متفرق شعراء

اس دور کا امام ہی ہے امن کا حصار

جب درد آنکھ میں کوئی اشکوں میں جائے ڈھل
پھر کوہِ ظلم و جور و ستم جائیں سب پگھل

جب ذکرِ حسن یارِ ازل محوِ رَقص ہو
پھر صحنِ دل کی جھیل میں کھلنے لگیں کنول

قرآں میں اَغْلِبَنَّ بشارت لکھی ہوئی
پتھر پہ ہے لکیر جو قادر کی ہے اٹل

نبیوں کا جانشین خلافت کا ہے نظام
اس کا خدا نے اور بنایا نہیں بدل

جس نعمتِ عظیم کا وعدہ خدا کا ہے
ہے شرط مومنین ہوں صالح و باعمل

جب منتظر زمین تھی ہو بارشِ کرم
پھر آسماں سے وقت پر بھیجا خدا نے جل

جو اُٹھ چکی تھی دولتِ ایماں ثریا پر
تو کھینچ لایا اُس کو پھر اک فارسی مُغَل

نغمہ سرا چمن میں نہیں جب سے عندلیب
تب سے کسی بھی شاخ پہ نہ پھول ہے نہ پھل

قدرت کو ناپسند کوئی ہوگی ایسی بات
تخلیقِ کائنات میں جو ڈال دے خلل

کبر و انا کا ناگ خطرناک ہے شدید
سر اس کا اپنے پاؤں کی ایڑی سے دوکچل

نَخْوَت مَرَض ہے ایسا جو کہ جان لیوا ہے
اس سے بچو یہ آدمی کو جاتی ہے نگل

طوفان زلزلے سبھی سیلابی سلسلے
پیغام آسماں کا ہے بجنے کو ہے بگل

انذار کر کے جا چکا آیا تھا جو نذیر
مٹی کا ڈھیر ہوں گے سبھی قصر اور محل

سن لو امامِ وقت کو نکلا ہے آفتاب
اے غافلو کہ آؤ لحافوں سے اب نکل

اس دور کا امام ہی ہے امن کا حصار
دنیا کی مشکلات کا ہے اس کے پاس حل

میدان کا ظفرؔ وہی ہوتا ہے شہسوار
گِر جائے جب زمین پہ جاتا ہے جو سنبھل

(مبارک احمد ظفرؔ)

مزید پڑھیں: خدا نے دی ہے آسمانی شمع اس کے ہاتھ میں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button