دلچسپ اور ایمان افروز داستان
[یہ سطور( میجر ریٹا ئرڈ) محترم چوہدری رحمت علی صاحب (آف کینیڈا ) کے ایک سفر پا کستان کے بارے میں ہیں۔ان کے بیان کو مَیں نے ان کی زبانی اپنے الفا ظ میں لکھنے کی کو شش کی ہے۔امید ہے قارئین اسے دلچسپ اور ایمان افروز پائیں گے۔]
انسان کی ز ندگی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہو تے ہیں جن کی یاد مٹائے نہیں مٹتی۔کچھ ایسی کہا نیا ں ہو تی ہیں جن کو ضرور لکھا جا نا چاہئے۔ اس خیال سے کہ ہما ری اگلی نسلیںجو کہ مغر بی ملکوں میں پل بڑھ کر جوان ہو ئی ہیں ان کو دعا کی اہمیت و قبو لیت اور خدا تعا لیٰ کی ہستی کا ا حساس پیدا ہو۔ جب ان دنوں اور ان وا قعا ت کو یا د کر تا ہوں تو دل اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثنا سے بھر جا تا ہے۔
میر ے ایک کینیڈین دوست ہیں جو R. Gualtieri کے نام سے پہچا نے جا تے ہیں او ر اٹاوہ ( Ottawa ( یونیور سٹی میں پرو فیسر ہیں۔ مذا ہب کا مضمون پڑ ھا نے پر مقر ر ہیں۔ ہماری جما عت کے بارے میں انہوں نے کتاب لکھی ہے جس کا نام Conscience and Coercion ہے۔ یہ کتاب ان کا پا کستان کا سفر ہے۔ ان جیلوں تک رسا ئی کی دا ستان ہے جہاں ہما رے نوجوان اور معز ز بزرگ حضرات ایک دوسرے کو السلام علیکم کہنے اور کلمہ طیبہ کا بیج لگا نے کے جۡرم میں عرصئہ دراز سے قیدو بند کی مصیبتیں جھیل رہے تھے۔
1978ء کی با ت ہے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کینیڈا تشریف لائے تو میَں نے کچھ دوسرے عزیزو ں کی معیت میںحضور کو پرو فیسر صا حب سے ملوایا۔آپ نے مذ ہب کے با رے میں ا ن کے خیالات سنے۔ چند دن آپ کی صحبت میں رہ کر اور آپ کی محفلوں میں شا مل ہو کر پروفیسر صا حب اسلام کے با رے میں دلچسپ اور سیر حا صل بحثوں سے محظو ظ ہوئے۔پروفیسر صاحب بہت شریف النفس آدمی ہیں۔ عا جزانہ مزاج رکھتے ہیں۔ مختلف مذاہب کی تحقیق کی ہے۔ بہت اچھے لکھاری ہیں۔ ان کا قلم سچا ئی کا ساتھ دیتا ہے۔ نڈر ہو کر حقائق لکھتا ہے۔آمر یت کی تاریخ بتا تا ہے۔
1984ء میں جبکہ پاکستان میں فوجی آمر ضیا ء الحق کا دَور تھا اور احمد یوں پر ظلم و ایذا رسا نی شروع ہو ئی تھی جو اَب تک جاری ہے۔ حضر ت مرزا طاہر احمد خلیفۃا لمسیح الر ابع ؒ پاکستان سے ہجرت کر کے لندن تشریف لے آئے۔ان دنوں میں جب کہ احمدیہ جماعت نہا یت پُر آشوب حا لات سے گزر رہی تھی میَں نے حضور کی خد مت میں ایک عریضہ لکھا اور اجازت طلب کی کہ کیا میَں پرو فیسر صا حب کو پاکستان میں جماعت پر ہونے والے مظالم کے بارے میں لکھنے کی درخواست کروں، نیز ان کو ٹیلی و یژ ن اور ریڈیو کے پروگرامز میں اکثر جا نے کا مو قعہ ملتا ہے کیا اُن کو اِن موا قع پر جما عت کے حق میں بولنے کی درخواست کروں؟ اس کے علاوہ یو نیو رسٹی میں بھی لیکچر دیا جا سکتا ہے۔
حضورؒ نے فورا ً اجازت دے دی۔ پرو فیسر صا حب میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ چنا نچہ اس غرض کے لئے میَں ان کو ملنے گیا۔ حکومت پاکستان میں احمدیوں کے متعلق نئے آ ر ڈ یننس کے بارے میں تفصیل سے بتا یا خاص طور پر آ ر ڈیننس نمبر بیس(xx) کے متعلق ان کو آگا ہ کیا۔ پرو فیسر صا حب کہنے لگے : ‘‘ میَں کیسے مان سکتا ہوں کہ ایک حکومت اپنے شہریوں پر ا س قسم کی مذ ہبی پابندیاں لگا سکتی ہے اور عبا دت پر بھی اس قسم کی ظالمانہ پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ نیزحدود آ ر ڈیننس نا فذ کر سکتی ہے۔ مجھے یقین نہیں آ سکتا مگر چو نکہ آپ کہہ رہے ہیں، میَں جا نتا ہو ں آپ غلط بیا نی نہیں کر ر ہے اس لئے مان لیتا ہوں مگر بِن دیکھے اس مو ضوع پر کیسے قلم اٹھا سکتا ہوں؟ ‘‘
میَں نے پو چھا پھر آپ بتا ئیے، آپ کو کیسے یقین آسکتا ہے ؟ آپ میری باتو ں کو کیو نکر سچ سمجھیں گے؟‘‘ اس بات پر انہوں نے مجھے جوا ب د یا کہ اگر میَں خود جا کر دیکھوں تو شاید یقین آجا ئے۔ میری خو شی کا کو ئی ٹھکا نہ نہ رہا۔ یہی میری خوا ہش تھی جس کا انہوںنے اظہار کر دیا۔ چنانچہ میَں نے اُن سے کہا جب بھی آپ کا پا کستان جا نے کا ارادہ ہو گا میَں آپ کے ہمراہ جانے کی سعا دت حا صل کروں گا۔ وہ محفل یونہی باتوں با تو ں میں ختم ہو گئی۔ اُس وقت انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ خود یو نیو رسٹی آ ئیں اور احمد یوں پرپا کستان میں ہو نے وا لے مظا لم کے متعلق لیکچر دیں۔ جس کا میَں نے ان کویہ جواب دیا کہ جو اثرآپ کی باتوں کا ہو سکتا ہے وہ اثر میری با تو ں میں کہا ں۔
محفل بر خواست ہو ئی۔ میَں نے اس دن کی ساری کارروا ئی حضوررحمہ اللہ کو لکھی اور پرو فیسر صا حب کو پاکستان لے کرجانے کی اجازت ما نگی۔ حضور کا مجھے نہایت محبت بھرا مثبت جواب مِلا۔
٭…پرو فیسر صا حب پہلے بھی پا کستان جا چکے تھے۔ اب ایک مر تبہ پھر میری درخوا ست پر انہوں نے رختِ سفر باندھ لیا۔ وہ بھا رت بھی جا نا چا ہتے تھے۔ چنا نچہ طے یہ پایا کہ پہلے وہ ہندوستان جا ئیں گے پھر ہم دو نو پا کستان میں ملیں گے۔ جب حضور کو ہما رے سفرِ پاکستان کاپتہ چلا تو آپ نے مجھے تا کید فرمائی کہ اس سفر سے پہلے پروفیسر صاحب کو ایک ہفتہ کے لئے لندن بھی ضرور لے کر ٹھہر یں۔ حضور ایک بار پھر ان سے ملنا چا ہتے تھے۔ پروفیسر صاحب نے میرے ساتھ لندن ٹھہر نے کی تمنا بھی پوری کر دی۔ لندن قیام کے دوران انہوں نے کئی مر تبہ حضور کے انٹرویو زلئے۔ جما عت کے بہت سے لو گو ں سے ملنے اور بات چیت کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے علا وہ بشیر آر چر ڈ صاحب کا بھی انٹرویو لیا۔ جہاں ہم ٹھہرے ہو ئے تھے ہمارے کمر ے ساتھ ساتھ تھے۔ رات کے تقر یباً اڑھا ئی، تین بجے ہو ں گے میں ان کے کمر ے کے آ گے سے گزرا۔ ان کے کمرے کی بتی جل رہی تھی۔ میَں نے اس خیال سے دروازہ کھو لا شاید انہوں نے مر چو ں وا لا تیز کھا نا کھا لیا ہے اور سو نہیں پا رہے۔وہ کمرے میں ٹہل رہے تھے۔ میَں نے ان کا حا ل دریا فت کیا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا
” I dont know , I am charged. I cannot sleep.”
ان کی نیند کیوں اۡڑی ؟ درا صل بات یہ تھی کہ اسی دن مغرب کی نما ز پر جب میَں مسجد جا نے لگا تو پروفیسر صاحب بھی ساتھ ہو لئے۔ نماز کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرا بعؒ کے ساتھ سوال و جواب کی محفل تھی۔ میَں نے ان کو ترجمے والے کمرے میں بیٹھنے اور انگلش میں سننے کی سہولت دینا چا ہی مگر وہ نہ ما نے اور کہا میَں یہیں ٹھہر کر حضور کو د یکھنا چا ہتا ہو ں۔ سوال و جواب اردو میں ہو ر ہے تھے۔ زبان سے نا آشنا وہ بس محویت سے حضور کا چہرہ د یکھا کئے۔ قطعاً نہ اُکتائے۔ سکون و اطمینان سے بیٹھے ر ہے اور ٹکٹکی باندھ کر حضور کو د یکھتے رہے۔نہ جا نے ان پر اس محفل کا کیا ا ثر ہوا کہ پھر وہ سو نہ سکے۔
٭…اگلے دن ان کومکرم بشیر آر چرڈ صاحب سے اسلام آباد (Tilford )میں ملنا تھا اور انٹر ویو لینا تھا۔ ہمیںاسلام آباد جانے کے لئے لطیف شا کر صاحب کے ساتھ سفر کرنا پڑا۔راستے میں شاکر صا حب کو ایئر پورٹ پر کتابیں بۡک کروانا تھیںجوایک فلسطینی طالب علم کوبھجوانامقصود تھیں۔شاکر صا حب پانچ منٹ کا کہہ کر چلے گئے۔وقت گزرتا رہا۔ دس منٹ، پندرہ منٹ، بیس منٹ ہو گئے۔ انتظار طو یل ہو تاگیا۔ مجھے فکر ہو ئی۔ میَں ان کے پیچھے گیاتو معلوم ہو ا کہ ایئر پورٹ کے افسران ہر بار ان کی پیکنگ کو مسترد کر دیتے تھے کیو نکہ یہ پیکنگ ان کے معیار پرپو ری نہ اُتر تی تھی۔ اس لئے دیر ہو رہی تھی۔اتنے میں میرے پیچھے پرو فیسر صاحب بھی آ گئے۔ ان کو معا ملے کا پتہ چلاتو انہوں نے نہا یت چا بکد ستی سے دو منٹ میں ان کے معیار کے مطابق پیکنگ کر دی اور یو ں پرو فیسر صا حب نے اس وقت مشکل آسان کر دی۔ پروفیسرصا حب نے جوانی میں ایک پیکنگ کر نے وا لی کمپنی میں کام کیا تھا اور ان کو اس پیشے میں خا صی مہا رت تھی۔یہ بھی اللہ تعا لیٰ کی طرف سے خاص انتظام ہوا کہ پروفیسر صا حب کو ہما رے ساتھ ایئر پو رٹ بھجوا یا کہ تم جا کر پیکنگ کرو ورنہ کتا بو ں کی تر سیل نا ممکن نظر آتی تھی۔ ہم ان کا شکر یہ ادا کر تے ہو ئے اور اللہ تعا لیٰ کی حمدو ثنا کر تے ہو ئے اپنی منزل کو روا نہ ہو گئے۔ محترم بشیر آر چرڈ صا حب سے انٹرویو کے دوران مختلف با تیں ہو تی ر ہیں۔ ایک دلچسپ بات بیان کر نے کے لا ئق ہے۔ پرو فیسر صاحب نے بتا یا کہ وہ پادری کے بیٹے ہیں۔ بشیر آر چرڈ صاحب نے کہا کہ ان کے والد بھی پا دری تھے اور گر جا گھر کے منسٹر تھے۔
٭…ایک ہفتہ لندن میں رہنے کے بعد ہم پا کستان روانہ ہو ئے۔ وہاں ا ن کا مشن زیادہ سے زیادہ لو گوں سے انٹرویو لینا تھا۔ وہ اپنا سفر نا مہ لکھنا چا ہتے تھے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بہت سے احمد یوں اور غیر ا حمد یو ں کے انٹر ویو لئے۔ ایک دن جبکہ ان کو کچھ فرا غت ملی تو گھر والوں کے لئے پاکستان کی سو غا تیں اکٹھی کر نے کا خیا ل آیا۔ پاکستان میں مختلف واقعات بیان کر نے کے قا بل ہیں۔ ان کو بچوں کے لئے خر یداری کر نا تھی۔ مو ٹے منکے ا ور موتیوں والے پنجا بی، سند ھی اور بلو چی ہار مغرب میں بہت پسند کئے جا تے ہیں۔ ایسے زیورات پاکستان میں عام طور پرفقیر، ملنگ یا دیہا تی لو گ پہنتے ہیں جب کہ مغرب میں ان کی بہت اہمیت ہے اور یہ ما ڈرن ہپیوںکافیشن ہے۔چنانچہ ہم راولپنڈی کی ایک دکان میں مصنو عی زیورات خریدنے کے لئے نکلے۔ زیورات پسند کر لینے کے بعد ہمیںاحساس ہوا کہ ہما ری جیب میں رقم پو ری نہیں۔ وقت بھی تھوڑا تھا۔ زیورات کی اس دکان پر دو با رہ صرف خریدا ری کی غرض کے لئے آنا ممکن نہ تھا۔ اس لئے میَں نے دو کاندار سے محبت و نر می سے کہا ‘‘ ہمارے ساتھ کو ئی آد می بھیجو۔ ہم اسلام آباد کے ا حمدیہ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے ہیں تا کہ ہم بقا یا رقم ادا کر دیں۔ ‘‘دکاندار نے جو کہ ایک نہا یت ہی شر یف آد می تھا نہا یت خلو ص سے کہا: ‘‘آپ زیور لے جا ئیے، اسلام آباد میں ہما را فلاں رشتہ دار ہے اس کے پاس بقا یا ر قم پہنچا دیجیے۔ مجھے آپ پر کو ئی بے اعتبا ری نہیں ‘‘۔ میَںنے حیران ہو کر اس سے پو چھا ‘‘ تم ہمیںجا نتے بھی نہیں۔ ہماری کو ئی قدیم دوستی یا جا ن پہچان یا رشتہ دا ری و تعلق دا ری نہیں ہے۔ ہم تمہا رے لئے اجنبی گاہک ہیں۔ ہم پر کا ہے کو اعتبار کر لیا۔ ہم دونو چو نکہ پا کستا نی تھے میَں اس سے اردو یا پنجا بی میں گفتگو کر رہا تھا مگر وہ اللہ کا بندہ پروفیسر صا حب کی خا طراپنے ذہن پر زور دے دے کر ٹو ٹی پھو ٹی گلا بی انگریزی بول رہا تھا جو اس نے پاکستان کی اردو درسگا ہوں میں سیکھی تھی۔ اسی پہ وہ بے چارہ خوش ہو رہا تھا کہ اس کی زبان ہم سمجھ رہے تھے اور اسے جواب بھی دے رہے تھے۔ اس نے اصرار سے مجھے کہا کہ ‘‘ آپ میرے پیسے نہیں مار سکتے۔ مجھے اس کی پر واہ نہیں۔ آپ ایسے آدمی نہیں۔ صبح سے شام تک میَں سینکڑوں گاہکوں کو دیکھتا ہوں۔آپ کا چہرہ الگ دکھا ئی دیتا ہے۔ جھو ٹ بو لنے وا لا نہیں۔ آپ کو میَں پہچان سکتا ہو ں۔ میرے پیسے آجا ئیں گے ‘‘۔ ایک عیسا ئی پرو فیسر کے سا منے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ادنی غلام کی یہ عز ت افزا ئی! اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کیا جا ئے کم ہو گا۔ پرو فیسر صا حب بھی حیران تھے کہ وہ کس د نیا میں کھڑے تھے۔ جس د یس سے وہ آئے تھے وہا ںمرّ وت نام کی کو ئی چیز نہیں ہو تی۔ وہاں چیک، نقد یا پھر بینک کارڈز چلتے ہیں۔ لحاظ کی گاڑی کو ئی نہیں کھینچتا۔ وہاںپیسہ بادشاہ ہے۔ پیسہ وزیر ہے۔ پیسہ پیا دہ ہے۔ وہاں پیسے کے بہت نام ہیں۔ محبت، مروّت، خوشی، بپتا، سہتا، خود غر ضی سبھی ایک چیز سے پہچا نے جا تے ہیں۔ اپنے وطن میں پرو فیسر صا حب کی معیت میں اس دکاندار کا مجھ جیسے عا جز کے ساتھ یہ سلوک میرے لئے بہت مسرت کا باعث ہوا۔اس واقعہ نے پرو فیسر صا حب کے دل پر گہرے نقوش چھوڑے۔اسلام آباد پہنچ کر میَں نے بقا یا رقم اس محسن دکاندار کے عزیز کو پہنچا دی۔اور یو ں اللہ تعا لیٰ کی دی ہو ئی تو فیق سے بر وقت اپنا وعدہ پو را کر دیا۔ الحمد للہ۔
٭…دوسری اس سفر کی خاص بات جو میَں بیا ن کرو ں گا وہ قبو لیت دعا سے تعلق رکھتی ہے۔ دسمبر کا آخر ی ہفتہ تھا۔ پرو فیسر صا حب کی بیٹی (جوکہ سنگا پور میں فارن افیئزز میں کام کر رہی تھی) کا فون آیا کہ وہ کینیڈا آ رہی ہے اورباپ کو ملنے کی بھر پور خواہش کا ا ظہا ر کیا اور کہا کہ وہ کرسمس اُن کے ساتھ منا نا چاہتی ہے۔ پرو فیسر صاحب کا ابھی اور قیام کا ارادہ تھا۔ اسی حساب سے ان کی ٹکٹ بۡک ہو ئی تھی۔ بیٹی کا فون سن کر واپسی کا ارادہ کر لیا۔ کر سمس کے دن تھے۔ سا ری دنیا میں چھٹیاں ہو تی ہیں۔ بھرے ہو ئے جہا ز چلتے ہیں۔ یہ مسا فروں کا مو سم کہلا تا ہے۔ ان دنوں میں سیٹ ملنی بہت مشکل ہو تی ہے۔ یہ سب کچھ جا نتے بو جھتے ہو ئے پرو فیسر صا حب کو نئی بکنگ کروا کر جلد از جلد گھر وا پس جا نے کی تمنا تھی۔ ان کی بیٹی کینیڈا آ رہی تھی اس کو ملنے کی بے قراری تھی۔ بیٹی کے ساتھ عا م طور پر باپ کو تعلق زیادہ ہو تا ہے۔ اس وقت وہ اپنے وطن سے بہت دُور تھے۔ ان دنو ں میں سیٹ ملنے کی بظا ہر کو ئی صورت نظر نہیں آیا کر تی۔ کرسمس میں دو دن با قی تھے اور پرو فیسر صا حب کا مجھ سے اصرار تھا کہ مجھے کسی طور جہاز میں نشست دلوا د و۔ مجھے ہر حال میں واپس جا نا ہے۔ وقت کی نزاکت ہم دو نو جا نتے تھے مگر پھر بھی پی آئی اے(PIA) کے دفتر میں جا پہنچے۔
اس دفتر میں ایک افسر جا و ید صا حب میرے شنا سا تھے۔ ان کے آگے میَں نے ٹکٹ رکھتے ہو ئے عر ض کیا ایک نشست کا سوا ل ہے۔ میرے اس پر دیسی دوست کی مدد آپ کو کر نا ہو گی۔ وہ معذرت کر تے ہو ئے کہنے لگے۔ آج کل کے رَش میں یہ ممکن ہی نہیں۔ ہر جہا ز بھرا ہو اہے ہر طرف fully bookedہے۔ میَں اس وقت آپ کی مدد کر نے سے قاصر ہو ں۔جاوید صا حب کے اس کو رے جواب پر پروفیسرصا حب نے میرے کان میں سرگو شی کی۔
"Why don’t you tell your God to get me a seat ?”
(تم اپنے خدا کو کیو ں نہیں کہتے کہ مجھے ایک نشست عطا کر دے)
میَں نے اس کا کو ئی جواب نہ دیا۔ مجھے پر یشا نی ہوئی۔ مجھے جواب سو جھا ہی نہ تھا۔ یہ ان کی طرف سے مجھے ایک بڑا چیلنج تھا کہ ہم نہ صرف خدا تعا لیٰ کی ہستی پر یقین رکھتے ہیں بلکہ اللہ کو سمیع و مجیب ما نتے ہیں۔ اُ دْ عُوْ نِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ کا درس دیتے پھر تے ہیں۔ مجھے پرو فیسر صاحب کے اس جملے نے ہلا کر رکھ دیا۔ کرسمس میں دو دن باقی، بہت رَش، ٹکٹ ملنے کا سوال ہی نہ تھا، نا ا میدی کی کیفیت تھی۔ اور پرو فیسر صا حب کسی معجزہ کے امید وار تھے۔
جا وید صا حب نے ہمیں پُرتکلف چا ئے پیش کی۔ چائے کے دو را ن مَیں نے پھر اپنا مطا لبہ دہرا یا۔ کیا ایک نشست بھی نہیں مل سکتی ؟ وہ کہنے لگے ‘‘ آپ ایک نشست کا نام لیتے ہیں مگر آپ کا نام انتظار کرنے وا لو ں کی فہر ست میں بھی نہیں آ رہا۔ ویٹنگ لسٹ کافی لمبی چو ڑی ہو تی ہے۔ کمپیو ٹر نے آپ کا نام قبول ہی نہیں کیا۔ میَں اصرار کر تا رہا، کو شش تو کرو۔ ایک طرف پی آئی اے والوں کا صا ف جواب تھا تو دوسری طرف پرو فیسر صا حب مجھے بار با ر کہہ رہے تھے Why don’t you tell your God to get me a seat? ( تم اپنے خدا کو کیو ں نہیں کہتے کہ مجھے ایک نشست عطا کر دے ) ان کے الفاظ میرے اندر ہلچل مچا رہے تھے۔میرا رۡوآں رۡوآں اللہ قادرو توا نا سے معجزہ کا طلبگا ر تھا۔ یا الٰہی میں لاکھ گناہ گا ر سہی تیرے محبوب کا نام لیوا توہوں۔ اپنے محبوب کے صدقے مجھے بخش دے۔ میَں نے اس زما نے کے امام کو ما نا ہے میری لا ج رکھ لے اور آج اس غیر مُسلم کے سا منے میری آبرۡو رکھ لے بظاہر میَں PIA کے دفتر میںبیٹھا ہوا تھا۔ لیکن میرا دل و دماغ غفورور حیم کے سا تھ محو گفتگو تھا۔ میر ی خا مو شی درداور الحاح سے کی ہو ئی دعا سوزمیں ڈھل رہی تھی۔ میَں امام ِوقت کا غلام تھا۔ مجھ میں اور اس عیسا ئی میں بہت بڑا امتیاز یہ تھا کہ میَں زندہ خدا پر یقین رکھتا تھا۔اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِینۡ کے الفا ظ نے مجھے حیا تِ نَو دی تھا۔ مَیں نے حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کی اتبا ع میں خدا تعا لیٰ کے پیا رے خزانے کو پا یا تھا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِ یْرٌ پر یقین میرا مسلک تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے دور اور امام مہدی کی دعا ؤں کی قبو لیت کے ہزاروں وا قعات میرے سا منے تھے۔میَں اللہ تبارک و تعا لیٰ کی رحمت کا طلبگار تھا۔ مَیں زیر لب دعا میں مصروف رہا۔
تھو ڑا سا دعا کا مو قع ملا۔ ابھی ہم نے چا ئے کی دوسری پیا لی ختم نہیں کی تھی کہ اچا نک سۡپر وا ئزر صا حب نہا یت تیزی سے کمر ے میں دا خل ہو ئے اور ہمیں یہ مُژدہ سنا یا کہ سِیٹ بُک ہو گئی۔ میَں نے حیران ہو کر پو چھا یہ کیسے ممکن ہو گیا؟انہوں نے بتا یا کہ چا لیس افراد پرمشتمل ایک گروہ اکٹھا سفر کر نا چا ہتا تھا انہوں نے اپنا ارادہ تبد یل کر دیا ہے۔ آپ کے لئے چا نس نکل آیا۔ خدا تعا لیٰ نے مجھ عا جز کی التجا قبول کر لی۔ مجھے پروفیسر صا حب کے سا منے شر مندہ ہونے سے بچا لیا۔ پرو فیسر صا حب بھی اس کہا نی کو سمجھ چکے تھے۔ ان کے پا س اب کہنے کو کیا تھا۔ Why don’t you tell your God to get me a seat ? یہ جملہ اب انہوں نے نہیں دہرا یا تھا۔ وہ خا مو ش بیٹھے رہے۔ قبولیت دعا کا معجزہ انہوں نے اپنی آنکھو ں سے دیکھ لیا تھا۔ ان کے چہرے کے تأثر ات ان کے دل کی حا لت کی غمّازی کر رہے تھے۔ ان کی خاموش نگا ہیں تشکّر کا نغمہ اَلاپ رہی تھیں۔ ان کی روا نگی کا دن آپہنچا۔ پاکستان سے واپس جا تے ہو ئے کرا چی ایئر پورٹ پر ہم ان کو خدا حا فظ کہنے کے لئے گئے۔ پرو فیسر صا حب جا نے لگے تو میَں نے ان سے عرض کیا کہ پرو فیسر صا حب آ پ بھی دعا کیا کریں۔ پرو فیسر صا حب نے ایک دم سے چیخ کر مجھے جواب دیا:
” I am not going to pray.”
( میَں دعا نہیں کروں گا )۔ میَں نے ہنستے ہو ئے کہا بھئی کیا بات ہے؟ دعا کے لفظ پر آپ کو اس قدر تکلیف کیوں ہو ئی ہے ؟ آپ نا را ض کیوںہو ر ہے ہیں ؟ پروفیسر صا حب نے ایما ندا ری اورسچا ئی سے کہا
’’اگر میَں دعا کروں گا تو مجھے ا حمدی ہو نا پڑے گا جو میَں نہیں ہو نا چاہتا‘‘۔
ز … مذہب کے نام پرپاکستان میں احمدیوں کو ایذا رسانی "Persecution of Ahmadies in Pakistan” کے مو ضو ع پر ان کو ریسر چ کر نا تھی۔ اس سلسلہ میں ہم کوئٹہ کے لئے روا نہ ہو ئے۔ کوئٹہ میں مچھ جیل میں ہمارے ایک مخلص بھا ئی محتر م عبد الر حمان صاحب نظر بند ہیں جو کہ کلمۂ طیبہّ کا بَیج لگا نے کے ‘‘ جۡرم‘‘ میں ملو ث پا ئے گئے۔ مچھ جیل وہ قید خا نہ ہے جس کو maximum security prison کا درجہ دیا گیا ہے۔ یعنی اس جیل میں ایسے نہایت خطر ناک مجرم رکھے جا تے ہیں جنہوں نے بھیا نک جرا ئم اور واردا تیں کی ہو تی ہیں۔ وہیں کلمۂ طیبہّ کا بیج لگا کر پھر نے وا لا بھیانک مجر م احمدی عبد الر حمن بھی شا مل تھا۔
کو ئٹہ کے امیر جما عت کو ہم نے اپنے آنے کا مقصد اور ارا دے کی اطلاع دی۔ انہوں نے ہمیں بتا یا چو نکہ یہ maximum security prison ہے اس لئے غیر ملکیوں کو ملنے کی اجا زت نہیں ہو تی۔ یہ خبر ہما رے لئے نہایت مایوس کۡن تھی۔ جس مقصد کے لئے پرو فیسر صا حب یہاں تک چل کر آئے تھے وہ پو را ہو تا نظر نہ آتا تھا۔ مجھے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضل و ر حم کی آس ر ہتی ہے۔ ہر مشکل وقت میں خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے مخلصی کا رستہ نکا لتا ہے۔ میَں دعا کی قبو لیت کی لذّت سے آشنا ہو ں۔ چنا نچہ میَں نے دل ہی دل میں اپنے مالک کو پکارا۔ پھرمیَں نے سو چا تد بیر بھی ضرور کر نی چا ہئے۔ اس اطلاع کے با وجود ہم نے سو چا کو شش کر لینے میں کیا حرج ہے۔میَں اور پرو فیسر صا حب امیر صاحب جماعت کو ئٹہ اور نائب امیر کی معیت میں مچھ جیل کی طرف گئے۔ دعا ہما را ہتھیا ر تھا۔ ابھی میَں سوچ ہی رہا تھا کہ پروفیسر صا حب کو محترم عبد الر حمان صا حب سے کس طر ح ملوا یا جا ئے۔ کیسے وہ ان کا انٹرو یو لیں ؟۔کیو نکہ قیدی تک رسا ئی کی اجا زت نہیں ہو گی۔جیل سے کچھ فا صلے پر میَں نے فوج کے یو نٹ کا ایک بو رڈ پڑھا۔ میَں خود چو نکہ آرمی میں رہ چکا ہوںمَیں نے سو چا شا ید کو ئی وا قفیت نکل آئے اندر جا نا چاہئے۔ تجسّس مجھے فوج کے دفتر تک لے گیا۔ میری ایک کیپٹن سے ملا قات ہو ئی جو کمپنی کما نڈر بھی تھے جس سے میَں نے اپناتعا رف کر وا یا۔وہ یوں ملا جیسے برسوں سے جا نتا ہو۔ نہ جا نے کیسے اس کو میرے نا م سے شناسا ئی تھی۔ واقعی وہ مجھے جا نتا تھا یا صرف مَن گھڑت بات کہہ رہا تھا۔ بِن بۡلا ئے مہمان کو دیکھ کر روا یتی مہمان نوازی اور عزّت افزا ئی کر رہا تھا۔ شا ید خدا تعا لیٰ کا خا ص فضل ملنے والا تھا۔ کیپٹن صا حب نے ہمیںچا ئے پر مد عو کیا۔ ہمیں چائے کی کو ئی حا جت نہ تھی۔ ہم کسی اور مقصد کو لے کر آئے تھے جس کو پو را کر نے کے لئے میَں نے اپنا مُد عّا بیا ن کیا۔ کیپٹن صاحب کہنے لگے ‘‘آپ فکر نہ کر یں کام ہو جا ئے گا پہلے آپ میرے ساتھ چا ئے پی لیں۔ ہم سب لوگ نہا یت پُر تکلف چا ئے سے لۡطف اندوز ہو ئے۔ پھر کیپٹن صا حب نے جیل کے ۡسپر نٹنڈ نٹ صا حب کو فون کیا کہ میرے کچھ دوست آپ کے پا س تشر یف لا ر ہے ہیں ان کو ایک آدمی سے ملنا ہے جو آپ کے پاس زیرِ حرا ست ہے ان کی ملاقات کر وا دیں۔ ہم نے اس کیپٹن صا حب کا تہہ دل سے شکر یہ ادا کیا اور انہیں خدا حا فظ کہا جو ہما رے لئے رحمت کا با عث ہو ئے اور ہما ری اس مشکل کو آسان بنا نے میں بھرپور کر دا ر ادا کیا مجھے ابھی بھی شک تھا کہ شا ید جیل کے حکّام پرو فیسر صا حب کو محترم عبد الر حمان احمدی سے نہ ملنے دیں لیکن جب ہم جیل کے دروا زے پر پہنچے تو ہما ری توقع سے بڑھ کر سپر نٹنڈنٹ صا حب بہ نفسِ نفیس دروا زے پر ہمارے استقبال کو کھڑے تھے۔ ہم سے نہا یت تپاک سے ملے۔ میَںنے ان سے کہا، ہمیں محترم عبدالرحمان صاحب سے ملنا ہے جن کو کلمۂ طیبہّ لگا نے کے جۡرم میں تین سال کی قید ہو ئی ہے۔ انہوں نے جواب دیا ان کو میَں جانتا ہو ں آپ کی ملا قات ہو جا ئے گی۔مگر پہلے میرے ساتھ چا ئے پیئیں۔ ہم نے انکار کیا۔ بہتیرا کہا ابھی پی کر آرہے ہیں۔ مگر ان کا اصرار یہ تھا کہ میرے سا تھ تو نہیں پی۔ یہا ں بھی پینی پڑے گی۔ اور انہو ں نے بھی مہما ندا ری میں کوئی کسر نہ چھو ڑی۔
پھر ایک مخصوص کمرے میں محترم عبد الر حمان صا حب کو لایا گیا جو حوالات میں بیڑیوں کے ساتھ قیدو بند کی مصیبتیں جھیل ر ہے تھے مگر اۡس وقت ہما رے سا منے اۡ ن کو بیڑیوں کے بغیر لا یا گیا۔ اس قید خا نہ کا ا صو ل یہ ہے کہ جب کسی مجرم کو ملا قا ت کے لئے با ہر لا یا جا تا ہے تو ان کا ایک دا رو غہ جو ڈی ایس پی کا عہدہ ر کھتا ہے وہا ں بطور محا فظ مو جو د ہو تا ہے۔ خدا تعا لیٰ کا ایسا تصرّف ہوا کہ ڈی ایس پی کو بھی ہٹا دیا گیا۔ مہر بان سپر نٹنڈ نٹ صا حب نے داروغے کو عمدًا با ہر بھیج دیا۔ ہم پرو فیسر صا حب کے ساتھ محترم عبد الر حمان صا حب کے پاس اُس کمرے میں تقریباً پون گھنٹہ ٹھہرے۔ پرو فیسر صاحب نے ان کا لمبا چوڑا انٹر ویو لیا جس کا انہو ں نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ پروفیسر صا حب بار بار ان سے پو چھتے تھے کہ اگر آپ کی تین سال کی قید ختم ہو گئی تو کیا پھر بھی آپ کلمہ لگا ئیں گے ؟ محترم عبد الر حمان صاحب نے جواب دیا:
‘‘ ہاں جتنی د فعہ بھی یہ لوگ مجھے رہا کر یں گے میَں اتنی دفعہ کلمہ کا بیج لگا ؤں گا۔ کلمہ میَں نہیں چھو ڑ سکتا ‘‘۔
کہا ں یہ قیاس تھاکہ ہم محترم عبد الر حمان صاحب کو مل نہ سکیں گے۔ کہاں اللہ تعالیٰ نے مجھ غر یب کی دعائیں سُن لیں اور ہما رامقصداپنے فضل و ر حم سے حل فر ما دیا۔ فالحمد للہ علیٰ ذا لک۔
٭ …اسی سفر کے دوران سکھر جیل میں ہم پرو فیسر ناصر قر یشی صاحب سے ملے جن کو پھا نسی کی سزا ہو چکی تھی اور ان کو اندھیری کو ٹھڑی میں رکھا گیا تھا۔ میرے ساتھ امیرجما عت سکھر محترم عبد الطیف صا حب بھی تھے۔ پرو فیسر صا حب کو بتا یا گیا کہ یہ نہا یت مشکل امر ہے کہ ان سے ملا جا ئے۔ یہاں ملنا ممنو ع تھا مگر خدا تعا لیٰ کی قدرت اور خا ص فضل کے نظا رے یہا ں بھی دیکھنے کو ملے۔ دعا کی قبو لیت کے ایمان سے بھر ے پُر جوش واقعات کو دیکھ کرزندہ خدا کا پتہ چلتا ہے۔
سکھر جیل کے افسران کو ہما ری آمد کی اطلاع تھی۔ ان سے ہم نے وقت لیا ہوا تھا۔ ہم جیل کے حکام سے ملے۔ پرو فیسر گلٹیری صا حب خود انٹر ویو لینے کے لئے اندر نہیں جا سکتے تھے کیو نکہ غیر مُلکی ہو نے کی وجہ سے ان کو اندر جا نے کی اجا ز ت نہ تھی۔ انہوں نے چالیس سوا لا ت لکھ کر مجھے دے دیئے تا کہ میَں ان کے جوابات لے آؤں اور ان کی تسلّی ہو سکے۔ میَں اور جیل کا داروغہ پروفیسرقر یشی کےcell ( کو ٹھڑی ) کی طرف چل پڑ ے۔ سیل بہت فاصلے پر تھا۔ راستے میں ڈی ایس پی نے کہا کہ قر یشی صا حب بہت نیک ہیں اور بہت تعریف کی۔ دارو غہ نے مز ید بتا یا کہ چند دن پہلے اسی جیل سے مۡجرم قیدی سلا خیں تو ڑ کر بھا گ نکلے۔ قریشی صاحب کو بھی آزادی کا مو قع میسر آیا مگر یہ نہیں بھا گے۔ ان کا جواب تھا کہ میَں نے کو ئی جۡرم نہیں کِیا۔ مجھے فرا ر کا را ستہ اختیارکر نے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ اب قا تل اورچور ڈاکو بھا گ نکلے مگر قر یشی صا حب نہا یت وقار سے وہیں جیل میں بیٹھے مجر مو ں کی کا رر وا ئی دیکھتے رہے۔ اس پر میَں نے جواباً کہا کیا اسی لئے ان کو پھا نسی کی سزا دے دی گئی ؟ اُس نے جوا ب دیا کہ یہ حکومت کا کام ہے اس میں ہما را کو ئی د خل نہیں۔
لمبا فا صلہ طے کر نے کے بعد ہم پرو فیسر قر یشی کے سیل تک جا پہنچے۔جنگلہ کھو لنے کی اجا زت نہ تھی۔ میَں سوال کر تا رہا اور ہما رے یہ اسیرِ راہِ مو لا بھا ئی سُلا خو ں کے پیچھے سے نہا یت اطمینان و سکون سے جواب دیتے رہے۔ ان کی ایمان افروز دا ستان میَں لکھتا رہا۔ ان کے عزم و حوصلے کو دیکھ کر میرا ایما ن جو ش ما رتا رہا۔ چا لیس سوا لا ت کو لکھنا وقت چا ہتا تھا۔ لمبی نشست کے بعد ہم وا پس آ گئے۔
جب ہم واپس پرو فیسر گلٹیری کے پا س آئے تو وہاں سکھر کے امیر صا حب نے مجھے بتا یا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے آپ کے نام پیغام بھیجا ہے کہ سکھر کی مشہور مچھلی محترم پروفیسرقر یشی صاحب اسیر راہ مو لا کو حضور کی طرف سے بطور تحفتاًدی جا ئے جو وہ اُس وقت تَل کر سا تھ لائے تھے۔ یہ ذمّہ دا ری مجھے سو نپی گئی۔ دل بہت بے چین ہوا۔ مچھلی کیا اس پا بند سلا سل کو با ہر بھی آنے کی ا جا زت نہ مل سکی۔ بے ا ختیار مجھ پر غم کے با دل چھا گئے۔ میرا رۡوآ ں رۡوا ں مجسم دعا بن گیا۔ میرے پر دیسی خلیفہ جو ہم پر جان چھڑکتے تھے ان کی خوا ہش کی تکمیل کیسے کروں ؟حضور کی طرف سے بھیجی گئی مچھلی کا تحفہ ان کے پیا رے تک کیسے پہنچاؤں۔عجب کیفیت تھی۔ حضور کی تمنا پو ری کئے بِنا وہا ں سے ہلنا نہ چا ہتا تھا قانون کی رو کیں، تعصب کی ہوائیں، نفرت و عدا وت کی دیوا ر یں، لا قا نو نیت کی بلند و با لا فصیلیں۔ اس ما حول میں میری روح تڑپی۔ میری آہوں نے ربّ العز ت کے حضور جگہ پا لی۔میں نے قر یب کھڑے ہو ئے د اروغہ سے مچھلی اندر لے جا نے کی با بت پوچھا کہ یہ مچھلی محض ایک کھا نے کا تحفہ ہے جس کو اندر پہنچا نا ہو گا۔ اس نے کہا اس کی قطعاً اجا زت نہیں۔ کھا نے کی کو ئی چیز کسی قیدی تک جیل میں نہیں جا سکتی۔ یہ میَں کسی صورت نہیں کر سکتا۔ میرا مَن بہت دُکھی ہوا۔ خا مو ش دعا میں مشغول رہا۔ ہم نے دروا زے کی طرف چلنا شروع کیا۔ دارو غہ مجھ سے اِدھر اُدھر کی با تیں کئے جا رہا تھا۔ میرے قدم بھا ری تھے۔ پا ؤں آگے کو ا ٹھنا چا ہتے تھے لیکن دل کا درد اُن کو پیچھے کی طرف کھینچتا تھا۔ میرے پیا رے امام کی تمنا پو ری ہو تی نظر نہ آتی تھی۔چلتے چلتے بڑے دروازے تک پہنچنے سے پہلے وہ داروغہ مجھ سے خو شا مدی لہجے میں بو لا۔ میجر صا حب آپ سے مِل کر بہت خو شی ہو ئی اگر میرے لائق کو ئی اور خد مت ہو تو بتا ئیے۔ مَیں خود تکلیف میں تھا۔ میں نے اس سے تلخ لہجے میں کہا کہ تم میری کیا خد مت کرو گے۔ معمولی سا مچھلی کا تحفہ میرے امام نے بھجوا یا تھا جو تم قریشی صا حب تک پہنچا نہ سکے۔ تمہا ری یہا ں کیا حیثیت ہے کہ تم کچھ خدمت کر سکو۔ یو نہی بنا و ٹی دعویٰ کرتے ہو۔ بیکار ڈینگیں مارنا اور بڑے بو ل بولنے سے کیا فا ئدہ۔ سچا وعدہ کر نا چا ہئے کیو نکہ تم لو گو ں کے پاس اختیار ہی نہیں۔ خواہ مخواہ ریت کے محل تعمیر کر نے سے مجھ پر کسی کا کو ئی رعب طا ری نہیں ہو تا۔ معمولی سی مچھلی کا تحفہ کھا نے سے کیا وہ اُ ڑ جا ئیں گے یا جیل سے با ہر چلے جا ئیں گے ؟ میَں دُکھ اور غصے کے مِلے جُلے جذبات میں بو لتا چلا گیا۔ نہ جانے میری اس تقر یر نے اۡس دا رو غہ پر کیا جا دو کیا۔ کہا ں وہ صاف انکا ر کر تا تھا کہاں ایک دم سے عزم اور جرأت سے کہا ‘‘مجھے مچھلی دیں میَں پرو فیسر صا حب کو دے کر آؤں گا۔ ان کوکھِلاکر آؤ ں گا چا ہے میری نو کر ی جا تی رہے ‘‘۔
اۡس وقت داروغہ نے یو نیفارم پہنا ہوا تھا۔ اُس نے مچھلی کو پتلون کی دو نو ں جیبوں میں بھر لِیا۔ جو بچ ر ہی وہ کوٹ کی جیب میں ڈا ل لی اورمجھ سے کہا آپ مجھے دیکھتے رہئے۔ میَں پرو فیسر صا حب کو مچھلی کِھلا کر ہی دَم لُوں گا۔ مجھے اس پر ترس بھی بہت آیا۔ وہ اپنے کام کے ا صولو ں کی وجہ سے مجبور تھا۔ مگر وہ ہما رے سا منے گیا۔ اس نے پرو فیسر صا حب کو مچھلی دی۔ انہوں نے شکر یے کے سا تھ قبو ل کی۔ کچھ کھا ئی کچھ وا پس کر دی اور میَں خدا تعا لیٰ کے فضلوں کے نظّارو ں سے لُطف اندوز ہو تا رہا۔ الحمد للہ۔
٭ …٭ …٭




