کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

جب پہاڑوں پر تباہی پڑتی ہے تو سب پر تباہی پڑتی ہے

اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَاِذَا الۡجِبَالُ سُیِّرَتۡ (التکویر:۴)سے سمجھا جاتا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۲)

وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ(المرسلات:۱۱)اور جس وقت پہاڑ اُڑائے جائیں گے اور ان میں سڑکیں پیادوں اور سواروں کے چلنے کی یاریل کے چلنے کے لئے بنائی جائیں گی۔

(شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۸)

وَقَدْ ظَهَرَ اَكْثَرُ عَلَامَاتِهَا وَذَكَرَهَا الْقُرْآن ذكرًا…وَ إِنَّ الْجِبَالَ نُسِفَتْ اَكْثَرُهَا فَمَا تَرَوْنَ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا اور بہت سے اس زمانہ کے علامات قرآن شریف میں مرقوم ہیں…اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گئے کہ کوئی اونچائی نچائی باقی نہ رہی۔

(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۲۱، ۱۲۲)

اس آخری زمانے کے نشانات میں بتایا گیا تھا کہ نہریں نکالی جاویں گی اور نئی آبادیاں ہوں گی۔پہاڑچیرے جاویں گے۔کتابوں اور اخباروں کی اشاعت ہوگی۔

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ۸صفحہ ۱۸۳،۱۸۲،ایڈیشن۲۰۲۴ء)

یوں تو زمین سے ہمیشہ کانیں نکلتی رہتی ہیں اور آتش فشاں پہاڑ پھٹتے رہتے ہیں مگر اب خصوصیت سے ان زلزلوں کا آنا اور زمین کا الٹنا یہ آخری زمانہ کی علامتوں سے ہے اور اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَھَا اسی کی طرف اشارہ ہے۔زمانہ بتلا رہا ہے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاص تصرفات زمین پر کرنا چاہتا ہے۔

( البدر جلد اول نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۰ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد۸صفحہ۳۳۴،ایڈیشن۲۰۲۴ء)

سورہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ میں زلزلہ کے واسطے صاف پیشگوئی ہے کہ زمین پر سخت زلزلہ آئے گا اور زمین اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی…قرآن شریف میں آیا ہے کہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں ، نادان اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔اس زلزلہ نے اس اعتراض کو بھی صاف کیا ہے۔ان آتش فشانیوں اور زلزلوں کا موجب یہ پہاڑ ہی ہوا کرتے ہیں۔جب پہاڑوں پر تباہی پڑتی ہے تو سب پر تباہی پڑتی ہے۔پہاڑ امن یا بے امنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

( بدر جلد اول نمبر ۷ مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ۸صفحہ٣٣٣،ایڈیشن ۲۰۲۴ء)

مزید پڑھیں: خدا تعالیٰ نے قرآن مجیدجیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button