قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے
بہت سے کاروباری جھگڑے جھوٹ پر مبنی باتوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کی باتوں اور کاروباروں میں برکت نہیں ڈالتا ۔دنیا میں تو جو نقصان انہوں نے اٹھانا ہوتا ہے اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی گنہگار ٹھہرتے ہیں اور سزا پاتے ہیں۔
پھر حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دُور ہو جاتا ہے اس کی بدبو کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا ہے۔ (جامع الترمذی کتاب البِرِّ وَالصِّلَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ حدیث:1972)
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے ۔آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو آپؐ کی انگلیوں کو نمی لگی۔ گیلا گیلا لگا۔ احساس ہوا ۔آپؐ نے فرمایا: اے اناج والے !یہ جو تم اناج بیچ رہے ہو، گندم تھا یا مکئی تھی یا جو بھی تھا۔ یہ کیا معاملہ ہے ؟یہ اندر سے گیلی ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہؐ! اس پر بارش ہو گئی تھی ۔آپؐ نے فرمایا :تو تُو نے اسے پھر اناج کے اوپر کیوں نہ کر دیا بجائے اس کے کہ تم چھپا کے نیچے کر دیتے ۔اگر اس پر بارش ہو گئی تھی تو اس کواوپر رکھتے تاکہ لوگ اس کو دیکھ سکتے ۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان بَابُ قوْلِ النَّبِيِّ ﷺ:’’مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا‘‘… مترجم جلد 01 صفحہ 93 حدیث 139 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
پس اتنی باریکی سے کاروباری لوگوں کو بھی دیکھنا چاہیے ۔یہ وہ معیار ہے جو آپؐ ایک مسلمان میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔لیکن بدقسمتی سے آج مسلمان ہی دھوکے کے کاروبار اور جھوٹ کی وجہ سے دنیا میں بدنام ہیں۔
پسآج ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی ایمان لانے کا اعلان کرتے ہیں تو ہمارے ہر قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ نہیں تو تم مجھ میں سے نہیں ہو۔ پھر میرا تمہارے سے کوئی تعلق نہیں۔ بےشمار نصائح اور ہدایات سچائی کو باریکی سے دیکھتے ہوئے اختیار کرنے کی آپؐ نے تلقین فرمائی ۔اور کوئی شخص حقیقی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ سچائی پر مکمل طور پر کار بند نہ ہو۔
(خطبہ جمعہ ۲۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء مطبوعہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل ۱۵ مئی ۲۰۲۶ء)
مزید پڑھیں: رشتہ کرتے وقت تحقیق کرنے کے متعلق راہنمائی



