حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں شدید آتشزدگی کے واقعے میں چھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ آگ لگنے کے کئی گھنٹوں بعد بھی اسے مکمل طور پر بجھایا نہ جاسکا، جس سے تین منزلہ عمارت کا بڑا حصہ جل چکا ہے اور عمارت کے پلرز کمزور ہوگئے ہیں جس کے گرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ دھوئیں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو اور پاک بحریہ کی ٹیمیں آگ بجھانے اور امدادی کارروائی میں مصروف ہیں، جبکہ کئی افراد ابھی بھی لاپتا ہیں اور اہل خانہ ہسپتالوں میں اپنے عزیزوں کی تلاش میں ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر گیس لیکیج کی وجہ سے پھیلی۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پولیس، رینجرز اور متعلقہ ادارے امدادی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں

٭…لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران چار افراد زخمی ہوئےجنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ایک مظاہرہ کرنے والا شخص سفارت خانے کی بالکونی کے ذریعے چھت پر چڑھ گیا اور ایرانی پرچم اتار دیا، جس پر اسے حراست میں لے لیا گیا۔ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر اشیاء پھینکی گئیں جس سے بعض افسران زخمی ہوئے۔ پولیس نے پرچم اتارنے والے شخص کو مجرمانہ نقصان، غیر قانونی داخلے اور پولیس پر حملے کے الزامات میں گرفتار کیا۔ ایمبولینس سروس کے مطابق چار افراد کو ہسپتال منتقل جبکہ دو کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔

٭…انڈونیشیا میں ایک چھوٹا مسافر طیارہ لاپتا ہوگیا جس میں گیارہ افراد سوار تھے، جن میں تین مسافر اور آٹھ عملے کے ارکان شامل ہیں۔ علاقائی طیارہ اے آر ٹی 42-500 یوگیا کارتا سے مکاسر کے لیے روانہ ہوا تھا تاہم ایئرپورٹ سے تقریباً بارہ میل قبل ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ماروس ضلع کے پہاڑی علاقے لیانگ لیانگ میں طیارے کے ملبے کے آثار دیکھے گئے ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے ساٹھ اہلکار موقع پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ طیارے کی تلاش جاری ہے۔

٭…ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اسلامی کے راہنما گلبدین حکمت یار کی ہسپتال میں عیادت کی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انور ابراہیم نے ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے پرانے دوست گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی جو اس وقت ملائیشیا میں زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے گلبدین حکمت یار کی جلد صحت یابی اور تندرستی کے لیے دعا بھی کی۔ واضح رہے کہ گلبدین حکمت یار گذشتہ ماہ علاج کی غرض سے ملائیشیا پہنچے تھے۔ طالبان کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد یہ ان کا پہلا بین الاقوامی دورہ تھا۔

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف احتجاج کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایرانی حکومت حالات کو قابو میں قرار دے رہی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران میں فوجی مداخلت کی دھمکیاں دیں اور عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل بھی کی تھی، تاہم بعد میں مؤقف بدلتے ہوئے کہا کہ ہلاکتیں رک چکی ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے بیان پر ردعمل میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکمران جبر اور تشدد سے حکومت چلاتے ہیں اور ناقص قیادت نے ایران کو دنیا کی بدترین جگہ بنا دیا ہے۔

٭…امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے کئی ماہ قبل وینزویلا کے وزیر داخلہ ڈیوسڈا ڈو کابیلو سے خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق کابیلو کو مادورو کا قریبی اور وفادار ساتھی سمجھا جاتا تھا، تاہم امریکا نے انہیں اسی مقدمے میں مطلوب ہونے کے باوجود گرفتار نہیں کیا۔ مذاکرات کا مقصد یہ تھا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد کابیلو اپنے زیرِ اثر سیکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس سروسز اور مسلح حامیوں کو اپوزیشن کے خلاف استعمال نہ کریں۔ واضح رہے کہ ۳؍جنوری کو امریکا نے کارروائی کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا، جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ کے مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔

٭…اسرائیلی وزیراعظم آفس نے غزہ کے لیے بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے اسرائیل سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ بات چیت میں اٹھائیں گے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ غزہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔

٭…ڈنمارک میں شدید سردی کے باوجود ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر گرین لینڈ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکی کی سخت مذمت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ امریکہ گرین لینڈ کی خودمختاری کا احترام کرے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور اس کی اسٹریٹجک حیثیت اور معدنی وسائل ضروری ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ حمایت نہ کرنے والے ممالک پر تجارتی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button