حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف فوجی حملے یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا تعین وہ خود کرتے ہیں اور انہیں صرف اپنی اخلاقیات اور سوچ ہی روک سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے وینزویلا کے معاملات ایک سال سے زائد عرصے تک سنبھالنے اور تیل پر کنٹرول کی خواہش ظاہر کی۔ دوسری جانب امریکی سینیٹ نے وینزویلا پر مزید جارحیت روکنے کی قرارداد منظور کرلی ہے، جس کی چند ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ وینزویلا میں کارروائی سے امریکی عوام کو فائدہ ہوگا۔

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر متوقع دوسری فوجی حملے کی لہر منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کی جانب سے تعاون کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، اور امریکہ و وینزویلا کے درمیان معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے وینزویلا میں تقریباً ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی موجود ہے، جس پر وہ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وینزویلا میں موجود تمام آئل ٹینکرز حفاظتی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی موجودہ جگہ پر ہی رہیں گے۔

٭…برطانوی اخبار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجی سربراہ کو گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم سینئر فوجی اس کے مخالف ہیں اور اسے غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ نے منصوبہ تیار کرنا شروع کیا ہے، جبکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ صدر کے مشیر اسٹیفن ملر سمیت چند اہلکار گرین لینڈ پر کارروائی کے حق میں ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مڈٹرم انتخابات سے قبل امریکی عوام کی توجہ معیشت سے ہٹانے اور نیٹو اتحاد پر اثر ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ امکان ہے کہ ڈنمارک امریکہ کو فوجی رسائی دے۔

٭…کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے کہا ہے کہ ملک کو امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائی کے حقیقی خطرے کا سامنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے امریکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ سامراجی رویے پر تنقید کی اور امریکی امیگریشن ادارے (ICE) کے اہلکاروں کو نازی بریگیڈز سے تشبیہ دی، جن کا رویہ نہ صرف تارکینِ وطن بلکہ امریکی شہریوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ صدر پیٹرو نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اسی طرز عمل پر قائم رہا تو وہ دنیا سے الگ تھلگ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دہائیوں سے لاطینی امریکہ کو اپنے سامراج کا حصہ سمجھتا آیا ہے اور وینزویلا پر حملے کے پیچھے تیل اور کوئلے کے مفادات کارفرما ہیں۔ پیٹرو نے مزید کہا کہ اگر امریکہ پیرس ماحولیاتی معاہدے میں شامل رہتا تو دنیا زیادہ پُرامن اور جمہوری ہوتی۔ انہوں نے وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز سے بھی بات کی اور انہیں کولمبیا آنے کی دعوت دی۔ امریکی صدر ٹرمپ اور گستاوو پیٹرو کے درمیان ایک روز قبل ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔

٭…ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور ٹرمپ کو چاہیے کہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں سے اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے بتایا کہ کل رات تہران اور دیگر مقامات پر ایک گروپ نے ملک کی عمارات کو نقصان پہنچایا، جسے اسلامی جمہوریہ برداشت نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کا مکمل اختیار رکھتے ہیں اور انہیں صرف اپنی اخلاقیات اور سوچ ہی روک سکتی ہے۔

٭…اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکہ گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے فوجی کارروائی کرے گا۔ اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ گرین لینڈ میں کسی ممکنہ امریکی مداخلت کے نیٹو پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور تمام اتحادیوں کو اس کے ممکنہ نتائج کو سمجھنا چاہیے۔ جارجیا میلونی نے مزید کہا کہ آرکٹک خطے، بشمول گرین لینڈ، میں نیٹو کی سنجیدہ اور مؤثر موجودگی انتہائی ضروری ہے۔

٭…ایران میں پُرتشدد مظاہرے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے دوران متعدد شہروں میں سرکاری عمارتوں، دکانوں اور مساجد کو نقصان پہنچایا گیا۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف تہران میں اموات کی تعداد ۲۱۷؍تک پہنچ گئی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بدھ اور جمعرات کو چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ مظاہرین نے سڑکیں بند کیں، پولیس اسٹیشنز پر حملے کیے اور ایمبولینسوں سمیت عوامی و نجی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ خوزستان میں مقدس مقام کی بے حرمتی کے خلاف عوامی احتجاج بھی سامنے آیا، جبکہ کئی شہروں میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کیے گئے۔

٭…ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں جاری پُرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد ۶۵؍ہو گئی ہے، جن میں پندرہ سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومتی بیان میں بتایا گیا کہ اب تک ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں تہران کے قریب سے ایک سو مسلح افراد بھی شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کی اجازت ہے تاہم تشدد، توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button