متفرق شعراء
اک مردِ خدا کی بات مجھے اس دور میں پھر دہرانے دو
اک مردِ خدا کی بات مجھے اس دور میں پھر دہرانے دو
’’یہ درد رہے گا بن کے دوا تم صبر کرو وقت آنے دو‘‘
پھل صبر و رضا کے اہلِ وفا ہر حال میں میٹھے ہوتے ہیں
نفرت کے کڑوے پھل دشمن کھاتا ہے اگر تو کھانے دو
دشنام طرازی سبّ و شتم کی گونج فضا میں پھر سے ہے
یہ ان کی موت کا ماتم ہے تم ان کو دل بہلانے دو
جو صوت فلک سے آئی ہے وہ ہر سو پھیلے گی آخر
دشمن کو لگانے دو پہرے ان کو دیوار بنانے دو
تقدیر خدا منسوخ کرے گی فیصلے ان ایوانوں کے
دیمک سے بھرے تکفیر کے ان فتوؤں کو ذرا گل جانے دو
اس کرب و بلا کے قصّے کا انجام ابھی تک باقی ہے
میداں میں عدو کو سبقت کا تم جھوٹا جشن منانے دو
یہ پیڑ پھلے پھولے گا ظفؔر جو ہم نے لہو سے سینچا ہے
ہر شاخ ثمر آور هوگی اس خون کو رنگ جمانے دو
(مبارک احمد ظفؔر۔ یوکے)
مزید پڑھیں: ہمارے دل کی زباں ہیں جلسے




