تحریکِ جدید کا مختصر تعارف اور اہمیت
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍نومبر ۲۰۲۵ء)
مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ (2:262) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے اس فعل کی حالت اس دانہ کی حالت کے مشابہ ہے جو سات بالیں اگائے اور ہر بالی میں سو دانہ ہو۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہےاسےاس سے بھی بڑھا بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ وسعت دینے والا اور بہت جاننے والا ہے۔
یکم نومبر سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا تحریک جدید کا نیا مالی سال شروع ہوتا ہے۔
اس حوالے سے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان بھی کیا جاتا ہے اور گذشتہ سال جو گزرا ہے اس کی مالی قربانیوں کا بھی ذکرہوتا ہے جو جماعتوں کی طرف سے ہوئی ہیں۔ اسی طرح مالی قربانی کی اہمیت کے بارے میں بھی کچھ بیان ہوتا ہے۔ یہ بیان کرنے سے پہلے قربانیوں کی اہمیت اور تحریک جدید کا مختصر پس منظر بیان کر دیتا ہوں۔
تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا تھا۔بعض نئے آنے والے ہیں، بعض نوجوان ہیں۔ بچوں کو علم نہیں ہو گا اس لیے بتا دیتا ہوں کہ تحریک جدید کا جیسا کہ میں نے کہا آغاز 1934ء میں ہوا تھا جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا۔ اس کی وجہ یہ بنی تھی کہ اس وقت جماعت کے خلاف احرار نے ایک فتنہ اٹھایا تھا اور بڑا شور مچایا تھا۔ مخالفت کا ایک طوفان تھا اور یہ نعرہ تھا کہ ہم احمدیت کو صفحہ ٔہستی سے مٹا دیں گے۔ قادیان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اسی طرح بہشتی مقبرہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا مزار ہے اس کی بےحرمتی کا بھی پروگرام تھا۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے عام بات ہے۔ اس وقت بھی جس طرح تحفظ دینا چاہیے تھا حکومت جماعت کو تحفظ نہیں دے رہی تھی بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ مخالفین کی حمایت کر رہی تھی۔ ایسے وقت میںحضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کو تحریک کی کہ ایک فنڈ مہیا کریں تاکہ ہم احمدیت اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچائیں اور جماعت کے نظام کو مضبوط تر کریں تاکہ مخالفین کی ریشہ دوانیوں اور شور شرابے کا ہم تدارک کر سکیں اور جماعت کے خلاف جو پراپیگنڈا ہو رہا ہے اس کو غلط ثابت کریں اور صرف یہی نہیں کہ غلط ثابت کریں بلکہ تبلیغ کا حق بھی ادا کریں کیونکہ اب تک جو تبلیغ کا حق ہمیں ادا کرنا چاہیے تھا وہ ہم نے اس سنجیدگی سے ادا نہیں کیا تھا جو ہونی چاہیے تھی۔ پس اس سوچ کے ساتھ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ملک میں بھی اور دنیا میں بھی ہم نے اسلام اور احمدیت کے پیغام کو پھیلانا ہے تا کہ دشمن ہمارے منصوبوں کو کہیں بھی نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ ایک جگہ اگر مخالفت ہے تو دوسری جگہ ترقی نظر آتی ہو اور جماعت کا نظام پھیلتا چلا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا ہوا ہے اور ہمارے مشنریز مبلغین وہاں کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہم نے مسجدیں بنائی ہیں۔ ہمارے سکول کام کر رہے ہیں۔ ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ مبلغین اور مربیان سلسلہ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ اشاعت لٹریچر ہو رہی ہے۔ ایم ٹی اے سٹوڈیوکئی ملکوں میں قائم ہیں علاوہ مرکزی سٹوڈیو کے جودنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ ریڈیو سٹیشنز قائم ہیں۔ گو یہ سارے جو کام ہیں ان کا بہت سا خرچ باقی چندوں سے بھی پورا کیا جاتا ہے لیکن تحریک جدید اس میں بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
تحریک جدید کے تحت ہی دنیا میں مبلغین تیار کیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے تقریباً چھ سات ممالک میں جامعات قائم ہیں جہاں مبلغین اور مربیان تیار ہوتے ہیں اور پھر دنیا میں پھیل کر اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کا کام کر رہے ہیں اور یہ جو احرار کا دعویٰ تھا کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، احمدیت کو صفحہ ٔہستی سے مٹا دیں گے اور آج تک یہ نعرے ہمارے مخالفین لگاتے ہیں۔
پچھلے دنوں میں ربوہ میں ایک کانفرنس ہوئی تھی، ان کا جلسہ ہوا تھا اس میں بھی انہوں نے یہی نعرہ لگایا تو ان نعروں کا جواب ہر سال جماعت کی ترقیات سے دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے دیا جاتا ہے۔ جماعت میں بیعت کر کے شامل ہونے والے لوگ وہ اس کا جواب ہیں۔اور آج دو سو بیس (220)ممالک میں پھیلی ہوئی جماعت کی ترقی اس کا جواب ہے کہ دیکھو !تم یہ نعرہ لگاتے تھے کہ صفحہ ٔہستی سے مٹا دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے یہ افضال ہیں کہ جماعت ترقی پر ترقی کرتی چلی جا رہی ہے۔
پس اللہ تعالیٰ کا یہ فعل اور یہ تائید اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا دعویٰ سچا تھا اور سچا ہے اور احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی انسان کا قائم کردہ پودا نہیں،کسی تنظیم کا قائم کردہ پودا نہیں ،کسی حکومت کا قائم کردہ پودا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ پودا ہے جو ایک تناور درخت بن چکا ہے، جس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو مزید پھیلاتا اور پھل لگاتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جیسا کہ ترجمہ میںبیان ہوا تھا جس کی دس بالیاں ہوں اور ہر بالی میں سو (100) دانہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی بڑھا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ میں تمہیں جو تم میری راہ میں خرچ کرتے ہو بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا بلکہ یہ طاقت رکھتا ہوں کہ تمہاری اس قربانی کو سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ کر دوں۔ پس یہ ارشاد فرما کر اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں میں یہ تحریک پیدا فرمائی کہ اپنے دل کھولتے چلے جاؤ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاؤ۔ اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے خرچ کرو جو کام اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی معہود کے سپرد تھا اور پھر آج آپؑ کی جماعت کے سپرد ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ ہمارے اموال میں برکت ڈالے گا اور ہم ہر سال دیکھتے ہیں اور مَیں بیان بھی کرتا رہتا ہوں۔ اس سال بھی بہت ساری مثالیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کے دل کھولتا ہے اور بہت ساری جگہوں پر کسی بھی قسم کی تنگی کی فکر سے بالکل بے نیاز ہوکر لوگ قربانی کرتے چلے جا رہے ہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو دیتا بھی ہے یا ان کے دل کو سکون عطا فرماتا ہے اوروہ اس قربانی پر خوش ہوتے ہیں۔اگر فوری ان کو نتیجہ نہیں بھی ملتا تو پھر کچھ عرصہ بعد ان کی وہ خواہشات بھی پوری ہو جاتی ہیں جن کو قربان کر کے انہوں نے مالی قربانیاں کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس جہان میں بھی اجر ہو گا ،اگلے جہان میں بھی اجر ہو گا۔ بہت سے ایسے ہیں جو اس جہان میں بھی اجر پاتے ہیں اور اگلے جہان کا اجر تو بے حساب ہے۔ پرانے بزرگوں نے بھی اس آیت کی یہی تشریح فرمائی ہے۔ مثلاً امام رازیؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو بڑھا چڑھا کر واپس کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زندہ کرنے اور مارنے کی اپنی قدرت پر دلائل دیے ہیں۔ اگر یہ قدرت خداوندی نہ ہوتی تو خرچ کرنے کا حکم مستحکم نہ ہوتا کیونکہ اگر جزا سزا دینے والا کوئی وجود نہ ہوتا تو خرچ کرنا فضول ٹھہرتا۔ اگر جزا سزا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ یہ نہ کہتا کہ میرے رستے میں خرچ کرو میں تمہیں دوں گا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کو جزا دیتا ہے اور گناہ کرنے والوں کو اس کے مقابلے میں سزا بھی ملتی ہے۔اس ضمن میں آپ نے یہی لکھا ہے کہ دوسرے لفظوں میں گویا اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والوں کویہ کہتا ہے کہ تُو جانتا ہے کہ میں نے تجھے پیدا کیا ہے اور تجھ پر اپنی نعمت کو پورا کیا ہے اور تُو میرے اجر اور ثواب دینے کی طاقت سے واقف ہے۔ پس چاہیے کہ تیرا یہ علم تجھے مال خرچ کرنے کی ترغیب دے کیونکہ وہی یعنی خدا تعالیٰ تھوڑے کا بہت زیادہ بدلہ دیتا ہے اور یہی بہت زیادہ کی مثال بیان کی ہے کہ جو ایک دانہ بوتا ہے میں اس کے لیے سات بالیاں نکالتا ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو بیان کرتے ہوئے یہ لکھتے ہیں کہ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ۔کہ وہ خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ سبیل اللہ سے مراد دین ہے۔(التفسیر الکبیرللامام فخرالدین الرازی جلد4 صفحہ39 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)خدا کے دین میں خرچ کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم تو جماعت احمدیہ میں ہر وقت یہ نظارے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے وعدے کو اور اپنے اس ارشاد کو پورا فرماتا ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: قبولیتِ دعا



