جماعتِ احمدیہ برطانیہ کی تیرھویں سالانہ امن کانفرنس میں امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بابرکت شمولیت اسلام کی خوبصورت اور بے مثال تعلیم کے مطابق دنیا میں قیامِ امن کے بارہ میں بصیرت افروز خطاب
میڈیا کو چاہیے کہ اسلام کی ان پُر امن تعلیمات کو بھی دنیا کے سامنے پیش کرے جن پردنیا کے مسلمانوں کی اکثریت عمل کرتی ہے۔
تقریب میں ممبرانِ پارلیمنٹ، وزرائے مملکت، مختلف ممالک کے سفارتکار، سرکاری عہدیداران، میئرز و دیگر معززین کی شرکت
لندن 19؍مارچ 2016ء (نمائندہ الفضل انٹرنیشنل لندن): امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 19؍ مارچ 2016ء بروز ہفتہ مسجد بیت الفتوح مورڈن لندن میں جماعت احمدیہ برطانیہ کی تیرھویں سالانہ امن کانفرنس میں شرکت کی اور صدارتی خطاب فرمایا۔ اس تقریب میں چھبیس ممالک سے تعلق رکھنے والے نَو صد سے زائد افراد نے شرکت کی جن میں سے پانچ صدکے قریب غیر احمدی و غیر مسلم مہمان شامل تھے۔
اس موقع پرحضورِ انور نے محترمہ حدیل قاسم صاحبہ (Hadeel Qassim)کواحمدیہ مسلم پرائز فار دی ایڈوانسمنٹ آف پیس (Ahmadiyya Muslim Prize for the Advancement of Peace) بھی عطا فرمایا۔ موصوفہ مشرقِ وسطی کے ناگزیر حالات میں مہاجربچوں کی فلاح و بہبود کے لئے غیر معمولی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
پِیس کانفرنس میں حضورِ انور ایّدہ اللہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ دنیا میں دیر پا امن کے قیام کے لئے ہمیں معاشرہ کی ہر سطح پربرابری کی بنیادوں پر انصاف کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ میڈیا کو دنیا میں قیامِ امن کے لئے تصویر کے اچھے رخ کو بھی پیش کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں حضورِ انور نے فرمایاکہ میڈیا کو دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت کو بھی کوریج دینی چاہیے جو اسلام کی امن پسند تعلیمات پر کاربند ہے اور معاشرہ کا صحت مند حصہ ہے۔ جبکہ اس کے برعکس میڈیا ان مٹھی بھر لوگوں کو جو غلط طور پر اسلام کے نام پر بہیمانہ جرائم کر رہے ہیں زیادہ کوریج دیتا دکھائی دیتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام میں ارتداد کی کوئی سزا نہیں اور قرآنِ کریم مذہبی آزادی کا علمبردار ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ دہشتگرد تنظیموں کی سپلائی لائن کو بند کردیا جائے تو یہ بہت جلد ختم ہو جائیں گی۔حضورِ انور نے اس تقریب کے ساتھ الگ سے ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں فرمایا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہیے۔
حضورِ انور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آج کے دور میں اسلام کے نام پر دہشتگردی کرنے والوں نے لوگوں کے دلوں میں اسلام کا خوف ڈال دیا ہے۔جبکہ اسلام سے ڈرنے والی ایسی کوئی بات نہیں، اسلام امن کا دین ہے اور جو لوگ اس پُر امن دین کے نام پر سفاّکانہ جرائم کر رہے ہیں اسلام ان حرکات کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دیتا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کی پہلی ہی سورت میں اللہ تعالیٰ کو ’رب العالمین‘ کہا گیا ہے۔ ایسا خدا جو تمام جہانوں کا رب ہے بھلا کس طرح اپنی ہی مخلوق کو قتل کرنے، یا انہیں نقصان پہنچانے کا حکم دے سکتا ہے؟ حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام باہم بات چیت، گفت و شنید اورافہام و تفہیم کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن جہاں اور کوئی چارہ نہ رہے وہاں قیامِ امن کے لئے طاقت کے استعمال سے بھی نہیں روکتا۔حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام میں سزا کا تصور بدلہ لینے کے رنگ میں موجود ہی نہیں ہے۔ اس کے برعکس کسی جرم کی سزا دینے کا مقصد مجرم اور معاشرہ کی اصلاح اور بہتری کے سوا اور کچھ نہیں۔
حضورِ انور نے اسلام کے بارہ میں پائی جانے والی ایک بہت بڑی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام میں ’ارتداد‘ کی کوئی سزا نہیں۔ اس کے برعکس مذہبی آزادی کا قیام اور فروغ اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔اگر کوئی مسلمان اسلام کو چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے اس بات کی اجازت ہے۔ کوئی حکومت، گروہ یا فرد اسے کسی بھی طرح سزا دینے کا حق نہیں رکھتا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ میڈیا کو معاشرہ میں مثبت باتوں کو فروغ دینا چاہیے۔ میڈیا آج ایک طاقتور چیز ہے، اسے اپنی قوت کا استعمال معاشرہ میں بہتری لانے کے لئے کرنا چاہیے۔ اسے دنیا کو دکھانا چاہیے کو دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت امن پسند ہے اور اسلام کی امن پسندانہ تعلیمات پر عملدرآمد کرنے والی ہے۔ نیز وہ مٹھی بھر لوگ جو اسلام کے نام پر دہشتگردی کر رہے ہیں ان کا اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ حضورِ انور نے فرمایاکہ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پبلسٹی بعض دہشتگرد تنظیموں کی بقاء کے لئے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ مغربی ممالک کو شام کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے راستے کھلے رکھنے چاہئیں تا کہ شام کے لوگوں کے حالات بہتر ہوسکیں۔ حکومتوں اور تنظیموں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حکومت (regime) کو گرانے کی بجائے امن کے پائیدار قیام پر زور دیں تو بہتر ہے۔ انہیں لیبیااور عراق سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
حضورِ انور نے فرمایاکہ ابھی تک دہشتگرد تنظیموں کی سپلائی لائن منقطع نہیں کی جا سکی۔ وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ان کے ساتھ ہتھیاروں اور تیل کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ سب حکومتیں انسانیت سے پُر جذبات کے فروغ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور کام کریں۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ دنیا میں انصاف کی پختہ بنیادوں پر امن کا قیام ہو جائے۔
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب سے قبل اس تقریب میں بعض معززین نے بھی تقاریر کیں۔ ان میں محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ، Siobhain McDonaghممبر پارلیمنٹ، Zac Goldsmith ممبر پارلیمنٹ و امیدوار میئر آف لندن (الیکشن 2016ء)، مکرم لارڈ طارق احمد بی ٹی صاحب، وزیر مملکت برائے انسداد شدّت پسندی، رائٹ آنریبل جسٹن گریننگ (Justine Greening)سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔
معزز مقررین نے دنیا کے حالات اور قیامِ امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حضورِ انور کی کاوشوں کو سراہا اور پائیدار امن کے قیام اور اس کے فروغ پر زور دیا۔
(کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ آئندہ کسی شمارہ میں پیش کی جائے گی۔)




