ہو کہ جو بالکل گل سڑ کر نہایت متعفّن ہو چکا ہو۔ اور اس نے نصاریٰ کو دیکھا کہ وہ اہل حق کو گمراہ کر رہے ہیں اور عیسائی بنا رہے ہیں اور ہمارے نبی (ﷺ) کو ظلم اور جھوٹ کی راہ سے گالیاں دیتے ہیں اور باز نہیں آتے۔ اور اس نے علماء کو دیکھا کہ ان میں لاجواب کرنے کی طاقت باقی نہیں رہی اور نہ فصاحت کلام۔ اور ان کی بات کسی دل میں نہیں اترتی کیونکہ وہ اللّٰہ کی روح سے نہیں بولتے اور نہ ہی وہ فصیح الکلام ہیں بلکہ ان میں تشنّج پایا جاتا ہے اور وہ غیر واضح کلام کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ربّ کی نافرمانی اس قول سے کرتے ہیں جس کی فعل سے ہم آہنگی نہیں ہوتی نیز اس لئے کہ وہ دکھاوا کرتے ہیں۔ اور جب میں اپنے ربّ کی طرف سے ان کے پاس آیا تھا توانہوںنے اعراض کیا اور کہاکہ یہ توجھوٹایا مجنون ہے۔ اورجب میںان کی طرف آیاتو ان کی حالت یہ تھی کہ وہ نیکیوں کو بھول چکے تھے اور نیکیوں سے دور تھے، خوشبودار درخت کو پس پشت ڈال رہے تھے اور گلے سڑے متعفن درخت پر خوش۔اور ان کے لئے میں نے چند رسائل جن میں واضح نشانات ہیں اس غرض سے لکھے کہ وہ غور و فکر کریں مگران کا جواب ہنسی اور تمسخر کے سوا کچھ نہ تھا اور انہوں نے جانتے بوجھتے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ سب کچھ محض افتراء ہے اور اس میں دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ دہریہ ہے ، اللہ پر ایمان نہیں رکھتا اس لئے اے دیکھنے والے! جو ہم نے لکھا اور شائع کیا ہے اسے پڑھ اور پھر غور کر کہ یہ لوگ کیسی فضول باتیں کہہ رہے ہیں۔ اور یقینا کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پُرسش ہو گی۔ پس ہلاکت ہو ان کے لئے جس دن وہ اللہ سے ملیں گے اور پوچھے جائیں گے۔
اُس شخص سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ حق تو یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہ پائیں گے۔ اور انہوں نے کہا تُو اللہ کی طرف سے کوئی زبردست دلیل لے کر نہیں آیا، بات یہ ہے کہ ان کی آنکھیں توہیں لیکن وہ ان سے دیکھتے نہیں اور دل توہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔ ان کی حالت مویشیوں کی سی ہے۔ وہ بے لگام سرگرداں ہیں اور چرتے پھرتے ہیں۔حق ظاہر ہو چکا ہے اور وہ حق سے اعراض کر رہے ہیں۔ وہ اخفاء حق کی غرض سے رسائل لکھ رہے ہیں۔ ہم نے ان کے ہاتھوں کو باندھ دیا پس وہ لکھ نہیں سکتے۔ میں نے انہیں ہمیشہ قسم دی اور کہا اگر تم سچے ہو تو مقابلے کے لئے نکلو۔ اس پر وہ اپنی جگہ پر چمٹ کر رہ گئے اور نہ نکلے گویا زمین نے انہیں اپنے اندر چھپا لیا ہے اور وہ معدوم ہو گئے ہیں۔ پھر میں نے ان کی خاطر مبارک راتوں میں اس خیال سے قیام کیا اور راتوں کی گھڑیوں میں ان کے لئے دعائیں کیں تا کہ ان پر رحم کیا جائے اور اللہ کسی پر رجوع برحمت نہیں ہوتا مگر توبہ کرنے والے لوگوں پر۔ اور ان میں سے کچھ لوگ حد سے بڑھ گئے اور کچھ ایسے تھے جو اُن حد سے بڑھنے والوں کے قریب تھے اور ان کا مسلک درست نہ تھا اور نہ ہی وہ اس پر چلنے کے خواہاں تھے۔ اور جو شخص ایک بالشت بھر اللہ کے قریب آتا ہے تو اللہ ہاتھ بھر اس کے قریب آتا ہے لیکن ظالم توجہ نہیں کرتے۔ انہوں نے اللہ سے تعلقات قطع کر لئے ہیں اور دنیا کی طرف جھک گئے ہیں اور انہیں غفلت کی شدید سردی لگی ہے پس وہ سکڑ گئے اور اس وجہ سے ہر آن گرائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے نیکی اور بدی کو گڈمڈ کر دیااور ایمان کی بیل کو کاٹ کررکھ دیا اور وہ بالکل لا پرواہ ہو چکے ہیں۔ اور جب ان سے یہ کہا جائے کہ اللہ تمہارے خلاف غضبناک ہو گیا اور اس نے طاعون بھیجی ہے تووہ کہتے ہیں یہ تو بیماری ہے جو آنے جانے والی ہے اور ہمیں موت نہیں آئے گی۔ غور کر کہ انہیں کس طرح جگایا جا رہا ہے پھر دیکھو کہ وہ کس طرح آنکھیں موند رہے ہیں۔ وہ موت کو دیکھتے ہیں پر نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ تُو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ دنیا کی دلفریبیوں کے دلدادہ ہیں اور سیر نہیں ہوتے۔
اور جب اللہ کا نازل کردہ کلام ان کے سامنے پڑھا جائے تو وہ بھاگتے ہوئے اور گالیاں دیتے ہوئے اعراض کرتے ہیں اور تُو انہیں ان کی رات میں مردہ اور ان کے دن میں ایسے کیڑے کی طرح پائے گا جو ہر وقت کام میں مصروف رہتا ہے۔ وہ اپنی دنیا کے لئے سرگرداں رہتے ہیں اور آخرت سے غافل رہتے ہیں۔ زمانے کے حوادث ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے پھر بھی وہ بیدار نہیں ہوتے۔ اور جب ان کے سامنے سچائی کی باتیں پیش کی جائیں تو وہ اسے آگ بگولا ہو کر سنتے ہیں اور جو سنتے ہیں اسے ناپسند کرتے ہیں اور جو اُن پر پڑھا جائے اسے حقیر جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ مرنے والے ہیں پھر بھی جان بوجھ کر غفلت کرتے ہیں۔ وہ ایک کور چشم کی طرح روتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔ شیطان نے ان کے سامنے ان کی نفسانی خواہشات کو مزیّن کر کے پیش کیا ہے اور وہ ان خواہشات کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔ پس اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے اور ان کے متاع کو کھوٹا اور نکمّا کر دیا۔ وہ لعنت کئے گئے اور وہ نہیں جانتے۔ وہ گھڑے کے گدلے اور بدبودار تھوڑے پانی کو اختیار کرتے ہیں اور گہرے صاف شفاف پانی کو ترک کرتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ بُزدل اور سُست ہیں اور گھٹیا چیز پر قناعت کرتے ہیں۔ وہ بے داغ رنگ کو چھوڑتے اور دھبوں کو اختیار کرتے ہیں اوروہ دھوپ اورچھائوں کے بَین بَین بیٹھے ہیں(یعنی واضح موقف اختیار نہیں کرتے) اور ابلیسی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور باز نہیں آتے۔ ان کی دلی مراد یہ ہوتی ہے کہ ان پر دنیا کے دروازے کھول دئیے جائیں اور انہیں اس دنیا کے تمام ثمرات سے پھل دیا جائے حالانکہ وہ خوب کھلائے پلائے جاتے ہیں‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 98۔102)




