یوم آزادی پر کرتار پور فیصل آباد میں جماعت احمدیہ کی دو عبادت گاہوں پر شر پسندوں نےحملہ کر کے مینار گرائے۔ ایک عبادت گاہ کو آگ لگا دی۔ موقع پر موجود احمدیوں کو زخمی کردیا٭… پاکستانی احمدیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ریاست فوری اور مؤثر اقدام کرے:ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان
گذشتہ روز پاکستان کے یوم آزادی ۱۴؍ اگست کو، کرتار پور فیصل آباد، ڈجکوٹ تھانہ کی حدود میں واقع جماعت احمدیہ کی عبادت گاہوں پر انتہا پسندوں نے حملہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق حب الوطنی کے جلوس کی آڑ میں ایک انتہا پسند ہجوم نے احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کو ہوا دی۔

ہجوم نے کرتارپور ضلع فیصل آباد میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔ جہاں انہوں نے میناروں کو توڑ دیا اور ایک عبادت گاہ کو مکمل طور پر نذر آتش کر دیا۔ یہ دونوں عبادت گاہیں ۱۹۸۴ء سے پہلے تعمیر کی گئی تھیں۔ پرتشدد ہجوم نے دو گھنٹے تک توڑ پھوڑ جاری رکھی۔
ہجوم نے قریبی احمدیوں کے گھروں پر بھی حملہ کیا۔ احمدیوں کے گھروں پر پتھر برسائے گئے۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مقیم احمدی خاندانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہجوم نے عبادت گاہوں پر حملوں کے دوران احمدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک احمدی نوجوان کے سر میں اینٹ ماری گئی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا جبکہ دیگر احمدیوں کو لاٹھیوں سے مارا گیا۔ جس سےمتعدد احمدی زخمی ہوئے۔
مقامی احمدیوں نے پولیس کو فوری طور پر مدد کے ليے ۱۵؍ ہیلپ لائن پر کال کی۔ بعدازاں پولیس نے احمدیوں کی درخواست پر دو الگ مقدمات درج کرليے۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے وطن عزیز کے یوم آزادی کے پُر مسرت موقع پر ہجوم کی جانب سے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی پر جب پاکستانی احمدی جشن آزادی منا رہے تھے، انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ آزادی نہیں ہے جس کا تصور بانی پاکستان قائد اعظم نے دیا تھا۔ متشدد ہجوم میں شامل شر پسندوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ جب تک احمدی عبادت گاہوں پر اور محب وطن احمدیوں کے خلاف متشدد کارروائیاں کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی، ایسے عناصر کے حوصلے بلند ہوتے رہیں گے۔ تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔




