بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۶)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… جو حدیث ہے کہ ابن مریم جنت سے دو فرشتوں کی معیت میں ظاہر ہوں گے۔ کیا یہ حدیث حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی شکل میں پوری ہو گئی ہے، چونکہ ایک تو آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے ذریعہ MTAکا اجرا ہوا۔ اور دو فرشتوں سے مراد آڈیو اور ویڈیو کا نظام ہے۔ کیا میرا یہ استنباط درست ہے؟

٭…خدا تعالیٰ نے اپنے لئے He یعنی مذکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے، جبکہ وہ کسی جنس سے تعلق نہیں رکھتا؟

٭…تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی کو عمداً گمراہ کرنے والے کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا موقف ہے کہ اسے دوگنا عذاب ملے گا۔ جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے ترجمۃ القرآن کلا س(سورہ اعراف) میں فرمایا ہے کہ جب کفار جہنم میں کہیں گے کہ ہمارے سرداروں کو دوگنا عذاب دے تو اللہ کہے گا کہ ساروں کو دوگنا عذاب ملے گا۔اس کا کیا جواب ہے؟

٭…آجکل عورتیں جو آپریشن کے ذریعہ اپنے جسمانی اعضاء مثلاً ناک اور ہونٹ وغیرہ کو چھوٹا بڑا کر کے تبدیلیاں کرواتی ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

سوال: کینیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ یہ جو حدیث ہے کہ ابن مریم جنت سے دو فرشتوں کی معیت میں ظاہر ہوں گے۔ کیا یہ حدیث حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکی شکل میں پوری ہوگئی ہے، چونکہ ایک تو آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے ذریعہ MTAکا اجرا ہوا۔ اور دو فرشتوں سے مراد آڈیو اور ویڈیو کا نظام ہے۔ کیا میرا یہ استنباط درست ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۳ نومبر ۲۰۲۳ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: یہ تو آپ کی اپنی ذوقی تشریح ہے۔اس حدیث کی اصل تشریح تو وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف کتب اور ارشادات میں فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف فتح اسلام میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں آسمان سے اترا ہوں اُن پاک فرشتوں کے ساتھ جو میرے دائیں بائیں تھے، جن کو میرا خدا جو میرے ساتھ ہے میرے کام کے پورا کرنے کیلئے ہر ایک مستعد دل میں داخل کرے گا بلکہ کر رہا ہےاور اگر میں چپ بھی رہوں اور میری قلم لکھنے سے رکی بھی رہے تب بھی وہ فرشتے جو میرے ساتھ اترے ہیں اپنا کام بند نہیں کر سکتے اور ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی گرزیں ہیں جو صلیب کو توڑنے اور مخلوق پرستی کی ہیکل کچلنے کیلئے دئے گئے ہیں شاید کوئی بےخبر اس حیرت میں پڑے کہ فرشتوں کا اترنا کیا معنی رکھتا ہے۔ سو واضح ہو کہ عادت اللہ اِس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدث اصلاح خلق اللہ کیلئے آسمان سے اُترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اُترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اُترتے رہتے ہیں جب تک کفر اور ضلالت کی ظلمت دُور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح صادق نمودار ہو جیسا کہ اللہ جلّشانہ فرماتاہے ۔تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ۔ سَلَامٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ (القدر ۵۔۶) سو ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اُترنا اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعتِ خلافت پہن کراور کلامِ اِلٰہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے روح القدس خاص طور اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تما م دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔ تب دنیا میں جہاں جہاں جوہر قابل پائے جاتے ہیں سب پر اُس نور کا پر تَو ہ پڑ تا ہے اور تمام عالم میں ایک نورانیت پھیل جاتی ہے اور فرشتوں کی پاک تاثیر سے خود بخوددلوں میں نیک خیال پیدا ہونے لگتے ہیں اور توحید پیاری معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے دلوں میں راست پسندی اور حق جوئی کی ایک روح پھونک دی جاتی ہے اور کمزوروں کو طاقت عطا کی جاتی ہے اور ہر طرف ایسی ہوا چلنی شروع ہو جاتی ہے کہ جو اس مصلح کے مُدعااور مقصد کو مدد دیتی ہے ایک پوشیدہ ہاتھ کی تحریک سے خودبخود لوگ صلاحیت کی طرف کھسکتے چلے آتے ہیں اور قوموں میں ایک جنبش سی شروع ہو جاتی ہے۔ تب ناسمجھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات نے خود بخود راستی کی طرف پلٹا کھایا ہے لیکن درحقیقت یہ کام اُن فرشتوں کاہوتا ہے کہ جو خلیفۃ اللہ کے ساتھ آسمان سے اُترتے ہیں اور حق کے قبول کرنے اور سمجھنے کیلئے غیر معمولی طاقتیں بخشتے ہیں۔ سوئے ہوئے لوگوں کو جگادیتے ہیں اور مستوں کو ہشیار کرتے ہیں اور بہروں کے کان کھولتے ہیں اور مُردوں میں زندگی کی رُوح پُھونکتے ہیں اور اُن کو جو قبروں میں ہیں باہر نکال لاتے ہیں۔ تب لوگ یکدفعہ آنکھیں کھولنے لگتے ہیں اور اُن کے دلوں پر وہ باتیں کھلنے لگتی ہیں جو پہلے مخفی تھیں۔ اور وہ درحقیقت یہ فرشتے خلیفۃ اللہ سے الگ نہیں ہوتے اُسی کے چہرہ کا نور اور اُسی کی ہمّت کے آثارِجَلِیّہ ہوتے ہیں جو اپنی قوتِ مقناطیسی سے ہر ایک مناسبت رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں خواہ وہ جسمانی طور پر نزدیک ہو یا دُور ہو اور خواہ آشنا ہو یا بکلّی بیگانہ اور نام تک بے خبر ہو۔غرض اُس زمانہ میں جو کچھ نیکی کی طرف حرکتیں ہوتی ہیں اور راستی کے قبول کرنے کیلئے جوش پیدا ہوتے ہیں خوا وہ جوش ایشیائی لوگوں میں پیدا ہوں یا یورپ کے باشندوں میں یا امریکہ کے رہنے والوں میں درحقیقت انہیں فرشتوں کی تحریک سے جو اس خلیفۃ اللہ کے ساتھ اُترتے ہیں ظہورپذیر ہوتے ہیں۔ یہ الٰہی قانون ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے اور بہت صاف اور سریع الفہم ہے۔ اور تمہاری بد قسمتی ہے اگر تم اس پر غور نہ کرو۔ چونکہ یہ عاجز راستی اور سچائی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لئے تم صداقت کے نشان ہر ایک طرف پاؤ گے۔ وہ وقت دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اترتی اور ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھو گے۔ یہ تم قرآن شریف سے معلوم کر چکے ہو کہ خلیفۃ اللہ کے نزول کے ساتھ فرشتوں کا نازل ہونا ضروری ہے تا دلوں کو حق کی طرف پھیریں سو تم اس نشان کے منتظر رہو۔ اگر فرشتوں کا نزول نہ ہوا اور اُن کے اترنے کی نمایاں تاثیریں تم نے دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دلوں کی جنبش کو تم نےمعمول سے زیادہ نہ پایا تو یہ سمجھنا کہ آسمان سے کوئی نازل نہیں ہوا۔ لیکن اگر یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں تو تم انکار سے باز آؤ۔ تاتم خدا تعالیٰ کے نزدیک سرکش قوم نہ ٹھہرو۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۱تا ۱۴حاشیہ)

اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دو فرشتوں سے مراد اس کیلئے دو قسم کے غیبی سہارے ہیں جن پر اس کی اتمام حجت موقوف ہے ایک وہبی علم متعلق عقل اور نقل کے ساتھ اتمام حجت جو بغیر کسب اور اکتساب کے اس کو عطا کیا جائے گا دوسری اتمام حجت نشانوں کے ساتھ جو بغیر انسانی دخل کے خدا کی طرف سے نازل ہوں گے۔(خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ، انوار العلوم جلد نمبر۱ صفحہ ۴۰۹)

پس اس حدیث کی اصل تشریح وہی ہے جو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر بیان فرمائی یا آپ کی تحریرات اور ارشادات کی روشنی میں آپ کے خلفاء نے بیان فرمائی ہے۔

سوال: یوکے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں یہ استفسار بھجوا یا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے لئے He یعنی مذکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے، جبکہ وہ کسی جنس سے تعلق نہیں رکھتا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۳؍نومبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: دنیا کی مختلف زبانوں میں مذکر اور مونث کے صیغے انسانوں میں جنسی فرق کرنے کیلئے بولے جاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ لا شریک ہے اور اس قسم کی تقسیم سے منزہ ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کیلئے اپنے متعلق خود کچھ باتیں بیان فرمائی ہیں لیکن وہ سب استعارے کے رنگ میں ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ نہ مرد ہے اور نہ عورت اور وہ ہر قسم کی جنس سے پاک ہے۔

اسی طرح دنیا کے تقریباً تمام معاشروں میں عورت کو مرد کی نسبت کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کی بعثت کے وقت عرب میں بھی یہی تصور پایا جاتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیے تو بیٹے چنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں چنیں ہیں۔ یعنی وہ فرشتوں کو مونث کے صیغے سے پکارتے تھےا ور انہیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے کہ یہ بہت ہی بُری تقسیم ہے جو وہ کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الۡاُنۡثٰی ۔تِلۡکَ اِذًا قِسۡمَۃٌ ضِیۡزٰی (سورۃ النجم:۲۳،۲۲) یعنی کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہیں اور اس کے لیے بیٹیاں ہیں؟ تب تو یہ ایک بہت ناقص تقسیم ٹھہری۔

پس آغاز آفرینش سے ہی مونث کو کمزور اور مذکر کو اعلیٰ اور طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ عربی زبان میں بھی مذکر کا صیغہ کامل قوت اور قدرت والے پر دلالت کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ جو تمام قوتوں کا سر چشمہ اور وراء الوراء طاقتوں کا مالک ہے اس نے اپنے لئے وہ صیغہ استعمال فرمایا ہے جو انسانوں کی نظر میں بھی اس کی ذات کے قریب ترین قرار پاتا ہے۔

ورنہ قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جو تشبیہات بیان ہوئی ہیں وہ سب استعارہ کے طور پر ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ کی مصداق ہے جیسا کہ فرمایا۔ فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ مِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ۚ یَذۡرَؤُکُمۡ فِیۡہِ ؕ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ھُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ۔(الشوریٰ:۱۲)یعنی وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے ساتھی بنائے ہیں اور چارپایوں کے بھی جوڑے بنائے ہیں اور اس طرح وہ تم کو زمین میں بڑھاتاہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ بہت سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خدا شناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔ یہی طریق قرآن شریف نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے۔ چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خدا سنتا، جانتا، بولتا، کلام کرتا ہے۔ اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کیلئے یہ بھی فرماتا ہے لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ …یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۷،۳۷۶)

پھر فرمایا:ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنز یہی۔ اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت اِس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کیلئے اپنے ہاتھ آنکھ محبت غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖکہہ دیا ۔(چشمہ ٔ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۷۷)

سوال:کینیڈا سے ایک مربی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی کو عمداً گمراہ کرنے والے کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا موقف ہے کہ اسے دوگنا عذاب ملے گا۔ جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے ترجمۃ القرآن کلا س(سورہ اعراف) میں فرمایا ہے کہ جب کفار جہنم میں کہیں گے کہ ہمارے سرداروں کو دوگنا عذاب دے تو اللہ کہے گا کہ ساروں کو دوگنا عذاب ملے گا۔اس کا کیا جواب ہے؟حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶؍نومبر ۲۰۲۳ء میں اس استفسار کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اصل بات یہ ہے کہ آپ نے اچھی طرح مطالعہ ہی نہیں کیا اور سرسری سی تحقیق کر کے سمجھ لیا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے تراجم میں اختلاف ہے۔ حالانکہ ان میں بالکل بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔

چنانچہ تفسیر صغیر میں سورۃ اعراف کی اس آیت کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ ’’یہاں تک کہ جب سب اس (آگ) میں داخل ہوچکیں گے تو ان میں سے آخری (داخل ہونے والی جماعت) اپنے سے پہلی کے متعلق کہے گی اے ہمارے ربّ ان لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا۔ پس تو ان کو دوزخ میں کئی گنے زیادہ عذاب دے (اس پر وہ) فرمائے گا‘ سب کو ہی زیادہ عذاب مل[۲] رہا ہے لیکن تم جانتے نہیں۔‘‘

نیز اس ترجمہ کے فٹ نوٹ میں درج ہے کہ’’[۲] عذاب ہمیشہ زیادہ ہی معلوم ہوا کرتا ہے۔ حتّٰی کہ ہر بیمار سمجھتا ہے کہ شاید میری بیماری زیادہ ہے اور دوسرے کی کم۔‘‘

اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ترجمہ قرآن میں اس آیت کا یہ ترجمہ درج ہے کہ ’’یہاں تک کہ جب وہ سب کے سب اس میں اکٹھے ہو جائیں گے تو ان میں سے بعد میں آنے والی اپنے سے پہلی کے بارہ میں کہے گی اے ہمارے ربّ! یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ پس ان کو آگ کا دوہرا عذاب دے۔ وہ کہے گا کہ ہر ایک کو دوہرا (عذاب) ہی مل رہا ہے لیکن تم جانتے نہیں۔‘‘

نیز حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کی تشریح میں مزید فرماتے ہیں: جب کو ئی قوم اس میں داخل ہوگی وہ اپنی ساتھنوں پر لعنتیں ڈالے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں جمع ہو جائیں گے۔ ان میں سے بعد میں آنے والے پہلوں سے کہیں گے، اے ہمارے ربّ! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا پس ان کو آگ میں سے دوگنا عذاب دے۔

اب یہاں سے ان کی فطرت کا بھی پتہ چل جاتا ہے، یعنی فطرت گندی ہے،ان کو اپنے ساتھیوں سے کوئی تعلق نہیں قُلُوبُهُمْ شَتَّى۔ بجائے اس کے کہ رحم آئے ان پرکہ اے خدا! ہمیں بھی بخش دے ان کو بھی بخش دے دونوں بڑے گناہگار تھے۔دونوں Sadism کے بیمار ہیں، ان کو مزا اس بات میں آتا ہے کہ کسی کو دکھ پہنچے اور تکلیف پہنچے۔ اپنی آگ تو ٹھنڈی نہیں کر سکتے ،کہتےہیں کہ اس کا تو مزا آجائے ناں ، یہ ہم سے زیادہ جلیں۔ اس لیے چونکہ یہ پہلے آئے تھے ہمارے ذمہ دار تھے، ان کو دوہرا عذاب دے۔وہ فرمائے گا کہ تمہیں کیا پتہ کہ ہر ایک کا عذاب بہت زیادہ ہے دوگنا تگنا ہو رہا ہے۔جو محسوس کرتا ہے، اسی کو پتہ چلتا ہے۔ تو تمہارا بھی ضعف ہے ان کا بھی ضعف ہے۔ لیکن تمہیں ایک دوسرے کی خبر نہیں کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ (ترجمۃ القرآن کلاس نمبر ۸۸ سورۃ الاعراف آیات ۳۹)

پس دونوں تراجم میں جہنم میں جانے والے دونوں گروہوں کو زیادہ عذاب دیے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ لہٰذا ان دونوں تراجم اور تشریحات میں کسی قسم کا کوئی تضاد یا اختلاف نہیں پایا جاتا۔

سوال: یوکے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ آجکل عورتیں جو آپریشن کے ذریعہ اپنے جسمانی اعضاء مثلاً ناک اور ہونٹ وغیرہ کو چھوٹا بڑا کر کے تبدیلیاں کرواتی ہیں، کیا یہ جائز ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اگر تو کوئی جسمانی نقص ہو، جسے دُور کرنا مقصود ہو تو اس طریق علاج کے ذریعہ اس نقص کا علاج کروانا جائز ہے۔ لیکن صرف فیشن کے طور پر ایسا کروانا جائز نہیں۔ کیونکہ صرف حسن کے حصول کی خاطر ایسے کام کرنا، جن کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، آنحضور ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔(صحیح بخاری کتاب اللباس بَاب الْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ)اور اس ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حضورﷺ کے وقت یہود میں فحاشی رائج تھی اور مدینہ میں فحاشی کے اڈے بھی موجود تھے، جن میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے حسن کے حصول کی خاطر جسموں کو گدھوانے، چہروں کے بال صاف کروانے، سامنے کے دانتوں میں خلا بنوانے اور بالوں کو پیوند لگوانے جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں، اس لیے رسولِ خدا ﷺ نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو ایسے کاموں سے منع فرما دیا۔

چنانچہ حضرت عائشہؓ اسی قسم کی ایک حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ الواصلہ (بالوں میں پیوند لگانے والی) سے مراد وه عورت نہیں جو تم مراد لیتے ہو۔ کیونکہ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں کہ اگر کسی عورت کے بال بہت کم اور اتنے ہلکے ہوں کہ ان میں سے اس کے سر کی جلد نظر آتی ہو اور وہ اپنے بالوں كے ساتھ سیاه روئی كی میڈھیاں یا چٹیا جوڑ لے۔یاد رکھو ایسی عورت ہر گز واصلہ نہیں ہے۔ اصل میں واصلہ وه ہے جو اپنی جوانی میں فاحشہ ہو اور جب بوڑهی ہوجائے تو دلالی کا کام کرنے کے لیے سر پر چٹیا لگا لے۔ (کیونکہ اس کے بڑھاپے کی وجہ سے) کوئی گاہک اس کے پاس نہیں آتا۔ اور( جوکوئی پرانا گاہک اس کے پاس آتا ہےتو ) وہ دونوں (یہ عورت اور اس کا یہ گاہک)اس بدکاری کی وجہ سے ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔(کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی۔ باب الشین۔ حدیث نمبر۷۱۷)

پس اسلام نے اعمال کا دار مدارنیتوں پر رکھا ہے۔اس لیے اگر کوئی جسمانی نقص یا کوئی بیماری ہو جسے دور کرنے کے لیے اس قسم کے آپریشن کا طریق علاج اختیار کر کے اس جسمانی عیب کو دور کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے ایسے کام کرنا جائز نہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۰۵)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button