حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق ِعظیم کا کامل انعکاس(قسط نمبر 2)
٭…’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلمنے خود فرمایا ہے کہ مہدی جو آنے والا ہے ……وہ میرے خُلق پر ہو گا۔ اس سے آنحضرتصلی اللہ علیہ و سلم کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 521۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
٭…’’یوں سمجھ لو کہ مہدی موعود خَلۡق اورخُلۡق میں ہمرنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہو گا‘‘۔ ( ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 213)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاخُلقِ عظیم غیروں کی نظر میں
اس بارہ میں غیروں کی آراء میں سے چند درج ذیل ہیں کہ انہوں نے آپ کو کس نظرسے دیکھا اور پہچانا۔
…………………………
’’نہایت مقدس‘‘ اور ’’بلند ہمت مصلح ‘‘
٭…سید ممتاز علی صاحب امتیاز نے لکھا:
’’ مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دلوں کو تسخیر کر لیتی تھی۔ وہ نہایت باخبر عالم ، بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔… ان کی ہدایت ورہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تھی ۔ ‘‘
( رسالہ تہذیب النسواں ، لاہور بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 584)
٭…’’ وہ فقیرانہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے اور سینکڑوں آدمی روزانہ ان کے لنگر سے کھانا کھاتے تھے۔ ‘‘
( ’’امرتا بازار پتر کا ‘‘ کلکتہ۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 567)
……………………
غیرمسلم کی گواہی
٭…حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر یوں فرمایا ہے۔
’’ ایک عورت امریکہ سے میری نسبت اپنے خط میںلکھتی ہے کہ میں ہر وقت ان کی تصویر دیکھتی رہنا پسند کرتی ہوں۔ یہ تصویر بالکل مسیح کی تصویر معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘
(براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 106)
٭…حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایک سکھ کی گواہی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ مجھے سب سے زیادہ ایک بوڑھے شخص کی شہاد ت پسند آیا کرتی ہے۔ یہ ایک سکھ ہے جو آپ کا بچپن کا واقف ہے۔ وہ آپ کا ذکر کر کے بے اختیار رو پڑتا ہے اور سنایا کرتا ہے کہ ہم کبھی آپ کے پاس آ کر بیٹھتے تھے تو آپ ہمیں کہتے تھے کہ جا کر میرے والد صاحب سے سفارش کر و کہ مجھے خدا اور دین کی خدمت کرنے دیں ۔اور دنیوی کاموں سے معاف رکھیں۔ وہ شخص یہ کہہ کررو پڑتا کہ ’’ وہ تو پیدائش سے ہی ولی تھے۔ ‘‘ ایک غیر مذہب کا شخص جس نے آپ کی زندگی کے سب دَور دیکھے ہیں اور آپ کے راز سے پوری طرح واقف ہے اس کی یہ شہادت معمولی شہادت نہیں ہے۔ ‘‘
(انوارا لعلوم جلد 8صفحہ 207)
………………………
محمد ؐ سے مشابہ
٭…لاہور کے آریہ اخبار ’’اندر ‘‘ نے لکھا:
’’ مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد ؐ صاحب سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا … ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔‘‘
……………………
اسلام کا بہت بڑا پہلوان
٭…رسالہ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’جری اللہ ‘‘کے بارہ میں حضو ر ؐ کے حالات لکھنے کے بعد یوں رقمطراز ہے:
’’ بے شک مرحوم اسلام کا ایک بہت بڑا پہلوان تھا۔‘‘
(بحوالہ رسالہ تشحیذ الاذہان جلد3نمبر 8صفحہ 332۔ ۔1908ء)
……………………
غیرمعمولی عزم و استقلال کاصاحبِ فراست و بصیرت انسان
٭… علامہ نیاز فتح پوری نے جو ہندوستان کے نامورادیب تھے اپنے رسالہ نگار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلق عظیم کا یوں اقرار کیا:
’’وہ بڑے غیر معمولی عزم و استقلال کا صاحب فراست و بصیرت انسان تھا جو ایک باطنی قوت اپنے ساتھ لایا تھا… انہوں نے یقینا اخلاق اسلامی کو دوبارہ زندہ کیا اور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھا دی جس کی زندگی کوہم یقینا اُسوہ نبی کا پرتوہ کہہ سکتے ہیں ۔‘‘
(رسالہ نگار لکھنو نومبر 1959ء)
……………………
مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت کے پیشوا اور امام ِ برحق
٭…حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف ایڈیٹر اخبار البشیر اٹاوہ نے آپ کی وفات پر ایک مقالہ تحریر کیا جس میں انہوں نے لکھا:
’’اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ حضرت اقدس اس زمانہ کے نامور مشاہیر میں سے تھے۔ اس ترقی علوم و فنون کے زمانہ میں درحقیقت یہ امر کچھ حیرت انگیز نہیں ہے کہ ان کے کئی لاکھ راسخ الاعتقاد مرید ایسے تھے جوان کے ہر ایک حکم کو ، ہر ایک پیشگوئی کو وحی خیال کرتے اور بلاچون چرا تسلیم کرتے تھے… جو درجہ کہ حضرت اقدس مرزا صاحبؑ کو اپنے مریدوں میں حاصل تھا اور جو اثر کہ حضرت اقدس کا اپنے مریدوں کی جماعت پر تھا اس میں کچھ کلام نہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں نہ یہ اثر کسی مولوی اور نہ عالم و فاضل کو اپنے معتقدوں پر تھا اور نہ کسی صوفی اور ولی اللہ کا اپنے مریدین پر تھا اور نہ کسی لیڈر اور نہ کسی ریفامر کا اپنے مقلدین پر ۔ چونکہ وہ مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت کے پیشوا اور امام برحق تھے لہٰذا تہذیب مجبور کرتی ہے کہ ہم ان کی عزت کریں ۔ ‘‘
(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 564)
پاکباز و متقی
٭…30مئی 1908ء کو مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار وکیل نے ایک مقالہ لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ اور سیرت طیبہ پر ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
’’کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹا سا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔ وہ ایک پاک باز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔ غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے کیا بلحاظ اخلاق و عادات او رپسندیدہ اطوار، کیا بلحاظ مذہبی خدمات و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز و برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا۔ ‘‘
(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 563)
………………………
ایک فتح نصیب جرنیل
٭…مولانا ابوالالکلام آزاد نے لکھا:
’’ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس بر س تک زلزلہ اور طوفان رہا، جو شور قیامت ہو کے خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔… ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے بر خلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے۔‘‘
( اخبار وکیل امرتسر جون 1908ء)
………………………
بلحاظ اخلاق و شرافتبڑے پایہ کے انسان
٭…اخبار ’’ برمہ چارک ‘‘ نے لاہور جو برہمو سماج کا ایک پرچہ ہے یوں خراج تحسین پیش کیا:
’’ ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مرزا صاحب کیا بلحاظ لیاقت اور کیا بلحاظ اخلاق و شرافت ایک بڑے پایہ کے انسان تھے۔ ‘‘
(سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 266۔ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 567)
………………………
نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص
٭…پادری والٹر ایم اے نے اپنی کتاب ’’احمدیہ موومنٹ ‘‘ میں درج ذیل خراج تحسین پیش کیا:
’’ یہ بات ہر طرح سے ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے۔ ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقینا قابل تحسین ہے۔ صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے جان دے دی مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا ۔ ‘‘
(سیرۃ المہدی۔ جلد اول صفحہ 268-69)
……………………
خدا کے بڑے بھگت
٭…مکرم مستری محمد مکی صاحب کا بیان ہے کہ جب کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے واسطے تشریف لے جاتے اور بازار میں سے گزرتے تو بعض ہندو دکاندار اپنے طریق پر ہاتھ جوڑ کر حضور علیہ السلام کو سلام کرتے اور بعض تو اپنی دکان پر اپنے رنگ میں سجدہ کرنے لگتے مگر حضرت صاحب کو خبر نہ ہوتی کیونکہ آپ آنکھیں نیچے ڈالے گزرتے چلے جاتے تھے۔
ایک دن مستری صاحب نے بعض عمر رسیدہ ہندو دکانداروں سے دریافت کیا کہ تم مرزا صاحب کو کیا سمجھتے ہو جو سجدہ کرتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بھگوان ہیں ۔ بڑے مہاپرش ہیں ۔ ہم ان کو بچپن سے جانتے ہیں۔ یہ خدا کے بڑے بھگت ہیں ۔ دنیا بھر کو خدا نے ان کی طرف جھکا دیا ہے۔ جب خدا ان کی اتنی عزت کرتا ہے تو ہم کیوں نہ ان کی عزت کریں ۔
(سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 741-42)
………………………
خوش اخلاق ، متقی او رپرہیز گار
٭…پنڈت دیوی رام سکنہ دودو چک ضلع گورداسپور کا بیان ہے کہ میں 21جنوری 1875ء کو نائب مدرس ہو کر قادیان گیا تھا۔ میں وہاں چارسال رہا۔ میں مرزا غلام احمد صاحب کے پاس اکثر جایا کرتا تھا اور میزان طب آپ سے پڑھا کرتا تھا۔ آپ کے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب زندہ تھے۔ مرزا غلام احمد صاحب ہندو مذہب اور عیسائی مذہب کی کتب اور اخبارات کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اور آپ کے ارد گرد کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔ آپ پانچ وقت نماز پڑھنے کے لئے مسجد خاص (مسجد اقصیٰ مراد ہے۔ مؤلف) میں جایا کرتے تھے … … مرزا صاحب پانچ وقت نماز کے عادی تھے۔ روزہ رکھنے کے عادی تھے اور خوش اخلاق ، متقی اور پرہیز گار تھے…مرز اصاحب کے ہندوئوں اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور شریفانہ برتائو تھا۔ خندہ پیشانی سے پیش آتے ۔ متواضع اور مہمان نواز تھے۔ کبھی کبھی دیگ پکوا کر غرباء اور مساکین کو کھلاتے تھے۔ حکمت کی اجرت نہ لیتے تھے… مرزا صاحب بازار میں کبھی نہ آتے تھے، صرف مسجد تک آتے تھے۔ اور نہ کسی دکان میں بیٹھتے تھے۔ مسجد یا حجرہ میں رہتے تھے۔
مرزا صاحب کے والد صاحب آپ کو کہتے تھے کہ ’’غلام احمد تم کو پتہ نہیں کہ سورج کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں ۔ جب میں دیکھتا ہوں چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔‘‘
٭… مرزا صاحب اپنے والد صاحب کے کامل فرمانبردار تھے… کسی آدمی کی نظر میں گر ے ہوئے نہ تھے۔ اور مذہبی بحث میں ایک شیر ببر کی طرح ہوشیار ہو جاتے تھے۔ شائستگی اور نرمی اور شیریں کلامی سے بات کیا کرتے تھے۔ طبع کے حلیم اور بُرد بار تھے۔ میں نے مرزا صاحب کی طبیعت میں کبھی غصہ نہیں دیکھا… جھوٹ سے ہمیشہ نفرت کرتے تھے… میں نے کبھی نہیں سنا کہ مرزا صاحب کو دنیا سے محبت ہے… مرزا غلام احمد صاحب کی نسبت میںنے کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے چھوٹی عمر میں کوئی برا کام خلاف ِ شریعت یا مذہب کیاہو ، اور نہ ہی دیکھا تھا… مرزا صاحب شرکاء کو ذلیل کرنا نہ چاہتے تھے اور نہ ہی کسی کی برائی چاہتے تھے۔ شرکاء گھر میں بھی مرزا صاحب کی عزت کرتے تھے… میں نے مرزا صاحب کو نہ کبھی بدنظری کرتے دیکھا اور نہ سنا … ہمیشہ ادب کا لحاظ رکھتے تھے اور زائرین کی عزت و تکریم کرتے تھے… مرزا صاحب چشم پوش تھے۔ کبھی کسی میلہ یا تماشہ یا کسی اور مجلس میں نہ جایا کرتے تھے… میں نے ان کو پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھتے دیکھا ہے … آپ بڑے خندہ پیشانی سے ملنے والے ، خوش خلق ،حلیم الطبع، منکسر المزاج تھے۔ تکبر کرنا نہ آتا تھا۔ طبیعت نرم تھی ۔‘‘
( سیرت المہدی جلد اول صفحہ 688تا695جدید ایڈیشن )
………………………
خلق عظیم
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلق عظیم پر کئی کتب لکھی جا سکتی ہیں اور ہزاروں عملی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر اس مضمون میں بزرگوں کی چند گواہیاں جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور دیکھا اور چند نمونے آپ کے خلق عظیم اور اخلاق عالیہ کے پیش کئے جاتے ہیں ۔
اعلیٰ وا رفع اخلاق
٭…حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں :
’’ آپ کے اخلاق بھی ایسے اعلیٰ اور ارفع تھے کہ ہر شخص جس کو آپ سے واسطہ پڑتا تھا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ‘‘(سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 98نیا ایڈیشن )
٭…حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں :
’’ میں نے اپنے زمانہ میں میرزا غلام احمد صاحب کو دیکھا سچّا پایا اور بہت ہی راستباز تھا۔ جو بات اس کے دل میں نہیں ہوتی تھی وہ نہیں منواتا تھا۔ ‘‘
( حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 199)
حضرت مسیح موعودؑ کی عظیم روحانی شخصیت ، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور خُلق عظیم کا ہی عظیم الشان اثر تھا کہ حضرت حکیم نور الدین صاحب ( جو آپ کے پہلے خلیفہ بنے ) نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ حضرت اقدس کا دامن اب کبھی نہیں چھوڑیں گے اور قادیان سے باہر قدم نہ رکھیں گے۔ ہاں اگر حضرت مسیح موعود ؑ کا حکم ہوگا تب ایسا ممکن ہو سکے گا ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
’’ میں اگرشہر میں رہوںتو بہت روپیہ کما سکوں لیکن میں کیوں ان ساری آمدنیوں پر قادیان کے رہنے کو ترجیح دیتا ہوں ؟ اس کا مختصر جواب میں یہی دوں گا کہ میں نے یہاں وہ دولت پائی ہے جو غیر فانی ہے ۔ جس کو چور اور قزاق نہیں لے جا سکتا ۔ مجھے وہ ملا ہے جو تیرہ سو برس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا ! پھر ایسی بے بہادولت کو چھوڑ کر میں چند روزہ دنیا کے لئے مارا مارا پھروں ؟
میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اب کوئی مجھے ایک لاکھ کیا ایک کروڑ روپیہ یومیہ بھی دے اور قادیان سے باہر رکھنا چاہے۔ میں نہیں رہ سکتا۔ ہاں امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں پھر خواہ مجھے ایک کوڑی بھی نہ ملے۔ پس میری دولت ، میرا مال ، میری ضرورتیں اسی امام کے اتباع تک ہیں اور دوسری ساری ضرورتوں کواس ایک وجود پر قربان کرتا ہوں۔ ‘‘
( حقائق الفرقان جلد 4صفحہ 132)
حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے بھی اپنی روحانی بصیرت سے آپ کے جذبہ فدائیت و قربانی کو بھانپ لیا تھا کہ یہ اپنے قول وفعل میں حد درجہ سچا اور اپنے اخلاص و فدائیت میں نہایت سنجیدہ ہے تبھی تو آپؑ نے بڑے وثوق او ریقین سے حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے بارہ میں یہ عظیم الشان تاریخی کلمات فرمائے کہ’’ اگر میں نور الدین کو حکم دوں کہ تو پانی میں چلا جا تو وہ جانے کے لئے تیار ہے۔ اگر میں اس کو کہوں کہ آگ میں داخل ہو جا تو وہ میرے حکم سے آگ میں بھی جانے کو تیار ہے۔ وہ کسی طرح بھی میرے حکم سے انکار نہیں کرسکتا۔‘‘( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 567)
٭… اب ایک ایسے وجود کی شہادت پیش کی جاتی ہے جس نے کم از کم 25سال بچپن سے جوانی تک نہایت باریک بینی سے حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی اور خُلق عظیم کا مطالعہ کیا اور اپنی گواہی ان الفاظ میںدی جو آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ میری مراد حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ سے ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں :
’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اخلاق میں کامل تھے۔ یعنی آپ نہایت رئوف رحیم تھے ، سخی تھے ، مہمان نواز تھے ، اشجع الناس تھے ، ابتلائوں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نَر کی طرح آگے بڑھتے گئے۔ عفو، چشم پوشی ، فیاضی ، دیانت ، خاکساری ، صبر ، شکر ، استغناء، حیا، غض بصر ، عفت ، قناعت ، وفاداری ، بے تکلفی، سادگی، شفقت، ادب الٰہی ، ادب رسول و بزرگان دین، حلم، میانہ روی، ادائیگی حقوق ، ایفائے عہد ، چستی ، ہمدردی، اشاعت دین، تربیت، حسن معاشرت ، مال کی نگہداشت، وقار ، طہارت ، زندہ دلی اور مزاح، رازداری ، غیرت، احسان ، حفظ مراتب ، حسن ظنی ، ہمت ، اُولو العزمی ، خودداری، خوش رُوئی اور کشادہ پیشانی ، کظمِ غیظ ، کف یدو کفِ لسان، ایثار ، معمور الاوقات ہونا ، انتظام ، اشاعت علم و معرفت ۔خدا اور اس کے رسول کا عشق ، کامل اتباع رسول۔ یہ مختصراً آپ کے اخلاق و عادات تھے… آ پ نے اخلاق کا وہ پہلو دنیا کے سامنے پیش کیا جو معجزانہ تھا۔ سراپا حسن تھے، سَراسر احسان تھے اور اگر کسی شخص کا مثیل آپ کو کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے و بس ۔
آپ کے اخلاق کے اس بیان کے وقت قریباً ہر خُلق کے متعلق میں نے دیکھا کہ میںاس کی مثال بیان کرسکتا ہوں۔ یہ نہیں کہ میںنے یونہی کہہ دیا ہے۔ میں نے آپ کو اس وقت دیکھا جب میں دو برس کا بچہ تھا۔ پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں 27سال کا جوان تھا۔ مگر مَیں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ ؑ سے بہتر، آپ سے زیادہ خلیق، آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگ ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا۔ آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا ۔ اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔ اگر حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ ’’ کَانَ خُلُقُہُ الۡقُرآن ‘‘ تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ کَانَ خَلُقُہٗ حُبّ مُحَمَّدٍ وَاتبِاعَہٗ ۔ عَلَیۡہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام۔
( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 596-597جدید ایڈیشن )
اخلاق کا سمندر
٭…حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوریؓ جب ( پہلی دفعہ )قادیان آئے تو اپنے تاثرات یوں بیان فرمائے:
’’ علماء میں سے ایک بڑے عالم کو دیکھا اور خود مدعی مسیح اور مہدویت کی بھی زیارت کی… حضرت مسیح موعود ؑکو دیکھا اور ان کی تو خیر کوئی مثال تھی ہی نہیں ، اخلاق کا ایک سمندر تھے۔ ‘‘( خطبات مسرور جلد 9صفحہ 317)
(باقی آئندہ)




