قومی نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۳؍فروری ۲۰۱۵ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ قومی نقائص اور کمزوریوں کے بارے میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا جس میں ان کمزوریوں کی وجوہات اور جماعت کو ان سے بچنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اس مضمون کی آج بھی ضرورت ہے اس لئے میں نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے آج اس مضمون کو لیا ہے۔
نقائص اور کمزوریاں ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک فردی کمزوریاں اور نقائص اور ایک قومی کمزوریاں اور نقائص۔ اسی طرح خوبیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک فردی خوبیاں اور دوسرے قومی خوبیاں۔ فردی نقائص وہ ہیں جو افراد میں تو ہوتے ہیں لیکن مِن حیث القوم، قوم میں نہیں ہوتے۔ اسی طرح خوبیاں ہیں۔ بعض خوبیاں افراد میں تو ہوتی ہیں لیکن مِن حیث القوم، قوم میں نہیں ہوتیں۔ افراد اپنے علم اور اپنی کوشش سے بعض خوبیاں اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں۔ اسی طرح نقائص کی وجوہات اور اسباب ہر شخص کے اپنے حالات اور ماحول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بدی اور نیکی کے بارے میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ نیکی اور بدی یا نقص اور خوبی اپنے ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے کوئی بیج زمین کے بغیر نہیں اُگ سکتا یا آجکل نئے ذریعہ کاشت میں ایک خاص قسم کی مٹّی بنائی جاتی ہے جس میں پانی جذب کرنے اور بیج کو پروان چڑھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ بڑے بڑے برتنوں میں اس کو رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے ہالوں کے اندر اس کی کاشت ہوتی ہے لیکن بہرحال اس کے بغیر بیج نہیں اُگ سکتا۔ کسی بھی بیج سے صحیح استفادہ کے لئے، اس سے اس کے اگانے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اس کو زمین یا زمین جیسے ماحول کے میسّر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر بیج اگر اُگے گا بھی تو تھوڑے عرصے میں مر جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح بدی یا نیکی جو نقائص یا خوبی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
پس برائیوں یا نیکیوں کے بڑھنے میں ماحول ایک لازمی جزو ہے۔ ارد گرد کے اثرات جب تک کسی نیکی یا بدی کے لئے خاص زمین تیار نہ کر دیں اس وقت تک وہ بدی یا نیکی نشوونما نہیں پاسکتی۔ لیکن ماحول بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک قسم کا ماحول ہر ایک پر ایک جیسا اثر انداز ہو جائے۔ ایک قسم کا ماحول صرف افراد پر اثر ڈالتا ہے اور مِن حیث القوم وہ ہر ایک کو متاثر نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی زمین کی ہے جس میں خاص فصلیں اُگ سکیں۔ مثلاً حضرت مصلح موعودؓ نے مثال دی ہے کہ زعفران ہے، ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے تویہ تمام ہندوستان میں نہیں ہوتا ہے بلکہ خطہ کشمیر میں ہوتا ہے اور وہاں بھی ایک خاص علاقہ ہے جس میں خاص قسم کا زعفران پیدا ہوتا ہے جو اعلیٰ قسم کا ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ74-75)
پاکستانی زمیندار بھی جانتے ہیں بلکہ چاول کا کاروبار کرنے والے بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ خوشبودار باسمتی جیسا کہ کالر کے علاقے میں ہوتا ہے وہاں پاکستان کے اور کسی علاقے میں نہیں ہوتا۔ زراعت کے ماہرین نے بڑی کوشش بھی کی ہے لیکن اس جیسی خوشبو پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بہرحال خاص حالات خاص بیجوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے قانون قدرت میں مہیا کر دئیے ہیں یا مقرر کر دیئے ہیں اس کے بغیر وہ خاصیت اور وہ صفت پیدا نہیں ہوتی۔ پھر زمین ہے یا دوسرے موسمی اثرات ہیں یہ سارے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر بعض فصلیں ایسی ہیں مثلاً گندم ہے یا خاص قسم کے باغات ہیں وہ ایک ملک میں تمام جگہ ہو جاتے ہیں۔ پیداوار میں کمی و بیشی کا فرق ہو تو ہو لیکن ہو جاتے ہیں۔ پس اسی طرح نیکیاں اور بدیاں بھی بعض اثرات کے تحت قومی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں اور پوری قوم کی ترقی یا زوال کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ افراد کی بدیاں تو افراد کی کوشش سے ٹھیک ہو سکتی ہیں اور اگر کوشش کریں تو نہ صرف بدیاں دُور ہو جائیں گی بلکہ افراد میں اگر وہ کوشش کریں تو فردی خوبیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ لیکن جو قومی اثرات کے تحت بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کے لئے کسی ایک فرد کی کوشش کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ فرد جزو ہے۔ کُل کا حصّہ ہے اور جو خرابی کُل میں ہو وہ جزو کی اصلاح سے ٹھیک نہیں ہو سکتی بلکہ کُل کی خرابی اگر ہو تو اس سے فرد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر ایک علاقے میں ماحول ہی خراب ہے تو اس ماحول کی وجہ سے وہاں رہنے والے تمام لوگ متاثر ہوں گے۔ مثلاً اگر کوئی شخص زہر کھا لے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ زہر ہاتھ پاؤں اور دماغ یا دوسرے اعضاء پر اثر نہ کرے۔ یہ تمام جسم پر اثر کرے گا۔ اسی طرح ہمارا کھانا ہے۔ گوشت پھل وغیرہ ہم کھاتے ہیں اور مختلف چیزیں ہم کھاتے ہیں ان سے جسم کا ہر حصہ فائدہ اٹھائے گا کیونکہ یہ تمام اعضاء کُل کے یعنی جسم کے افراد ہیں۔ اس لئے وہ زہر میں بھی حصہ لیتے ہیں اور اچھی خوراک میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح جو نیکی یا بدی قومی طور پر پیدا ہو وہ تمام قوم پر اثر ڈالتی ہے۔ پس جو قومی بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کا مقابلہ کوئی خاص حصہ جسم یا فردنہیں کر سکتا یا کسی خاص فرد کی اصلاح سے قومی اصلاح نہیں ہو سکتی، نہ بدیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نہ ہی نیکیوں کو پھیلایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کُل کا اثر جزو پر ضرور پڑتا ہے۔ بہر حال یہی قاعدہ ہے کہ اگر کل کو فائدہ ہو تو جزو کو بھی فائدہ ہو گا اور اگر کل کو نقصان پہنچے تو جزو کو بھی نقصان پہنچے گا۔
پس افراد کی بدیاں تو ان کی تشخیص کر کے پھر ان کا علاج کر کے دُور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے اور کسی کو اگر خود احساس ہو جائے تو وہ خود بھی کوشش کر کے اپنی بدیاں دُور کر سکتا ہے لیکن قومی بدیوں کو دور کرنے کے لئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بحیثیت قوم وہ بدیوں کو دور کرنے کے لئے کھڑی نہ ہو، کوشش نہ کرے یا بحیثیت قوم علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو بحیثیت قوم وہ بدیاں اور نقائص اس قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ قوم کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ پس جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس کی کمزوریوں کو دیکھے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی کمزوریوں کو دیکھیں اور ان کی نشاندہی کریں اور پھر بحیثیت قوم ان کا علاج اور تدارک کریں اور اس علاج میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ بغیر مشترکہ کوشش کے اور مشترکہ طور پر علاج کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیاوی قانون کو بھی اگر دیکھیں مثلاً قدرتی آفات ہیں، سیلاب ہے تو کوئی زمیندار اپنی زمین کو بند باندھ کر سیلاب سے نہیں بچا سکتا۔ بند باندھنا، اس کی منصوبہ بندی کرنا یہ حکومت کا کام ہے۔ مشترکہ کوشش حکومت کی طرف سے ہوتی ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ75-76)
حکومت نام ہے لوگوں کے جمع ہونے کا اور جہاں حکومتیں ہی نکمی ہوں وہاں پوری قوم کو نقصان ہوتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں گزشتہ دنوں جب گرمیوں میں سیلاب آیا تو اس میں ہم نے د یکھا اور ہمیشہ دیکھتے ہیں۔ بعض قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے بیشک قدرتی آفات ایسی ہیں کہ جب آئیں تو ان سے بچنا مشکل ہے لیکن ایسی بھی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔ بعض آفات کے آنے سے پہلے ان سے ہوشیار کرنے کے سامان ہو جاتے ہیں لیکن انسان اپنی لاپرواہی کی وجہ سے توجہ نہیں دیتا اور نقصان اٹھاتا ہے۔ بہر حال اگر قوم کو یا حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ رہے تو نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور یہ عموماً دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔ پس قومی احساس اصلاح کے لئے ضروری ہے۔ اس بارے میں جماعت احمدیہ کے حوالے سے حضرت مصلح موعودنے توجہ دلاتے ہوئے کہ ہمیں ان قومی بدیوں کو کس طرح دیکھنا چاہئے اور ان پر کس طرح غور کرنا چاہئے یہ فرمایا کہ اگر جماعت بعض پہلوؤں سے اس پر غور کرے اور اس کا علاج کرے تو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس کے مختلف ذرائع ہیں، کیونکہ یہ ذرائع جو ہیں وہ قومی امراض کی تشخیص کر سکتے ہیں اور جب تشخیص ہو جائے تو پھر یہ علاج بھی ہو سکتا ہے۔ پہلا ذریعہ وہ تعلیمات ہیں جو کسی قوم میں جاری ہوں اور جن پر عمل کرنا ہر شخص اپنا فرض سمجھتا ہو۔ اگر وہ بری باتیں ہیں یا اس تعلیم کے بدنتائج ہیں یا اس تعلیم سے بدنتائج نکل سکتے ہوں جیسا کہ بعض مذاہب میں ہیں تو اس کی وجہ سے پھر اس میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یا بدعات پیدا ہوتی ہیں اور ان کی وجہ سے پھر برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر کسی مذہب میں غلط عقائد اور باتیں ہیں تو اس سے ہر وہ شخص متاثر ہوگا جو بھی اس مذہب کو ماننے والا ہے اور تمدّنی اور معاشرتی زندگی میں بھی اس سے برے نتائج پیدا ہوں گے۔ صرف مذہبی طور پر نہیں بلکہ معاشرتی زندگی میں بھی، تمدّنی زندگی میں بھی برے نتائج پیدا ہوں گے۔ لیکن ہم جو مسلمان ہیں قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس تعلیم میں کوئی نقص نہیں اور اس کے برے نتائج کبھی نہیں نکل سکتے یا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس سے کوئی بدی پیدا ہو کیونکہ تعلیم بے عیب ہے اس لئے ظاہر ہے برا نتیجہ نکل نہیں سکتا۔ پس مسلمانوں نے یہ سوچ لیا کہ برائی آہی نہیں سکتی لیکن کیا سب مسلمان برائیوں سے پاک ہیں؟ جب ہم اپنے ماحول کا جائزہ لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی عمومی حالت دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اکثریت تو برائیوں میں مبتلا ہے۔
مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کی صفتِ حَسِیْب کا بیان



