نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم چودھری فرزند علی صاحب ابن مکرم چودھری شریف احمد صاحب (آف بھکر۔ حال یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم چودھری فرزند علی صاحب ابن مکرم چودھری شریف احمد صاحب (آف بھکر۔ حال یوکے)
۱۶؍ستمبر۲۰۲۶ء کو ۸۸؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد مکرم چودھری شریف احمد صاحب کو ۱۹۵۳ء میں مخالفت کے دَور میں اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ خود بیعت کرنے کی توفیق ملی۔ مرحوم نے ۱۹۹۶ء میں وقف کرنے اور پھر بطور انسپکٹر بیت المال صدر انجمن احمد یہ خدمت کرنے کی توفیق پائی۔مرحوم نماز ا ورروزہ کے پابند، تہجد گزار، چندہ جات میں باقاعدہ، ہمدرد، غریب پرور اور نیک مخلص انسان تھے۔ خلافت سے بہت پیار اور اخلاص کا تعلق تھا۔ تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔ ایک سال سے اپنے بیٹے کے پاس یوکے میں مقیم تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک پوتے مکرم عبد الوہاب طیب صاحب (مربی سلسلہ) اس وقت سوئٹزر لینڈ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرمہ بشارت بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالمعصوم صاحب (آف چھونگاں ضلع پونچھ صوبہ جموں و کشمیر۔انڈیا)
۲۲؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۴۸؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ پیدائشی احمدی تھیں۔ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجدگزار، ذکر الٰہی کی عادی، امانت دار، مہمان نواز، ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ چندہ جات با قاعدگی سے ادا کیا کرتی تھیں۔ جماعت کے ساتھ مضبوط مخلصانہ تعلق تھا۔ مرحومہ سرکاری ٹیچر تھیں اور دیانتداری، محنت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے بڑی ہر دلعزیز خاتون تھیں۔ جماعتی لٹریچر کا اچھا مطالعہ کیا ہوا تھا اور تبلیغ کا شوق رکھتی تھیں۔ آپ نے لمبا عرصہ لوکل صدر لجنہ اماء اللہ چھونگاں کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم طاہر احمد جمالی صاحب (مربی سلسلہ قادیان) کی بڑی بہن تھیں۔
۲۔مکرم نصیر احمد صاحب ابن مکرم ایم نوراحمد صاحب (آف بنگلور صوبہ کرناٹک۔انڈیا)
۸؍اگست ۲۰۲۶ء کو۴۵سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، جماعت کے ساتھ گہرا اور مضبوط تعلق رکھنے والے ایک مخلص اور پیدائشی احمدی تھے۔ جماعتی اموال کی حفاظت کرنے میں بہت مستعد اورخدمت خلق کا بڑاجذبہ رکھتے تھے۔ جماعتی پروگراموں میں شوق سے حاضر ہوتے تھے۔ آپ نے مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ سعیدہ شہناز بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری محمد رشید صاحب مرحوم (سابق صدر حلقہ-G-8 اسلام آباد۔ پاکستان)
۲۹؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۸۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت میاں پیر محمد صاحب پیر کوٹی رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نواسی،مکرم منشی نورالدین صاحب خوشنویس (کاتب روزنامہ الفضل ربوہ) کی بیٹی اور مکرم منشی محمد اسماعیل صاحب خوشنویس (سابق ہیڈ کا تب روز نامہ الفضل ربوہ) کی بہو تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی اور اکثر ذکر الٰہی اوردرود کے وردمیں مشغول رہنے والی، سادہ مزاج، حلیم الطبع اور ہر دلعزیز شخصیت کی حامل ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے گہرا وفا اور اخلاص کا تعلق تھا۔ آپ نے بڑی محنت کے ساتھ بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے کوشش کی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم ڈاکٹر محمد بشیر چودھری صاحب (انچارج احمد یہ مشن کلینک منروویا۔ لائبیریا) کی والدہ تھیں۔
۴۔مکرمہ امۃ الواسع فرحانہ صاحبہ اہلیہ مکرم مختار احمد صاحب (لاہور)
۱۷؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۵۳؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کو چھوٹی عمر سے ہی جماعتی خدمت کرنے کا شوق تھا۔ آپ نے باب الابواب ربوہ میں سیکر ٹری تحریک جدید و وقف جدید اور سیکرٹری ناصرات اور لاہور کی ایک مجلس میں صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ اسی طرح لجنہ اماءاللہ ضلع لاہور میں بھی خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ آپ نے متعد د احمدی اور غیر احمدی بچوں کو قرآن پڑھایا۔ آپ کو ۱۹۹۱ء میں ایک بیعت کروانے کی بھی توفیق ملی۔مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، ذکرالہٰی میں مشغول رہنےوالی، چندوں میں بڑی باقاعدہ ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔مرحومہ ۸/۱ حصہ کی موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا،دو بیٹیاں، دو بہنیں اور تین بھائی شامل ہیں۔
۵۔مکرمہ C.K.Aishabi صاحبہ اہلیہ مکرم Imbichi Koyatti صاحب مرحوم (کالیکٹ جماعت کیرلہ، انڈیا)
۲۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۶۹؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جماعت کالیکٹ کے ابتدائی ممبران میں سے تھیں۔ آپ کے شوہر نے اس جماعت کے لیے کئی قربانیاں پیش کیں۔ آپ کے شوہر کے خاندان میں بہت سے غیر از جماعت افراد تھے جس وجہ سے آپ کو مشکلات کا بھی سامنا رہا لیکن آپ ہمیشہ اپنے شوہر کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑی رہیں۔آپ کا ایمان اور خدا تعالیٰ پر یقین بہت مضبوط تھا۔ بیماری کا نہایت صبر و حوصلے کے ساتھ سامنا کیا۔ نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ گہرا اخلاص ووفا کا تعلق تھا۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، نرم مزاج، صابرہ و شاکرہ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پہل کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔
۶۔مکرم عمران احمد بصائر صاحب ابن مکرم برہان اشرف صاحب (Neu-Isenburg۔جرمنی)
۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ایک کار حادثے میں ۲۳؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا نظام جماعت سے اچھا تعلق تھا۔ آپ تحریکِ وقفِ نَو میں شامل تھے۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ آپ بڑے خوش اخلاق، شریف النفس، خدمت کے جذبے سے سرشار، خوش گفتار، نرم مزاج،محنتی،فرض شناس اور مخلص نوجوان تھے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بھائی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔
اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




