متفرق مضامین

مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیسے کیا جائے

(شیراز جمیل احمد ۔لندن)

انسان کوزندگی میں وقتاً فوقتاً مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کچھ انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ مسائل اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، دوسرے معاشرتی اور معاشی لحاظ سے ایسے بندھنوں میں بندھا ہے کہ مشکلات اور تکالیف زندگی کا مستقل حصہ ہیں۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ؎

مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا

رنج و غم یاس و اَلم فکر و بلا کے سامنے

یہ مشکلات نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی میں حائل ہوتی ہیں بلکہ ذاتی زندگی میں بھی ان کا عمل دخل رہتا ہے۔

اس مضمون کے حوالے سے ‘‘مشکل حالت‘‘ سے مراد ایسی حالت ہے:

(1)جہاں معاملہ ایسا ہو جو زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہو۔ مثلاً آپ کی ملازمت، تجارت، عقیدہ یا اہل و عیال۔ یا

(2)جب یوں لگے کہ ہر چیز غلط ڈگر پر چل رہی ہے اور کوئی حل ملنے کی امید نظر نہ آئے۔یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے جب آپ کو لگے کہ آپ ایک اندھیرے بند کمرے میں مجوسی ہو گئے ہو ں یا اپنی ساری کشتیاں جلا بیٹھے ہوں۔ مثال کے طور پر:

(1)ملازمت میں آپ کے سپرد بظاہر ناممکن کام سپرد کر دیا گیا ہے جس کوپورا نہ کرنے پر آپ زیرِ عتاب آ سکتے ہیں۔

(2)دورانِ تعلیم ایک بہت مشکل پرچہ کی تاریخ قریب آ رہی ہے مگر بیماری کے سبب یا کسی اور وجہ سے آپ کی تیاری قابلِ اطمینان نہیں ہے۔

(3)آپ کے گھریلو حالات صحیح نہیں ہیں گو کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ اپنے تمام فرائض احسن طریق سے سر انجام دے رہے ہیں۔

(4)آپ کو اپنی عام زندگی، ملازمت یا تعلیم کے دوران اپنے عقیدے کی وجہ سے غیر منصفانہ سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہو۔

ان تمام مشکلات، مسائل یا مصائب کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

یاد رہے کہ یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ بُرا وقت ہمیشہ کے لئے بُرا نہیں رہتا اور مستقبل سے اچھی امید یں وابستہ رکھنی چاہئیں۔تاہم ان حالات کا سامنا کرنے کا کوئی منظم طریقہ ہونا چاہیے۔

مصائب سے نمٹنے کے لئے ٹھنڈے دماغ اور تدبر کی ضرورت ہے جو آپ کو بہترین تدبیر سوچنے میں مدد دے۔ تین انگریز مصنفین کی مشترکہ کاوش پر مشتمل کتاب A manger’s guide to self developmentمیںمشکلات سے نمٹنے کی پانچ صورتیں تجویز کی گئی ہیں اور ہر شخص اپنے حالات کے مطابق تجزیہ کر کے ان میں سے موزوں ترین کا انتخاب کر سکتا ہے۔

Love it (1):

مشکل کو اپنا لیں

اس مشکل کو اپنا لیا جائے یا حقیقت پسندی سے تسلیم کر لیا جائے۔ یعنی خود سے سوال کرنا کہ آپ اس حالت سے کیوں خائف یا فکر مند ہیں اور کس طرح اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔غور و فکر کے بعد شاید آپ اس نتیجے پر پہنچیں کہ حالات اتنے بُرے نہیں ہیں یا پھر اس مشکل کے بارے میں نئے نقطہ نظر سے سوچیں تو شاید کوئی مثبت پہلو عیاں ہو۔مثلاًاگر دورانِ ملازمت آپ کو کسی نئے شعبے میں منتقل کیا جا رہا ہے تو آپ اس کو مصیبت سمجھ کر اپنی پریشانیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یا مثبت پہلو دیکھ سکتے ہیں کہ نئے شعبے میں آپ کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جس سے ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

Leave it (2) :

اس مشکل یا مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔

خود سے پوچھیں کہ کیا آپ اس مشکل یا ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں اور اگر آپ ایسا کریں تو اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کیا اس فعل کے نقصانات اس مشکل میں پھنسے رہنے کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ کیا آپ اپنی صلاحیتوں کو کہیں اور جا کر بہتر رنگ میں استعمال کر سکتے ہیں۔مثلاًاگر آپ اپنی نوکری یا دفتر کے ماحول سے خوش نہیں ہیں تو کیا آپ نوکری چھوڑ کو کوئی اور تعمیری کام کر سکتے ہیں۔ یا اگر آپ کو اپنی سرمایہ کاری پر نقصان ہو رہا ہے تو بہتر نہ ہو گا کہ آپ سرمایہ نکال لیں تا مزید نقصانات سے بچ سکیں؟

Live with it (3):

مشکل کے ساتھ گزاراکریں۔

تاوقتیکہ حالات بدل نہیں جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ اگر آپ کچھ عرصہ حوصلے سے کام لیں تو کوئی اور اچھا موقع آپ کے دروازے پر دستک دے یا آپ کو کوئی حل سوجھ جائے۔مگر آپ کو اندازہ لگانا ہو گا کہ بغیر کچھ کئے آپ کتنے عرصے تک گزارا کر سکتے ہیںیا کوئی ایسا دفاعی قدم اُٹھا سکتے ہیں جس سے آپ ہونے والے نقصان کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی کچھ کرنے سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں اور کبھی کچھ نہ کرنے کے باوجود حالات آپ کے حق میں بدل جاتے ہیں۔

مثلاً اگر آپ کے افسر یا انچارج کا رویّہ درست نہیں ہے تو کچھ عرصہ حوصلے سے کام لیں۔ہو سکتاہے کہ آپ کی کارگزاری دیکھ کر اس کارویّہ بدل جائے یا آپ کو اپنی پسند کی نوکری مل جائے۔فوراًنوکری چھوڑ دینا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

Change it (4):

مشکل حالت کو بدل ڈالیں۔

اپنی مشکل کا بغور جائزہ لیں اور سوچیں کہ اگر آپ کے پاس جادو کی چھڑی آ جائے تو آپ کیا کریں گے۔کیا آپ نے ہر طرح کی تدبیر سوچ لی ہے۔کسی ایسے کامیاب شخص کے بارے میں سوچیں جس سے آپ مرعوب ہوں کہ وہ اس مسئلے سے کیسے نپٹتاتھا۔مثلاًاگر آپ قرض دار ہیں اورخراب مالی حالت کی وجہ سے مشکل میں ہیں تو کیا آپ پارٹ ٹائم جاب یا اوور ٹائم کر کے کوئی بہتری لا سکتے ہیں یا کسی ذریعہ سے بِلا سود قرض حاصل کر سکتے ہیں جس سے پرانے حساب بیباق کر سکیں۔یا اگر آپ کھیل کے میدان میں ناکامی کا شکار ہیں تو کسی تجربہ کار کھلاڑی سے مشورہ لیں یا اپنی ورزش اور پریکٹس کے معمولات پر نظر ثانی کریں۔

Change yourself (5) :

اپنے آپ کو بدل ڈالیں۔

کہیں مسئلے کی وجہ آپ خود تو نہیں ہیں؟ یا آپ کا کوئی دقیانوسی خیال۔جیسے خود کو بڑا معزز،یا ہر دلعزیزسمجھ بیٹھنا۔یہ درست ہے کہ کچھ چیزیں سمجھوتے کے قابل نہیں ہوتیںمگر کیا یہ واقعی ایسی ہی چیز ہے؟ مثلاًاگر معاملہ گھریلو حالات سے تعلق رکھتا ہے تو اپنے رویّے پر غور کیجئے اور چھوٹی موٹی باتوں میں درگزر سے کام لیں۔اسی طرح اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں حقیقت پسندی سے کام لیںاور کسی ایسے مقام کی توقع نہ کریں جس کے آپ لائق نہ ہوں۔ اگر بے روز گار ہیں تو عارضی طور پر کسی توقع سے کم ملازمت پر اکتفا کریں۔

تاریخِ اسلام اور مشکلات و مصائب

اس سے پہلے کہ ہم جائزہ لیں کہ اسلام ہمیں مشکلات سے نمٹنے کے کیا خاص گُر بتاتا ہے۔ یہ ذکر دلچسپی کا باعث ہو گا کہ اسلام کی تاریخ میں مندرجہ بالا طریقے پہلے ہی سے مستعمل نظر آتے ہیں۔ سوائے دینی معاملات میں کنارہ کشی کے طریق کے۔جیسا کہ درج ذیل جائزہ سے ظاہر ہوتا ہے۔

1-مشکل یا مصیبت کو اپنا لینا

خدا کے فرستادے خدا کی راہ میں کسی بھی تکلیف یا مصیبت کو خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور اپنے لئے ایک اعزازسمجھتے ہیں۔ اس طرح بظاہر ناممکن نظر آنے والی ذمہ داری کو بطریق احسن پورا کرتے ہیں۔

الف۔قرآن کریم میں درج ہے کہ جو بارِ امانت آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کیا گیا اگر زمین اور آسمان کے پہاڑوں پر اُتارا جا تا تو ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ (دیکھئے سورۃ الاحزاب:(73

اس ذمہ داری کا احساس اس شدت سے تھا کہ آپ نے عملی طور پر بھی اور دعاؤں کے ذریعے بھی مخلوق کو عذاب سے بچانے کے لئے اس حد تک تگ و دو کی کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ ‘پس کیا تُو شدت غم کے باعث ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں‘۔(کہف:(7

ب۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں جب لیکھرام کی ہلاکت کی پیشگوئی پوری ہوئی تو شریر آریوں نے حضور کے خلاف اکسانا شروع کیا۔ ایک موقعہ پر ایک ساتھی کی تشویش کے اظہار پر فرمایا۔

‘‘میرصاحب! لوگ دنیا کی خوشی میں سونے چاندی کے کنگن پہن لیتے ہیں، ہم سمجھیں گے کہ ہم نے خدا کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔‘‘

اسی طرح مقدمہ کرم دین کے دوران ڈر پیدا ہوا کہ ہندو، جج کے ساتھ مل کر حضور کے خلاف سازش میں مصروف ہیں تو اس موقع پر فرمایا۔

‘‘مَیں کیا کروں۔ مَیں نے اپنے تئیں خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ مَیں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں۔‘‘

ج-حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہیدؓ صاحب، حضرت مسیح موعودؑ کے وہ برگزیدہ صحابی تھے جنہوں نے آپؑ کی زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھادیا اور خدا کی راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔چنانچہ روایت ہے کہ سنگسار کرنے کے لئے جب آپ کو زمین میں گاڑ دیا گیا تو امیر کابل جو ماضی میں آپ کے لئے نرم گوشہ رکھتا تھا آپ کے پاس آیا اور کہا کہ اگر وہ اب بھی حضرت مسیح موعود کا انکار کر دیں تو وہ انہیں بچا لے گا۔مگر انہوں نے کمال استقامت سے جب موت سامنے کھڑی تھی ایمان کو جان اور عیال و اطفال پر فوقیت دی۔

2-مشکل یا مسئلے سے چھٹکارا

خدا کے انبیاء اور ان کے خلفاء خدا کے عطا کئے ہوئے مرتبوں اورذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے چاہے اس کے نتیجے میں کتنی ہی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرناپڑے۔

(الف)قریش مکّہ نے جب حضرت ابو طالب کے ذریعے آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کوجو دولت، اقتدار اور خوبصورت ترین عورت کے بدلے دعوتِ اسلام سے رک جانے کی ترغیب دی تو آپ کے پائے ثبات میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔

(ب)حضرت عثمانؓ پر جب خارجیوں نے زور ڈالا کہ آپ خلافت سے دستبردار ہو جائیں تو باوجود جان کے خطرہ ہونے کے اس رِدا کو جو خدا نے آپ کو عطا کی تھی خود سے الگ نہ کیا اور شہادت کو قبول فرمالیا۔

تاہم یاد رہے دنیا وی معاملات میں یہ صورت قابلِ قبول ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کو اوائل عمر میں اپنے والد کے اصرار پر ملازمت، مقدمات کی پیروی اور زمینداری کے امور میں حصہ لینا پڑا گو طبعاًآپ ان کاموں سے کراہت محسوس کرتے تھے۔ کیونکہ ان سے آپ کے روحانی کاموں میں رکاوٹ پڑتی تھی۔بالآخر کچھ عرصہ بعد آپ کو اپنی خواہش کے مطابق ان دنیاوی کاموں سے چھٹکارا مل گیا۔

3-مشکل کے ساتھ گزارا کیجئے جب تک حالات بدل نہیں جاتے۔

(الف) 6 ہجری میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت اللہ کے طواف کا قصد کیا تو قریشِ مکہ نے اس میں روک پیدا کی اور حدیبیہ کے مقام پر صلح کا وہ معاہدہ تشکیل پایا جسے ہم صلح حدیبیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ گو کہ معاہدہ کی شرائط اور قریش کا طرزِ عمل بظاہر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا اور صحابہؓ سخت اضطراب کا شکار تھے مگر حضورؐ کی دُور بین نگاہ نے اس معاہدہ کے دُور رس نتائج کو دیکھتے ہوئے Live with it کی صورت پسند فرمائی۔

(ب) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔

‘‘میں نے روم میں وہ مقام دیکھا ہے جہاں مسیح کے ماننے والے اپنے دشمنوں کی سختیوں اور ظلموں سے بچنے کے لئے رہتے۔۔۔۔۔ ہم چند گھنٹوں کے لئے وہاں گئے مگر کئی دوست وہاں ٹھہرنا برداشت نہ کر سکے۔حالانکہ وہ لوگ وہاں کئی سال تک … رہے۔وہ نہایت تنگ و تاریک گیلی مٹی کے غار ہیں۔‘‘یہاں تک کہ روم کا بادشاہ عیسائی ہو گیا اور انہیں اس مصیبت سے نجات ملی۔

4-مشکل حالات کو بدل ڈالیں

(الف) غزوہ احد میں مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا۔ستر مسلمان شہید ہوئے اور باقی ماندہ زخمی اور سخت تھکن کا شکار تھے۔یہ مدینہ کے لئے بھی سخت خوف کا وقت تھا کیونکہ ڈر تھا کہ لشکر قریش مسلمانوں کی کمزور حالت کو دیکھتے ہوئے کہیں مدینہ پر حملہ آور نہ ہو جائے۔آنحضور ؐ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمان فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا اور یہ مجاہدین اس حالت میں بھی ایسے جوش و خروش سے نکلے کہ گویا کوئی فاتح لشکر دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔لشکرِ قریش کو جب اس بات کی اطلاع ہوئی تو ان پر ایسا رعب پڑا کہ وہ مکہ واپس لوٹ گئے۔

(ب)حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو جب مخدوش حالات کی وجہ سے 1984ء میں لندن ہجرت کرنا پڑی توخدشہ پیدا ہوا کہ آپ کی غیر موجودگی کی وجہ سے کہیں آپ کا رابطہ پاکستان کی جماعت سے کمزور نہ ہو جائے۔آپ نے جماعت سے رابطے مضبوط کئے اور مواصلاتی نظام کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے کیسٹس اور وڈیوز کے ذریعے خطبات کی اشاعت جاری رکھی۔ آپ کی ہجرت کے دس سال بعد M.T.Aکا قیام عمل میں آیا جس کے نتیجے میں خلیفۂ وقت کا رابطہ ہر فردِ جماعت کے ساتھ گھر گھر قائم ہو گیا۔

5- اپنے آپ کو بدل ڈالیں

(الف) صحابہ کرامؓ کی زندگی کا سب سے زیادہ مشکل وقت وہ تھا جب آنحضور ؐ کی وفات ہوئی ان پر صدمے کااثر اتنا زیادہ تھا کہ بعض سے بولا اور چلا بھی نہیں جاتا تھا اور بعض اپنے حواس اور عقل کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بعض چند دن میں گھل گھل کر فوت ہو گئے۔حضرت عمر ؓ نے آپ کی وفات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور تلوار لے کر کھڑے ہو گئے۔ دوسرے صحابہ ؓ کو بھی لگا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں اور سمجھنے لگے کہ حضرت موسیٰ کی طرح آنحضور ؐ بھی40 دن میں لوٹ آئیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا اور قرآن کریم کی آیت سے ثابت کیا کہ حضورؐ اس جہانِ فانی سے کوچ کر چکے ہیں اور خدا کی توحید کی غیرت دلا کر صحابہ ؓ کو اس تکلیف دہ حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا اور یوں اسلام کو انتشار سے بچایا۔

(ب)حضرت مسیح موعودؑ نوجوانی سے ہی خلوت کی زندگی پسند فرماتے تھے تا اپنا وقت عبادتِ الٰہی اور مطالعہ میں گزار سکیں۔ اپنے والد صاحب کے اصرار پر دنیاوی امور اور ملازمت میں کچھ عرصہ حصہ لیا۔1868ء میں اپنے والد صاحب کو پیغام بھیجا۔ ‘‘میں چاہتا ہو ں کہ باقی عمر گوشۂ تنہائی اور کنج عزلت میں بسر کروں۔‘‘کہاں یہ خلوت نشینی کہ مسیتڑ اور (شرمیلے پن کی وجہ سے) ‘دلہن‘ کہلائے اور کہاں ماموریت کے بعد کا وقت کہ خدا سے پائی ہوئی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے خود کو یکسر بدل دیا۔ کئی شہروں کے دورے کئے، مباحثات میں شرکت کی، ہر ایک مذہب کے ماننے والوں کو للکارا اور یہاں تک کہ قیصرۂ وقت کو بھی اسلام کاپیغام پہنچایا۔

مشکلات سے نپٹنے کادینی نقطہ ٔ نظر

مضمون کا پہلا حصہ مشکل حالات سے نمٹنے کاایک مؤثر اور منظم طریقہ ہے تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس مضمون کو اخذ کرنے کے لئے مینجمنٹ کی جس کتاب سے مدد لی گئی ہے اس کے مصنفین زورِ دعا سے نا آشنا، تعلقِ خدا سے بے بہر ہ اور تقویٰ اور قوتِ ایمان سے لاعلم ہیں۔

اسلام محض تدبیر اور تجزیے پر بھروسہ کرنے کی تلقین نہیں کرتا بلکہ مصائب سے مقابلے اور مشکلات سے بچنے کے لئے روحانی گُر بتاتا ہے۔ آئیے ان میں سے چند ایک کا جائزہ لیں۔

1-دعا

زورِ دعا کو جاننے والے اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ غیرممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے۔ دعا وہ ہتھیار ہے جس کے آگے تمام مشکلات ہیچ ہیں۔ دعا خود بھی کرنی چاہئے اور امام وقت کی دعائیں بھی حاصل کرنی چاہئیں۔

(الف) ہجرت مدینہ کے بعد 7ہجری میں کفارنے اسلام کے خلاف جنگ کا بہانہ ڈھونڈا اور ایک ہزار نفوس،7سو اونٹوں اور سو گھوڑوں کے ساتھ سامانِ حرب سے آراستہ ہو کر بدر کی وادی میں ڈیرے ڈال دئیے۔اس کے مقابل پرمسلمانوں کی 313نفوس کی فوج کے ساتھ صرف 7اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔اسلام کی تاریخ میں یہ نہایت نازک موڑ تھا اور بظاہر تعداد، سامانِ حرب اور وسائل کے لحاظ سے مسلمان نہایت ہی کمزور نظر آتے تھے مگر آنحضورؐ کی پُر رقت دعا’’اے میرے مالک ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘‘ نے عرش پر قبولیت کا درجہ پا لیا اور مسلمانوں کو اس جنگ میں عظیم الشان کامیابی عطا ہوئی۔۔

(ب) حضرت مسیح موعودؑ نے ایک صاحب کو جو سخت مالی مشکلات میں مبتلا تھے ایک نظم ‘‘ہجوم مشکلات میں کامیابی حاصل کرنے کا طریق ‘‘ عطا فرمائی۔اس نظم میں جو گُر بتائے گئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو

مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے

حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر

کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے

2-تعلق باللہ اور توکّل علی اللہ

اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس پر توّکل ایسا لعل بے بہا ہے کہ اس کو پانے والا ہر مشکل اور ضرورت سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور ایسے اشخاص کا خدا خود متکفل ہو جاتا ہے اور انہیں ایسی ہمت عطا فرماتا ہے کہ مصیبت اور آزمائش کے موقعہ پر بھی یہ لوگ خدا کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔

(الف) ہجرت مدینہ کے موقعہ پر آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت ابوبکر ؓ نے مکہ میں جنوب کی طرف غارِ ثور میں پناہ لی۔ روایت ہے کہ آپ کی تلاش میں قریش اس قدر قریب پہنچ گئے کہ ان کے پاؤںغار کے اندر سے نظر آتے تھے اور ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔یاد رہے کہ یہ بہت سنگین حالات تھے اور قریش مکہ آپ کی جان کے در پے ہو گئے تھے۔اس موقعہ پر حضرت ابوبکر ؓ کی گھبراہٹ اور تشویش کے جواب میں فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا یعنی ہر گز فکر نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

(ب)حضرت مسیح موعودؑ کے والد کی وفات کے موقعہ پر بشریت کے تقاضا کے ماتحت ایک لحظہ کے لئے آپ کے دل میں یہ خیال گزرا کہ ذرائع جو حضرت والد صاحب کی زندگی کے ساتھ وابستہ تھے ان کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے نہ معلوم کیا کیا مشکلات پیش آئیں۔ اسی وقت آپ کو یہ الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗیعنی کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔

چاہیے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی

سر جھکا بس مالک ارض و سما کے سامنے

3 تقویٰ

کسیمشکل یا مسئلے کے حل کے لئے جو بھی تدبیر اختیار کی جائے وہ تقویٰ کے معیار پر پوری اترنی چاہیے تاکہ تائیدِ الٰہی اس میں شامل ہو۔

(الف) جنگِ بدر کے موقعہ پر حالات کی سنگینی اور مسلمانوں کی بے سرو سامانی کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ روایت ہے کہ جنگ سے پہلے ایک مشرک نے جو اپنی بہادری اور شجاعت میں خاص شہرت رکھتا تھا اپنی خدمات پیش کیں تو حضورؐ نے دو مرتبہ یہ فرما کر ردّ کر دیا کہ میں اس جنگ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لینا چاہتا۔ بالآخر وہ ایمان لے آیا اور فوج میں شامل ہو گیا۔

(ب) -حضرت مسیح موعودؑ نے تمام دنیاوی اور دینی مقدمہ جات میں ہمیشہ تقویٰ کو مقدم رکھا اور وکیلوں کے مشوروں کے خلاف ہمیشہ راستی سے کام لیا۔ چنانچہ کبھی نماز پڑھتے پڑھتے مقدمے کی کارروائی سے غیر حاضر ہو گئے تو کبھی مقدمے کی پیروی میں مخالفین کے حق میں بیان دیا۔ مقدمہ ڈاکخانہ میں وکلاء کے مشورہ کے بر خلاف سچا بیان دیا اور فتح پائی۔ اسی طرح مقدمۂ اقدام قتل میں جب آپ کے وکیل مولوی فضل دین صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی جو آپ کے خلاف جھوٹی گواہی دینے آئے تھے، کے نسب اور کردار کے متعلق سوال کرنا چاہا تو آپ کھڑے ہو گئے اور اپنے وکیل کو اس سوال کی اجازت نہ دی۔

چاہیے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار

ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے

راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا

قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے

4 صبر اور شکر

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اسی کی ہے جو تکلیفوں اور دکھوں کے دوران صبر کرنے والے ہیں (البقرہ(178: اسی طرح ان لوگوں کے لئے بہترین انجام کی خبر ہے جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی خاطر صبرکیا۔(الرعد:(23

اسی طرح’’ہر حال رنج و راحت اور عُسر ویُسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ سے وفاداری‘‘ ‘‘اور بہر حالت راضی بقضا‘‘ ہونا بیعت کا حصہ ہے۔

(الف) حضرت خباب بن اَرتؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آنحضور ؐ سے اپنی تکلیف کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے ایسے انسان بھی گزرے ہیں جن کے سر آرے سے کاٹ دئیے جاتے اور بعض اوقات لوہے کی کنگھیوں سے ان کا گوشت نوچ لیا جاتا لیکن یہ ظلم ان کو اپنے دین سے نہ ہٹا سکا۔

(ب) جب آنحضورؐ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم بیمار ہوئے اور جان کنی کی حالت ان پر طاری ہوئی تو آنحضور ؐ کی آنکھوںمیں آنسو آ گئے اور فرمایا۔آنکھیں آنسو بہاتی ہیں دل غمگین ہے مگر ہم وہی کہیں گے جس پر ہمارا رب راضی ہے۔

ایسا ہی واقعہ حضرت مسیح موعودؑ کے صاحبزادے حضرت مرزا مبارک احمد کی وفات پر ہوا جب آپ نے حزیں دل کے ساتھ فرمایا۔

بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

خلاصہ

مشکلات و مصائب زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ مشکل وقت میں ٹھنڈے دل اور تدبر سے اپنے حالات کے مطابق حل تلاش کرنا، اپنی تدبیر کو بھر پور دعا اور خدا کے ساتھ مضبوط تعلق سے کارگر بنانا اور کسی بھی صورت میں تقویٰ اور صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ ان سے نجات کے یقینی راستے ہیں۔

٭ …٭ …٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button