مروّجہ اناجیل اور عیسائیت میں خلافِ واقعہ روایات شامل ہو چکی ہیں
(سابق پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کا اعتراف)
چند سال پیشترمستعفی ہو جانے والے پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش اور عہد طفولیت کے بارہ میں اپنی نئی تصنیف میں، جس کا انگریزی ترجمہ امریکہ میں کراؤن پبلشنگ کمپنی نے
Jesus of Nazareth: The Infancy Narratives
کے نام سے شائع کیا ہے، بہت سے متنازع امور پر اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف عیسائیت میں ایسی غیر حقیقی روایات رواج پا چکی ہیں جن سے اب چھٹکاراحاصل نہیں کیا جا سکتابلکہ مروّجہ اناجیل میں ایسی عبارات بھی داخل ہو چکی ہیں جو گستاخانہ نوعیت کی ہیں۔
٭ …مثلاً لوقا (باب2 آیت 14 ) میں درج یہ فقرہ کہ "Glory be to God” (خدا کی تمجید ہو) ایک طرح سے خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہے کیونکہ خدا تو خود صاحبِ مجد ہے،اس کا یہ مقام انسانوں کا رہینِ منّت نہیں۔چنانچہ کتاب کے صفحہ74 پر آپ لکھتے ہیں کہ:
"God’s glory” is not something to be brought about by men …..
کیونکہ "God is Glorious” اور یہی کہنا مناسب ہے، نہ کہ "Glory be to God”۔
آپ نے بائبل کے قدیم مترجمین کو اس غلطی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس حوالے سے انجیل کے متن میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
٭ …جرمن نژاد سابق پوپ نے اطالوی زبان میں رائج اناجیل پر بھی تنقید کی جن میں ان انسانوں کا ذکر ہے جن سے خدا محبت کرتا ہے حالانکہ (عیسائیت کے بنیادی عقائد کے مطابق) خدا تو تمام انسانوں سمیت اپنی ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ (صفحہ 75)۔
٭ …اسی طرح سے آپ نے عیسائیوں میں رائج ان روایات کو بھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش پر فرشتوں نے انسانوں کی طرح کوئی گیت گایا تھا، جن کی آوازوں میں چرواہوں نے بھی اپنی آواز شامل کر لی تھی، خلاف واقعہ قرار دیاہے۔ لیکن ہر سال کرسمس پر فرشتوں سے منسوب اس قسم کے گیت (Carols)گائے جاتے ہیں۔ آپ کے الفاظ میں یہ محض سادہ لوح معتقدین کے کانوں میں گونجنے والی تصوراتی آوازیں ہیں۔ آپ کے الفاظ میں:
"But Christianity has always understood that the speech of angels is actually song, in which all the glory of the great joy that they proclaim becomes tangibly present …..It is only natural that simple believers would then hear the shepherd singing too, and to this day they join in their caroling on the Holy Night.”
٭ …ا سی طرح سے آپ نے کتا ب کے صفحہ 69 میں یہ امر واقعہ بھی بیان کیا کہ عہد نامہ جدید میں جہاں حضرت مسیحؑ کی پیدائش اور چرنی میں آپ کی موجودگی کا ذکر ہے وہاں آپ کے حضور کسی جانور کی ‘‘حاضر ی‘‘ کا ذکر نہیں ملتالیکن اس کے برعکس ہم تصاویر اور مجسموں میں دیکھتے ہیں کہ ننھے یسوع کے ساتھ دو جانور(بیل اور گدھا) ضرور دکھائے جاتے ہیں۔ یہ آئیڈیا دراصل بعد میں آنے والے عیسائیوں کے ذہنوں کی پیداوار ہے جو عہد نامہ عتیق کی اس آیت کے حوالے سے حضرت مسیح ؑ کے منکرین کو ایک پیغام دینا چاہتے تھے کہ:
‘‘بیل اپنے مالک کو جانتا ہے اور گدھا اس جگہ کو جانتا ہے جہاں اس کا مالک اس کو چارہ دیتا ہے لیکن بنی اسرائیل مجھے نہیں پہچانتے۔‘‘ ( یسعیاہ باب 1 آیت3)
آپ لکھتے ہیں کہ اب مسیحی علامت نگاروں نے ننھے مسیح کے ساتھ بیل اور گدھے کو دکھانا اپنے اوپر لازم ہی کر لیا ہے۔
"Christian iconography adopted this motif at an early stage. No representation of the crib is complete without the ox and the ass”
٭ …سابق پوپ نے اپنی اس کتاب میں حضرت یسوع مسیح ؑ کی پیدائش اور عہد طفولیت کے حوالے سے اناجیل اربعہ کے اور بھی کئی اندرونی تضادات اور تاریخی حقائق سے ان کا متصادم ہونا تسلیم کیا ہے۔
مثلاً لوقاؔ کا یہ لکھنا کہ مسیحؑ کی پیدائش کے سال قیصر آگسٹس ؔنے مردم شماری کا اعلان کیا حالانکہ مردم شماری ہیرؔڈ ا عظم کے دور میں ہوئی تھی جو مسیحؑ کی پیدائش سے چار سال قبل فوت ہو چکا تھا، اس لحاظ سے مسیح ؑکی تاریخ پیدائش وہ نہیںجو رائج ہے بلکہ اس سے چار سال پیشتر کی بنتی ہے۔
مسیح کی پیدائش پرایک غیر معمولی روشن ستارے کا ظاہر ہونا جو بیان کیا جاتا ہے وہ نظارہ بھی ایک تاریخی حوالہ کے مطابق چار سال قبل مسیح میں ہی دکھائی دیا تھا۔ اس قسم کا ایک نظارہ چھ یا سات سال قبل مسیح میں بھی دکھائی دیا تھا۔ چنانچہ بعض محققین مسیح کی پیدائش سن 6 یا 7’’ قبل مسیح ‘‘تسلیم کرتے ہیں۔(صفحہ99۔ 98 )
٭ …مزید برآں یہ کہ جس طرح اس ستارے کا چلنا متیؔ کی انجیل میں بیان کیا گیا ہے( کہ وہ مذہبی علماء کا رہنما بن کر ان کے سفر کے آغاز کرنے پران کے آگے چل پڑاتھااور پھر وہاں آکر ٹھہر گیاجہاں نو مولودمسیح موجود تھا)، سائنس سے متصادم اور خلاف حقیقت ہے۔ اس لئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایک کشفی نظارہ یا تمثیلی بیان ہو سکتا ہے۔(باب زیر عنو ان "The Star”صفحہ 97)
٭ …اسی طرح آپ لکھتے ہیں کہ متیؔ کا یہ لکھنا کہ ہیرڈ ؔنے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ بیت اللحم میںموجود دو سال سے کم عمرکے تمام لڑکوں کاقتل عام کر دیا جائے،تاریخ سے ثابت نہیں (صفحہ 108)۔
لیکن معذرت خواہانہ رویہ اپناتے ہوئے لکھا ہے کہ ان تمام تضادات کے باوجود کسی عیسائی کے اعتقاد میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے(صفحہ 118)
٭ …مصنف نے کتاب کے پہلے باب میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ متی اور لوقا کی اناجیل میں حضرت مسیح ؑ کے شجرہ نسب میں ناقابل فہم حد تک واضح تضادات موجود ہیں۔
چنانچہ متی نے یسوع مسیح کے شجرہ نسب میں 42 نام بیان کئے ہیں۔ مردوں کے ناموں پر مشتمل اس صلبی سلسلہ میں ایسی چار عورتوں کے نام بھی شامل ہیں جو نہ صرف گناہ آلود زندگی گزارتی تھیں بلکہ وہ غیر یہودی تھیں۔جبکہ شجرہ نسب بظاہر حضرت داؤدؑ سے چلتا دکھائی دیتا ہے۔
اس کے برعکس لوقا ؔنے مسیح کے شجرہ نسب میں 76 نام بیان کئے ہیں جن میں سے بیشتر نام متی ؔکے بیان کردہ شجرہ سے بالکل مختلف ہیں۔یہاں تک کہ حضرت مریم ؑ کے شوہر یوسفؔ( نجار)کی ولدیت تک مختلف بیان کی ہے۔ان تضادات کی وجہ کیا ہے ؟یہ ایک ایسا عقدہ لاینحل ہے جس کی وجہ معلوم کرنے کی کوششیں سعی ِ لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہوسکتیں۔
چنانچہ صفحہ 8 پر لکھتے ہیں کہ:
"It seems to me utterly futile to formulate hypotheses on this matter.”
آپ کے نزدیک متی اور لوقا دونوں نے از خود کچھ سوچ کریہ ‘‘نسب نامے‘‘ علامتی طور پرترتیب دیئے ہوں گے۔ جبکہ یوحناؔ نے اپنی انجیل کو نسب نامے کی اس بحث سے کلیتاً آزاد رکھتے ہوئے مسیح کو ازلی ابدی بیان کیاہے۔(صفحات 11-12 )
٭ …جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ اگر یسوع مسیح خدا تھا تو پھر کس طرح لوقا کی انجیل کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ دیگر بچوں کی طرح ‘‘ بڑا ہو رہا تھا اور طاقتور ہو رہا تھا،اور حکمت سے معمور ہو رہا تھا‘‘ اور ‘‘علمی صلاحیت میں اور جسمانی طور پر دن بدن بڑھتا رہا‘‘ (لوقا۔باب 2 آیات40 و 52 ) کیونکہ ‘‘ خدا‘‘ کی علمی صلاحیت، حکمت اور طاقت میں دن بدن اضافہ اور جسمانی افزائش کا بیان بھی تو خدا تعالیٰ کی توہین ہے۔اس کی کوئی معقول تشریح یا توجیہ پیش کرنے کی بجائے پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے ان الفاظ میںاپنی بے بسی کااظہار کیا ہے کہ :
"It becomes quite apparent that he is true man and true God, as the Church’s faith expresses it. The interplay between the two is something that we cannot ultimately define. It remains a mystery …”
یعنی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کلیسیا کے عقائد کے مطابق وہ ایک انسان بھی ہے اورخدا بھی۔ ان دونوں حیثیتوں کے باہمی تعامل کی نوعیت کا تعین کرنے سے ہم کلیتاً قاصر ہیں،ہنوزیہ ایک سربستہ راز ہے۔(صفحہ 127 )۔
گویا بقول شاعر ع
اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا !
بانیِ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
‘‘عیسائی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے مذہب کے اصول و فروع اچھے نہیں۔ایک انسان کو خدا بنانا ٹھیک نہیں۔اس زمانہ میں فلسفہ اور طبعی اور سائنس کے علوم ترقی کر گئے ہیں اور لوگ خوب سمجھ گئے ہیں کہ مسیح بجز ایک ناتواں اور ضعیف انسان ہونے کے اقتداری قوت اپنی اندر نہ رکھتا تھاا ور یہ ناممکن ہے کہ ان علوم کوپڑھ کر، خود اپنی ذات کا تجربہ رکھ کر اور مسیح کی کمزوریوں اور ناتوانیوں کو دیکھ کر یہ اعتقاد رکھیں کہ وہ خدا تھا؟ہر گز نہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد8 صفحہ348۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
٭٭ ٭٭٭٭




