مکتوب شمالی امریکہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)
براعظم شمالی امریکہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
کینیڈا کے یورپ کے ساتھ تعلقات میں وسعت
ستمبر ۲۰۲۶ء میں کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم مارک کارنی نے یورپ کا دورہ کرتے ہوئے یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی، دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تجاویز پیش کیں۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی اختلافات جاری ہیں اور عالمی سیاسی و اقتصادی نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں۔
تاریخی طور پر کینیڈا اور امریکہ کا کئی پہلوؤں پر اتحاد رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف دنیا کے بڑے تجارتی تعلقات قائم ہیں بلکہ دفاع، سرحدی تحفظ، توانائی اور بین الاقوامی سیاست میں بھی گہرا تعاون رہا ہے۔ تاہم حالیہ تجارتی کشیدگی نے کینیڈا میں اس بحث کو تقویت دی ہے کہ ملک کو اپنی اقتصادی اور دفاعی ضروریات کے لیے صرف ایک بڑے شراکت دار یعنی امریکہ پر انحصار کرنے کی بجائے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔
اسی پس منظر میں وزیر اعظم مارک کارنی نے ۱۶؍ستمبر کو فرانس کے شہر Strasbourg کا دورہ کیا۔ اور پھر ۱۷؍ستمبر کو انہوں نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان ایک نئے اور زیادہ جامع اشتراک کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ممالک کے لیے اپنی خودمختاری اور اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی تعاون پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔
وزیرا عظم کارنی کی تجویز کے مطابق کینیڈا اور یورپی یونین توانائی، اہم معدنیات، دفاعی صنعت، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں اپنے تعلقات کو وسعت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے دونوں خطوں میں تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے اور رہائش اختیار کرنے کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان پہلے ہی ایک جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ موجود ہے، جسے CETA کہا جاتا ہے۔ لیکن کینیڈین حکومت اب اس سے آگے بڑھ کر زیادہ گہرے اقتصادی اور تکنیکی اشتراک کی خواہش رکھتی ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ نکتہ بھی پیش کیا کہ آج کسی ملک کی خودمختاری کا تعلق صرف اس کی سرحدوں کے تحفظ یا خوراک اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر چِپس، اہم معدنیات اور محفوظ مواصلاتی نظام تک رسائی سے بھی ہے۔
کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ان تبدیلیوں کا مقصد عالمی سطح پر نئے اقتصادی اور سیاسی شراکت دار تلاش کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی ایک ملک کے فیصلوں سے کینیڈا کی معیشت اور سلامتی ضرورت سے زیادہ متاثر نہ ہو۔
نیویارک میں یو ایس اوپن ٹینس مقابلوں کا اختتام
ستمبر میں امریکہ کے مشہور ترین شہر نیویارک میں منعقد ہونے والے یو ایس اوپن(US Open) ٹینس مقابلے اختتام پذیر ہوئے۔ یہ دنیا کے چار بڑے Grand Slam ٹینس مقابلوں میں سے ایک ہے اور ہر سال دنیا کے بہترین کھلاڑی اس میں شرکت کرتے ہیں۔
امسال مردوں کے سنگلز مقابلے میں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریف (Alexander Zverev) نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فائنل میں امریکہ کے بین شیلٹن (Ben Shelton) کو چار سیٹوں کے مقابلے میں شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ زیوریف نے اپنے کیریئر کا دوسرا گرینڈ سلیم اعزاز حاصل کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ زیوریف ۱۹۸۹ء میں بورس بیکر (Boris Becker) کے بعد یو ایس اوپن کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے جرمن مرد کھلاڑی بن گئے۔
بین شیلٹن کی فائنل تک رسائی امریکی شائقین کے لیے خاص دلچسپی کا باعث رہی کیونکہ یو ایس اوپن میں مقامی کھلاڑیوں کی کامیابی کو ہمیشہ خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم فیصلہ کن مقابلے میں زیوریف نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
خواتین کے سنگلز مقابلے میں قازقستان کی Elena Rybakina نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فائنل میں بیلاروس کی Aryna Sabalenka کو شکست دی۔ Sabalenka گذشتہ دو سال سے یہ اعزاز حاصل کررہی تھیں، لیکن اس مرتبہ ریباکینا نے ان کو ہرا دیا۔
ڈبلز مقابلوں میں بھی دلچسپ نتائج سامنے آئے۔ مردوں کے ڈبلز میں امریکہ کے Christian Harrison اور برطانیہ کے Neal Skupski نے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین کے ڈبلز میں امریکہ کی Taylor Townsend اور چیک جمہوریہ کی Katerina Siniaková نے ٹائٹل جیتا۔
کینیڈا میں ٹیری فاکس کی یاد میں سالانہ دوڑ
۲۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو کینیڈا بھر میں Terry Fox Run کے نام سے سالانہ فلاحی سرگرمی کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوڑ کا مقصد کینسر کے علاج اور تحقیق کے لیے چندہ جمع کرنا اور عوام میں اس مرض کے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔
امسال یہ اس سرگرمی کا ۴۶واں سال تھا۔
اس فلاحی مہم کی ابتدا کینیڈا کے ایک نوجوان ٹیری فاکس (Terry Fox) کی غیرمعمولی جدوجہد سے ہوئی تھی۔ ٹیری فاکس ۱۹۵۸ء میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں انہیں ہڈیوں کا کینسر لاحق ہوگیا جس کے نتیجے میں ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ اس تکلیف دہ تجربے کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کینسر کے مریضوں کے لیے کچھ اہم کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ ۱۹۸۰ء میں، جب ان کی عمر صرف ۲۱؍سال تھی، انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے سہارے کینیڈا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک دوڑنے کا منصوبہ بنایا۔ اس مہم کو انہوں نے Marathon of Hope یعنی امید کی طویل دوڑ کا نام دیا۔
انہوں نے ۱۲؍اپریل ۱۹۸۰ء کو کینیڈا کے مشرقی صوبے نیوفاؤنڈلینڈ کے شہر سینٹ جانز سے اپنی دوڑ شروع کی۔ ان کا مقصد روزانہ تقریباً ایک میراتھن (قریباً ۴۲ کلومیٹر) کے برابر فاصلہ طے کرنا اور کینسر کی تحقیق کے لیے چندہ جمع کرنا تھا۔
ٹیری فاکس نے مسلسل ۱۴۳ دن تک دوڑتے ہوئے تقریباً ۵,۳۷۳ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ تاہم جب وہ صوبہ آنٹاریو کے شہر تھنڈر بے کے قریب پہنچے تو ان کی بیماری دوبارہ شدت اختیار کرگئی اور کینسر پھیپھڑوں تک پھیل گیا۔ اس وجہ سے انہیں اپنی دوڑ روکنی پڑی۔
جون ۱۹۸۱ء میں، صرف ۲۲؍سال کی عمر میں، ٹیری فاکس وفات پاگئے۔ اگرچہ وہ اپنی دوڑ مکمل نہ کرسکے، لیکن ان کی کوشش نے لاکھوں کینیڈین باشندوں کو متاثر کیا۔ ان کی یاد میں شروع ہونے والی سالانہ دوڑ اب کینیڈا کی اہم ترین فلاحی روایات میں سے ہے۔
ٹیری فاکس فاؤنڈیشن نے فروری ۲۰۲۶ء میں اعلان کیا تھا کہ اس مہم کے ذریعے کینسر کی تحقیق کے لیے جمع ہونے والی مجموعی رقم ایک ارب کینیڈین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ یہ رقم لاکھوں افراد کی چھوٹی بڑی مالی قربانیوں سے جمع ہوئی ہے۔
آج اس مہم سے حاصل ہونے والے عطیات کینسر کی تحقیق، جدید تشخیصی طریقوں اور مریضوں کے لیے بہتر علاج کی تلاش میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے مختلف تحقیقی ادارے مل کر ایسے طریقوں پر کام کررہے ہیں جن کے ذریعے ہر مریض کی بیماری کی نوعیت کے مطابق زیادہ مؤثر علاج فراہم کیا جاسکے۔
ٹیری فاکس کی زندگی اور ان کی یاد میں جاری رہنے والی یہ مہم اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ ایک فرد کی ہمت، قربانی اور خدمتِ انسانیت کا جذبہ کس طرح کئی نسلوں کے لیے نیکی کی تحریک کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ٹورانٹو میں بین الاقوامی فلمی میلے کا انعقاد
۱۰ تا ۲۰؍ستمبر کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں بین الاقوامی فلمی میلےکا انعقاد ہوا۔ اس میلے کو Toronto International Film Festival کہا جاتا ہے اور یہ اس میلے کا ۵۱واں سال تھا۔ دنیا بھر میں اسے مختصراً TIFF کہا جاتا ہے اور اس کا شمار فلموں کے اہم بین الاقوامی میلوں میں ہوتا ہے۔
ٹورانٹو کا بین الاقوامی فلمی میلہ پہلی مرتبہ ۱۹۷۶ء میں منعقد ہوا تھا۔ ابتدا میں اس کا مقصد دنیا کے دوسرے بڑے فلمی میلوں میں پیش کی جانے والی فلموں کو کینیڈین شائقین کے سامنے پیش کرنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اب دنیا کے مختلف ممالک کے فلم ڈائریکٹرز اپنی نئی فلموں کی نمائش کے لیے اس میلے کو ایک اہم موقع سمجھتے ہیں۔
امسال تقریباً ۳۰۰ فلمیں میلے کے پروگرام میں شامل کی گئیں۔ ان میں مختلف ممالک کی کہانیوں پر مبنی فلموں کے علاوہ دستاویزی فلمیں اور چھوٹے سطح کے فلم ڈائریکٹرز کی تخلیقات بھی شامل تھیں۔
اس سال کے میلے میں نوجوان شائقین اور آزاد فلم سازی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ میلے کی چیف پروگرامنگ آفیسر کے مطابق فلم دیکھنے والے نوجوانوں کی دلچسپی صرف ہالی وڈ کی بڑے بجٹ والی فلموں تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ دنیا کے مختلف معاشروں، ثقافتوں اور حالات کی عکاسی کرنے والی فلموں میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔
میلے میں پیش کی جانے والی بعض دستاویزی فلموں میں اہم سماجی اور بین الاقوامی مسائل کو موضوع بنایا گیا۔ ان میں بحیرۂ روم میں تارکین وطن کے بحران، ایران میں معاشرتی زندگی اور مشہور عالمی شخصیت ایلون مسک سے متعلق دستاویزی فلمیں شامل تھیں۔
ٹورانٹو کے فلمی میلے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف فلمی صنعت سے وابستہ افراد ہی شرکت نہیں کرتے بلکہ عام شائقین بھی فلموں کی نمائشوں اور مختلف پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ میلہ فن اور ثقافت کا ایک عوامی اجتماع بھی ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: سوشی ایبل ویور: اجتماعیت کی روشن مثال




