کلام حضرت مسیح موعود ؑ

الا اے کمر بستہ! بر افترا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

تو خود ناقصی و دنی الصفات منه تہمت نقص بر پاک ذات
تُو تو آپ ناقص ہے اور دنیُّ الصفاتہے اس لئے پاک خدا کی پاک ذات پر ناقص ہونے کا عیب مت لگا


خیالات بیہودہ کردت تباه خود از پائے خود اوفتادی به چاه
بیہودہ خیالات نے تجھے برباد کر دیا اور خود اپنے پیروں سے چل کر تو کنوئیں میں جاپڑا


خیالت شبے ہست تاریک و تار فزوده برآں شب زکیں صد غبار
تیرے خیالات رات کی طرح تاریک و تار ہیں جس پر تیرے کینے کی وجہ سے سو پردے پڑ گئے ہیں


نه دل را چو دُزداں بشب شادکُن بترس و ز روزِ سزا یاد گن
چوروں کی طرح اپنے دل کو رات ہونے پر خوش نہ کر بلکہ ڈر اور سزا کے دن کو یاد کر


اگر در ہوا ہمچو مرغاں پری وگر بر سرِ آب ہا بگذری
اگر تو پرندوں کی طرح ہوا میں اڑے۔اور اسی طرح پانیوں پر چلے


وگر ز آتش آئی سلامت بروں وگر خاک را زر کُنی از فسوں
اور آگ میں سے بھی سلامت نکل آئے اور جادو سے مٹی کو سونا بھی بنادے


نیاری که حق را کُنی زیر و پست مکن ژاژخائی چو مجنون و مست
پھر بھی یہ ممکن نہیں کہ تو حق کو تباہ کر سکے۔پس دیوانوں اور مدہوشوں کی طرح بکواس نہ کر


خدا هر که را کرد مهر مُنیر نه گردد ز دست تو خاک حقیر
جس کو خدا نے چمکدار سورج بنایا ہے وہ تیرے ہاتھوں حقیر مٹی نہیں بن سکتا


دل خود بہرزہ مسوز اَے دنی نہ کاہد ز مکر تو افزودنی
اے ذلیل انسان اپنے دل کو بے فائدہ نہ جلا بڑھنے والی چیز تیری چالاکیوں سے گھٹ نہیں سکتی


بهارست و بادِ صبا در چمن کُند نازها با گل و یاسمن
موسم بہار ہے اور بادصبا چمن میں گلاب اور چنبیلی کے ساتھ ناز کر رہی ہے


ز نسرین و گلہائے فصلِ بہار نسیم صبا مے وزد عِطر بار
سیوتی اور فصل بہار کے پھولوں سے مہکتی ہوئی ہوا خوشبو اڑاتی ہوئی چل رہی ہے


تو اے ابله افتاده اندر خزاں ہمہ برگ افشانده چوں مفلساں
(لیکن) اے بے وقوف تو خزاں میں پڑا ہوا ہے اور مفلسوں کی طرح تیرے سب پتے جھڑ گئے ہیں

(درثمین فارسی مترجم صفحہ ۱۰۵-۱۰۶)

مزید پڑھیں: قصیدہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button