ارشادات عالیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام
مَیں ٹھیک ایسے وقت پر آیا ہوں جس میں یاجوج ماجوج کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ ہر بلندی اور سمندر کی لہر پر سے پھلانگتے ہوئے پھیل رہے ہیں۔ پس مجھے مبعوث کیا گیا تا کہ میں کھلے کھلے نشان دکھا کر اور ایسی دعائوں کے ذریعہ جو فرشتوں کو آسمانوں سے کھینچ کر زمین پر لے آویں، مسلمانوں کو ان کی یلغار سے بچائوں اور مسلمانوں کے لئے ایک مضبوط حفاظتی بند بنائوں۔
’’وہ میری تکفیر کرتے ہیں لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ کس بنا پر میری تکفیر کر رہے ہیں۔ ہم نے انہیں قسم دی کہ وہ اس بات کا اظہار کریں جسے وہ چھپا رہے ہیں لیکن وہ کچھ نہ بولے اور ان کے مشکیزے کو ایسے مضبوط تسمے سے باندھا گیا ہے کہ اس سے ایک بوند بھی نہ ٹپکے۔وہ نزول مسیح کے وقت کو اس اونٹنی کی طرح تصور کرتے ہیں جس کا وضع حمل کا وقت گزر چکا ہو اور تا حال وضع نہ ہوا ہو، حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ (نزول مسیح) کی تمام (علامات) ظاہر ہو چکی ہیں پھر بھی وہ نہیں جاگتے۔ کیا سورج اور چاند کو گرہن نہیں لگ چکا، جو رمضان کے مہینے میں واقع ہوا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ زمین کے بوجھ (خزانے) کس طرح ظاہر ہو رہے ہیں، ریل گاڑی چل رہی ہے اور جہاز سمندر کا سینہ چیر رہے ہیں اور لوگوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ اورجوان اونٹنیاں چھوڑ دی گئی ہیں اور سواریاںتبدیل ہو چکی ہیں اور جتنے بھی ان کے قیاسات تھے وہ سب ظاہر ہو چکے ۔
مرہم عیسیٰ ، حضرت عیسیٰ کی وفات پر ایک کھلی دلیل ہے پھر اس دلیل پر وہ کیوں غور نہیں کرتے اور نہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مسیح موعود کی مثال ذوالقرنین کے مشابہ ہے اور اے آنکھیں رکھنے والو! اسی کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ اگر تم غور کرتے تو یہ مثال تمہارے لئے کافی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں ذوالقرنین کی طرح حاذق اور نابغہء روزگار ہوں۔اور لوگوں کو میرے لئے تمام زمینی خِطّوں کے نفوس کواکٹھاکرنے کے ذریعہ یکجا کر دیا گیا ہے۔ میں نے اسی جگہ پر رہتے ہوئے بھی اپنی سیاحت کا کام مکمل کر لیا ہے اور اسلام میں حرمین شریفین کے علاوہ کسی جگہ کی سیاحت اور اس کے لئے رخت سفر باندھنا فرض نہیں، لہٰذا دونوں جہانوں کے ربّ نے اس طریق سے میرے لئے سیاحت کا سامان پیدا فرما دیا اور میں نے اپنی اس سیاحت کے دوران دو متضاد قومیں پائیں ۔ ایک قوم تو وہ تھی جن پر سورج چمکا اور اس کی تپتی ہوئی آگ نے ان کے چہرے جھلس دئیے اور وہ ناکام و نامراد لوٹے اور دوسری قوم زمہریرمیں ہے اور صاف چشمہ کے مفقود ہونے کی وجہ سے گدلے چشمہ پرہے۔ یہ (پہلی) مثال ان لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم ہی مسلمان ہیں حالانکہ انہیں آفتابِ اسلام سے کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔ وہ اپنے بدنوں کو فائدہ ا ٹھانے کی بجائے جلاتے اور جھلساتے ہیں۔ اور (دوسری) مثال ان لوگوں کی ہے جن میں توحید کے سورج کی کوئی روشنی باقی نہیں اور انہوں نے عیسیٰ کو معبود بنا لیا ہے اور زندہ (خدا) کی بجائے مردہ کو بدلے میںلیاہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے حاجتمند ہیں۔
یہ دو مثالیں اس قوم کی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بہت سے منتشر فرقوں میں تقسیم کر لیاہے اور سورج کی روشنی نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا سوائے اس کے کہ اس کی تمازت نے ان کے چہروں کو جھلسا دیا۔پس وہ ہلاک ہو رہے ہیں اور ان لوگوں کی مثال جو سورج کی روشنی سے بھاگ گئے اور وہ تاریکی میں لوٹ گئے۔ میں نے ہجری، عیسوی اور ہرمروجہ کیلنڈر کے لحاظ سے دو صدیاں پائی ہیں اور اسی مناسبت سے اللہ کی کتاب میں میرا نام ذوالقرنین رکھا گیا ہے اس میں تدبر کرنے والوں کے لئے ایک بہت بڑا نشان ہے۔
مَیں ٹھیک ایسے وقت پر آیا ہوں جس میں یاجوج ماجوج کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ ہر بلندی اور سمندر کی لہر پر سے پھلانگتے ہوئے پھیل رہے ہیں۔ پس مجھے مبعوث کیا گیا تاکہ میں کھلے کھلے نشان دکھا کر اور ایسی دعائوں کے ذریعہ جو فرشتوں کو آسمانوں سے کھینچ کر زمین پر لے آویں، مسلمانوں کو ان کی یلغار سے بچائوں اور مسلمانوں کے لئے ایک مضبوط حفاظتی بند بنائوں۔
حقیقی ستائش کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے جس نے اپنے بندے کو عین وقت پر بھیجا اوراسے زمانے کے فساد اور بے یارومددگار ہونے کی حالت میں آسمان سے نازل فرمایا۔ پس کیاتم میں سے کوئی ہے جو اس کی قضاء و قدر کو ردّ اور اس کی بنیاد کو منہدم کر سکے۔
اللہ کی ذات حد درجہ پاک ہے اور تمہارے تصورات اور وہم و گمان سے کہیں بلند تر ۔ تم نے میری تکفیر کی اور تم نے صرف اپنے آپ پر ظلم کیا اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں تمہیں بہت جلد حقیقت حال کا علم ہو جائے گا۔ ربّ العطا یا اللہ کی مدد سے یہ کتاب پایۂ تکمیل کو پہنچی‘‘۔
(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 102۔106)




