موبائل فون کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے اثرات
(انس احمد ۔مبلغ سلسلہ ہبلی، کرناٹک،انڈیا)
آج ہمیں جو ذرائع میسر ہیں، انہیں لغویات میں وقت گزارنے کی بجائے اسلام کی تبلیغ و دفاع اور مسیح محمدیؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح جدید ٹیکنالوجی محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلام کی خدمت اور تبلیغ کا ایک مؤثر وسیلہ بھی بن سکتی ہے
موبائل فون آج ہماری روزمرہ زندگی کا محض ایک حصہ نہیں رہا بلکہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک انسان کا ایک بڑا حصہ موبائل کی سکرین کے ساتھ گزرتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی notifications دیکھنا، WhatsApp پر messages چیک کرنا، Instagram پر نئی posts دیکھنا اور YouTube پر videos دیکھنا ایک عام معمول بن چکا ہے۔ اسی طرح رات کو سونے سے پہلے بھی اکثر لوگوں کی آخری نظر موبائل کی سکرین پر ہوتی ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انسان موبائل استعمال کرنے کی بجائے خود موبائل کی عادات اور تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے لگا ہے؟
موبائل فون بذات خود کوئی بری چیز نہیں۔ آج اسی موبائل کے ذریعے قرآن کریم پڑھا جاسکتا ہے، دینی اور علمی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، دنیا بھر کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں، تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے، عزیزوں سے رابطہ رکھا جاسکتا ہے اور ضرورت کے وقت فوری مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ اصل مسئلہ موبائل کا وجود نہیں بلکہ اس کا بے اعتدال استعمال ہے۔ ایک ضرورت آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے اور کبھی یہی عادت انسان کو ایسی گرفت میں لے لیتی ہے کہ اسے موبائل کے بغیر وقت گزارنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
آج خاص طور پر short videos اور مسلسل scrolling نے انسان کی توجہ اور صبر دونوں کو متاثر کیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز دیکھنے کی عادت کے باعث لمبی بات سننا، کتاب پڑھنا یا کسی ایک کام پر دیر تک توجہ مرکوز رکھنا مشکل محسوس ہونے لگا ہے۔ بعض اوقات گھر میں والدین سامنے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن نظریں موبائل کی سکرین پر ہوتی ہیں۔ دوست ساتھ موجود ہوتے ہیں مگر گفتگو کی بجائے ہر شخص اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ہی کمرے میں موجود لوگ جسمانی طور پر ایک دوسرے کے قریب لیکن ذہنی طور پر ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ۔ حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ۔ (التکاثر: ۲ و ۳)تمہیں غافل کردیا ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی دوڑ نے۔ یہاں تک کہ تم نے مقبروں کی بھی زیارت کی۔کہ دنیا کی کوئی چیز انسان کو اس قدر مشغول نہ کردے کہ وہ اپنی اصل ذمہ داریوں اور زندگی کے مقصد سے غافل ہوجائے۔ اگر انسان گھنٹوں موبائل پر ایسی چیزیں دیکھتا رہے جن کا نہ دین سے تعلق ہو، نہ علم سے اور نہ ہی اس کی زندگی کے کسی حقیقی فائدے سے، تو یہ غور طلب بات ہے کہ کہیں اس کا قیمتی وقت بھی اسی غفلت کی نذر تو نہیں ہورہا۔
اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے حالیہ مثالیں بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء کو Hindustan Times نے راجستھان کے سرکاری Sawai Man Singh Hospital میں ہونے والی ایک study کی رپورٹ شائع کی۔ اس study میں ۱۰ سے ۱۶؍سال کی عمر کے ۱۵۰؍بچوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ۷۲؍فیصد بچے روزانہ ۳ سے ۶؍گھنٹے موبائل استعمال کرتے تھے، ۶۰؍فیصد بچوں کو پڑھائی کے دوران توجہ برقرار رکھنے میں مشکل پیش آتی تھی، ۴۸؍فیصد میں چڑچڑاپن اور aggressive behaviour دیکھا گیا، جبکہ ۴۱؍فیصد بچوں کو رات دیر تک موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے نیند کے مسائل کا سامنا تھا۔ مزید یہ کہ ۳۵؍فیصد بچوں کی گھر والوں کے ساتھ گفتگو بھی کم ہوگئی تھی۔
اس study کی senior psychologist Dr Jayshree Jain کے مطابق مسلسل موبائل کا استعمال بچوں میں اس قدر dependence پیدا کرسکتا ہے کہ موبائل نہ ملنے پر وہ بے چینی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ والدین کے لیے صرف موبائل کا وقت کم کرنا کافی نہیں بلکہ کھانے کے وقت phone-free routine بنانا، بچوں کو کھیل، مطالعہ اور creative activities کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے ساتھ quality family time گزارنا بھی ضروری ہے۔ بچے سے موبائل چھیننے کے ساتھ ساتھ اسے موبائل کا بہتر alternative دینا بھی ضروری ہے۔
India Today کے مطابق مئی ۲۰۲۶ء میں ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر بات کرتے ہوئے ایک انتہائی سخت مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ان کے چھوٹے بچے ہوتے تو وہ انہیں سوشل میڈیا پر اکیلے رہنے دینے کے مقابلے میں سگریٹ پینے کو ترجیح دیتیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت بھی کی اور واضح کیا کہ ان کا مقصد سگریٹ نوشی کی حمایت کرنا نہیں تھا بلکہ بچوں کو سوشل میڈیا پر موجود خطرات کی طرف توجہ دلانا تھا۔ یہ مثال اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور اسکرین کے بے اعتدال استعمال کے خطرات کو دنیا بھر میں سنجیدگی سے محسوس کیا جارہا ہے۔
جنوری ۲۰۲۶ء میں Times of India نے لکھنؤ میں نوعمر بچوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا گیا جن میں موبائل، online gaming، معمولی باتوں پر شدید ردعمل اور گھر والوں سے دوری جیسے عوامل سامنے آئے۔ ایک نویں جماعت کے طالب علم کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے کم نمبر آنے کے بعد موبائل کم استعمال کرنے کا کہا گیا تھا اور والدین نے کچھ عرصے کے لیے موبائل روک دیا تھا۔ اسی رپورٹ میں ایک ۱۶؍سالہ لڑکی کا بھی ذکر تھا جس نے موبائل پر ویڈیو دیکھنے پر ڈانٹ پڑنے کے بعد خودکشی کرلی۔
رپورٹ میں ماہرین نے اس صورتحال کے پیچھے صرف digital addiction ہی نہیں بلکہ جذباتی تنہائی، والدین اور بچوں کے درمیان گفتگو کی کمی اور حقیقی تعلقات سے دوری کو بھی اہم قرار دیا۔
اسی سال جون ۲۰۲۶ء میں The Indian Express کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک کے کوپل ضلع سے ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ بھی سامنے آیا۔ ۱۷؍سالہ ایک نوجوان پر اپنے والد اور بہن کو قتل کرنے اور اپنی والدہ کو زخمی کرنے کا الزام لگا۔ رپورٹس کے مطابق اسے mobile gaming کا عادی بتایا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت پیدا کرتا ہے کہ جب کوئی سرگرمی انسان کے وقت، جذبات اور رویے پر اس قدر اثر انداز ہونے لگے کہ وہ اپنے حقیقی رشتوں سے کٹنے لگے تو مسئلہ صرف کھیلنے کا نہیں رہتا بلکہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔
قرآن کریم مومنوں کی ایک خوبی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ۔ (المومنون: ۴) یعنی اور وہ لوگ جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں۔
اس آیت کی روشنی میں انسان کو اپنے موبائل کے استعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کا کتنا وقت واقعی فائدہ مند کاموں میں صرف ہورہا ہے اور کتنا وقت لغویات اور بے مقصد scrolling میں گزر رہا ہے۔
ایک حدیث مبارک میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق۶۴۱۲) موبائل نے ہمارے فراغت کے وقت کو بھر دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے کس چیز سے بھرا ہے؟علم سے یا لغویات سے؟
امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کے خطبہ جمعہ میں میڈیا کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ آج ہمیں جو ذرائع میسر ہیں، انہیں لغویات میں وقت گزارنے کی بجائے اسلام کی تبلیغ و دفاع اور مسیح محمدیؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح جدید ٹیکنالوجی محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلام کی خدمت اور تبلیغ کا ایک موثر وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
اس لیے ضرورت موبائل کو مکمل طور پر چھوڑنے کی نہیں بلکہ اس کے استعمال کا طریق درست کرنے کی ہے۔ موبائل سے قرآن پڑھا جاسکتا ہے تو اسے پڑھا جائے، دینی کتابیں حاصل کی جاسکتی ہیں تو ان سے فائدہ اٹھایا جائے، تعلیم کے لیے lectures اور courses موجود ہیں تو ان سے استفادہ کیا جائے اور اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے بھی اس ذریعہ کو استعمال کیا جائے۔ لیکن اگر انسان کو خود یہ معلوم نہ ہو کہ وہ موبائل کیوں کھول رہا ہے اور کتنی دیر استعمال کرے گا تو موبائل آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا قیمتی وقت کھاتا چلا جائے گا۔
اس سلسلے میں والدین کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ بچوں سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “موبائل مت استعمال کرو۔” والدین کو خود بھی عملی نمونہ بننا ہوگا۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی بات سننا، انہیں کھیلنے دینا، کتاب پڑھنے کی عادت ڈالنا، گھر میں گفتگو کا ماحول پیدا کرنا اور ان کے لیے موبائل کے بہتر alternatives پیدا کرنا ضروری ہے۔ اگر بچے کو موبائل سے ہٹا کر خالی چھوڑ دیا جائے گا تو وہ دوبارہ موبائل کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے پاس کھیل، کتاب، دوست، خاندان اور کوئی مفید مشغلہ موجود ہو تو موبائل کی کشش کم کی جاسکتی ہے۔
موبائل ہماری زندگی کو آسان بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، ہماری زندگی بننے کے لیے نہیں۔ ہمارے ہاتھ میں موبائل ہونا ترقی ہوسکتی ہے، لیکن ہمارے دماغ اور ہمارے رویے پر موبائل کا قبضہ ہوجانا ترقی نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موبائل کو اپنا خادم بنایا جائے، اپنا آقا نہیں۔ اصل کامیابی جدید ترین موبائل رکھنے میں نہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجیز کو محفوظ رکھنے میں ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہیلووین ۔ Halloween



