کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

اسلام اور دوسرے مذہب میں خدا کا تصوّر

یہ دین یعنی اسلام جو سچا مذہب ہے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو ملا ہے اس کی سچائی کی یہ زبردست علامت ہے کہ انسانی ضمیر اور فطرت جس قسم کا خدا چاہتی ہے قرآن کریم نے ویسا ہی خدا پیش کیا ہے یعنی اس قسم کے صفات سے متّصف اسے بیان کیا ہے۔لیکن چونکہ مقابلہ کے بغیر کسی کی خوبی اور عمدگی کا پتا نہیں لگ سکتا۔اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کسی قدر مقابلہ دوسرے مذاہب سے کیا جاوے۔اگرچہ ہمارا یہ مذہب ہے اور قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ کُل عالَم کا ایک ہی خدا ہے۔لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مثلاً ہندوؤں کا خدا تو اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ وہ خدا جو اپنے خیالات اور عقائد کے موافق ہندوؤں نے پیش کیا ہے یا عیسائی جس قسم کا تسلیم کرتے ہیں۔نعوذ باللہ یہ کبھی بھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی اور خدا کی مخلوق ہیں۔غرض جب ہم اس خدا کا مقابلہ ان خداؤں سے (جو دوسرے لوگوں نے پیش کیے ہیں) کرتے ہیں تو صاف طور پر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ خدا جو قرآن شریف نے یا اسلام نے پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے۔مثلاً اسی مسئلہ عفو گناہ کے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔خواہ انسان کتنے ہی گناہ کرے لیکن جب سچے دل سے توبہ کرلے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے باز آجاوے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے لیکن اس کے بالمقابل ہندوؤں نے جس خدا کو پیش کیا ہے وہ اس کے متعلق ہمیںیہ بتاتے ہیں کہ وہ ایسا خدا ہے کہ وہ ایک گناہ کے بدلے کروڑوں جُونوں میں ڈالتا ہے اور جوئیں، پسّو،مچھر، درند، چرند یہاں تک کہ پانی اور ہوا کے کیڑے یہ سب انسان ہی ہیں جو اپنی شامتِ اعمال کی وجہ سے سزائیں بھگتنے کے واسطے ان جونوں میں آئے ہوئے ہیں۔دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ جس قدر مخلوقات انسان کے سوا نظر آتی ہیں وہ سب انسان کے گناہوں کے طفیل ہے اور خدا تعالیٰ کو (معاذ اللہ) اب تک ان پر کوئی رحم نہیں آتا اور وہ ایسا سخت دل پرمیشر ہے کہ وہ رحم کر ہی نہیں سکتا۔

جب یہ عقیدہ رکھا جائے گا کہ ہر ایک گناہ کی سزا میں ضرور کئی کروڑ جونوں میں جانا پڑے گا تو گناہ کی معافی اور رحم اور کرم پرمیشر میں کہاں پایا گیا؟ کیونکہ جونوں کے اس چکر سے تو کبھی نجات ہی نہیں ہے حالانکہ فطرتِ انسانی ایک ایسا خدا چاہتی ہے جو انسانی کمزوریوں پر رحم کرتا ہو اور انسان کے نادم اور تائب ہونے پر اس کے قصوروں کو معاف کر دے کیونکہ خود انسان میں بھی یہ وصف ایک حد تک پایا جاتا ہے۔پھر تعجب کی بات ہوگی کہ انسان تو توبہ اور معافی پر قصور معاف کر دے اور خدا تعالیٰ ایسا کینہ توز (معاذ اللہ ) ہو کہ اسے کسی طرح رحم ہی نہ آوے؟ یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے بلکہ صحیح اعتقاد وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ خدا تعالیٰ بڑا ہی کریم اور رحیم ہے اور وہ سچے رجوع اور حقیقی توبہ پر گناہ بخش دیتا ہے۔

(ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۳۳۱ تا ۳۳۳، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button