مَصَالِحُ الْعَرَب

مَصَالِحُ الْعَرَب (قسط نمبر 403)

(محمد طاہر ندیم۔مربی سلسلہ عربک ڈیسک یوکے)

(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات،گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)

مکرم السید شلبی صاحب (1)

مکرم السید شلبی صاحب کا تعلق مصر سے ہے جہاں ان کی پیدائش 1964ء میںہوئی اور انہیں 2010 ء میں بیعت کرنے کی توفیق ملی۔وہ احمدیت کی طرف اپنے سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

خرافانہ عقائد اور ان کا اثر

میر اتعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس پر متدیّن ہونے کی چھا پ ضرور تھی لیکن ہم مصر کے ایک ایسے معاشرہ میں بس رہے تھے جس میںمذہبی عقائدوافکارپر دیو مالائی کہانیوںاور خرافانہ طرز ِفکر کا رنگ بہت نمایاںنظر آتا تھا۔

مَیں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جس پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتا تھا وہ ہمارے گاؤں سے 16کلو میٹر دور تھااور وسائل سفر میسر نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اس فاصلہ کا کچھ حصہ پیدل ہی طے کرنا پڑتا تھا۔ ہم صبح چھ بجے نکلتے اور شام ڈھلے گھر لوٹتے۔راستہ کی سنسانی کی وجہ سے اکثر شام کو واپسی کے وقت ہمیں ڈر لگتاتھاکیونکہ اس وقت والدین کی زبانی سنے ہوئے جنّوں اور چڑیلوں کے سب قصے تازہ ہوجاتے تھے جو ہمارے معاشرے میں زبان زدِ عام ہونے کی وجہ سے ہماری زندگیوں بلکہ مذہب کا بھی حصہ سمجھے جاتے تھے۔اور ویران علاقوں میں تو ایسے خیالات کا پنپنا ایک طبعی سی بات تھی جہاںکم آبادی کی وجہ سے رات ڈھلتے ہی آس پاس سے جانوروں کی عجیب و غریب آوازیں آنے لگتی تھیں، ایسے میںمعمولی سی سرسراہٹ بھی مذکورہ دیومالائی کہانیوںکے کسی نہ کسی جنّ یا بھوت کی آمد سے خبردار کرتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

ان امو رسے چھٹکارا دلانے کا صرف اور صرف ذریعہ علم کی روشنی تھی، لیکن اس روشنی کو بانٹنے والے اساتذہ بھی اسی معاشرہ کا حصہ تھے اور ان کی طرف سے ایسے خرافانہ امور کی تصدیق کم سن طلباء کے ذہن کو ایک موہوم خوف سے بھرتی جارہی تھی۔

خوفناک آسیب

خدا کا فضل ہے کہ بچپن سے گزر کر جب میں نے لڑکپن میں قدم رکھا تو حالات نے مجھے دوسرے بچوں سے اس معاملہ میں بہت مختلف بنا دیا ۔ مجھے شکار کا بہت شوق تھا ۔ ہمارے گھرمیں ایک گَنْ تھی جسے لے کر میں آبادی سے کچھ فاصلے پر کئی بار ساری ساری رات جاگ کرشکار کرتا ۔ اس سے میرا خوف دور ہو گیا تھا جس کی بنا پر میں جن بھوت اور ارواح وغیرہ کے مروجہ مفہوم کوخلافِ حقیقت سمجھتا تھا۔

گو میں اپنی بہادری کی وجہ سے اَن دیکھے جنّوں، بدروحوں اور آسیبوں سے تو امن میں آچکا تھا لیکن انسانوں کے رُوپ میں اس دنیا کے خوفناک آسیب میرا مقدر بن چکے تھے۔ میںگھر میں سب سے چھوٹا تھا ،میرا ایک بھائی مجھ سے دس سال بڑا تھا، نہ جانے اسے مجھ سے کیا بیر تھا اور ابھی تک ہے کہ والد صاحب کی وفات کے بعدجس عمر میں مجھے بڑوں کی شفقت اور محبت او رخاص توجہ کی ضرورت تھی اس عمر میں میرا یہ بھائی اور دیگر بہنیں بے رحمی اور قسوۃِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دانست میں میرے کردہ وناکردہ گناہوں کی نہایت بیباکی سے بدنی اور ذہنی سزا دیا کرتے تھے۔میں جنّوں اور بھوتوں سے ڈرنے والوں پر ہنسا کرتا تھا لیکن گھر میں اپنے قریب ترین رشتہ دار انسانوں کے سامنے بولنے سے بھی ڈرتا تھا کہ نہ جانے کب میرا کوئی لفظ جرم بن جائے جس کا حساب چکانے کے لئے پھر مجھے تختۂ مشقِ ستم بننا پڑے۔

 نہ تم بدلے نہ ہم

جملہ معترضہ کے طور پریہاں کہنا چاہتا ہوں کہ سالہاسال گزرنے کے بعد بھی میرے اپنوں کا میرے بارہ میں رویہ نہیں بدلا۔اس کے بالمقابل میںنے بھی اپنی روش نہیں بدلی اور مسلسل ان کے لئے ہدایت کی دعا ہی کرتا ہوں۔ میرے احمدی ہونے کے بعد ان کے رویّہ میں مزید شدت اور نفرت شامل ہوگئی اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ خدا کا تم سے انتقام ہے کیونکہ تم احمدیت قبول کر کے دجّال کے زیر اثر آگئے ہو۔ اور احمدیت قبول کر کے تم نے ثابت کردیا ہے کہ تم اسی سلوک کے مستحق تھے جوہم تمہارے ساتھ روا رکھتے رہے ہیں۔میں ان کی نظر میں بچپن میں ملعون تھا ، جوانی میں بھی ملعون اور اب قبول احمدیت کے بعد انہوں نے مجھے اور زیادہ ملعون سمجھ کر مجھ سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا ہے۔

آنکھ کا کانٹا

بہر حال، کچھ عرصہ کے بعد ہماری بستی میں ہی پرائمری اور مڈل سکول بن گیا،بجلی بھی آگئی اوردیگر سہولتیں بھی میسر آنے لگیں۔ نئی روشنی تو آگئی لیکن مذہبی عقائد کے اعتبار سے میری بستی جہالت کے اندھیروں میں ہی ڈوبی رہی۔

اسی عرصہ میںاخوان المسلمین وسلفیوں جیسی بعض متشدد دینی وسیاسی جماعتیں بھی میدان میں آگئیں،اور اپنے افکار کی ترویج اور اپنی تعداد بڑھانے کے لئے ان جماعتوں نے 10تا 16سال کی عمر کے نوجوانوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا۔ کیونکہ اس عمر کے بچوں کودین کے نام پر اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تیار کرنا نسبتًا آسان تھا۔

اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے میرے لہجے میں کرختگی، بلا کی کاٹ اورطبیعت میں جدالی رنگ نمایاں تھا۔ چنانچہ جب کبھی ان جماعتوں نے مجھے اپنی طرف بلانے کی کوشش کی تومیں نے ان کے خرافانہ عقائد کے بارہ میںایسے سخت جواب دیئے کہ انہیں مجھ سے بات کر کے فائدہ کی بجائے نقصان ہی ہوا اور یوں میں ان کی آنکھ کا کانٹا بن کے رہ گیا۔

خدا کے فضل کا ہاتھ

سکول کالج کی تعلیم کے بعد میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی اور شادی کے بعد کوشش کر کے دنیا کمانے کی خاطر سعودی عرب کا سفر اختیار کیا۔وہاں پر بہت کم عرصہ میں ہی اخلاص کے ساتھ کام کرنے سے مجھے اتنا پیسہ حاصل ہوگیا کہ میں نے واپس آکراپنا ایک کام شروع کر لیا۔ اور پھر کئی سال گزرنے کے بعد مجھے وزارت تعلیم میں ماہرنفسیات کی نوکری مل گئی جو کہ میرے خیال میں خدا کاکوئی خاص فضل اور عنایت تھی ورنہ یہ ایسی نوکری تھی جس کے حصول کے لئے مجھ سے زیادہ تعلیم اور تجربہ والے مارے مارے پھرتے تھے۔

پھر یہ بھی خدا کا خاص فضل ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود میرا ہاتھ پکڑ کر شروع سے ہی مجھے نمازوں کا پابند بنایا۔ میرے گھر میں میرے لئے کوئی نمونہ نہ تھا۔ والد صاحب اس وقت وفات پاچکے تھے جب میں بہت چھوٹا تھا، اور بھائیوں وبہنوں کا حال میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ ان حالات میں میرا قرآن کے بعض اجزاء حفظ کرنا اور نمازی ہونامحض خدا کا فضل تھا۔

مروّجہ عقائد اور میرا موقف

مَیں نے ذکر کیا ہے کہ حالات کی وجہ سے میری طبیعت میں سختی، لہجے میں کاٹ اوردرشتی نمایاں تھی اس وجہ سے میںکبھی بھی ہر دل عزیز نہیں رہا۔ لیکن حدّت آمیز جدالی مزاج نے مجھے عقائد کی چھان بین میں بہت فائدہ دیا۔ میں خلاف عقل عقائد کا مخالف تھا اور خرافانہ خیالات واوہام کو دلیل اور امر واقعہ کی کسوٹی پر پرکھنے کا عادی بن چکا تھا ۔ اسی بنا پر نہ تو میں جنّوں کے معروف تصور کا قائل تھا ، نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام کی دوہزار سال پر محیط آسمان پر زندگی پر ایمان تھا۔ علامات الساعۃ میں سے مغرب سے طلوع شمس کا عقیدہ مجھے علمی تحقیق اورقرآن کریم میں مذکور ثابت شدہ سائنسی حقائق کے خلاف نظر آتا تھا، قرآن کہتا ہے کہ: {لاَالشَّمۡسُ یَنْبَغِیۡ لَہَا أَن تُدۡرِکَ الۡقَمَرَ وَلَا اللَّیۡۡلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَسۡبَحُونَ} (یٰس:41) ترجمہ: سورج کی دسترس میں نہیں کہ چاند کو پکڑ سکے اور نہ ہی رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور سب کے سب (اپنے اپنے) مدار پر رواں دواں ہیں۔

اس واضح بیان کے بعد کیسے یقین کر لیا جائے کہ ایک دن ہم صبح سو کر اٹھیںگے تو کیا دیکھیں گے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہورہا ہے۔بلکہ ظاہری طور پر ایسا ہونے کی صورت میںآنًا فانًا ایسی تباہی آئے گی کہ کسی کو سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہوا دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔

اسی طرح خروجِ دابّہ کے بارہ میں مشہور ہونے والے عجیب عجیب قصے میری عقل قبول نہ کرتی تھی بلکہ جب میں اس بارہ میں قرآن کریم کا بیان پڑھتا تو نتیجہ بالکل برعکس نکلتا تھا۔ مثلا یہ آیت ہی لے لیں:

{وَإِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡۡہِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَابَّۃً مِّنَ الۡأَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ أَنَّ النَّاسَ کَانُوا بِآیَاتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (النمل: 83) ترجمہ: ۔اور جب ان پر فرمان صادق آجائے گا تو ہم ان کے لئے سطح زمین میں سے ایک جاندار نکالیں گے جو اُن کو کاٹے گا (اس وجہ سے) کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں لاتے تھے۔

اس آیت کی بنا پر ہمارے معاشرے میں یہ تصور رائج تھا کہ آخری زمانے میں ایک عجیب الخلقت دابّۃ الارض نکلے گا جو لوگوںسے کلام کرے گا یعنی بحث کر کے خدا کی آیات پر ایمان لانے کی تلقین کرے گا۔اس صورت میں تُکَلِّمُہُم کا معنی کلام کرنے یا بحث کرنے کا لیا جاتا ہے، جبکہ اگر آیت پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تُکَلِّمُہُم کا فعل تکذیب ِ آیات کی سزاکے طور پر بیان ہوا ہے۔ پھر کیا یہ کہنا مناسب ہے کہ لوگوں کو تکذیب آیات کی سزا یہ ملے گی کہ دابۃ الارض ان سے بحث کرے گا! !اس بحث سے ان کو کیا تکلیف محسوس ہو سکتی ہے؟گو میں ا صل حقیقت سے تو بے خبر تھاتاہم میرا خیال تھا کہ دابۃ الارض کے بارہ میں مروجہ قصے کہانیاں کسی طور درست نہیں ہیں۔

مَیں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ مذکورہ بالا عقائد کے بارہ میں مَیں بیعت سے قبل بھی اسی موقف پر قائم تھا جس پر جماعت احمدیہ قائم ہے تاہم یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں ان کے بارہ میں کسی طور مطمئن نہ تھا۔ لیکن جب بیعت کے بعد ان امور کے بارہ میں جماعتی تشریح سنی تو جیسے ایک بڑا خلا پُر ہوگیا۔

عقائد کے بارہ میں اس صورتحال کے پیش نظر کئی بار دل میں یہ تمنا پیدا ہوتی کہ کاش وقت چودہ صدیاں پیچھے چلا جائے اور ہم آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہنچ جائیں تو میں آپ ؐ کے قدموں میں خود کو گرا کرروتے روتے اپنی جان دے دوں۔

ہدایت یابی کا وقت آگیا

شاید خدا تعالیٰ نے میرے دل کی تڑپ اور پکار سن لی اور 2010ء میں وہ وقت آگیا جس میں میرے لئے ہدایت یاب ہونا مقدر تھا۔میں اپنے ٹی وی پر حسبِ عادت مختلف چینلز بدل بدل کر دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک ایسے چینلز پر پہنچا جہاں میری انگلیوں پر میرا اختیار ختم ہو گیا اور میں چینل بدلنے کی قوت سے محروم ہوگیا کیونکہ اس چینل پر بیٹھنے والے لوگ غیر معمولی تھے اور ان کے پروگرام کا موضوع غیرمعمولی تھا ۔ میں ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گیا۔ پروگرام میں عیسائیوں کے ساتھ بات چیت ہورہی تھی۔ باوجود قوی دلائل اور حججِ قاطعہ کے پروگرام کے شرکاء کا انداز نہایت مہذب اور غیر معمولی احترام والا تھا۔یہ ربّانی لوگ اسلام کا دفاع کررہے تھے اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ پر لگائے گئے الزامات کا جواب دے رہے تھے۔

دو گھنٹے کے اس پروگرام میں جیسے میری آنکھیں ٹی وی سکرین کے ساتھ چپک کررہ گئیں۔پروگرام میں وقفہ آیا تو میں نے یہ سمجھ کر اٹھنا چاہا کہ اب دیگر چینلز کی طرح اشتہارات آئیں گے ۔ لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وقفہ کے دوران توسب سے مؤثر روحانی غذا کا مائدہ سجایا گیااور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مدح میں ایسا قصیدہ پیش کیا گیا جس نے میرا دل موہ لیا۔

قصیدہ کے دوران ا یک تصویر بھی دکھائی جاتی رہی جس کے نیچے لکھا تھا: ’حضرت مرزا غلام احمد القادیانی الامام المہدی والمسیح الموعود علیہ السلام‘۔ میں نے یہ متعدد بار پڑھا لیکن اس وقت میں ایک ایسے روحانی نشے میں تھا کہ اس نام او راس کے القاب پڑھ کر میں ذرہ برابر بھی حیران نہ ہوا، کیونکہ اگراس پروگرام میں پیش ہونے والے دلائل اس تصویر والے شخص کے تھے، اور اگر پروگرام کے شرکاء اس تصویر والے شخص کے پیروکار تھے تو حقیقت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے زندگی میں پہلی بار مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہونے لگا تھا۔ زندگی میں پہلی بار میں نے تثلیث کو شکست کھاتے اور صلیب کو ٹوٹتے دیکھا تھا۔اور زندگی میں پہلی بار مغرب سے چلنے والے اس چینل پراسلام کا روشن سورج مغرب سے طلوع ہوتے دیکھا تھا۔

میں نے بعد میں اس چینل پر دکھائی جانے والی تصویر کے بارہ میں سوچاتواس نتیجہ پر پہنچا کہ شاید یہ شیعہ حضرات ہیں اور انہوں نے خیالی طور پر اپنے آنے والے امام مہدی کی یہ تصویر بنائی ہوئی ہے۔تاہم مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اگرچہ بعض فرقوں سے ہمارا اختلاف ہے لیکن وہ نہایت اعلیٰ اور مؤثر طریق پر اسلام کا دفاع کررہے ہیں۔

………………

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button