یہ دجّالی قوتیں ہیں جو ہم پر حملہ کر رہی ہیں
پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ شیطان کس طرح وسوسہ ڈالتا ہے۔ ایک مثال تو پہلے دے دی اور اس وسوسے سے کس طرح بچنا ہے کہ یہ امیر لوگ ہماری ضروریات پوری کرنے والے ہیں یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی بھی ہے جو ہماری ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اس واسطے حقیقی ربّ الناس کی پناہ چاہنے کے واسطے فرمایا۔‘‘ (اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دعا کرو کہ میں حقیقی ربّ الناس جو ہے اُس کی پناہ میں رہوں۔) ’’پھر دنیاوی بادشاہوں اور حاکموں کو انسان مختارِ مطلق کہنے لگ جاتا ہے۔ اس پر فرمایا کہ مَالِکِ النَّاس۔ اللہ ہی ہے۔ پھر لوگوں کے وساوس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ مخلوق کو خدا کے برابر ماننے لگ پڑتے ہیں اور ان سے خوف و رجاء رکھتے ہیں۔ اس واسطے الٰہِ النَّاسِ فرمایا۔ (تمہارا معبود اللہ تعالیٰ ہے۔) یہ تین وساوس ہیں۔ ان کے دُور کرنے کے واسطے یہ تین تعویذ ہیں (جو سورۃ الناس میں بیان کئے گئے ہیں) اور ان وساوس کے ڈالنے والا وہی خنّاس ہے (یعنی شیطان ہے) جس کا نام توریت میں زبان عبرانی کے اندر نحاش آیا ہے جو حَوّا کے پاس آیا تھا۔ چھپ کر حملہ کرنے والا۔ اس سورۃ میں اسی کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دجال بھی جبر نہیں کرے گا بلکہ چھپ کر حملہ کرے گا تا کہ کسی کو خبر نہ ہو۔‘‘ (یہ دنیا کی جو چکا چوند ہے۔ آجکل جو نئی نئی ایجادات ہیں یا آجکل کی تعلیم کے بہانے سے اللہ تعالیٰ سے دُوری اور مذہب سے دُوری کی طرف جو توجہ دلائی جاتی ہے اور اس میں حکومتیں بھی شامل ہیں، بڑی بڑی تنظیمیں بھی شامل ہیں کہ انسانی حقوق کے نام پر بعض باتیں کی جاتی ہیں کہ یہ دیکھو مذہب تمہیں ان باتوں کا پابند کرتا ہے حالانکہ انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ انسان کو مکمل آزادی ہو۔ تو یہ چیزیں آہستہ آہستہ دلوں میں ڈالی جاتی ہیں اور اس زمانے میں یہ چیزیں شیطان بھی کر رہا ہے اور اس میں حکومتیں بھی شامل ہیں۔ بڑی بڑی جو ہیومن رائٹس (Human Rights) کے نام پر یا ویمن رائٹس (Women Rights) کے نام پر، حقوق نسواں کے نام پر یا جیسا کہ پہلے مَیں نے کہا انسانی حقوق کے نام پر جو تنظیمیں ہیں یہ سب شامل ہیں۔ جہاں وہ دین سے ہٹانے کی کوشش کریں وہاں ہر ایک کو سمجھ لینا چاہئے، ہر احمدی کو سمجھ لینا چاہئے، ہر مومن کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہاں ہم پر شیطان کا حملہ ہونے والا ہے اور یہ دجّالی قوتیں ہیں جو ہم پر حملہ کر رہی ہیں۔)
(خطبہ جمعہ ۱۱؍مارچ ۲۰۱۶ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ یکم اپریل ۲۰۱۶ء)
مزید پڑھیں: ہر ایک کو اپنی قربانیوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں




