خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… وینزویلا کے صدر نے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے میں بم دھماکے کی جھوٹی سازش بےنقاب ہوگئی ہے۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو نے امریکہ پر الزام لگایا کہ ان کے حساس اداروں نے دارالحکومت کراکس میں امریکی سفارتخانے میں بم دھماکا کرکے فالس فلیگ کارروائی کی سازش کو ناکام بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بیرون ملک سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ ایک انتہا پسند مذہبی گروپ یہ کارروائی کرسکتا ہے۔ اطلاع دینے والے نے بتایا کہ اس کام میں کوئی مقامی دہشت گرد گروپ بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
٭…بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کے جلا وطن بیٹے طارق رحمان نے ۱۷؍سال بعد بنگلہ دیش واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کا کہنا ہے کہ اِن کی وطن واپسی کا وقت اب آ گیا ہے، وہ بنگلہ دیش کے آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔طارق رحمان نے کہا ہے کہ بی این پی کی حکومت بنی تو وزیرِاعظم بننے کا فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوگا۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں انتخابات فروری ۲۰۲۶ء میں متوقع ہیں۔سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹانے کے بعد یہ پہلے انتخابات ہوں گے۔
٭…لندن: اپنے چوری شدہ فون کا سراغ لگانے والے شخص نے انٹرنیشنل گینگ پکڑوا دیا۔ فون چوری میں ملوث گینگ کےخلاف برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کیا گیا۔انٹرنیشنل گینگ پر گذشتہ برس چالیس ہزار موبائل فون چین اسمگل کرنے کا شبہ ہے۔ ۱۸؍افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ اس آپریشن میں ۲۸؍مقامات پر چھاپے مارے گئے جن میں دو ہزار سے زائد چوری شدہ موبائل فون برآمد ہوئے۔گینگ لندن سے چوری نصف سے زائد فون چین بھجوانے کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔
٭…جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں صدر ڈینئل نوبوآ (Noboa) پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے، واقعہ میں ملوث پانچ ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا۔ صدر نوبوآ کی گاڑی کو پانچ سو سے زائد مظاہرین نے گھیر کر پتھراؤ کیا اور ایک سینئر وزیر کے مطابق گولیاں بھی چلائی گئیں تاہم وہ محفوظ رہے۔ وزیر کے مطابق صدر کی گاڑی پر گولیاں لگنے کے واضح نشانات ہیں۔ صدارتی حکم نامے کے تحت پندرہ ستمبر سے ایکواڈور میں ڈیزل پر سبسڈی ختم کیے جانے کے بعد سے صدر نوبوآ کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔لاء اینڈ آڈر صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے حکومت کو کئی صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی ہے۔
٭…اسرائیلی فوج نے فریڈم فلوٹیلا میں شامل متعدد کشتیوں کو راستے میں روک لیا۔ غزہ فریڈم فلوٹیلا کے مطابق اسرائیلی فوجی سگنلز جام کرکے دو کشتیوں پر سوار ہوگئے۔اس حوالے سے اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا کی تمام کشتیوں اور ان میں سوار مسافر محفوظ ہیں، کشتیوں میں سوار تمام افراد کو اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا گیا۔فریڈم فلوٹیلا کی گیارہ کشتیوں پر تقریباً ایک سو افراد سوار تھے۔
٭…ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کی جانب سے غزہ میں نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم و بربریت فوری روکے۔ ہسپانوی وزیراعظم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اسرائیل کو عالمی کھیلوں سے باہر کردینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے ۲۰؍نکات کے جواب میں حماس نے چھ مطالبات پیش کر دیے ہیں۔
٭…غزہ میں نسل کشی میں معاونت کرنے پر اٹلی کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کردی گئی۔ درخواست میں اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، وزرائے دفاع و خارجہ سمیت دیگر عہدیداران کو نامزد کیا گیا ہے۔درخواست میں اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے پر اٹلی کے خلاف کارروائی کی اپیل کی گئی ہے۔پچاس سے زائد قانونی ماہرین اور عوامی شخصیات نے مشترکہ طور پر درخواست دائر کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کو مہلک ہتھیار دے کر جنگی جرائم میں شمولیت اختیار کی، اٹلی کی حکومت غزہ میں جاری نسل کشی میں شراکت دار ہے۔
٭…فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ مصر میں جاری غزہ جنگ بندی مذاکرات میں یرغمالیوں اور قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا جاچکا ہے۔ حماس کے سینئر عہدیدار طاہر النونونے کہا ہے کہ حماس مذاکرات کاروں اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ تعداد کے مطابق یرغمالیوں اور قیدیوں کے ناموں کی فہرست کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔حماس نے ڈیل ہونے پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری مثبت رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔
٭…کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ‘تبدیلی لانے والا صدر’ قرار دیتے ہوئے اِن کی تعریف میں کہا کہ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے مابین امن کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد مارک کارنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ماہ قبل میرا اور کچھ ساتھیوں کا شاندار استقبال کیا تھا، اُس وقت میں نے کہا تھا کہ ٹرمپ تبدیلی لانے والے ایک سمجھدار صدر ہیں۔اقتصادی اصلاحات، نیٹو رفاقتوں کی مضبوطی اور پاکستان و بھارت کے درمیان امن قائم کرنے جیسے اقدامات ٹرمپ کی قیادت کی مثال ہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)




