نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۷؍مئی ۲۰۲۶ء بروز جمعرات بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم مرزا عمران بیگ صاحب ابن مکرم مرزا منصور بیگ صاحب (ریڈنگ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم مرزا عمران بیگ صاحب ابن مکرم مرزا منصور بیگ صاحب(ریڈنگ۔یوکے)

5؍مئی 2026ء کو 47 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، جماعت کی خدمت کےلیے ہر وقت مستعد رہنے والے، بڑے نیک،فرمانبردار اور مخلص انسان تھے۔آپ نے خدام الاحمدیہ میں قائد مجلس، ریجنل قائد اورمجلس خدام الاحمدیہ یوکے کی نیشنل عاملہ میں بطور مہتمم خدمت خلق، خدمت کی توفیق پائی۔ گذشتہ کئی سالوں سے کینسر کا مرض ہونے کے باوجود جلسہ سالانہ یوکے پر بطور ناظم ٹرانسپورٹ بڑی مستعدی کے ساتھ خدمت بجالارہے تھے۔ پسماندگان میں والد اور اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ آپ مکرم مرزا عبد الرشید صاحب (سیکرٹری ضیافت جماعت یوکے) کے قریبی عزیز تھے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم سلطان احمد صاحب ابن مکرم محمد اسماعیل صاحب (آف انڈونیشیا۔ حال ربوہ)

23؍فروری2026ء کو 65 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت حاجی رحمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام و سابق امیر جماعت راہوں ضلع جالندھر کے پڑنواسے تھے۔مرحوم صوم وصلوۃ کے پابند، تہجد گزار ا، بڑے نیک، مخلص اور دیندار انسان تھے۔ آپ نہ صرف چندوں میں باقاعدہ بلکہ تمام مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ بہت سے مستحق خاندانوں کےگھروں کے اخراجات کی ادائیگی کا ذمہ لیا ہوا تھا۔ وفات سے قبل آپ ربوہ میں اپنے محلہ (دار الرحمت شرقی ب) میں جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔مرحوم نے شیخو پورہ میں Honda Factory میں 35 سال Exective Manager کی حیثیت سے کام کیا۔ اس دوران مخالفت ہوئی، نفرت کا اظہار کیا گیا حتّٰی کہ آپ کے برتن بھی علیحدہ کر دیے گئے لیکن مرحوم نے تمام حالات کا بہت دلیری سے مقابلہ کیا۔ آپ کو متعدد بار یوکے آنے کا موقع بھی ملا اور جب حضور انور سے ملاقات ہو جاتی تو اکثر یہ کہتے کہ آج میرا یہاں آنے کا مقصد پورا ہو گیا ہے۔ مرحوم بڑے ہمدرد، صابر، ملنسار، اور سب کا خیال رکھنے والے مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا، ایک بیٹی، چھ بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔

۲۔مکرم مظفر احمد گوندل صاحب ابن بشیر احمد گوندل صاحب ( میر پورخاص سندھ)

5؍مارچ2026ء کو 86 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے بچپن میں اپنے والد کی شہادت کا صدمہ بڑے صبر وحوصلہ سے برداشت کیااوراپنے بڑے بھائی کے ساتھ مل کر والدہ اور بہن بھائیوں کی کفالت کی۔1968ء میں بطور پرائمری استاد ملازمت کا آغاز کیا اور 28 سال تک اپنے گاؤں میں پڑھاتے رہے۔ آپ نے اپنی تمام زندگی بڑی محنت اور ایمانداری سے بسر کی۔ سرکاری ملازمت کے ساتھ کاروبار اور زمیندارہ بھی جاری رکھا۔ پنجوقتہ نمازوں کے پابند اور چندہ جات میں باقاعدہ،بڑے صابر وشاکر، خدمت گزار، مہمان نواز،مخلص اور باوفا انسان تھے۔ تمام عمر غرباء مساکین، رشتہ داروں اور ہمسائیوں کی مالی مدد کرتے رہے۔ اپنے تمام بہن بھائیوں اور بچوں کی تعلیم وتربیت بھی بڑے عمدہ رنگ میں کی۔ آپ پنجابی اور اردو کے بہترین شاعر اور بہترین خطاط بھی تھے۔ آپ ایک کامیاب داعی الی اللہ بھی تھے۔ مقامی سطح پر بطور سیکرٹری دعوت الی اللہ خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے نواسے مکرم با صر اقبال گوندل صاحب (واقف زندگی) شعبہ نیشنل سمعی و بصری جرمنی میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۳۔مکرم فرید احمد صاحب ابن مكرم منور احمد صاحب (زعیم انصار اللہ حلقہ النور ضلع جھنگ)

15؍مارچ 2026ء کو 58سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم جماعتی کاموں میں ہمیشہ بڑے سرگرم رہتے۔ آپ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند،ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ بیڈمنٹن کے اچھے کھلاڑی تھے اور فروری 2026ء میں انصار اللہ پاکستان کی سپورٹس ریلی میں بیڈ منٹن کا انعام بھی جیتا۔ آپ نے جماعت جھنگ صدر کے سیکرٹری تحریک جدید اور اپنے حلقہ میں سیکرٹری مال اورزعیم انصار اللہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ کسی بھی جماعتی کام کے لئے انکار نہ کرتے تھے۔ وفات کے روز بھی نائب ناظم انصار اللہ علاقہ کے ساتھ اپنے حلقہ النور میں حضور انور کا سلام گھر گھر پہنچایا۔اس کے بعد طبیعت خراب ہونے پر خود ہی ہسپتال چلے گئے اورمیڈیسن لے کر گھر آگئے۔ روزہ کی حالت میں دوبارہ طبیعت خراب ہوئی تو سنبھل نہ سکے اور ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اللہ کوپیارے ہوگئے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ اور ضعیف والدہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

۴۔مکرم محمد نواز طارق صاحب ابن مکرم ملک ولی محمد کھوکھر صاحب (گاؤں ہجکہ شریف تحصیل بھیرہ ضلع سرگودھا)

3؍فروری 2026ء کو 73سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ ریٹائرڈ فوجی تھے اور جوانی میں خود بیعت کرکے احمدیت میں شامل ہوئے۔مرحوم کو بڑی باقاعدگی سے عبادات اور مالی قربانی کرنے کی توفیق ملتی رہی۔ ربوہ قیام کے دوران اپنے محلہ میں سیکرٹری دعوت الی اللہ اور انصار اللہ میں منتظم تربیت کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ دعوت الی اللہ کی کلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے نیز دعوت الی اللہ کے دورہ جات میں بھی جایا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ اور پانچ بیٹے شامل ہیں جو فی الحال احمدی نہیں ہیں۔آپ مکرم راجہ نصیر احمد ناصر صاحب (سابق ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ) کی خالہ کے بیٹے تھے۔

5۔مكرم ڈاكٹر محمود عبد العظیم صاحب (آف مصر)

9؍مارچ 2026ء كو مختصر علالت كے بعد 75 سال كی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ حق كی تلاش میں مختلف مكاتبِ فكر كا مطالعہ كیا مگر كہیں تسلی نہ ہوئی۔ پھر 2007ء میں ایک دن اچانک ایم ٹی اے دیکھا اور کچھ عرصہ بعد جماعت سے رابطہ کیا تو جماعت نے مکرم فتحی عبد السلام صاحب مرحوم کو ان کے پاس بھیجا جن کے ساتھ کچھ عرصہ سوال وجواب ہوتے رہے اور بالآخر 2008ء میں آپ نے بیعت کر لی۔ آپ كے بیعت كرنے پر پورے خاندان نے بھی بیعت كی سعادت حاصل كی۔جب آپ نے بیعت كی تو آپ كی بڑی مخالفت ہوئی مگر آپ ثابت قد م رہے اور اپنے ساتھ بیعت کرنے والوں سے بھی یہی کہتے كہ ابتلاؤں كا آنا لازم ہے۔لہٰذا تم صبر کرو اور خلافت اور جماعت سے چمٹے رہو۔ بیعت کے بعد آپ نے اپنا گھر نماز سنٹر بنایا جہاں نماز جمعہ اور تراویح ادا كی جاتی ہیں۔ مرحوم دینی اور دنیوی كتب كے مطالعہ كے شوقین تھے۔اكثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام كی كتب كا مطالعہ كرتے رہتے تھے۔ خلیفۂ وقت سے شدید محبت ركھتے اور ہمیشہ خلافت سے وابستگی كی تلقین کرتے تھے۔آخری عمر تك روزے ركھے حتّٰی كہ وفات كے دن بھی روزے سے تھے اور محض ایك دن بیمار رہ كر اللہ تعالی كو پیارے ہو گئے۔ مرحوم بڑے سخی، منكسر المزاج، بردبار اور منصف مزاج انسان تھے۔ مہمان نوازی آپ كی خاص صفت تھی۔ سارا گاؤں شادی بیاہ اور جھگڑوں كے فیصلوں كے لیے آپ كی طرف رجوع كرتا۔ پسماندگان میں دو بیٹے، تین بیٹیاں اور متعدد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں جو سب الحمدللہ احمدی ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button