یہ زمانہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا زمانہ ہے
یہ زمانہ جس میں سے ہم گزر رہے ہیں اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا زمانہ ہے۔ وہ زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ نے اسلام کی برتری تمام دینوں پر ثابت کرنی ہے۔ اور ہم احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس یقین پر قائم ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر لحاظ سے اسلام کی برتری تمام ادیان پر ثابت کر رہا ہے اور عیسائیت کے خاص طور پر بندے کو خدا بنانے کے عقیدے کے خلاف جس طرح جماعت احمدیہ کھڑی ہے اُن دلائل و براہین کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں عطا فرمائے اور اُن آسمانی تائیدات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ ہر دم دکھا رہا ہے کوئی اور مسلمان فرقہ اس کا کروڑواں حصہ بھی مقابل کے سامنے پیش نہیں کر رہا اور نہ ہی کر سکتا ہے کیونکہ اس زمانے میں یہ کام اللہ تعالیٰ نے مسیح و مہدی اور اُس کی جماعت سے ہی لینا تھا اور لے رہا ہے۔ عیسائی دنیا ہے تو وہ اس بات کا اعتراف کر رہی ہے اور سعید فطرت مسلمان ہیں تو وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ راہِ ہدایت جو ہے وہ احمدیت میں ہی ہے اور اس سے راہِ ہدایت پا رہے ہیں۔ اُن سعید فطرت لوگوں کو اس بات پر یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کی طرف سے ہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب آج سے ساٹھ ستر سال پہلے افریقہ میں عیسائی پادری یہ نعرے لگا رہے تھے کہ عنقریب تمام افریقہ عیسائیت کی جھولی میں آ کر خدا کے بیٹے کی خدائی کو تسلیم کرنے والا ہے اور تقریباً آج سے ایک سو بیس تیس سال پہلے تک عیسائی مشنری ہندوستان کے بارے میں بھی یہ اعلان کر رہے تھے کہ عیسائیت کا ہندوستان میں جلد غلبہ ہونے والا ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بندے کو خدا بنانے کے نظریے کو خود اُن کی اپنی کتاب اور عقلی دلائل سے باطل کیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مسلمان جو عیسائیت کی جھولی میں گرنے والے تھے یا عیسائیت کو اسلام سے بہتر سمجھتے تھے ہوش میں آنے لگے اور اُس جھوٹے نظریے کو اختیار کرنے سے بچ گئے۔ ایک بہت بڑی روک اور دیوار تھی جو آپؑ نے کھڑی کر کے خدائے واحد کی وحدانیت اور اسلام کی سچائی اور برتری دنیا پر ثابت کر دی۔ اسی طرح افریقہ میں جماعت احمدیہ کے مبلغین نے اسلام کی تبلیغ کر کے تثلیث کے غلط نظریے کی حقیقت کھول کر عیسائی مشنریوں کے سامنے ایک روک کھڑی کر دی جس کا انہیں برملا اظہار کرنا پڑا کہ احمدی ہمارے سامنے روکیں کھڑی کررہے ہیں۔ لیکن اسلام کے اس جری اللہ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرستادے کے کام کو دیکھنے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت نے بجائے خوشی سے اچھلنے اور آپؑ کی جماعت میں شامل ہونے کے آپ کے خلاف بغض، عناد اور کینہ کا وہ بازار گرم کیا کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے تو بہر حال اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا ساتھ دینا ہے اور دے رہی ہے۔ سعید فطرت لوگ آہستہ آہستہ مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
(خطبہ جمعہ ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۱ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۴؍نومبر ۲۰۱۱ء)
مزید پڑھیں: کیا عالم برزخ اس دنیا میں ہے یا کسی اَور جگہ؟




