سوشی ایبل ویور: اجتماعیت کی روشن مثال
افریقہ کے خشک اور نیم صحرائی علاقوں میں ایک ایسا چھوٹا سا پرندہ پایا جاتا ہے جس کی زندگی اجتماعی تعاون، نظم و ضبط اور باہمی انحصار کی ایک حیرت انگیز مثال پیش کرتی ہے۔ اسے سوشی ایبل ویور (Sociable Weaver) کہا جاتا ہے اور اس کا سائنسی نام Philetairus socius ہے۔ یہ پرندہ اپنی جسامت کے اعتبار سے تو معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی اجتماعی زندگی اور غیر معمولی گھونسلہ اسے دنیا کے دلچسپ ترین پرندوں میں شامل کرتے ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ اکیلا رہنے کی بجائے بڑی کالونیوں میں زندگی گزارتا ہے اور کئی خاندان مل کر ایک وسیع و عریض اجتماعی گھونسلہ تعمیر کرتے ہیں۔
سوشی ایبل ویور کا آبائی علاقہ جنوبی افریقہ کے خشک اور نیم خشک خطے ہیں۔ یہ خاص طور پر جنوبی افریقہ، نمیبیا اور بوٹسوانا میں پایا جاتا ہے۔ یہاں بارش کم، موسم گرم اور نباتات نسبتاً کم ہوتی ہیں۔ ایسے سخت ماحول میں زندگی گزارنے کے لیے اس پرندے نے اجتماعی رہائش کا ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس سے اسے موسم کی شدت، شکاریوں اور خوراک کی تلاش جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ عموماً کھلے میدانوں، جھاڑی دار علاقوں اور گھاس کے خشک خطوں میں رہتا ہے۔

اس پرندے کی زندگی کا سب سے دلچسپ مرحلہ مناسب مقام کا انتخاب ہے۔ پوری کالونی کے لیے ایسی جگہ زیادہ موزوں ہوتی ہے جہاں ایک بڑا اور بھاری گھونسلہ کئی برس تک قائم رہ سکے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط شاخوں والے درخت خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کیمل تھورن یا ببول نما کانٹے دار درخت اس کے پسندیدہ مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ کانٹے دار شاخیں شکاریوں کے لیے گھونسلے تک پہنچنا مشکل بنا سکتی ہیں۔ بلند درخت پر بنایا گیا گھونسلہ پرندوں کو اردگرد کے علاقے پر نظر رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اگر مناسب درخت دستیاب نہ ہو تو یہ پرندہ بعض اوقات بجلی کے کھمبوں جیسے انسانی ساخت کے بلند اور مضبوط ڈھانچوں پر بھی اپنا گھونسلہ بنا لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل ترجیح کسی خاص درخت کی نسل سے زیادہ ایک مضبوط، بلند اور محفوظ مقام کو حاصل ہوتی ہے۔
مقام منتخب ہونے کے بعد گھونسلے کی تعمیر شروع ہوتی ہے۔ عام طور پر نر پرندہ تعمیر کا آغاز کرتا ہے ۔ وہ خشک گھاس، تنکے اور پودوں کے ریشے جمع کرکے انہیں شاخوں پر ترتیب دینا شروع کرتا ہے۔ مادہ بھی اس تعمیر میں حصہ لیتی ہے اور دونوں مل کر اپنے تولیدی حصے کو مکمل کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ گھونسلہ پھیلتا جاتا ہے اور نئی نسلیں بھی اس کی تعمیر اور مرمت میں حصہ لیتی ہیں۔ جوڑا بننے کے بعد دونوں پرندے اپنے مخصوص حصے کو افزائش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مادہ عموماً دو سے چھ انڈے دیتی ہے۔ انڈوں کی حفاظت اور بعد میں بچوں کی پرورش میں والدین اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد نر اور مادہ دونوں خوراک لانے اور بچوں کی نگہداشت میں حصہ لیتے ہیں۔ ایک ہی اجتماعی گھونسلے میں متعدد جوڑے بیک وقت افزائشِ نسل کر سکتے ہیں، اس لیے وہاں مختلف خاندانوں کے بچے ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔
اس پرندے کی سب سے بڑی خصوصیت دراصل اس کا گھونسلہ نہیں بلکہ گھونسلے کے پیچھے موجود اجتماعی نظام ہے۔ دور سے یہ گھونسلہ گھاس اور تنکوں کا ایک بہت بڑا ڈھیر معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر متعدد داخلی راستے اور الگ الگ رہائشی حصے ہوتے ہیں۔ یوں ایک ہی بڑے ڈھانچے میں کئی خاندان آباد رہ سکتے ہیں۔ بعض بڑے گھونسلوں میں درجنوں بلکہ سینکڑوں پرندے رہ سکتے ہیں۔ یہ گھونسلہ اتنا بڑا اور بھاری بھی ہو سکتا ہے کہ درخت کی شاخوں پر نمایاں وزن پڑنے لگتا ہے۔
گھونسلے کی یہ اجتماعی ساخت موسم کے مقابلے میں بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے خشک علاقوں میں دن کے وقت شدید گرمی جبکہ رات کو خاصی ٹھنڈ ہو سکتی ہے۔ خشک گھاس اور تنکوں کی موٹی تہیں اندرونی حصوں کو بیرونی درجہ حرارت کی شدت سے کسی حد تک محفوظ رکھتی ہیں۔
اجتماعیت کا سب سے بڑا فائدہ خطرے کے وقت سامنے آتا ہے۔ جب ایک پرندہ کسی شکاری کو قریب آتے دیکھتا ہے تو وہ آواز کے ذریعے دوسرے پرندوں کو خبردار کرتا ہے۔ یوں پوری کالونی فوری طور پر چوکس ہو جاتی ہے۔ بہت سی آنکھیں ایک ساتھ نگرانی کرتی ہیں، جس سے کسی ایک پرندے کے مقابلے میں خطرے کا بروقت پتا چلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح گروہ میں رہنے سے موسم اور خوراک کے مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
سوشی ایبل ویور کی خوراک زیادہ تر بیجوں اور پودوں سے حاصل ہونے والی چھوٹی غذائی اشیا پر مشتمل ہوتی ہے۔ خشک علاقوں میں خوراک ہر جگہ یکساں مقدار میں دستیاب نہیں ہوتی، اس لیے وسیع علاقے میں خوراک تلاش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں بھی اجتماعیت کا پہلو مفید ثابت ہوتا ہے۔
سوشی ایبل ویور ہمیں قدرت کی ایک نہایت خوبصورت حقیقت دکھاتا ہے کہ کمزور اور چھوٹی مخلوق بھی اتحاد، تعاون اور نظم کے ذریعے ایسے کام انجام دے سکتی ہے جو انفرادی طور پر ممکن نہیں۔ جنوبی افریقہ کے خشک میدانوں میں درختوں پر لٹکے یہ بڑے گھونسلے دراصل اجتماعیت، باہمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہیں۔ انسان جو اب تنہائی پسند ہوتا جا رہا ہے ایسے وقت میں یہ پرندہ اب بھی مل جل کر رہنے اور تعمیر و دفاع کا نظام سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
(ابو الفارس محمود)
مزید پڑھیں: زرافے کے ڈاکٹر: Oxpeckers




