خطبہ عید

خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ17؍جون 2024ء

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا مقصد ایک انقلاب لانا تھا
وہ انقلاب جس نے دنیا کی کایا پلٹنی تھی، جو دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے آنا تھا

قربانی ایک ایسا فعل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کامل وفا اور اطاعت کے ساتھ اپنی جان قربان کرنے کے لیے اور اپنے بیٹے کی جان قربان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم پر تیار ہونے کی یاد میں کیا جاتا ہے

حج کے موقع پر اس قربانی کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے مسلمان لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں اور یہ قربانیاں اللہ تعالیٰ کے نزدیک تب قربانیاں سمجھی جاتی ہیں جب اس کے پیچھے باپ بیٹے کی وفا کی روح کارفرما ہو۔ جب اللہ تعالیٰ کی خاطر خالصتاً نیکی کا حصول مدّنظر ہو۔ جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ نچھاور کرنے کا جذبہ موجزن ہو

اصل قربانی قبول کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ اگر آج احمدیوں کو قربانیوں سے روکتے ہیں تو احمدی اپنے جذبات قربان کرتے ہوئے بعض جگہ ان قربانیوں سے رک بھی گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کی دلوں پر نظر ہے، جو یہ جانتا ہے کہ احمدی اس وجہ سے کس تکلیف اور کرب میں مبتلا ہیں وہ یقیناً احمدیوں کی اس قربانی کے جذبے کو بھی قبول فرمائے گا

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصل چیز تقویٰ ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ قربانیوں کا گوشت اور خون خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتا۔ یہ روح ہے جسے آج احمدی سمجھتے ہیں اور چاہے انہیں قربانی کرنے دی جائے یا نہ کرنے دی جائے وہ اس تلاش میں ہیں کہ کس طرح تقویٰ میں بڑھا جائے اور یہی روح ہر احمدی میں ہونی چاہیے

یہ بھی قربانیوں کا ایک دَور ہے جو ان شاء اللہ گزر جائے گا۔پس ہمیں چاہیے کہ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے آگے مزید جھکیں۔ اپنی آہ و فغاں میں اتنے بڑھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جلد سے جلد مظلوموں کی مدد کو آئے اور ظالموں کو پکڑے

اگر ہم تقویٰ پہ اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم دنیا میں انقلاب لانے والے ہوں گے۔ یہ دنیا دار مولوی نہیں

تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں

ہمیشہ یاد رکھیں کہ جماعت کی ایک سو پینتیس 135 سا ل سے زائدکی زندگی میں ان مخالفتوں نے جماعت کو آگے بڑھایا ہے اور اب بھی یہ قدم آگے ہی بڑھیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہماری جان، مال، وقت اور عزت کی جو قربانیاں ہیں وہ ہمیشہ پھل لاتی رہی ہیں اور اب بھی ان شاء اللہ لائیں گی۔ یہ روح اپنی نسلوں میں بھی پھونکتے رہیں کہ کسی مخالفت سے کبھی نہیں گھبرانا۔ صرف خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے۔

ایک چیز یاد رکھیں کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے چلے جائیں۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرتے چلے جائیں

دنیا بھر میں بسنے والے احمدیوں، شہدائے احمدیت کے خاندانوں، اسیرانِ راہِ مولیٰ کی رہائی اورمظلومینِ فلسطین کے لیے دعاؤں کی تحریک

خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ17؍جون 2024ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، (سرے) یوکے

(خطبہ عیدالاضحی کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے اکثر حصوں میں عید الاضحی منائی جا رہی ہے۔ اسے پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں قربانی کی عید بھی کہتے ہیں۔ اس عید کے موقع پر سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے بےشمار جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ حج پر جاتے ہیں وہ مکہ میں حج کے موقع پر لاکھوں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ

قربانی ایک ایسا فعل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کامل وفا اور اطاعت کے ساتھ اپنی جان قربان کرنے کے لیے اور اپنے بیٹے کی جان قربان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم پر تیار ہونے کی یاد میں کیا جاتا ہے۔

جب باپ بیٹا حقیقت میں ایک خواب کی بنا پر گردن پر چھری پھیرنے اور چھری پھروانے پر تیار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بس تم نے اپنی وفا اور قربانی کا عہد پورا کر کے دکھا دیا۔ یہی آزمانا تھا کہ یہ وفا ہے کہ نہیں، نہ کہ بیٹے کی جان لینا۔ ہاں اس کی یاد میں تم ایک مینڈھا ذبح کر دو تا کہ مذہب کی تاریخ میں تاقیامت اس قربانی کے جذبے کی یاد تازہ رہے۔ پس

حج کے موقع پر اس قربانی کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے مسلمان لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں اور یہ قربانیاں اللہ تعالیٰ کے نزدیک تب قربانیاں سمجھی جاتی ہیں جب اس کے پیچھے باپ بیٹے کی وفا کی روح کارفرما ہو۔ جب اللہ تعالیٰ کی خاطر خالصتاً نیکی کا حصول مدّنظر ہو۔ جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ نچھاور کرنے کا جذبہ موجزن ہو ۔

اگر یہ نہیں تو ظاہری قربانی کچھ چیز نہیں۔ مگر آج کل ہم اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیں تو ہمیں ان قربانیوں میں جو لاکھوں لوگ کرتے ہیں وفا، نیکی اور تقویٰ کی کمی نظر آتی ہے۔ بعض ملکوں میں منڈیوں میں جانوروں کو سجا کر لایا جاتا ہے اور پھر اس پر زیادہ سے زیادہ قیمت کے لیے بولی لگتی ہے اور اس بات پر فخر کیا جاتا ہے کہ ہم نے اتنے ہزار یا لاکھ کا جانور خریدا۔ گویا قربانی کی روح دکھاوے کی چادر کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ یہ تو دنیادار طبقے کا حال ہے۔ قربانی کی روح سے ان لوگوں کا دُور کا بھی واسطہ نہیں اور جہاں تک نام نہاد علماء کے طبقے کا سوال ہے تو انہوں نے مذہب کے نام پر لوگوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر دیا ہے اور پاکستان میں تو ان نام نہاد علماء کا مذہب پر اجارہ داری کا تصور اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اس کے لیے یہ ظلم کی کسی بھی انتہا تک جا سکتے ہیں اور احمدیوں کو تو خاص طور پر اس ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مولویوں کے نزدیک احمدیوں کا عید کی نماز پڑھنا اور جانوروں کی قربانی کرنا ایک خطرناک جرم ہے جس کی سزا کے لیے وہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔

پھر صرف یہ باتیںہی نہیں بلکہ اس شدت پسندی کا پرچار اس حد تک ہے کہ عامة المسلمین کو کہا جاتا ہے کہ ایسے احمدیوں سے جو نماز پڑھیں اور قربانی کریں تم کوئی بھی سلوک کرو وہ نہ صرف جائز ہے بلکہ تمہیں جنت میں لے جانے والا ہے چاہے ان کو قتل کر دو۔ اور اس بات کا نتیجہ یہ ہے کہ احمدیوں کو وقتاً فوقتاً شہید بھی کیا جاتا ہے اور پھر صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بعض جگہ انتظامیہ نے ان نام نہاد مولویوں کے زیراثر نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کے جرم میں احمدیوں کو جیلوں میں بھی ڈال دیا ہے۔ گزشتہ سالوں میں یہ ہوتا رہا ہے ۔ اس سال گو لگتا ہے کہ حکومت کی پالیسی میں کچھ نرمی آنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے لیکن پھر بھی بعض جگہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ انتظامیہ احمدیوں پہ ظلم کر رہی ہے۔ مولوی کا اثر بعض جگہ اس حد تک انتظامیہ پر ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ شاید احمدیوں پر ظلم کرنے سے حقیقت میں ان کے لیے جنت میں جانے کے راستے کھل جائیں گے۔ پس یہ لوگ پورا زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح بھی ہو احمدیوں کو عبادت اور قربانی سے روکا جائے لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ

اصل قربانی قبول کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ اگر آج احمدیوں کو قربانیوں سے روکتے ہیں تو احمدی اپنے جذبات قربان کرتے ہوئے بعض جگہ ان قربانیوں سے رک بھی گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کی دلوں پر نظر ہے، جو یہ جانتا ہے کہ احمدی اس وجہ سے کس تکلیف اور کرب میں مبتلا ہیں وہ یقیناً احمدیوں کی اس قربانی کے جذبے کو بھی قبول فرمائے گا۔

پس ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور پہلے سے بڑھ کر اپنے جذبات پیش کریں تاکہ وہ جلد ہم پر رحم اور فضل کی نظر ڈالے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً مظلوموں کی آہوں کو سنتا ہے۔ وہ آپ کی قربانی کی نیت کو بھی قربانی کا درجہ دے کر قبول کرے گا اور ان نام نہاد قربانی کرنے والوں کی قربانیوں کو ردّ کرکے لَوٹا دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ایک حج پر نہ جانے والے کا حج صرف اس کی نیت کی وجہ سے قبول کر لیا، اس کی ایک نیکی کی وجہ سے قبول کر لیا اور لاکھوں طواف کرنے والوں کے حج قبول نہیں ہوئے۔ (ماخوذ از تذکرۃ الاولیاء صفحہ 165-166 مطبوعہ ممتاز اکیڈمی لاہور)

تو وہی خدا آج ہم احمدیوں کے ان دلی جذبات کو قبول کرتے ہوئے ہماری قربانیاں قبول کر سکتا ہے جن کی سینکڑوں ہزاروں احمدیوں نے نیت کی ہے اور ان مولویوں اور ان کے پیچھے چلنے والوں کی ظاہری قربانیاں ان کے منہ پر مار سکتا ہے۔

پس احمدیوں کو تقویٰ سے زندگی بسر کرتے ہوئے ان سختی کے دنوں کو بھی دعاؤں میں ڈھالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے تو بڑا واضح فرما دیا ہے کہ لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ (الحج:38) یاد رکھو! ان قربانیوں کے گوشت اور خون ہرگز اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتے لیکن تمہارے دل کا تقویٰ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ پس

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصل چیز تقویٰ ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ قربانیوں کا گوشت اور خون خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتا۔ یہ روح ہے جسے آج احمدی سمجھتے ہیں اور چاہے انہیں قربانی کرنے دی جائے یا نہ کرنے دی جائے وہ اس تلاش میں ہیں کہ کس طرح تقویٰ میں بڑھا جائے اور یہی روح ہر احمدی میں ہونی چاہیے۔

گو ظاہری طور پر انہیں اس بات سے دلی صدمہ بھی ہوتا ہے جو انہیں قربانیاں کرنے سے روکنے پر ہوتا ہے۔ بہرحال اگر ان میں تقویٰ ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کو قبول کر کے اس کا ثواب دے گا لیکن بدقسمت مولویوں میں یہ چیز نہیں۔ ان کی حرکتیں ہی ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے دل تقویٰ سے خالی ہیں۔ یہ لوگ احمدیوں کو تکلیفیں دینے بلکہ قتل کرنے تک کو نعوذ باللہ اسلام کی خدمت سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے سے تو ان کا دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ کلمہ پڑھنے والا مسلمان ہے۔ یہ کہتے ہیں نہیں۔ احمدی دل سے یہ کلمہ نہیں پڑھتے۔ کیا انہوں نے کسی احمدی کا دل چیر کر دیکھا ہے؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے صحابی کو فرماتے کہ کیا تم نے اس شخص کا دل چیر کر دیکھا تھا جسے تم نے قتل کیا کہ اس نے کلمہ دل سے پڑھا تھا یا خوف سے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر … حدیث 277)

لیکن یہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اور سمجھ بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے اپنا خود ساختہ دین پھیلانا چاہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتاہے کہ کلمہ پڑھنے والے کو، اپنے آپ کو مومن کہنے والے کو قتل کرنے والا اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا اور جہنم میں جائے گا تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ سکیں گے۔ کاش! کہ یہ عقل کریں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی باتیں سن کر ان پر عمل کریں۔

احمدی جو ایمان پر قائم ہیں اور نیک نیتی سے اپنی جان، مال اور جذبات کی قربانی دے رہے ہیں ان کے عمل یقیناً اللہ تعالیٰ کی نظر میں مقبول ہونے والے ہیں۔ یہ بھی قربانیوں کا ایک دَور ہے جو ان شاء اللہ گزر جائے گا۔پس ہمیں چاہیے کہ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے آگے مزید جھکیں۔ اپنی آہ و فغاں میں اتنے بڑھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جلد سے جلد مظلوموں کی مدد کو آئے اور ظالموں کو پکڑے۔

اللہ تعالیٰ سے مانگیں کہ ہم تو تیرے حکم کے مطابق سنتِ ابراہیمی پر عمل کرنے والے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔ جہاں جان کی بھی قربانی ہے، مال کی بھی قربانی ہے اور جذبات کی بھی قربانی ہے۔ پس چاہے ہمارے بکرے گائیاں ذبح ہوں یا نہ ہوں ہم تو اس قربانی کے لیے تیار ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں اور نیتوں کو قبول کرتے ہوئے یقیناً ہماری قربانیاں اپنے وعدے کے مطابق قبول فرمائے گا۔ ہاں! شرط تقویٰ ہے۔

اگر ہم تقویٰ پہ اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم دنیا میں انقلاب لانے والے ہوں گے۔ یہ دنیادار مولوی نہیں۔

ہم ہی وہ جماعت ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آ کر دنیا میں انقلاب لانے والے ہیں۔

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا مقصد ایک انقلاب لانا تھا۔ وہ انقلاب جس نے دنیا کی کایا پلٹنی تھی، جو دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے آنا تھا۔

ورنہ حضرت اسماعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی سے تو انقلاب نہیں آ جانا تھا۔ مینڈھے کی قربانی تو ایک ظاہری اظہار تھا اور آج بھی ہے تا کہ مومن اس روح اور مقصد کو نہ بھولے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔ گوشت اور خون سچی قربانی نہیں۔ جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں مگر خدا نے یہ قربانیاں بھی بند نہیں کیں۔‘‘ یعنی ظاہری قربانیاں۔’’تا معلوم ہو کہ ان کی قربانیوں کا بھی انسان سے تعلق ہے۔‘‘

(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 482)

پھر آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں:’’خدا تعالیٰ نے شریعت اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں۔ چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔ پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے۔‘‘(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 99 حاشیہ)یعنی دل کی قربانی ۔

پس یہ روح ہے جو ہم نے اپنے اندر، اپنے گھر والوں کے اندر، اپنی اولاد کے اندر اور اپنی نسل کے اندر پیدا کرنی ہے اور پھر بحیثیت جماعت ہم سب میں یہ روح پیدا ہو گی تو وہ حقیقی انقلاب آئے گا جس کے پیدا کرنے کے لیے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں مبعوث فرمایا اور ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ان مولویوں کی عارضی کوششوں کی پروا نہ کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے جانے والے ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ یقیناً اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے۔

پس اس بات سے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ حکومت وقت کے بعض ظالم کارندوں نے مولویوں کے ساتھ مل کر اپنے اختیارات کے تحت ہمیںقربانی کرنے یا عید پڑھنے سے روکا ہے یا ماضی میں روکتے رہے ہیں یا اس قدر خوف کی حالت پیدا کر دی ہے کہ احمدی کھل کر نہ عبادت کر سکتے ہیں، نہ قربانی کر سکتے ہیں۔ اگر صرف ظاہری قربانیوں کا سوال ہے تو دوسری قوموں میں بھی یہ ظاہری قربانیاں ہیں لیکن کیا انہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہے۔ ہرگز نہیں کیونکہ ان میں تقویٰ مفقود ہے اور یہی حال آج کل کے نام نہاد ملّاں کا ہے جس نے دینِ اسلام جو امن اور سلامتی کا مذہب ہے اسے اپنے مقاصد کے استعمال کے لیے شدت پسندی کا مذہب بنا دیا ہے۔ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کچھ بھی خوف نہیں ہے۔ جیساکہ میں نے کہا

ایک روزتواللہ تعالیٰ ان کی پکڑ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ جتنی رسی دراز کرتا ہے اتنی ہی سخت پکڑ بھی کرتا ہے۔

یہ لوگ خدا بننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہمیں ان حالات میں مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اپنے تقویٰ کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے بلکہ اس مقصد کو پانے کا ذریعہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم نبی کو مبعوث فرمایا یعنی دنیا میں خدائے واحد کی حکومت کو قائم کرنا۔

تقویٰ کے معیار حاصل کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی رو بہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔‘‘

آپؑ نے فرمایا:’’آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس بیماری کے لئے دوا نہ کی جاوے اور علاج کے لئے دکھ نہ اٹھایا جاوے بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا کُل منہ کو کالا نہ کر دے۔ اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے ۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 10 ایڈیشن 1984ء)

پھر فرماتے ہیں:’’یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔ وہ بڑی طاقت والا ہے۔ جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ (الطلاق : 4) لیکن جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہلِ دین تھے۔ ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لئے تھیں اور دنیوی امور حوالہ بخدا تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ غرض برکات تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے حارج ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 12 ایڈیشن 1984ء)

پھر آپؑ فرماتے ہیں:’’چاہئے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ

تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں

اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغزِ شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔ تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت سے ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اورمراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اورطلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ (المائدہ : 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلّف نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فرمایا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ (الرعد:32) پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیتِ دعا کے لئے ایک غیر منفک شرط ہے تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔ لہٰذا

ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تاکہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 108-109 ایڈیشن 1984ء)

پس یہ وہ مضمون ہے جسے ہمیں اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ جب یہ ہو گا تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ وہ مشن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کا مشن ہے۔ اس کے لیے ہمیں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ مولوی گھٹیا حرکتیں کر کے کبھی ہمارے کاموں میں روک نہیں ڈال سکتے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہماری زندگی کا ایک مقصد ہے اور ہر احمدی کو اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ روکیں اور مخالف ہوائیں ہمیں اونچا اڑانے کے لیے چلتی ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنے والا بنانے کے لیے چلتی ہیں۔

دنیا میں باقی جگہ جن کو قربانی کی توفیق مل رہی ہے۔ بعض جگہ بلکہ اکثر دنیا میں لوگ قربانی کر رہے ہیں وہ بھی اس مقصد کو سامنے رکھیں کہ ہم نے اس قربانی سے تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے اندر اور دنیا میں بھی ایک انقلاب پیدا کرنا ہے۔

جیسا کہ میں نے کہا پاکستان میں جن کو قربانیوں سے روکا گیا ہے وہ پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے جذبات کی قربانی اور مال کی قربانی کو قبول فرماتے ہوئے جلد تر ہمیں دنیا میں انقلاب پیدا ہوتا ہوا دکھائے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جماعت کی ایک سو پینتیس 135 سا ل سے زائدکی زندگی میں ان مخالفتوں نے جماعت کو آگے بڑھایا ہے اور اب بھی یہ قدم آگے ہی بڑھیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہماری جان، مال، وقت اور عزت کی جو قربانیاں ہیں وہ ہمیشہ پھل لاتی رہی ہیں اور اب بھی ان شاء اللہ لائیں گی۔ یہ روح اپنی نسلوں میں بھی پھونکتے رہیں کہ کسی مخالفت سے کبھی نہیں گھبرانا صرف خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہمیشہ سامنے رکھنا ہے اور جب یہ ہو گا تو تبھی ہم خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں گے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانے والے ہوں گے۔ یہ مولوی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو غلط رنگ میں استعمال کرنےو الے تو اپنی حرکتوں سے دنیا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے دُور لے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔

حقیقت میں ہم ہیں جو دنیا کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے لانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قربانیوں اور تقویٰ کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دنیا کے احمدیوں کے لیے اللہ تعالیٰ یہ عید ہر لحاظ سے مبارک فرمائے

اور ہم قربانیوں کے نتیجہ میں جلد ایک انقلاب پیدا ہوتا ہوا دیکھیں۔

پاکستان کے احمدیوں کو بھی عید مبارک ہو۔

گذشتہ کئی دنوں سے ان کی طرف ہی توجہ رہی ہے۔ وہاں کافی حالات خراب رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کی قربانیاں جلد رنگ لائیں۔ بلکہ آج عید والے دن بھی رات کو کوٹلی میں ایک جگہ بلوائیوں نے حملہ کیا۔ مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور بعض جگہ انتظامیہ کی کمزوری یا کسی وجہ سے عید بھی نہیں پڑھنے دی گئی۔ بہرحال سنا ہے کہ حکومتِ وقت نے تو ان کو کہا تھا کہ حفاظت کی جائے لیکن ہر جگہ مقامی انتظامیہ اپنی اپنی مرضی چلانے والی ہے۔ بہرحال ہمارا تو سارا انحصار اللہ تعالیٰ پر ہے۔ اسی کے سامنے ہم نے جھکنا ہے۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ احمدیوں کے درد جلد خوشیوں میں بدل جائیں۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی احمدی درد اور قربانی کے دَور سے گزر رہے ہیں ان کے لیے جلد آسانیوں کے سامان پیدا ہوں۔

پس

ایک چیز یاد رکھیں کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے چلے جائیں۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرتے چلے جائیں۔شہداء کے خاندانوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ان شہداء کے خون کے ہر قطرے کو ایسے پیار کی نظر سے دیکھے کہ ایک انقلاب رونما ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ان شہداء کی قربانیاں ان کی نسلوں میں ایک انقلاب لانے والی ہوں۔ پہلے سے بڑھ کر دین سے جڑنے والے ہوں۔

ہر جگہ کے اسیران کی جلد رہائی کے سامان ہونے کے لیے بھی دعا کریں۔

خاص طور پر یمن میں جو خاتون اسیر ہے اس کے لیے تو بہت دعا کریں اور باقیوں کے لیے بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے اور جلد رہائی ہو۔ کسی بھی رنگ میں قربانی کرنے والے ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے بےانتہا نوازے اور ہر احمدی ہمیشہ تقویٰ پر قائم رہنے والا ہو۔

فلسطینیوں کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جلد اس ظلم کی چکی سے نکالے۔

اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ اللہ کرے کہ سب احمدیوں کے لیے یہ عید برکتوں والی عید ہو۔ دنیا میں عمومی طور پر بھی امن اور سکون اور سلامتی قائم ہو جائے اور وہ دنیا میں خدائے واحد کو پہچاننے والے لوگ بن جائیں تبھی دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ اب ہم دعا کریں گے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ20؍مارچ 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button