الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں۔
درویش صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم
ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم تنویر احمد ناصر صاحب کے قلم سے اُن 26 صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے جنہیں قادیان میں بطور درویش خدمت کی سعادت عطا ہوئی۔ ان میں 12 وہ صحابہ تھے جو 16 نومبر 1947ء کو آخری قافلہ کے چلے جانے کے بعد قادیان میں مقیم رہے۔ ایک صحابی اُس قافلہ میں شامل تھے جو 5؍ مارچ 1948ء کوپاکستان سے قادیان پہنچا اور بعدازاں حضرت مصلح موعود ؓ نے مجلس مشاورت 1948ء میں حفاظت مرکز کی تحریک فرمائی تو حضورؓ کی اس آواز پر لبیک کہنے والوں کا ایک خوش نصیب قافلہ مئی 1948ء میں لاہور سے روانہ ہوا۔ حضرت مصلح موعود ؓنے افراد قافلہ کو شرف مصافحہ بخشا اور اجتماعی دُعا کے ساتھ الوداع کہا۔ اس قافلہ میں 13 صحابہ بھی شامل تھے۔ اس طرح کُل 26 صحابہ کرام نے درویشی کی سعادت پائی۔ ان صحابہ کا مختصر تعارف ہدیۂ قارئین ہے:
حضرت الحاج مولانا عبد الرحمن صاحبؓ
حضرت الحاج مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل المعروف بہ جٹ۔ ابن ’’حبی فی اللّٰہ شیخ برکت علی صاحب‘‘۔ (ازالہ اوہام حصہ دوئم صفحہ 820)۔ قوم ککے زئی ساکن فیض اللّٰہ چک، (نزدقادیان) 1893ء میں پیدا ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت و بیعت کا شرف 1903ء میں حاصل کیا۔ اسی سال حضرت شیخ حامد علی صاحب (جو آپ ؓ کے ماموں اور خسر بھی تھے) کی ہدایت پر نوعمری میں بغرض حصول تعلیم قادیان آئے اور تحصیل علم کے بعد یہیں رہائش پذیر ہوگئے۔ آپ کو جب حضرت حافظ صاحب ؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کیا تو حضورؑنے آپؓ کے سر پر ہاتھ رکھا اور 5 روپیہ وظیفہ کی سفارش فرمائی جبکہ اُس وقت تین روپیہ ماہوار سے زیادہ کسی شخص کابھی وظیفہ نہ تھا۔ گو آپؓ بورڈنگ میں مقیم تھے لیکن اپنی ممانی (حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ کی اہلیہ) کے ساتھ حضورؑ کے گھر میں بھی رہے اور حضرت امّاں جان کے حسن سلوک سے لطف اندوز ہوئے۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت اماں جانؓ جب اپنے کسی بچے کو کوئی چیزکھانے کو دیتیں تو اس خادم غلام زادے کو بھی کبھی فراموش نہ کرتیں۔ یہ احسانات حضرت اماں جانؓ کے صرف مجھ پر ہی نہ تھے بلکہ مجھ جیسے بیسیوں غلاموں کی زندگی کا ہر ہر لمحہ حضرت ممدوحہ کے احسانات کا رہین تھا۔ … ہم صحن میں شور مچاتے اور کھیلتے۔ میری ممانی مجھے ڈانٹ دیتیں لیکن حضرت سیّدہ کبھی ناراض نہ ہوتیں بلکہ خوش ہوکر ہمیں دیکھتیں۔ مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع حضرت امّ المومنین علیہا السلام کے ،باغ میں تشریف لے جاتے۔ ہم بچے بھی ساتھ ہوتے دونوں آقاؤں کے سامنے ہم درختوں سے شہتوت اور لوکاٹ وغیرہ کے پھل توڑتے اور کھاتے۔ لیکن ہمارے یہ محسن و مہربان اس پر کبھی گرفت نہ کرتے بلکہ ہماری خوشی سے حقیقی خوشی اور راحت محسوس کرتے اور ہم حقیقت میں یہی سمجھتے کہ یہ باغ اور اس کے پھل ہماری ہی ملکیت ہیں۔
حضرت امّاں جانؓ کی شفقت اور احسان کا سلوک صرف میرے بچپن تک ہی محدود نہ رہا۔ بلکہ جب میں قابل شادی ہوا تو میری شادی کے جملہ انتظامات بھی انہوں نے اور حضرت مصلح موعودؓ نے فرمائے اور میرے آرام و سہولت کا ہر طرح خیال فرماتے رہے۔ جو ناز اور اعتماد کسی چہیتے بیٹے کو اپنے حقیقی والدین پر ہوسکتا ہے اس سے بڑھ کر ہمیں حضرت اماں جانؓ پر تھا۔ ایک دفعہ کسی تقریب پر حضرت امّاں جان نے میری بیوی یا اس کی بہن کو نہ بلایا جس پر وہ روٹھ گئی تو حضرت اماں جانؓ نے ازراہ شفقت خاص طور پران کو بلوایا اور دلداری کی۔
آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ بسا اوقات کئی ایک کام حضرت اماں جانؓ اپنے اس غلام کے سپرد فرماتیں۔ حالانکہ مجھ سے زیادہ اہل موجود ہوتے۔ اس کی وجہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ حضرت ممدوحہ پرانے تعلق کو مدنظر فرماتیں۔
حضرت مولانا عبدالرحمن صاحبؓ کی ساری زندگی ہی خدمت دین اور خدمت انسانیت سے معمور رہی۔ نہایت درجہ عالی ہمت جفاکش، بلند حوصلہ،معاملہ فہم، ذہین، بارعب ، عالم باعمل بزرگ تھے۔ آپؓ کے ان اوصاف حمیدہ میں سے ایک ایک وصف نے آپ کو دین کی خدمت میں نمایاں حصہ ڈالنے کا موقعہ دیا۔ ایک شفیق استاد تھے۔ ادب عربی ،فقہ اور انشاء کے مضامین میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کو پڑھانے کا شرف بھی حاصل کیا۔ عرصہ دراز تک مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ میں بطور ٹیوٹر بھی خدمت بجا لاتے رہے۔ سالہاسال تک بورڈنگ سے دور واقع اپنی رہائشگاہ سے فجر کی نماز کے لئے طلباء کو جگاکر وقت پر نمازکے لئے لے جانا آپ کا معمول رہا۔ ملکی تقسیم سے سالہا سال قبل مسجد اقصیٰ میں امام مقرر ہوئے۔ لیکن جب امیر مقامی بنائے گئے تو قادیان کی دونوں مرکزی مساجد میں باری باری امامت فرماتے رہے۔ نماز باجماعت کی پابندی اور اوّل وقت میں نماز کی ادائیگی میں اپنی مثال آپ تھے۔
حضرت مولانا صاحبؓ 63سال تک مرکز قادیان میں مناصب جلیلہ پرفائزرہے۔ بطور ہیڈماسٹر مدرسہ احمدیہ، پروفیسر جامعہ احمدیہ، ناظر سپلائی جلسہ سالانہ، جنرل پریذیڈنٹ (صدر عمومی) لوکل انجمن احمدیہ، بوقت تقسیم رُکن امن کمیٹی، ناظم دارالقضاء، رکن بورڈ قضاء اور وقف جدید، صدر مجلس کارپرداز بہشتی مقبرہ، میونسپلٹی کے ممبر، نائب صدر اور صدر بھی رہے۔ سلسلہ کی خاطر اسیر بھی ہوئے۔ ملکی تقسیم کے وقت آپ ؓ نے قادیان میں ہی ٹھہرے رہنے کو ترجیح دی ۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے آپؓ کو قادیان میں امیر مقامی اور پھر ناظر اعلیٰ کے اہم عہدوں پر فائز کیا جن کو آپؓ نے آخری وقت تک نہایت درجہ خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے پورے احساس کے ساتھ سرانجام دیا۔ اتنا طویل عرصہ ناظراعلیٰ ، وکیل الاعلیٰ اور امیر مقامی رہنے میں آپ منفرد تھے۔
ساڑھے 29سال کا لمبا عرصہ بطور امیر مقامی نہایت ذمہ داری سے گزارا۔ آپؓ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا۔ کسی کو بھی اپنی شکایت اور ضرورت آپ کے سامنے بیان کرنے میں کسی طرح کی روک نہ تھی ۔ آپ ہر شخص کی بات بڑے صبر و تحمل اور بردباری سے سنتے اور اس پر بہت جلد کارروائی فرماتے اور ہر تکلیف رسیدہ کی تکلیف کو جلدازجلد دُور کرنے کی پوری سعی فرماتے ۔
آپؓ ایک بزرگ عالم تھے ۔ علم فقہ اور میراث میں مستند عالم مانے جاتے تھے۔ انتظامی اُمور میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ علاقہ میں غیر مسلموں کے ساتھ آپؓ کے گہرے ذاتی مراسم تھے۔ ملکی تقسیم کے وقت قادیان کی کثیر آبادی اور وہاں آنے والے مہاجرین کو جن حالات میں سے گزرنا پڑا اُس سے ماحول میں کدورت پیدا ہوچکی تھی۔ لیکن آپؓ نے پاکستان سے آکر قادیان میں آباد ہونے والے غیرمسلموں کی دلداری اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کا نمونہ پیش فرمایا کہ وہ سب آپ ؓ کو اپنا ہی بزرگ یقین کرنے لگے اور آپ کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا، جنازہ و تدفین کے وقت موجود رہے اور آپؓ کی قبر پر مٹی ڈالی۔
آپؓ طبعی طور پر جہیر الصوت واقع ہوئے تھے۔ اور اپنی خوبصورت بلند آواز میں جب بھی قرآن کریم کی قراء ت فرماتے تو دُور تک ہر لفظ بہت عمدگی سے سنا جاتا اور ہر سننے والا اس سے متأثر ہوتا۔
اگرچہ ابتدا میں آپ بطور مقرّر اور خطیب سامنے نہیں آئے۔ لیکن جب حضرت مصلح موعود ؓ نے آپؓ کو اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کو باری باری جمعہ پڑھانے کا خصوصی ارشاد فرمایا تو اس وقت کے بعد سے آپ کا یہ وصف بھی خوب چمک کر سامنے آیا۔ بلکہ قومی اور ملکی تقریبات کے بہت سے پبلک جلسوں میں بھی آپ کو خطاب کرنے کا بارہا موقع ملا اور آپ نے بڑے ہی مؤثر طریق پر اور بڑی سادہ زبان میں اپنے مافی الضمیر کو ادا کیا۔
آپؓ لِمَا تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ کی روشنی میں ہمیشہ تاکیدی نصائح کیا کرتے تھے۔
عمر کے آخری سالوں میں اکثر مغرب کی نماز کے بعد نماز عشاء تک مسجد اقصیٰ میں ذکر الٰہی میں مشغول رہتے۔ اکثر روحانیت سے لبریز مجلس بھی جاری رہتی۔
آپؓ کی وفات21-20 جنوری 1977ء کی درمیانی شب بعمر 84 سال حرکت قلب بند ہوجانے کے نتیجہ میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔
………………………
حضرت بابا محمد احمد خان صاحبؓ
حضرت بابا محمد احمد خان صاحبؓ عرف بھمبو خاں صاحب ولد غلام حسین صاحب سٹروعہ ضلع ہوشیارپور کے رہنے والے تھے اور تقسیم ملک سے قبل دارالمسیحؑ کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھروں میں ایک ڈیوڑھی کے دربان تھے ۔ بوڑھے، مخلص اور غریب طبع درویش تھے۔ تقسیم ملک کے بعد بھی یہیں کے ہوگئے اور بیسن کی مٹھائیاں بناکر بیچنا شروع کیا اور اسی پر گزارہ تھا۔ بہت دُعاگو بزرگ تھے۔
20جولائی1950ء کو 87سال کی عمر پاکر وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔
………………………
حضرت خواجہ محمد اسماعیل صاحب ؓ
حضرت خواجہ محمد اسماعیل صاحبؓ ولد خواجہ غلام رسول صاحب امرتسری کی بیعت 1904ء کی ہے۔ آپؓ کچھ عرصہ کے بعد قادیان سے بعض مجبوریوں کی بِنا پر پاکستان چلے گئے اور وہیں آپؓ کی وفات ہوئی۔
………………………
حضرت حافظ عبد الرحمن صاحبؓ
حافظ عبدالرحمن صاحب 1889ء میں پیدا ہوئے۔ پشاور آپ کا آبائی وطن تھا ۔ آپ کے والد حضرت احمد جان صاحب پشاوریؓ اپنے اہلِ خانہ سمیت حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ہی قادیان تشریف لے آئے تھے۔ مرحوم کی ولادت یہیں ہوئی۔ اس موقع پرحضرت اُمّ المومنینؓ نے اپنے پاس سے آپ کے لئے کرتہ عطا فرمایا جو ولادت کے بعد آپؓ کو پہنایا گیا۔ والدین کی وفات پر آپ کے بچپن کا زمانہ حضرت اُمّ المومنینؓ ہی کے کنار عاطفت میں گزرا ۔
حضرت حافظ صاحبؓ اپنی کمزوری ٔ بینائی کی وجہ سے حصول تعلیم سے محروم رہے ۔ لیکن قرآن مجید کے کچھ حصے یاد تھے۔ علم تجوید سے کچھ واقف تھے اور قدرت کی طرف سے لحنِ داؤدی عطا ہوا تھا۔ اس لئے قرآن کریم کی تلاوت مرکزی جلسوں میں بہت عمدہ طریق سے کرنے کی سعادت پایا کرتے تھے اور نظمیں بھی خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ 1927ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ شملہ تشریف لے گئے تو آپؓ بھی ہمراہ تھے۔ شملہ میں ایک کُل ہند مشاعرہ میں حافظ صاحب نے حضور ؓ کی نظم ؎
’’ساغرِ حُسن تو پُرہے کوئی مَے خوار بھی ہو‘‘
سنائی جو بہت پسند کی گئی اور پھر سامعین کی فرمائش پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک فارسی نظم بھی سنائی۔
دورِ درویشی میں نظر کی کمزوری کے باوجود آپؓ سلسلہ پر بوجھ نہ بنے اور چائے کی دکان کھول کر قریباً بیس سال خود اپنی کفالت کی۔ بعدازاں نظر کی کمزوری کے ساتھ جسمانی کمزوری بھی غالب آگئی تو دکان بند کردی اور انجمن کے وظیفہ پر گزارہ رہا۔ معاملات میں بہت صاف تھے۔ آپؓ کا قیام دارالمسیح کے اندر تھا اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی ہمسائیگی تھی چنانچہ آپؓ کو خاندان اقدس کی خدمت کی توفیق کئی سال تک عطا ہوئی اور محترم صاحبزادہ صاحب نے بھی کمال شفقت سے آپؓ کے طعام و آرام کا خیال رکھا اور علاج میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
محترم حافظ صاحبؓ 15دسمبر 1974ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔
………………………
حضرت بابا اللّٰہ بخش صاحب ؓ
حضرت بابا اللّٰہ بخش صاحبؓ ولدمکرم محکم دین صاحب آف ہرچووال (نزد قادیان) نے غالباً 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت و زیارت کی سعادت حاصل کی۔ پیشہ کے لحاظ سے آپؓ جفت ساز تھے۔
آپ نہایت شریف النفس کم گو اورعابد و زاہد بزرگ تھے۔ اپنی جوانی کے ایام میں حضرت مسیح موعودؑ کی ڈیوڑھی میں دربانی کا شرف کئی سال تک حاصل رہا اور اس کے بعد حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ؓ کے خانگی ملازموں میں شامل ہوگئے۔آپ نہایت متوکل ، سادہ طبع اور عبادت گزار انسان تھے اور آپ کو دیکھ کر عبودیت کا مفہوم ذہن نشین کرنا آسان ہوجاتا تھا۔ نصف شب سے ہی وضو کرکے نوافل اور دُعاؤں میں مشغول ہوجاتے۔
آپؓ کے اکلوتے فرزند میاں علم الدین صاحب احمدنگر (نزد ربوہ) میں مقیم تھے جنہیں آپؓ کی آخری بیماری میں کچھ عرصہ قادیان جاکر آپؓ کی خدمت کی توفیق ملی۔
حضرت بابا اللّٰہ بخش صاحبؓ درویش کی وفات 31؍جولائی 1964ء کو 82 سال کی عمر میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔
………………………
حضرت میر عبدالسبحان صاحب ؓ (مستری)
حضرت میر عبدالسبحان صاحبؓ ولد مکرم رحمن میر صاحب ساکن لاہور نے 1903ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔
حضرت میر صاحبؓ کشمیری النسل تھے اس لئے ایک مخصوص طرز کا لمبا ساچوغہ پہنتے تھے۔ آپ کا قد درمیانہ ، رنگ سفید،اور نقوش باریک تھے۔ اپنی عمر کے آخری تین سال وہ چلنے پھرنے سے بالکل معذور ہوگئے۔ ایسے میں ہر وقت قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف رہتے۔ شنوائی بہت کم تھی اس لئے لکھ کر بات سمجھانا پڑتی تھی اور زبانی جواب دیتے تھے۔ جہیرالصوت تھے ۔ حضرت مسیح موعودؑ کے اشعار اور شرح القصیدہ اکثر اونچی آواز سے پڑھتے۔ آپ معمولی معماری کاکام اور چونا قلعی کا کام جانتے تھے۔
مرحوم موصی تھے اور تحریک جدید کے دورِ دوم کے مجاہد تھے۔ 23؍اپریل 1961ء کو بعمر 74 سال وفات پاکر بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔
………………………
حضرت میاں محمد الدین صاحب ؓ
آپ حضرت مسیح موعودؑ کے 313 اصحاب میں شامل تھے۔ 1872ء میں پیدا ہوئے اور 1894ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ یکم نومبر1951ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کئے گئے۔
قبل ازیں آپؓ کا مختصر ذکرخیر ہفتہ روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 8 اپریل 2016ء کے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں شامل اشاعت کیا جاچکا ہے۔ زیرنظر مضمون میں جو اضافی امور بیان ہوئے ہیں وہ ذیل میں پیش ہیں:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بذریعہ خط بیعت کرنے کے ایک سال بعد جب آپ دستی بیعت کے لئے قادیان میں حاضر ہوئے تو آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ قرآن شریف کس طرح آئے؟ آپؑ نے فرمایا: میاں محمد الدین! اِتَّقُوْا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ (تم تقوٰ ی کرو خود تمہارا خدا استاد ہو جائے گا)۔ مَیں نے حضورؑ کی اس بات کو پلّے باندھ لیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے میرے ذہن کو روشن کردیا اور مجھے بہت سی باتیں یاد رہنے لگیں حتی کہ عین بڑھاپے میں مَیں نے حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ سے چالیس حدیثیں مع جملہ راویوں کی سند کے یاد کرلیں۔ ایک حدیث تو 30واسطوں سے سیّدناحضرت علیؓ تک پہنچی ہے۔
آپؓ مزید فرماتے ہیں کہ اسی مجلس میں پھر میرے دل میں گزرا کہ میں علم دین سے ناواقف ہوں اور مولوی لوگ مجھے تنگ کریں گے مَیں کیا کروں گا اور پوچھنے سے بھی شرم کررہا تھا کہ آپ نے بغیر میرے سوال کے ایسے بلند لہجہ میں رُعبناک انداز سے فرمایا کہ میں کانپ گیا ۔ فرمایا: ہماری کتابوں کو پڑھنے والا کبھی مغلوب نہیں ہوگا۔
جنوری 1897ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 313اصحاب کی فہرست مشمولہ انجام آتھم میں حضرت میاں محمدالدین صاحبؓ کا نام تیسرے نمبر پردرج فرمایا۔ اسی سال ’’سراجِ منیر‘‘ شائع ہوئی جس میں مہمان خانہ قادیان کے چندہ دہندگان میں بھی آپؓ کانام شامل تھا۔ ازاں بعد 24؍فروری 1898ء کے اشتہار (مشمولہ ’کتاب البریہّ‘) میں آپؓ کا نام 10ویں نمبر پر شائع ہوا۔
منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے آپؓ نے ایک سو روپیہ خدمت اقدسؑ میں پیش کیا اور ایک سو روپیہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے لئے چندہ دیا۔ اکتوبر 1906ء میں آپؓ نے اپنی جائداد کے پانچویں حصہ کی وصیت کی اور 1909ء میں حصہ جائداد ادا بھی کردیا۔ ازاں بعد اپنی آمد کی بھی وصیت کردی اور آخر دم تک اس کی ادائیگی کرتے رہے۔ آپؓ کا وصیت نمبر 158 تھا۔
1929ء میں بطور واصل باقی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوکر آپؓ نے اپنی زندگی خدمتِ دین کے لئے وقف کردی۔ کشمیر فنڈ جمع کیا۔ ضلع گجرات کی جماعتوں کا بجٹ تیار کیا۔ کچھ عرصہ سندھ کی اراضیات کے نگران رہے۔ پھر دفتر جائداد صدرانجمن احمدیہ میں سرگرم عمل رہے۔ 12؍ستمبر 1947ء کو ہجرت کرکے پاکستان آگئے مگر 11مئی 1948ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر لبّیک کہہ کر مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے۔ درویش آپ سے دینی مسائل سیکھتے اور ناظرہ قرآن پڑھتے تھے۔ آپؓ کی اکثر اولاد بھی سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف ہوئی۔
………………………
حضرت شیخ میاں مولیٰ بخش صاحب ؓ باورچی
حضرت شیخ میاں مولیٰ بخش صاحبؓ کے والد مکرم خیرات اللّٰہ صاحب آف یوپی لمبی مدّت سے لنگرخانہ میں باورچی تھے اور اپنے فن کے اُستاد تھے۔ نماز روزہ کے بڑے پابند تھے، بالخصوص تہجد کے لئے نہ صرف خود اُٹھتے تھے بلکہ مسجد مبارک جانے سے قبل درّثمین کے اشعار پڑھتے ہوئے سارے احمدیہ محلہ کا ایک چکر لگاتے اور درویشوں کو بیدار کرتے۔ پورے سات سال اُن کا یہی معمول رہا اور مرض الموت میں جاکر ختم ہوا۔
آپؓ کی بیعت 1908ء کی تھی۔ تقسیم مُلک کے وقت آپؓ کی عمر 73 سال کی تھی لیکن ابھی تک صدر انجمن احمدیہ کے کارکن تھے مگر جب کمزوری زیادہ ہوگئی تو پنشن مل گئی ۔ 80سال کی عمر میں 24جولائی 1954ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔
………………………
حضرت بھائی شیر محمد صاحبؓ دکاندار
حضرت بھائی شیر محمد صاحبؓ کے والد مکرم شیخ میراں بخش صاحب آف دھرم کوٹ رندھاوا تھے۔ آپؓ نے قریباً 1906ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی توفیق پائی اور پھر زمانۂ طفولیت میں ہی قادیان آکر اپنے آقا کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ خلافت اولیٰ میں آپ مستقل طور پر قادیان ہجرت کر آئے جہاں آپؓ نے سٹیشنری وغیرہ کی دکان کھول لی تھی۔ تقسیم ملک کے بعد آپؓ ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے تھے لیکن حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر 1948ء میں اپنے اہل و عیال کی محبت پر قادیان کی حفاظت کو ترجیح دے کر قادیان آگئے۔ بہت خود دار اور باہمت تھے ۔ درویشی اس شان سے اختیار کی کہ صدر انجمن احمدیہ سے کوئی خرچ لینا گوارا نہ کیا۔ چندوں اور نمازوں میں باقاعدگی ،کم گوئی ، خدا سے تعلق یا خود اپنے کام سے تعلق ساری عمر رہا۔ آپ نے واقعی رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق زندگی گزاری کہ اس دنیا میں یوں زندہ رہو کہ اپنے آپ کو راہِ ملک عدم کا مسافر سمجھتے رہو۔
زندگی کے آخری چند سال لاچار ہوکر چارپائی پر گزارے۔ ایسے میں آپؓ کے ہم زلف حضرت مولانا عبدالرحمن صاحبؓ فاضل نے آپؓ کی خدمت اپنے ذمہ لئے رکھی۔ آپؓ کی وفات 24؍نومبر 1974ء کو 85 سال کی عمر میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔
آپ ؓ نہایت درجہ دُعاگو ،سنجیدہ طبع ، منکسر المزاج نرم خُو اور سِیْمٰھُمْ فِی وُجُوْھِھِمْ مِنْ اَثَرِالسُّجُوْد کے مصداق تھے ۔ بلا امتیاز مذہب و ملت خدمت خلق اور رفاہ عام کے کام کرتے تھے۔ چنانچہ احاطہ لنگرخانہ میں اور ویدکور آریہ ہائی سکول کے پاس آپ نے پانی کا ایک ایک نلکہ لگوایا تھا۔ احباب قادیان سے مشفقانہ سلوک کرتے تھے اور ہمدردانہ مشورہ دیتے۔ آپ1/3 حصہ کے موصی تھے۔ مجاہد تحریک جدید اور وقف جدید وغیرہ تھے۔ اپنے خرچ پر علاقہ ملکانہ میں تبلیغی جہاد کیا۔
آپؓ کی اہلیہ اوّل محترمہ فاطمہ صاحبہ دختر حضرت شیخ نور احمد صاحب ؓ مختار عام قادیان کے 1918ء میں وفات پانے پر آپؓ کی شادی محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ دختر حضرت حافظ حامد علی صاحب ؓ خادم خاص سے ہوئی۔ اہلیہ اوّل سے ایک بیٹی اور اہلیہ ثانی سے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔
24؍نومبر 1974ء کو بعمر 86سال وفات پاکر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔
………………………
حضرت میاں صدر الدین صاحبؓ
حضرت میاں صدرالدین صاحبؓ ولد میاں رحیم بخش صاحب نے 1894ء سے قبل حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت پائی۔ قادیان کی مقامی آبادی میں سے احمدی ہونے والوں میں وہ ابتدائی مخلصین میں شامل تھے۔
آپؓ باوجود ناخواندہ ہونے کے بہت نیک اور متقی بزرگ تھے۔ امانت و دیانت میں قادیان اور اس کے ماحول میں بہت مشہور تھے اور اپنے اور غیر سبھی آپ کے مداح تھے۔ پہلے آپؓ کا پیشہ کمہار کا تھا۔ 1900ء میں منارۃالمسیح کی بنیاد رکھنے کے لئے مٹی کھودکر باہر نکالنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ بعدمیں آٹے اور دالوں کی دکان کھول لی جو اُن کی امانت و دیانت کی وجہ سے خوب چلی۔ تقسیم ملک سے کچھ قبل کاروبار میں اچانک نقصان کی وجہ سے وہ مقروض ہوگئے اور کاروبار جاتا رہااور آپؓ محض درویشی وظیفہ پر گزارہ کرنے لگے ۔ لیکن آفرین ہے اس اسّی سالہ بوڑھے کی جواں ہمّتی پر کہ اس نے زمانہ درویشی ہی میں وہ قرض اس طرح بے باق کیا کہ انہوں نے لنگرخانہ کو آٹے اور دالوں کی سپلائی شروع کردی۔ ساری اجناس وہ اپنے بوڑھے کمزور ہاتھوں سے صاف کرتے اور خود چکی چلاکر دالیں بناتے اوریوں اس پِیرفرتوت نے اپنی جھریوں والی کمزور بانہوں کے بل پر سارا قرض اُتار دیا۔ بعض قرض خواہ کہتے تھے کہ آپ کے حالات تبدیل ہوگئے ہیں اس لئے قرض معاف کیا جاسکتا ہے لیکن مرحوم کی غیرت نے اسے گوارا نہ کیا اور سب کو یہی جواب دیا کہ میں قرض کا بوجھ سر پر لئے قبر میں نہیں جانا چاہتا۔
وفات سے چار پانچ سال قبل آپؓ کی بینائی جاتی رہی تھی لیکن آپؓ مسجد میں برابر پہنچتے تھے تاآنکہ ضعفِ پیری نے قدم بالکل ماؤف کردیئے۔
آپ ؓ کو یہ شرف بھی حاصل تھا کہ آپؓ کے ایک بیٹے محترم میاں محمد عبد اللّٰہ صاحب مرحوم نے بھی درویشی کی سعادت پائی جو لنگرخانہ میں نان پز کا کام کرتے رہے۔ جبکہ بیٹی بھی قادیان میں اور ایک بیٹے ربوہ میں مقیم ر ہے۔
حضرت میاں صدرالدین صاحب دراز قد اور خوبصورت خدوخال رکھتے تھے۔ کسی مستقل بیماری کے باعث موسم گرما میں بھی روئی دار واسکٹ پہنتے اور پنڈلیوں پر گرم اُونی پٹیاں باندھتے تھے۔ قریباً 91سال کی عمر میں 4دسمبر 1960ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ خاص میں سپرد خاک کئے گئے۔
………………………
حضرت میاں محمد عبد اللّٰہ صاحب افغانؓ
حضرت میاں محمد عبداللّٰہ صاحب افغانؓ ولد حضرت عبدالغفار خان صاحبؓ ساکن خوست علاقہ کابل نے بیعت کی سعادت 1903ء میں حاصل کی جبکہ حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کا شرف 1905ء میں حاصل ہوا۔
آپ پہلے خوست سے قادیان ہجرت کرکے مہاجر بنے اور پھر قادیان میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے ٹھہرکر انصار بھی بن گئے۔ آپؓ کاعلم توکم تھا لیکن نور ِ ایمان سے وافر حصہ پایا تھا۔ اور نورِ نبوت سے براہ ِ راست اکتساب نے اس نور ایمان کو اور بھی جلا بخش دی تھی۔ آپ ؓ نے اپنی ساری زندگی بڑے صدق و خلوص سے گزاری ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ساتھ پہرہ دار کے طور پر بھی خدمات بجا لاتے رہے اور پھر خزانہ صدرانجمن احمدیہ کے پہرہ دار رہے اور یہی خدمت زمانہ درویشی میں بھی جاری رہی۔ نہایت مخلص ، خاموش طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والے بزرگ تھے۔ آپ حضرت مولوی عبد الستار صاحب عرف ’’ بزرگ صاحب ‘‘ کے بھتیجے تھے۔
آپؓ ابتدائے 1952ء میں بیمار ہوگئے اور بیماری طول پکڑگئی۔ کافی علاج معالجہ قادیان اور دھاریوال کے ہسپتالوں میں ہوتا رہا۔ بعض درویش بھائیوں نے اپنا خون بھی دیا لیکن 18؍اپریل 1954ء کو بعمر 60 سال آپؓ وفات پاگئے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔
………………………
حضرت حاجی ممتازعلی خانصاحب صدیقیؓ
آپ حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحبؓ گوہر کے فرزند تھے۔ ریاست رامپور میں قریباً1889ء میں پیدا ہوئے۔ 1904ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ 19؍جولائی 1954ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔ قبل ازیں آپؓ کا مختصر ذکرخیر ہفتہ روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 8 مئی 2009ء کے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں شامل اشاعت کیا جاچکا ہے۔
(یہ مضمون آئندہ شمارہ میں جاری رہے گا۔ انشاء اللّٰہ)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5ستمبر 2011ء میں ’’درود شریف‘‘ کے عنوان سے مکرم محمد ابراہیم شاد صاحب کی نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
خدا کے نور سے معمور ہے درود شریف
کلام پاک میں مذکور ہے درود شریف
حضور رحمت ایزد کا نسخۂِ آساں
خدا کے فضل کا منشور ہے درود شریف
سکونِ قلب میسر ہو جس کی برکت سے
ہو جس سے روح بھی مسرور ، ہے درود شریف
ملے ہے اس سے قبولیت دعا کا شرف
خدا کے قرب کا دستور ہے درود شریف
غلامِ در ہی مقامِ کلیم پاتے ہیں
یہاں بمنزلہ طُور ہے درود شریف
