اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
منظّم طریق پر جاری احمدیہ مخالف سرگرمیوں میں احمدیہ مساجد کے مینار اور محراب مسمار کرنے کا عمل اپنی ذات میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مینار اور محراب جماعت احمدیہ کی مذہبی زندگی اور واضح طور پر نظر آنے والی ایک شناخت کی علامت ہیں۔مساجد سے مینار اور محراب کو ہٹانے کے بعد عبادتگاہ کے طور پر ان کی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ مساجد کی عمارتوں کو مکمل طور پر مسمار کرنے کی بجائے مینار اور محراب کو مسمار کرنے کا یہ عمل ریاستی اداروں کو بین الاقوامی بازپرس سے نسبتاً محفوظ بنا رہا ہے جبکہ ریاستی ادارے اپنے اس عمل سے احمدیوں کو تکلیف پہنچا کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
احمدیہ مساجد کے طرز تعمیر کو جبراً تبدیل کرنا یا مسمار کردینا احمدیوں کی مذہبی اور معاشرتی شناخت پر ایک گہری چوٹ ہےجس کا اندازہ موجودہ صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے کمیشن، یونیسکو اور بین الاقوامی عدالت انصاف نے اس بات کوتسلیم کیا ہے کہ تاریخی عمارتوں کی اہمیت ان کی ظاہری ساخت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ نہ صرف یہ معاشرتی یادگار کی حامل ہوتی ہیں بلکہ تاریخ اور اجتماعی شناخت کی بھی علامت ہوتی ہیں۔ ایسی عمارتوں کو مسمار کرنا یا ان کے ظاہری خدوخال کو تبدیل کرنا ایک مخصوص جماعت سے ان کا تاریخی ورثہ،اجتماعی یادگار اور معاشرتی زندگی میں حصہ لے سکنے کے موقع کو چھین لینے کے مترادف ہے۔ منظم طور پر مذہبی طرز تعمیر کو نشانہ بنانا ایک خاص جماعت کو عمداً معاشرتی زندگی سے خاررج کرنا اور ان کی اقدار کو نیست و نابود کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں مسلسل اور منظّم طریق پر احمدیہ مساجد کو نشانہ بنانا اس طرز عمل کی روشن مثال ہے۔ ایک تسلسل کے ساتھ احمدیوں کے لیے عبادت کی میسر جگہوں کو محدود کرنے اور احمدیوں کی مساجد سے مساجد کی نشانیوں کو مٹانے کے عمل میں ریاستی ادارے غیر ریاستی عناصر کے ساتھ مل کر کام رہے ہیں تاکہ معاشرتی منظر نامے سے احمدیوں کی مذہبی زندگی کو مکمل طور پر غائب کر دیا جائے۔ ریاستی جبر واستبداد، دھمکیوں اور امتیازی سلوک پر مبنی قوانین نے احمدیوں کی معاشرے کے اندر اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کی طاقت کو سلب کر لیا ہے۔ یہ طریقہ کار ایک ایسے ثقافتی جبر و استبداد کو جنم دیتا ہے جو قانونی اور ظاہری لحاظ سے معاشرے سے اخراج کے متوازی کام کرتا اور باہم ایک دوسرے کی تائید کرتا ہے۔
اپریل اور مئی ۲۰۲۵ءمیں پولیس اور انتظامیہ نے پنجاب بھر میں ایک منظّم انداز میں احمدیہ مساجد کو منہدم کرنے اور سیل کرنے کا کام کیا۔ یہ کارروائیاں تحریک لبیک اور دیگر شدت پسند گروہوں کے ایما پر کی گئیں اور ان میں کسی بھی قانونی ضابطے کو مدّنظر نہیں رکھا گیا۔
۹؍اپریل کو پولیس نے تحریک لبیک کے شدت پسندوں کے دباؤ کےتحت کارروائی کرتے ہوئے ضلع ننکانہ میں ہمراج پورہ اور کوٹ رحمت خان میں احمدیہ مساجد کے محراب مسمار کردیے۔ مقامی انتظامیہ نے جماعت کے وفد کو مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ خود ہی محراب مسمار کر دیں لیکن احمدیوں نے انکار کر دیا۔ بعدازاں رات کے اندھیرے میں مقامی انتظامیہ نے خود ہی اس کارروائی کو سر انجام دیا۔ کوٹ رحمت خان کی مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ انہیں کوئی بھی تحریری حکم نامہ موصول نہیں ہوا بلکہ صرف زبانی حکم دیا گیا ہے۔
پنجاب بھر میں ایسی کارروائیاں سر انجام دی جاتی رہی ہیں۔ یکم اپریل کو چک نمبرDB۳۹ ضلع خوشاب میں مخالفین احمدیت کے دباؤ میں آکر مقامی احمدیہ مسجد سیل کر دی گئی۔ انتظامیہ نے احمدیوں سے مسجد کی چابیاں لے لیں اور انہیں نماز ادا کرنے سے روک دیا۔
کچھ روز بعد ۵؍اپریل کو غازی آباد پولیس سٹیشن ضلع ساہیوال کی پولیس نے مقامی مولوی کی درخواست پر ایک احمدیہ مسجد کا محراب مسمار کردیا۔ بعدازاں پولیس کچھ مزدوروں کے ساتھ آئی اور محراب کا ملبہ اٹھا کر لے گئی اور احمدیوں کو بےیارو مدگار چھوڑ دیا۔
۱۲؍اپریل کو مراد پور پولیس سٹیشن کی پولیس نے سلیم پور ضلع سیالکوٹ کے مقامی احمدی جماعت کے وفد کو بلایا اور انہیں تحریک لبیک کی جانب سے احمدیہ مسجد میں موجود محراب اور احمدیہ قبروں پر کندہ قرآنی آیات کے متعلق شکایت سے آگاہ کیا۔ پولیس نے احمدیہ وفد سے استدعا کی کہ وہ خود ہی ان کو مسمار کر دیں لیکن اسی رات پولیس والے کچھ مزدوروں کے ساتھ آئے اور مسجد کے محراب کو مسمار کر دیا اور قبروں سے قرآنی آیا ت ہٹا دیں۔
۲۲ اور ۲۳؍مئی کی شب پولیس منڈیالہ وڑائچ ضلع گوجرانوالہ میں بھاری مشینری اور مزدوروں کے ساتھ آئی اور مسجد سے ملحقہ گلیاں بند کر دیں۔ اس کے بعد انہوں نے مسجد کے محراب اور اس سے منسلک تزئین و آرائش کو مسمار کر دیا۔ یہ کارروائی بھی تحریک لبیک کے دباؤ میں آکر ہی کی گئی۔
مساجد کو اس طرح سےمسمار کرنا ایک منظّم دھمکی آمیز رویّہ کا شاخسانہ ہے۔ گذشتہ دو سال سے تحریک لبیک کے شدت پسند انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سانگلہ ہل میں موجود احمدیہ مسجد کے خلاف بھی ایسی کوئی کارروائی کریں۔ اور چھ ماہ قبل ہی انتظامیہ نے چک ۴۵ مڑاڑ میں موجود احمدیہ مسجد کے مینار اور محراب مسمار کیے ہیں۔
پولیس نے ۲؍ستمبر کو ضلع ننکانہ کے گاؤں چہوڑ مغلیاں اور چہوڑ کوٹلی میں موجود احمدیہ مساجد کے مینار اور محراب کو مسمار کردیا۔ مساجد کو نقصان پہنچانے کے اس عمل کے پیچھے بھی احمدیت مخالف قوتیں ہی کارفرما تھیں۔ پولیس نے مقامی احمدیوں کو شدت پسندوں کے مطالبات سے آگاہ کیا۔ اور احمدیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خود ہی مینار اور محراب کو مسمار کردیں۔ لیکن احمدیوں نے یہ مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔ اور انتظامیہ کو یہ بھی باور کروا دیا کہ وہ کسی قانونی کارروائی میں حائل نہیں ہوں گے۔ ۲؍ستمبر کو اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس سپرانٹنڈنٹ نے جماعت احمدیہ کے وفد کو بلایا۔ موقع پر باقی ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی موجودتھے۔ احمدیوں کو آگاہ کیا گیا کہ اسی رات ہی مساجد کے مینار اور محراب مسمار کیے جائیں گے۔ جماعت احمدیہ کے وفد نے اس بات پر اعتراض اٹھایا اور انہیں بتایا کہ یہ کارروائی آئین اور عدالتی فیصلوں کے منافی ہے اور یہ کہ اس کارروائی کو سرانجام دینے سے قبل احمدیوں کو تحریری حکم نامے دکھائے جائیں۔ڈی ایس پی نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور اپنے عہدے کی دھونس جماتے ہوئے کہا کہ اسے کسی حکم نامے کی ضرورت نہیں اور اسے قانون پر کوئی لیکچر نہ دیا جائے۔ بعدازاں اسی رات پولیس اور انتظامیہ نے براہ راست اپنی نگرانی میں مساجد کے مبینہ حصوں کو مسمار کروایا۔ ان مساجد کے مینار اور محراب بھی کسی تحریری حکم نامے ،قانونی جواز اور کسی بھی ضابطے کی کارروائی کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر مسمار کیے گئے۔
چک نمبر ۹ فورڈ واہ ضلع بہاولنگر: ۲۹؍ستمبر کو رات دیر گئے چک نمبر۹ فورڈ واہ ضلع بہاولنگر میں احمدیہ مسجد کے مینار مسمار کردیے گئے۔ گذشتہ کافی عرصہ سے تحریک لبیک کے شدت پسند انتظامیہ سے اس بات کا تقاضا کر رہے تھے کہ احمدیہ مسجد کا اسلامی طرز تعمیر مسمار کیا جائے۔
مبینہ طور پر پولیس نے اس علاقے کی بجلی منقطع کر دی اور موقع پر موجود احمدیوں کے موبائل فون ضبط کر لیے اور انہیں اپنے گھروں میں جا کر دروازے کھڑکیاں بند کرکے گھروں میں رہنے کی تاکید کر دی۔ رات دو بجے کے قریب پولیس نے میناروں کو مسمار کرنا شروع کیا اور بعد ازاں ان کا ملبہ اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ مسجد ۱۹۸۰ء میں احمدیت مخالف قوانین کے نفاذ سے چار سال قبل بنائی گئی تھی۔ یہ کارروائی کسی بھی تحریری یا عدالتی حکم نامے کے بغیر کی گئی تھی اور اس کے پیچھے بھی تحریک لبیک کی جانب سے مسلسل دباؤ کارفرما تھا۔
اس وقت چک نمبر ۹ فورڈواہ میں صرف ایک ہی احمدی خاندان بچا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی نے مقامی لوگوں کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے اور اس بات کو بھی مزید عیاں کیا ہے کہ کیسے مذہبی شدت پسند گروہ قانون نافذکرنے والوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
کرتارپور۔ ضلع فیصل آباد: ۱۴؍اگست کو ایک بڑے ہجوم نے ۲۷۵-RB؍کرتارپور میں دو احمدیہ مساجد کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مساجد اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی احمدی زخمی بھی ہوئے۔اس پُرتشدد کارروائی کا آغاز تحریک لبیک کےساتھ منسوب لوگوں کی جانب سے یوم جشن آزادی پاکستان اور فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے منعقد ایک ریلی کے انعقاد سے ہوا۔ اس ریلی میں جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عصر کے قریب اس ریلی کے شرکا کی تعداد ۳۰۰؍تک جا پہنچی اور تحریک لبیک کی جانب سے صوبائی سیٹ کے امیدوار حافظ رفاقت کی قیادت میں یہ ریلی احمدیہ مساجد کی طرف روانہ ہوگئی۔ پہلے یہ ہجوم بڑے احمدیہ ہال پر پتھروں سے حملہ آور ہوا اور بعد میں چھوٹی احمدیہ مسجد میں زبردستی داخل ہو کر اس کے دروازے ،کھڑکیاں ،تزئین اور آرائش اور مینار مسمار کردیے۔ موقع پر موجود دو احمدی احباب وحید احمد اور نوید کو شدید زد و کوب کیا گیا۔ وحید احمد کو سر میں اینٹ ماری گئی جس کے باعث وحید کو سر پر سنگین چوٹ آئی۔ اس پرتشدد کارروائی میں اس وقت شدید اضافہ ہو گیا جب یہ ہجوم دوبارہ بڑی مسجد کی طرف روانہ ہوا اور مسجد کے اندر گھس کر مسجد کے اندر موجود مذہبی تزئین و آرائش، سولر پینلز،سیکیورٹی کیمروں کے ساتھ مسجد کی عمارت کو نذر آتش کردیا۔ قریبی احمدی گھروں کے دروازے کھڑکیاں توڑ دی گئیں۔ املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور جو کچھ لوٹا جا سکتا تھا لوٹ لیا گیا۔ متعدد احمدیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں فیصل احمد،رضوان احمد،منصور احمد شاہ اور عثمان غنی شامل ہیں۔ پولیس نے تھانہ ڈجکوٹ میں دو ایف آئی درج کیں جن میں جلاؤ گھیراؤ، نقض امن،لوٹ مار اور دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ پولیس نے ۴۷؍نامزد اور ۲۵۰ سے۳۰۰؍کے درمیان نامعلوم افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا۔ ان حملہ آوروں میں سے ۲۵؍کو گرفتار کر لیا گیا اور ایک عارضی پولیس چوکی بھی بنا دی گئی۔ لیکن اس حملے نے گاؤں میں موجود احمدی خاندانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور ساتھ ہی اس بات کو بھی عیاں کر دیا کہ کھلے عام احمدیہ مساجد پرحملہ کرنا اور پرتشدد کارروائیاں کرنا کتنا آسان کام ہے۔
٭…٭…٭



