جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2025ء کے موقع پر مستورات کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب
آپ وہ مائیں ہیں جنہوں نے اگلی نسلوں کو یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو گے تو پھر ہی کامیابیاں بھی حاصل کر سکو گےاور جب کامیابیاں حاصل کرو گے تو تب ہی تم اس دنیا میں بھی سرخرو ہو گےاور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر وہاں بھی انعام پانے والے ہو گے
اگر عورتوں کے معیار بلند ہوں گے تو نئی نسل زیادہ بہتر طور پر پروان چڑھنے والی ہو گی اور اپنی قوم کی روایات اور علم کو سیکھ کر اس پر عمل کرنے والی ہوگی
مَیں مردوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق ادا کریں اور انہیں دین سکھائیں اور عورتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دین کا علم حاصل کریں اور اپنی اگلی نسلوں کی حفاظت کریں۔ اس احساس کمتری میں نہ رہیں کہ اسلام نے آپ کو کوئی کمتر مقام دیا ہے بلکہ اسلام نے آپ کو ایک بڑی حیثیت دی ہے۔ ماں کی حیثیت سے اس کا ایک مقام ہے ۔بہن کی حیثیت سے اس کا ایک مقام ہے۔اور بیوی کی حیثیت سے اس کا مقام ہے
بعض دفعہ مرد کی غلطی ہوتی ہے تو بعض دفعہ عورتوں کی بھی غلطی ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو فرمایا کہ تم دونوں کے جو جذبات ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی قدر کرو
اللہ تعالیٰ نے نکاح کے خطبے میں بہت ساری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور بار بار یہ تلقین کی ہے کہ تقویٰ پر قائم رہو اور جب تقویٰ پر قائم رہو گے تو ان باتوں پر عمل کر سکو گے جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے
مَیں بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ اگر آپ نے اپنی نسلوں کو سنبھالنا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنا ہے تو اس عہد کو پورا کرنا ہوگا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والی ہیں۔ دین کو مقدم رکھنے والے تو وہی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں اور دونوں کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں
اگر ہم نیک اعمال کر رہے ہیں ،نیکی پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، آئندہ کوئی غلطی نہ کرنے کا عزم کرتے ہیں اور امن وسلامتی پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر قربانی دیتے ہوئے اپنے بعض جائز حقوق بھی چھوڑ رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو بہت نوازتا ہے
ہر احمدی عورت اور مرد کو کوشش کرنی چاہیے کہ لغویات سے بچیں اور دین کی طرف زیادہ توجہ دیں کیونکہ آپ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کر کے یہ عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پہنچائیں گی
ایک عہد کریں کہ آپ نے آئندہ اپنی زندگیوں میں ایک انقلاب پیدا کرنا ہے۔اور یہ انقلاب اس لیے پیدا کرنا ہے کہ
نہ صرف اپنی عاقبت سنوارنی ہے بلکہ دنیا کو بھی راہ راست پر لانا ہے
آج کل دنیا تباہی کے کنارے کی طرف جا رہی ہے اور اس تباہی سے وہی لوگ محفوظ رہ سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں ورنہ جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر سب اس میں پستے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے
یہ جلسہ، یہ اجلاس اور یہ جو جماعتی فنکشن ہوتے ہیں یہ بھی دینی مجالس اور دین سیکھنے کا حصہ ہیں۔ اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی نمائش کے لیے نہیں آنا چاہیے۔ بعض لوگ جلسوں پر بے شمار زیور پہن کر آ جاتے ہیں یا جلسے کے لیے اعلیٰ اعلیٰ کپڑے بنائے جاتے ہیں۔ صاف ستھرے اچھے اور عمدہ کپڑے ہونے چاہئیں لیکن صرف یہ مقصد نہ ہو کہ ہم نے اپنے کپڑوں اور اپنے زیوروں کو لوگوں کو دکھاناہے اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنا ہے۔ اگر یہ نیت ہوگی تو پھر آپ اس مقصد کو حاصل کرنے والی نہیں ہوں گی جو جلسوں یا دینی اجلاسوں پر آنے کا مقصد ہے کیونکہ یہ جگہیں تو دینی علم کے حصول کے لیے ہیں اور مسجدیں عبادت کے لیے ہیں
اسلام میں عورت کا بلندمقام اور احمدی خواتین کی ذمہ داریاں
(فرمودہ مورخہ 30؍اگست 2025ء بروزہفتہ بمقام ایوانِ مسرور اسلام آباد (ٹلفورڈ) سرے یوکے)
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آج آپ لوگ جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت کے لیے جمع ہوئی ہیں۔ اس وقت میں دیکھ رہا ہوں کہ کئی ہزار کی تعداد میں عورتیں وہاں بیٹھی ہیں۔ ہر احمدی عورت کا ایک مقصد ہے اور ہونا بھی چاہیے جس کا آپ عہد کرتی ہیں اور ہر مرد بھی عہد کرتا ہے کہ اس نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔ پس دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو ہدایات دی ہیں، جو دین ہمیں سکھایاہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے دین کا علم حاصل کر کے اُسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
کسی بھی معاشرے یا قوم کی جو ترقی ہے اس کا دارومدار زیادہ تر اس قوم کی عورتوں پر ہوتا ہے
کیونکہ عورتوں کی تعداد عموماً مردوں سے زیادہ ہوتی ہے اور اس لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
اگر عورتوں کے معیار بلند ہوں گے تو نئی نسل زیادہ بہتر طور پر پروان چڑھنے والی ہو گی اور اپنی قوم کی روایات اور علم کو سیکھ کر اس پر عمل کرنے والی ہوگی۔
یہی حال دین کے معاملے میں ہے۔ اگر عورتوں میں مذہب کی تعلیم ہوگی اور وہ دین کے مطابق عمل کرنے والی ہوں گی تو اگلی نسل میں بھی دین رائج ہوگا اور ان میں مذہب سے دلچسپی پیدا ہو گی۔ اس لیے اسلام نے عورت کو ایک خاص مقام دیا ہے اور اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے۔ اس بارے میں اکثر مَیں بتاتا رہتا ہوں لیکن جو توجہ ہونی چاہیے وہ نہیں ہو رہی۔

مَیں مردوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق ادا کریں اور انہیں دین سکھائیں اور عورتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دین کا علم حاصل کریں اور اپنی اگلی نسلوں کی حفاظت کریں۔ اس احساس کمتری میں نہ رہیں کہ اسلام نے آپ کو کوئی کمتر مقام دیا ہے بلکہ اسلام نے آپ کو ایک بڑی حیثیت دی ہے۔ ماں کی حیثیت سے اس کا ایک مقام ہے ۔بہن کی حیثیت سے اس کا ایک مقام ہے۔اور بیوی کی حیثیت سے اس کا مقام ہے ۔
اور مردوں کو اللہ تعالیٰ نے عموماً یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ(النساء :20)یعنی عورتوں کا ایک مقام ہے اس لیے اس کی قدر کرو اور بلاوجہ بہانے بنا کر اسے کسی طرح کا نقصان پہنچانے یا جذباتی تکلیف پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔ ان سے حسن سلوک کرو۔ یہ عورت ہی ہے جس کی وجہ سے تمہاری نسل چل رہی ہے کیونکہ ہر انسان کو تمام حالات کا علم نہیں ہوتا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ بعض معاملات میں زیادتی کر بھی جائیں تو جائز ہے اور وہ اسے یہ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں کہ عورت نے فلاں قصور کیا ۔اس وجہ سے پھر وہ گناہگار ٹھہرتے ہیں کیونکہ یہ بلا وجہ کی الزام تراشی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ تم لوگ سمجھتے ہو کہ تم صحیح ہو اور بعض معاملات میں عورتوں کو غلط سمجھتے ہو اور اس وجہ سے انہیں سزا دینے یا ان سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم کسی چیز کو ناپسند بھی کرو تو عین ممکن ہے کہ وہ تمہارے فائدے کے لیے ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بھلائی رکھ دے۔(البقرۃ:217)اس لیے ذرا ذرا سی بات پر عورتوں کے جذبات سے کھیلنے کا بہانہ نہ بناؤ اور انہیں تکلیف دینے کی کوشش نہ کرو کیونکہ جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو،ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو پسند کر رہا ہو۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اگر عورتوں میں کوئی معمولی غلطیاں دیکھو بھی تو انہیں آرام سے سمجھاؤ اور پھر معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو اور ان کے لیے دعا کرو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اگر تمہارے نزدیک عورت نے کوئی غلطی کی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو ان کے مقام کی وجہ سے بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ صرف تمہارے ہی جذبات نہیں ہیں بلکہ عورتوں کے بھی جذبات ہیں اس لیے ان کا خیال رکھا کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا (النحل:73)یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہیں میں سے تمہارے جیسے جذبات رکھنے والی بیویاں بنائی ہیں۔ پس
مردوں کو یہ تلقین فرما دی کہ بلا وجہ ذرا ذرا سی بات پر عورتوں سے بد کلامی نہ کرو، تلخی نہ کرو یا بدسلوکی نہ کرو۔ وہ بھی انسان ہیں اور ان کے بھی تمہارے جیسے جذبات ہیں۔ انہی سے تمہاری نسل چل رہی ہے۔ اگر تم ان کو بلا وجہ صدمات پہنچاؤ گے تو ہو سکتا ہے کہ تمہاری نسل ہی تمہارے خلاف ہو جائے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے، میرے پاس کئی ایسے معاملات آتے ہیں جن میں مرد ظلم کی وجہ سے اور اپنی خواہشات کی تکمیل یا اپنی انا کی خاطر بعض دفعہ زیادتی کرجاتا ہے جبکہ عورت اطاعت اور فرمانبرداری دکھانے والی بھی ہو تو پھر اس کی وجہ سے اولاد پر برا اثر پڑتا ہے اور عورت پر ظلم و زیادتی کی وجہ سے اولاد اپنے باپ کے خلاف ہو جاتی ہے۔ پھر ایسے باپ شکایت کرتے ہیں کہ عورتوں کی حمایت کیوں کی جا رہی ہےحالانکہ پہلا قدم تو انہوں نے خود اٹھایا ہوتا ہے۔ اگر عورت نے غلطی کی بھی تھی تو مرد کا کام تھا کہ پیار اور آرام سے سمجھاتا ،اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا اور یہ خیال رکھتا کہ ہم نے آئندہ نسل کو سنبھالنا ہے۔
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتوں کے جذبات کا خیال رکھو اور بلا وجہ ان پر الزام تراشی کی کوشش نہ کرو۔اسی طرح یہ بھی نہیں کہ سارا الزام صرف مردوں پر ہی آتا ہے۔ بعض عورتیں بھی ایسی ہیں جو بلاوجہ شکوے شروع کر دیتی ہیں اور اپنے حق اور جذبات کا بہانہ بنا کر گھروں میں لڑائی ڈال رہی ہوتی ہیں۔
بعض دفعہ مرد کی غلطی ہوتی ہے تو بعض دفعہ عورتوں کی بھی غلطی ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو فرمایا کہ تم دونوں کے جو جذبات ہیں اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کی قدر کرو۔
پس
ایسی عورتوں کو بھی جو بلاوجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ تقویٰ کیا ہے۔ اگر وہ دین کو مقدم کرنے کے عہد پر چلتی رہیں گی تو مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اگر مرد دین کو مقدم کریں گے تو مسائل پیدا نہیں ہوں گے اور گھر میں ایک حسین اور پاک معاشرہ قائم ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں۔(البقرۃ:188)یعنی ایک دوسرے کے رازدار بھی ہیں۔ یہاں مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم ہے کہ رازداری رازداری ہی رہنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کبھی جھگڑا ہو تو ایک دوسرے کی غیر ضروری یاذاتی باتوں کی تشہیر شروع کر دی جائے۔ پس اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسی طرح خاوند بیوی کے آپس کے اچھے تعلقات کی وجہ سے ان کا معاشرے میں بھی مقام بنا رہتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے لباس ہیں۔ ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے بھی نمونہ قائم کرتے ہیں اور معاشرے کے سامنے بھی ایک مثال قائم کرتے ہیں۔پھر اگر ایسا ماحول ہو توکسی شخص کو نہ عورت پر انگلی اٹھانے کی جرأت ہوتی ہے اور نہ ہی مرد پر انگلی اٹھانے کی جرأت ہوتی ہے۔
پس
یہاں خاوند اور بیوی دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور نہ مرد عورت کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے، نہ عورت مرد کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی سے تمہاری گھریلو زندگی خوشگوار بنی رہے گی بلکہ تم اپنی نسلوں کو بھی محفوظ کر لو گے۔
بلکہ قرآن کریم نے تو یہاں تک تعلیم دی ہے کہ اگر کبھی علیحدگی اور طلاق کی صورت پیدا ہو جائے تب بھی ایک دوسرے کی زندگی کی راز کی باتیں جو شادی شدہ زندگی میں ایک دوسرے سے کی تھیں، باہر نہیں نکالنی چاہئیں اور نہ ہی ظاہر کرنی چاہئیں کیونکہ یہ باتیں راز اور امانتیں ہیں۔ امانت صرف رقم ہی کی نہیں ہوتی بلکہ یہ باتیں بھی امانتیں ہیں۔ اگر تم امانت کی حفاظت نہیں کرو گے تو بددیانتی کرنے والے ٹھہرو گے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جب تمہارے تعلقات اچھے تھے تو ایک دوسرے سے عہد و پیمان بھی کرتے رہے اور حفاظت کا عہد بھی کرتے رہے اور جب ذرا سی بات پر تعلقات خراب ہوئے تو سب کچھ بھلا دیا۔ اور عموماً یہ باتیں دنیاوی ہوتی ہیں جو معاشرے میں عموماً سامنے آتی ہیں۔ جن کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ان کی بنیاد دینی باتوں پر ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے مردوں کو ہدایت فرمائی کہ تم عورتوں کی ایسی باتیں ظاہر نہ کرو جو راز کی باتیں ہیں ۔اسی طرح عورتوں کو بھی فرمایا کہ تم بھی ظاہر نہ کرو کیونکہ تم ایک دوسرے کے لباس ہو اور اگر ایسا ہوگا اور تم ایک دوسرے کاخیال رکھو گے تو ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا۔ آج کل ہم دنیا داری میں پڑ کر اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو بھول رہے ہیں کہ ان باتوں کو کس طرح نبھانا ہے۔ بعض اچھے بھلے پڑھے لکھے اور دین کا علم رکھنے والے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے گھر اس لیے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں کہ نہ عورت میں صبر ہے اور نہ مرد میں۔ دنیا کی طرف زیادہ اور دین کی طرف کم توجہ ہو گئی ہے۔ جب دین کی طرف توجہ کم ہو اور انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات کو یاد نہ رکھے تو پھر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ گھروں میں مسائل اور رشتوں میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس سے صرف وہ خود ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اولادیں بھی متاثر ہو رہی ہوتی ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد دونوں کے حقوق و فرائض بتائے ہیں ۔ایک دوسرے کی ذمہ داریاں ہیں۔ ان کے فرائض میں اپنے گھر کی اور اپنی اولاد کی ذمہ داریاں ادا کرنا شامل ہے۔ اولادوں کے بھی ان پر حق ہیں۔خاوندوں کے بھی ان پر حق ہیں ۔بیویوں کے بھی ایک دوسرے پر حق ہیں۔ یعنی کہ بیویوں کے بھی خاوندوں پر حق ہیں۔ پس ان باتوں کو سامنے رکھنا چاہیے اور جیسا کہ میں نے کہا جب ایسا ہوگا تو ایک خوبصورت اور حسین معاشرہ قائم ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے نکاح کے خطبے میں بہت ساری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور بار بار یہ تلقین کی ہے کہ تقویٰ پر قائم رہو اور جب تقویٰ پر قائم رہو گے تو ان باتوں پر عمل کر سکو گے جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کا خیال رکھو۔(النساء:2)
بہت سارے مسائل تب سامنے آتے ہیں جب خاوند بیوی کو کہہ دیتا ہے کہ تم اپنے گھر والوں سے تعلق نہیں رکھو گی یا بیوی اس بات پر ناراض ہو جاتی ہے کہ میں خاوند کے گھر والوں سے تعلق نہیں رکھوں گی۔ مجھے تعلق رکھنے کا کیوں کہا جا رہا ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اسی لیے نکاح کے شروع میں ہی فرما دیا کہ اگر تم لوگوں نے رشتے قائم کرنے ہیں تو رحمی رشتوں کا بھی خیال رکھو۔ اسی طرح فرمایا کہ
سچ پر قائم رہو کیونکہ سچ پر قائم رہو گے تو آپس کے تعلقات کو صحیح طور پر ادا کرسکو گے اور سچ پر قائم ہو کر ہی اپنی نسلوں کی تربیت بھی کر سکتے ہو اور انہیں معاشرے کا ایک مفید وجود بھی بنا سکتے ہو۔
خاوند بیوی کے بہت سے جھگڑے اس لیے ہو رہے ہوتے ہیں کہ وہ بے اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک شکایت کر رہا ہوتا ہے کہ دوسرے کو سچ بولنے کی عادت نہیں ہے اور دوسرا بھی یہی شکایت کرتا ہے کہ اسے سچ بولنے کی عادت نہیں ہے۔یوں الزام تراشیاں شروع ہو جاتی ہیں اور یہ چیزیں اب جماعت میں بھی بڑھ رہی ہیں۔ یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں اور اس کا نقصان آئندہ نسلوں کو ہوگا۔ اس لیے ابھی سے اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
مَیں بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ اگر آپ نے اپنی نسلوں کو سنبھالنا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنا ہے تو اس عہد کو پورا کرنا ہوگا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والی ہیں۔ دین کو مقدم رکھنے والے تو وہی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں اور دونوں کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔
پس اس وقت مرد اور عورتیں جو میری باتیں سن رہے ہیں اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ نے دین کو مقدم رکھنے کا عہد کیا ہے تو پھر مرد اور عورت کے آپس کے بہت سارے جو معاملات ہوتے ہیں ان میں میانہ روی اختیار کرنی ہوگی۔ انا کو توڑنا ہوگا اور سچائی پر قائم رہنا ہوگا اور جب ایسا ہوگا تو پھر جیسا کہ میں نے کہا اگلی نسلیں بھی بچیں گی لیکن اگر سچائی اور اعتماد نہیں ہوگا تو نہ صرف آپ لوگوں کے اپنے تعلقات خراب ہوں گے بلکہ بچوں کو بھی جھوٹ بولنے کی عادت پڑ جائے گی اور پھر وہ معاشرے کا مفید حصہ بننے کی بجائے ایک تکلیف دہ حصہ بن جاتے ہیں اور بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم سچائی پر قائم رہو گے، ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرو گے اور دین تمہاری پہلی ترجیح ہوگا تو تمہاری ان کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرتا رہے گا اور تمہاری نسلوں کی بھی اصلاح کرتا رہے گا اور وہ تمہارے گناہوں اور غلطیوں سے صرفِ نظر کرتا رہے گا اور تمہارے گھروں کو بھی ایک جنت نظیر نمونہ بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے ہی تمہیں بڑی کامیابیاں مل سکتی ہیں۔(الاحزاب:71-72) بڑی کامیابی کیا ہے ؟مومن کی تو یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے کوئی بڑی کامیابی حاصل ہو اور
مومن کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہے اور ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور اس کی جنتوں کا حصول ہو۔
لوگ لکھتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ ہم کس طرح سمجھیں کہ ہماری دعائیں قبول ہو گئیں یا اللہ تعالیٰ نے ہمیں معاف کر دیاہے ۔
اگر ہم نیک اعمال کر رہے ہیں ،نیکی پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، آئندہ کوئی غلطی نہ کرنے کا عزم کرتے ہیں اور امن وسلامتی پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر قربانی دیتے ہوئے اپنے بعض جائز حقوق بھی چھوڑ رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو بہت نوازتا ہے۔
پس اللہ تعالیٰ کی جنت کا حصول اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اپنے اعمال پر نظر نہ ہو۔ حقوق اللہ بھی ادا کریں اور حقوق العباد بھی ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔ تقویٰ کے بارے میں قرآن شریف نے بے شمار جگہ فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اس بارے میں خاص طور پر بار بار نصیحت فرمائی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بناؤ ۔تمہارا مقصد صرف دنیا کو حاصل کرنا نہ ہو ۔ تمہارا مقصدصرف یہی نہ ہو کہ دنیا ہمیں مل جائے بلکہ دین کو اپنا مقصد بناؤ اور دنیا پھر اس کے لیے خادم کے طور پر ہوگی۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد2صفحہ92)
وہ تو تمہارے پاس آ ہی جائے گی۔ جب یہ سوچ ہوگی تو پھر دیکھیں آپ لوگوں کو ایک سکون اور اطمینان ہوگا۔
ان ملکوں میں جو ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں آکر یہ خواہشات بڑھ جاتی ہیں اور دنیا داروں کو دیکھ کر دنیاوی چیزوں کی طرف زیادہ رجحان ہو جاتا ہے۔ کسی کا اچھا گھر دیکھ لیا تو گھر کی لالچ پیدا ہو گئی۔ کسی کی اچھی کار دیکھ لی تو کار کی لالچ پیدا ہوگئی۔ کسی عورت کو زیور پہنے دیکھ لیا تو زیور کی لالچ پیدا ہو گئی۔ پس ان باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہمیں ان باتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔
روایات میں آتا ہے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے عورتو !تم چاندی کے زیور کیوں نہیں بناتیں۔سنو !کبھی ایسی عورت جس نے سونے کے زیور بنائے اور وہ انہیں فخر کی خاطر عورتوں کو یا اجنبی مردوں کو دکھاتی پھرتی ہے تو اس عورت کو اس کےاس فعل کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔
(سنن النسائی کتاب الزینۃ باب الکراھیۃ للنساء فی اظھار الحلی…حدیث نمبر5137)
بڑا انذار ہے۔ بڑی ڈرانے والی بات ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری زیورات کی خواہشات اور مال کی خواہشات اس لیے نہ ہوں کہ ہم ان پر فخر کریں ۔سونے کا زیور پہننابھی جائز ہے۔ آپؐ نے تو اس وقت کے حالات کے مطابق نصیحت فرمائی تھی کہ چاندی کا پہنو کیونکہ اسلام کو اس وقت مال کی ضرورت تھی۔ وہ مال جو تم نے اپنے اوپر خرچ کرنا ہے اسلام کی مدد کے لیے خرچ کرو لیکن زیور پہننا منع نہیں ہے۔ ہاں پہنو لیکن فخر نہ کرو ۔
جب ہم فخر کریں گے تو دین سے دور ہٹ جائیں گے۔اور جب دین سے دور ہٹ جائیں گے تو پھر ہمارے یہاں جلسے کے لیے اکٹھے ہونے اور تقریریں سننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ پھر ان باتوں کاہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور ہمارے ذہنوں میں صرف یہ ہوگا کہ ہم نے یہاں اپنی بڑائی کا اظہار کرنا ہے اور یہ بڑائی اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔
پس اس کے لیے بہت کوشش اور ایک مسلسل عمل کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی بھی اصلاح کر سکیں اور اپنی نسلوں کی بھی اصلاح کر سکیں۔
پھر
ایک دیندار عورت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کی عادت ڈالے۔ ان میں ایک روح پیدا کرے اور عاجزی سے انہیں ادا کرنے کی کوشش کرے۔
اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو یہ سوچ کر کہ خدا میرے سامنے ہے ۔پھر اس سے مانگیں۔ اپنے لیے مانگیں، اپنے خاوندوں کے لیے مانگیں، اپنی اولاد کے لیے بھی مانگیں کہ اے اللہ !تُو ہمیں نیکیوں پر قائم رکھنے والا ہے۔ تُو ہمیں نیکیوں پر قائم رہنے والا بنا۔ تُو ہی نیکیوں پر قائم رکھنے والا ہے۔ تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیری عبادت بجالاسکیں اور ہمیں بھی اور ہماری اولادوں کو بھی اور ہمارے خاوندوں کو بھی اس پر قائم رکھ ۔اور جب عبادت میں توجہ قائم رہے گی تو انسان مختلف قسم کی لغویات اور فضولیات اور فضول خیالات سے بچتا رہے گا۔ جب نمازوں، استغفار اور ذکر الٰہی کی طرف توجہ ہوگی تو انسان بہت ساری دنیاوی خواہشات اور برائیوں سے بچ جاتا ہے۔
آج کل کے زمانے میں محض ٹی وی پر بیٹھ کر غلط قسم کے ڈرامے دیکھنا یا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر لغو پروگراموں میں شامل ہونے سے ذہن زہر آلود ہو جاتے ہیں اور یہ زہر پھر انسان کے دماغ سے سارے جسم میں پھیل جاتا ہے اور ایک برائی سے دوسری برائی جنم لیتی چلی جاتی ہے۔
پس آج کل جبکہ دنیا میں ایسی حالت پیدا ہو چکی ہے کہ لوگ دنیا داری میں دین کو بھول چکے ہیں اور دنیاوی خواہشات ہی ان کا مقصد بن گئی ہیں۔
ایسے حالات میں ہر احمدی عورت اور مرد کو کوشش کرنی چاہیے کہ ان لغویات سے بچیں اور دین کی طرف زیادہ توجہ دیں کیونکہ آپ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کر کے یہ عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پہنچائیں گی۔
پس اگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانا ہے تو سب سے پہلے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی ناجائز دنیاوی خواہشات کو دور کرنا ضروری ہے۔ پس اس بات پر ضرور غور کریں اور اس کے لیے
ایک عہد کریں کہ آپ نے آئندہ اپنی زندگیوں میں ایک انقلاب پیدا کرنا ہے۔اور یہ انقلاب اس لیے پیدا کرنا ہے کہ نہ صرف اپنی عاقبت سنوارنی ہے بلکہ دنیا کو بھی راہ راست پر لانا ہے۔
آج کل دنیا تباہی کے کنارے کی طرف جا رہی ہے اور اس تباہی سے وہی لوگ محفوظ رہ سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں ورنہ جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر سب اس میں پستے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ
آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار
(درثمین اردو)
پس
خدائے ذوالعجائب سے پیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اپنی نمازوں کو سنوار کر ادا کرنے، نیک اعمال بجا لانے اور حقوق العباد ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ خاوند کو بیوی کا اور بیوی کو خاوند کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کا حق ادا کرنے اور اپنے گھروں کو ایک نیک اور پاک معاشرہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ چیزیں ہوں گی تو پھر آپ انشاء اللہ ترقی پر قائم رہیں گی اور جب آپ اس سوچ کے ساتھ عبادت کریں گی تو عبادت پر بھی توجہ قائم رہے گی۔
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ توجہ کس طرح قائم رکھیں؟ اگر دل میں دنیاوی خواہشات گھوم رہی ہوں تو توجہ کیسے قائم رہ سکتی ہے؟ پھر تو نماز کے دوران بھی توجہ اسی طرف ہو جائے گی۔اس لیے نمازوں میں یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں، ہماری اولاد کو اور ہمارے خاوندوں کو ان چیزوں سے بچائے۔ ہمارے بھائیوں کو، ہماری بہنوں کو ،ہمارے ماں باپ کو، سب کو ان چیزوں سے بچائے اور ہم دین کو خالص کرنے والے اور دین پر خالص توجہ دینے والے ہوں۔ غلط قسم کی باتوں سے خود بھی پرہیز کریں اور یہ بھی دعا کریں کہ ہم سب اس سے بچنے والے ہوں۔
پہلے زمانے میں تو کہا جاتا تھا کہ عورتیں زیادہ باتیں کرتی ہیں لیکن اب تو مردوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ غلط قسم کی باتوں کی مجلسوں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ وقت ضائع کرتے ہیں اور لغویات میں مبتلا ہو کر بجائے عورتوں کی اصلاح کرنے کے خود بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور پھر اس کی وجہ سے بعض دفعہ تو یہ شکایت آتی ہے اور عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ مردہمیں کہتے ہیں کہ تم پردے چھوڑ دو۔ فلاں مجالس میں آنا شروع کر دو یا ایسی سوسائٹی میں بیٹھو۔ اگر مردوں کا یہ حال ہے تو پھر وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہمارا حق ہے کہ عورت ہماری فرمانبردار رہے۔ عورت ایسے مردوں کی فرمانبردار نہیں رہ سکتی لیکن یہاں
عورتوں کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ اپنے خاوندوں کی کس طرح اصلاح کر سکتی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے گھر کو پُر امن بنا کر اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے۔ بچوں کی خاطر قربانی کرتے ہوئے مختلف طریقے اختیار کر کے یہ کوشش کریں کہ کس طرح اپنے خاوندوں کی اصلاح کرنی ہے؟ اگر خاوند بگڑ رہے ہیں تو بیویاں ان کی اصلاح کریں کیونکہ اگر خاوند بد کام کر رہے ہیں تو ان کے نمونے بچوں پر بد اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس لیے اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے اپنے خاوندوں کو بھی غلط کاموں سے بچانے کی کوشش کریں۔ اگر وہ صحیح نہیں ہیں تو اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے انہیں نیکی کی تلقین کریں۔کیونکہ بعض دفعہ ایک مخالف بہاؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو مردوں کو یہ فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے اور یہی فرمایا ہے کہ مرد عورتوں کی اصلاح کا ذریعہ بنیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد5 صفحہ207)
لیکن بعض دفعہ اس کے الٹ شروع ہو جاتا ہے کہ عورتیں مردوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں اور آج کل کے معاشرے میں مرد بھی اسی طرح متاثر ہو رہے ہیں جس طرح عورتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ پس
اگر عورتیں اپنی ذمہ داریاں سمجھ لیں تو وہ نہ صرف مردوں کی بلکہ اپنی نسلوں کی بھی اصلاح کر رہی ہوں گی۔
جیسا کہ میں نے کہا نسلوں کو بچانا بہت ضروری ہے ورنہ پھر ایسی تباہی آئے گی جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔
اسی طرح
عورتوں کو یہ بھی حکم ہے کہ زکوٰة دیں ۔
عام طور پر جس طرح مردوں کو زکوٰة کا حکم ہے عورتوں کو بھی ہے۔ عورتوں پر زکوٰة عام طور پر اس لیے زیادہ فرض ہے کیونکہ ان کے پاس زیورات ہوتے ہیں۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ چاندی کے زیور کیوں نہیں پہنتیں؟ اگر سونے کے زیورپہنے یا رکھےتو پھر ان پر زکوٰة بھی فرض ہے۔ منع نہیں ہے لیکن پھر اس کا حق ادا کرو اور جو نصاب مقرر ہے اس کے مطابق زکوٰة دینا فرض ہے۔ جب آپ مالی قربانی کریں گی تو آپ کا مال بھی پاک صاف ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ احمدی عورتیں مالی قربانیوں میں پیش پیش رہتی ہیں۔ جرمنی میں مساجد کی تحریک میں بھی عورتیں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ۔اس کے علاوہ بھی بعض دفعہ عورتیں اپنے زیورات اور دیگر اشیاء مالی قربانیوں کے لیے پیش کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ روح بہت سی عورتوں میں قائم ہے لیکن ساتھ ہی یہ فکر بھی ہے کہ بہت ساری عورتیں اب دنیاداری میں بھی بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور اگر یہ بڑھتی گئیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ دینی روح کم ہوجائے۔ دنیا داری اور دکھاوا زیادہ ہو جائے اور پھر جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے لوگ اور ایسی عورتیں بڑے گناہوں میں مبتلا ہو جائیں۔
پس اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اللہ کے فضل سے آپ یہاں جلسے پر آئی ہیں اور آپ سب لوگ جو جلسے پر یہاں آئے ہیں، اس جلسے کے مقصد کو یاد رکھیں ۔ایک روایت میں آتا ہے:
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روایت کیا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو وہاں ایک قبیلے کی ایک عورت جس نے زیور پہنا ہوا تھا بڑے ناز و ادا اور زیب و زینت کے ساتھ اچھے لباس میں مسجد میں داخل ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے لوگو !اپنی عورتوں کو زیب و زینت اختیار کرنے اور مسجد میں ناز و ادا سے مٹک مٹک کر چلنے سے منع کرو۔
اس وقت آپؐ نے مردوں کو یہ نصیحت کی اور ساتھ ہی عورتوں کو بھی فرما دی۔ فرمایا کہ
بنی اسرائیل پر صرف اس وجہ سے لعنت کی گئی تھی کہ ان کی عورتوں نے زیب و زینت اختیار کر کے ناز و نخرے کے ساتھ مسجدوں میں اترا کر آنا شروع کر دیا تھا۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب فتنۃ النساء حدیث نمبر4001)
اپنی عبادت گاہوں میں اترا کر آنا شروع کر دیا تھا۔ پس
یہ جلسہ یہ اجلاس اور یہ جو جماعتی فنکشن ہوتے ہیں یہ بھی دینی مجالس اور دین سیکھنے کا حصہ ہیں۔اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی نمائش کے لیے نہیں آنا چاہیے۔ بعض لوگ جلسوں پر بے شمار زیور پہن کر آ جاتے ہیں یا جلسے کے لیے اعلیٰ اعلیٰ کپڑے بنائے جاتے ہیں۔ صاف ستھرے اچھے اور عمدہ کپڑے ہونے چاہئیں لیکن صرف یہ مقصد نہ ہو کہ ہم نے اپنے کپڑوں اور اپنے زیوروں کو لوگوں کو دکھاناہے اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنا ہے۔ اگر یہ نیت ہوگی تو پھر آپ اس مقصد کو حاصل کرنے والی نہیں ہوں گی جو جلسوں یا دینی اجلاسوں پر آنے کا مقصد ہے کیونکہ یہ جگہیں تو دینی علم کے حصول کے لیے ہیں اور مسجدیں عبادت کے لیے ہیں ۔
پس
اس مقصد کے لیے نہ آئیں کہ نمود و نمائش ہو یا لوگ آپ کے زیور یا کپڑوں کو غور سے دیکھیں۔ یہ مسجد، یہ جلسہ گاہ ہے۔ یہ کوئی فیشن ہال نہیں ہے ۔اگر یہاں اس جلسہ گاہ میں آئیں تو دین سیکھنے اور اسے مقدم رکھنے کے لیے آئیں۔ مسجد میں آئیں تو اس لیے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے
جب یہ حالت ہوگی تو آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ ہو جائیں گی اور جب اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ ہو جائیں گی تو وہ اپنے فضل سے بھی نوازے گا۔ پس اس بات کو خاص طور پر ہر عورت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے اور اس کے لیے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمارے حق قائم فرمائے ہیں اور مردوں کو کہہ دیا ہے کہ ان سے نیک سلوک کرو۔ یہ بھی تمہاری طرح جذبات رکھنے والی ہیں اور ان کے دوسرے حقوق بھی ادا کرو ۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور بھی بہت سارے حقوق عطا فرمائے ہیں۔ پس اس کے شکرانے کے طور پر ضروری ہے کہ ہم اپنے اور اپنی اولاد کی نیکیوں کے معیار بلند کریں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو خاص طور پر ان باتوں کی نصیحت اور تلقین فرمایا کرتے تھے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیےبھیجا ہے کہ آخرین کو پہلوں سے ملائیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پہلے اجڈ، دنیا دار، ناز و نخرے کرنے والے اور دنیا کو ترجیح دینے والے لوگوں میں ایک ایسی پاک تبدیلی پیدا کی تھی کہ ان میں عبادت گزار عورتیں پیدا ہو گئیں۔ ایسی عورتیں پیدا ہوئیں جوساری ساری رات تہجد پڑھنے والی تھیں۔ ایسی عورتیں پیدا ہوئیں جو مالی قربانیاں دینے والی تھیں۔ ایسی عورتیں پیدا ہوئیں جو دین کی خاطر جہاد کرنے والی تھیں۔ پس
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی مقصد کے لیے آئے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں بھی ایسی عورتیں پیدا ہوں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والی ہوں۔ عبادتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے والی ہوں،مالی قربانیاں کرنے والی ہوں اور اپنی اولادوں کی نیک تربیت کرنے والی ہوں، گھروں کو پُرامن بنانے والی ہوں، اپنے عمل اور تبلیغ سے اسلام کا پیغام اپنے ماحول میں پھیلانے والی ہوں اور اس معاشرے میں ایک ایسا حسین معاشرہ قائم کریں کہ جو بظاہر ترقی یافتہ معاشرہ کہلاتا ہے، یعنی یورپ کا معاشرہ کہ وہ دیکھیں کہ اعلیٰ اخلاق احمدی لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ احمدی عورتیں وہ ہیں جو مالی قربانیاں بھی کر سکتی ہیں۔ جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں اور جن کا اوّلین مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں امن و سلامتی قائم کر سکتی ہے۔
آج کل دیکھ لیں کہ دنیا میں جو یہ بدامنی پھیلی ہوئی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کی تربیت نہیں ہے۔ ان کو تربیت کرنے والی وہ مائیں نہیں ملیں جنہوں نے ان کو یہ بتایا ہو کہ خدا تعالیٰ کی رضا کیا چیز ہے۔پس
آپ وہ مائیں ہیں جنہوں نے اگلی نسلوں کو یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو گے تو پھر ہی کامیابیاں بھی حاصل کر سکو گے۔اور جب کامیابیاں حاصل کرو گے تو تب ہی تم اس دنیا میں بھی سرخرو ہو گےاور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر وہاں بھی انعام پانے والے ہو گے۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے جو جماعت پیدا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو آخرین کی جماعت کو پہلوں سے ملانے کے لیے بھیجا ۔اس کے لیے ہمیں نیک عمل کرنے ہوں گے ،کوشش کرنی ہوگی اور محنت بھی کرنی ہوگی۔ اس لحاظ سے ہر احمدی عورت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
بہت ساری لمبی لمبی باتیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہم بنیادی چیز سمجھ لیں کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے ۔ہم نے تقویٰ پر چلنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا معیار حاصل کرنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل بھی فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو ایک مقام دیا ہے تو اس کے لیے تمام نیکیوں میں مردوں کی طرح اسے اجر بھی دیا جائے گا ۔جس طرح مردوں کا اجر ہے اسی طرح عورتوں کا بھی اجر ہے ۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح مردوں کے جذبات ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی جذبات ہیں۔ پھر اسی طرح اَور بھی بہت سارے حقوق ہیں ۔اس لیے اس بات کو یاد رکھیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیکیوں کی جو جزا اور جو اجر مردوں کو ملتا ہے وہی عورتوں کو بھی ملتا ہے۔
بعض ایسی باتیں بھی ہیں جن کے زیر اثر ہماری لڑکیاں اور عورتیں آ جاتی ہیں۔ مثلاً پردے یا حیا دارلباس کا معاملہ ہے۔ایک عرب عورت نے مجھے لکھا کہ اسے ایک عیسائی یا لا مذہب عورت نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ تمہارے مذہب میں کس طرح شامل ہو سکتی ہوں جبکہ تم عورتوں کو آزادی نہیں دیتیں اور پردے اور حیادار لباس کی باتیں کرتی ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے اسے سمجھایا کہ اس کا کیا مقصد ہے۔ بہرحال
ہم نے ان لوگوں کو سمجھانا ہے کہ جس چیز کو تم لوگ آزادی سمجھتے ہو وہ ہمارے نزدیک بے حیائی ہے اور اس سے برائیاں پیدا ہوتی ہیں جس کے نتائج آج کل ظاہر بھی ہو رہے ہیں۔ مَیں نے یوکے کے جلسے میں بھی عورتوں کی تقریر میں یہی بتایا تھا کہ کس طرح آپ لوگوں نے اپنی حیا کو قائم رکھنا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا کہ پردے پر اعتراض کیا جاتا ہے لیکن پردہ کوئی جیل خانہ نہیں ہے۔ یہ تو ایک ایسی روک بنائی گئی ہے تاکہ ٹھوکر سے بچیں اور برائیاں پیدا نہ ہوں کیونکہ جب غیر مرد اور عورت بے محابہ اور بلا تعامل ملتے ہیں تو پھر جذبات نفس ٹھوکر کھا سکتے ہیں اور برائیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1صفحہ34-35)
پس ایک نیک اور پاکیزہ ماحول قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری سوچیں بھی نیک اور پاکیزہ ہوں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے اعمال کیے جائیں جن سے ان ٹھوکروں کے امکانات باقی نہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار نصیحتیں فرمائی ہیں کہ اپنے فروج کی حفاظت کرو ۔ اپنی امانتوں کی حفاظت کرو ۔ اپنے عہدوں کا پاس رکھو۔(المومنون:6تا9) یہ باتیں عورتوں اور مردوں دونوں سے کہی ہیں تاکہ ایک پاک معاشرہ قائم ہو۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ سب تقویٰ پر چلنے والے ہو جائیں تو تب ہی یہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کرلیں جو تقویٰ پر چلنے والا ہو ،پاک معاشرہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرنے والا معاشرہ ہو۔ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور اجر سے نوازتا ہے جو اس طرح کوشش کر کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حاصل کریں گے ۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا اس کو اللہ تعالیٰ ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اسے معلوم بھی نہ ہوگا کہ کہاں سے آیا ہے۔ اس آیت کہ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ(الطلاق :3-4) کی تشریح میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کا امکان بھی نہیں ہوتا۔ آپؑ نے فرمایا کہ رزق کا خاص طور پر اس واسطے ذکر کیا ہے کہ بہت سے لوگ حرام مال جمع کرتے ہیں ۔غلط طریقوں سے مال کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کریں۔ تقویٰ سے کام لیں تو خدا تعالیٰ خود ان کو رزق پہنچا دے گا۔ بعض لوگوں کو یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اگر ہم دنیا داری نہ کریں تو ہمیں رزق نہیں ملے گا یا یہ دنیاوی رزق ہی سب کچھ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اگر تمہارے اندر قناعت ہے اور تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہو یا کر رہی ہو تو اللہ تعالیٰ رزق بھی بیشمار دے گا۔ اسی طرح آپؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ (الاعراف :197)کہ جس طرح ماں بچے کی متولی ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں صالحین کا متکفل ہوتا ہوں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد6صفحہ60-61)
پس یہ خیال بھی غلط ہے کہ اگر ہم تقویٰ پر چلیں گے، اگر ہم دنیا کی خواہشات نہیں کریں گے تو شاید ہمیں رزق نہ ملے۔ اللہ تعالیٰ رزق بھی دیتا ہے اور ہماری حفاظت بھی کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(الفاتحہ :5) یہ دعا کیا کرو کہ اے اللہ !ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں کہ ہم عبادت کرنے کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں۔ پس جب اس طرح دعائیں کریں گی اور اللہ تعالیٰ سے مانگیں گی تو یقینا ًاللہ تعالیٰ بہت فضل کرنے والا ہے۔ وہ آپ کے رزقوں میں بھی کشائش پیدا کرے گا۔ آپ کی اولاد میں بھی برکت ڈالے گا اور آپ کے گھروں میں بھی برکت ڈالے گا اور اس سے ایک پاک اور حسین معاشرہ بھی قائم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ آپ لوگ اس حسین معاشرے کو قائم کرنے کے لیے، اپنے گھروں کو پُر امن بنانے کے لیے ،اپنی اولادوں کا مستقبل بہتر کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرنے والی ہوں اور اس جلسے پر آنے کا جو مقصد ہے اسے پورا کرنے والی ہوں۔ یعنی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا مقصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا مقصد۔یہی وہ چیز ہے جو ایک احمدی کا مقصد ہونا چاہیے۔ یہی چیز ہے جس کے لیے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کی ہے اور یہی وہ بات ہے جس کے لیے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں ۔اگر یہاں جمع ہونا اس مقصد کے لیے نہیں ہے تو پھر اس جلسے پر آنا بھی بے فائدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس کی رضا حاصل کرنے اور اس مقصد کو پورا کرنے والی بنیں۔آمین۔ اب دعا کر لیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: واقفاتِ نَو برطانیہ کے سالانہ اجتماع ۲۰۲۶ء سے حضورِ انور کے خطاب کا خلاصہ




