خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۷؍مارچ ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ رمضان کے شروع ہوتے ہی یہ خیال دل میں فوراًپیداہو جاتا ہے کہ نمازوں کی طرف توجہ ہو کیونکہ یہ برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس لیے عموماً لوگ مسجد کی طرف بھی زیادہ رخ کرتے ہیں۔ مسجدوں کی حاضری بھی بڑھتی ہے فجر کی نمازہو یا عشاء کی نماز ہو۔ عام دنوں میں تو فجر اور مغرب عشاء کی نماز پراتنی حاضری نہیں ہوتی جتنی رمضان میں ہو جاتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ لوگوں کو کم از کم ان دنوں میں خیال آ جاتا ہے کہ ہمیں مسجد کی طرف جانا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگنا ہے۔ اس کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رمضان کے دنوں میں جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہوں۔ شیطان کو جکڑ دیتا ہوں اور جنت کے دروازے کھول دیتا ہوں۔ اس سے لوگ صرف یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید رمضان میں ہی عبادتوں کی ضرور ت ہے اور رمضان میں جو دعائیں کی جائیں یا عبادتیں کی جائیں وہی ہماری بخششوں کا سامان پیدا کر دیں گی۔ غیراحمدی چینلز ہیں، اسلامی ملکوں کے چینلز ہیں ان میں بھی یہ حدیث باربار دہرائی جاتی ہے حالانکہ یہ غلط سوچ ہے۔ رمضان میں عبادتوں کی طرف توجہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے دلائی ہے کہ پھر تم اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لو۔ اگر یہ نہیں تو صرف رمضان کی عبادتیں کچھ کام نہیں کریں گی۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کریم کی اہمیت کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: قرآن کریم پڑھنے کی طرف بھی رمضان میں خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے اور جب ہم اس کو پڑھیں گے تو ان حکموں کو بھی تلاش کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیےہیں۔ بلکہ ایک جگہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سات سو سے زیادہ احکام کا بتایا۔ پس جب ان حکموں کی تلاش کریں گے تو ہم عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور یہی ایک سچے عاشق کا کام ہے کہ پھر اپنے محبوب کی باتوں کو ماننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں سے کہو کہ مجھ پر ایمان لائیں تا کہ ہدایت پائیں اور کامل ایمان یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت کی جائے جیسا کہ مَیں نے کہا، پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ایمان اور اعمالِ صالحہ ایسی چیزیں ہیں جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس لیے اس آیت میں یہ بھی لکھا ہے کہ میری بات پر لبیک کہیں۔ وہ باتیں یہی ہیں کہ اعمال صالحہ بجا لائیں۔ نیک اعمال بجا لائیں۔ نیکیوں پر قائم ہوں۔ عبادت کرتے ہوئے دعائیں مانگیں تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارا دوست بن جاؤں گا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے۔ اَللّٰہُ وَلِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا (البقرة: ۲۵۸) کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی دوستی اور ایمان پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرے گا اور پھر یہ قرب عطا کرتا چلا جائے گا، اس میں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ یہ قرب ایسا نہیں کہ ایک جگہ رکنے والا ہے۔ وہ دعاؤں کو بھی سنے گا۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قبویت دعاکےلیےحقیقی عبد بننے کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: اللہ تعالیٰ نے پہلی تو یہی بات کی ہے کہ عبد بن کے رہنا ہو گا۔ خالص اس کا ہو نا ہے۔ خالص ہو کر اس کی عبادت کرنی ہے۔ اس کو سب طاقتوں کا سرچشمہ سمجھنا ہےاور کوئی دنیاوی خدا نہیں بنانے۔ جھوٹے خدا نہیں بنانے۔ چھوٹے چھوٹے لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے لاشعوری طور پر اپنا خدا نہیں بنا لینا۔ یہ تو پھر شرک کی طرف چلا جائے گا۔ ابھی پچھلے دنوں حفاظت خاص جرمنی کے بھی لوگ آئے ہوئے تھے وہ یہی سوال کرتے تھے کہ کس طرح ہم اپنے فلاں افسروں کو خوش کریں تو ان کو مَیں نے یہی کہا ہے کہ تم لوگ جو کام کرو خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کرو اور خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ خود تمہارے افسران کی توجہ بھی اس طرف پھیر دے گا اور وہ تمہاری بہتری کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور تم پر رحم اور شفقت کا سلوک کریں گے لیکن سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا رحم اور شفقت مانگو اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس زمانے میں آپؐ کے غلامِ صادق ہونے کا حق ادا کیا ہے اور ہمیں نیکیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اپنی شرائط بیعت میں اکثر شرائط یہی ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف توجہ کرو۔ پس یہ چیزیں ہیں جن کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہیے اور جب ہم یہ کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ہمارا ولی بن جائے گا۔ ہمارا دوست بھی بن جائے گا۔ ہماری دعاؤں کو بھی سنے گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہےکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعائیں سنتا ہے جو بے صبری نہیں دکھاتے۔ اور یہ نہیں کہتے کہ میں نے بہت دعائیں کر لی ہیں اور اللہ تعالیٰ تو سنتا ہی نہیں۔ یہ کفر ہے اور ایمان سے دور لے جانے والی باتیں ہیں۔ ایک مومن کو ہمیشہ اس سے بچنا چاہیے۔ پس یہ چیزیں ہیں جن کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ مجھے بھی لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دعائیں اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے نہیں کیں۔ انہوں نے اپنے دنیاوی مقصد کے لیے دعائیں کی ہیں اور اس وقت کیں جب ان کو دنیاوی مسائل پیدا ہوئے۔ جب صرف دنیاوی مسائل کے حل کے لیے اللہ تعالیٰ کے قریب جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ایسی باتیں کیوں سنے گا۔ دوست تو اس وقت دوستی کا حق ادا کرتا ہے جب اس سے عام حالات میں بھی دوستی کا حق ادا کیا جائے اور اس کی باتوں کو سنا جائے، اس کو مانا جائے تب وہ تمہاری باتیں بھی سنے گا۔ پس یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ صرف ہم اپنے مقصد کے لیے اپنے دنیاوی کاموں کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس نہ جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کی کوشش کریں اور جب ہم یہ کریں گے تو انشاءاللہ پھر اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں بھی قبول کرے گا۔ پھر وہ سنتا بھی ہے، ان کا جواب بھی دیتا ہے کیونکہ اس نے تو خود کہا ہے کہ مَیں اپنے بندوں کو جواب دیتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ یہ تو دو دوستوں کا معاملہ ہوتا ہے کبھی دوست اپنے دوست کی مان لیتا ہے کبھی دوست سے اپنی منواتا ہے۔ اسی طرح خدا معاملہ کرتا ہے لیکن بظاہر جو ایک مومن کی دعاخدا ردّ کرتا ہے تو یہ بھی اصل میں اس کے فائدے کے لیے کر رہا ہوتا ہے۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خداتعالیٰ سے یقین کامل کےساتھ دعاکرنےکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: ہر دعا سے پہلے یہ یقین ہو کہ خدا ہے اور وہ بےانتہا صفات کا حامل ہے۔ سب قدرتیں اور طاقتیں رکھتا ہے۔ جب اس یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھو گے، اس کے آگے جھکو گے، اس سے دعائیں مانگو گے تو پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کی مکمل پہچان ہوگی، عرفان حاصل ہو گا اور قبولیتِ دعا کے نشانات بھی دیکھو گے۔ کئی لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھتے ہیں، کچھ واقعات بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ God Summit میں کئی لوگوں نے بیان کیےاور اس سے ان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ منہ سے تو کہہ دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین اور ایمان رکھتے ہیں لیکن اس کے احکام پر عمل نہیں۔ نمازیں سال کے سال صرف رمضان میں پڑھنے کی کوشش ہو جس طرح آجکل مسجدیں آباد ہیں۔ یہ مسجدیں ہمیشہ آباد رہنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ احمدی نمازوں کی طرف بہت توجہ دیتے ہیں لیکن ابھی بھی جہاں جہاں کمزوریاں ہیں ان کو اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ہم اس رمضان کو ایسا رمضان بنائیں جو ہماری عبادتوں کے معیار کو بلند کرنے والا ہو، ہمیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہو تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے خالص بندے بننے والے ہوں۔ اس کی باتوں کو ماننے والے ہوں اور پھر نتیجے میں اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو بھی قبول فرمائے۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عمر ؓنے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس کے لیے بابِ دعا کھولا گیا تو گویا اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیےگئے اور اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی جاتی ہے اس میں سب سے زیادہ اس سے عافیت مطلوب کرنا محبوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دعا اس ابتلا کے مقابلے پر جو آچکا ہے اور اس کے مقابلے پر جو ابھی آنا ہو نفع دیتی ہے اور اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔ اب صرف رمضان کے دنوں میں تو آفات نہیں آتیں یا مشکلات نہیں آتیں۔ مختلف وقتوں میں آتی رہتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم صرف ان دنوں میں دعائیں نہ کرو یا تمہیں جب ان بلاؤں کو دُور کرنے کے لیے ضرورت پڑے تو اس وقت دعائیں نہ کرو بلکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دعا جو مشکلات ابھی نہیں بھی آئیں اور وہ مشکلات کسی وقت بھی آ سکتی ہیں ان سے بھی بچانے کا کام دیتی ہے اس لیے تم مستقل دعا کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ جو مشکلات آئی ہیں ان سے بھی بچا کے رکھے اور جو اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں ان سے بھی نوازتا رہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اگر آئندہ بھی کوئی مشکل آنے والی ہے تو اللہ تعالیٰ ان بلاؤں کو، ان مشکلات کو دور کر دے اور ہمیشہ نفع عطا فرماتا رہے۔ جب یہ حالت ہو گی تو تبھی انسان وہ حقیقی مومن کہلا سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مومن کے زمرے میں ڈالا ہے۔ پس جب دعاؤں میں نیکی کی راہوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگو گے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ گذشتہ ابتلا سے بھی حفاظت میں آنے کے سامان ہوں گے اور آئندہ بھی بچتے رہو گے۔ پس یہ رحمت کے دروازے کھولنے کے لیے ہمیں مستقل اپنی زندگیوں میں وہ انقلاب پیدا کرنا ہو گا کہ ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے قائم رہے اور ہم خوشی غمی آسانی اور مشکل ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو طلب کرتے رہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ ایک روایت بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کا جواب دوں۔ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں۔ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں۔
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے تکالیف کےوقت دعاؤں کی قبولیت کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکالیف کے وقت اس کی دعاؤں کو قبول کرے تو اسے چاہیے کہ فراخی اور آرام کے وقت کثرت سے دعا کرے۔… ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں۔ جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس وقت اس کے ساتھ ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا۔ اگر وہ میرا ذکر محفل میں کرے گا تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر محفل میں کروں گا۔ اگر وہ میری جانب ایک بالشت آئے گا تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ جاؤں گا۔ اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا تو میں اس کی طرف دو ہاتھ جاؤں گا۔ اگر وہ میری طرف چل کر آئے گا تو میں اس کی طرف دوڑ کے جاؤں گا۔… ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ذوالنون یعنی حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جو دعا کی وہ یہ تھی کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ۔ (الانبیاء: ۸۸) اور فرمایا کہ اس دعا کو جو بھی مسلمان کسی ابتلا کے وقت کرے گا اللہ تعالیٰ اس دعا کو ضرور قبول فرمائے گا۔…حضرت یونسؑ کی دعا جو میں نے ابھی پڑھی ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ تعالیٰ بدل دیتا ہے اور رونا دھونا اور صدقات جو حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ ہوا تھا یا اس واقعہ میں جو ذکر ہےفردِ قراردادِ جرم کو بھی رد کر دیتی ہے۔ الزام لگ گیا سزا کا فیصلہ بھی ہو گیا تب بھی دعا اس کو ردّ کر دیتی ہے۔… آپ فرماتے ہیں کہ ’’میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ قبل از نزول بلا دعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے اور عذاب الٰہی سے ان کو بچا لیتا ہے۔ ‘‘ یہی آپؑ نے فرمایا ہے کہ بلائیں جب آ جاتی ہیں تب بھی اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے کہ وہ تب بھی تمہیں بچا لیتا ہے اگر تمہاری دعائیں حقیقت میں صدق دل سے کی گئی دعائیں ہیں اور تمہارا سچااستغفار ہے۔ فرمایا کہ ’’میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو۔ میں نصحاً للہ کہتا ہوں اپنے حالات پر غور کرو اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دعا میں لگ جانے کے لیے کہو۔ استغفار عذابِ الٰہی اور مصائب شدیدہ کے لیے سپر کا کام دیتاہے۔ ‘‘ استغفار بہت زیادہ کرو۔ یہ ڈھال ہے۔ یعنی یہ ڈھال ہے تمہاری۔ استغفار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بچائے گا۔ گذشتہ دنوں میں میں نے دعاؤں کی تحریک بھی کی تھی اس میں استغفار کی طرف بھی توجہ دلائی تھی۔ استغفار ایک ڈھال ہے۔ آپؑ نے فرمایا ’’قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ھُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۔ (الانفال: ۳۴)‘‘ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب کیوں دے گا اگر تم استغفار کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دیتا جو لوگ استغفار کر رہے ہوتے ہیں۔ حقیقی استغفار ہو۔ ’’اس لیے‘‘ فرمایا کہ ’’اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الٰہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو۔ ‘‘
مزید پڑھیں: قناعت اور سادگی کے حوالے سےسیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء




