متفرق مضامین

۲۵؍اپریل: ورلڈ پینگوئن ڈے

پینگوئن کے لیے خطِ استوا کی ایک غیر مرئی ماحولیاتی سرحد

یہ ایک دلچسپ اور حیران کن حقیقت ہے کہ دنیا میں ایک ایسی ’’غیر مرئی لکیر‘‘ موجود ہے جسے جنگلی پینگوئن کبھی عبور نہیں کرتے۔ اگرچہ پینگوئن کا بنیادی مسکن برِاعظم انٹارکٹیکا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ نصف جنوبی کرّے کے مختلف حصوں تک پھیل گئے ہیں۔ آپ انہیں جنوبی امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساحلی علاقوں میں بھی دیکھ سکتے ہیں، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ کو دنیا کے نصف شمالی کرّے، خاص طور پر آرکٹک میں کوئی پینگوئن نظر نہیں آئے گا۔

اگر آپ دنیا کے نقشے پر پینگوئن کی رہائش گاہوں کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی حد یا سرحد انہیں مزید شمال کی طرف جانے سے روک رہی ہو۔ حقیقت میں یہ سرحد خطِ استوا (Equator) ہے۔ خطِ استوا زمین کے درمیان سے گزرنے والی ایک فرضی لکیر ہے جو زمین کو شمالی اور جنوبی نصف کرّوں میں تقسیم کرتی ہے۔ پینگوئن کے لیے یہ صرف ایک جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی حد ہے جسے وہ عبور نہیں کرتے۔

لاکھوں سال پہلے پینگوئن کی ابتدائی نسلیں جنوبی نصف کرے میں پیدا ہوئیں۔ وقت کے ساتھ انہوں نے ارتقائی تبدیلیوں کے ذریعے اپنی زندگی کو سمندری ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ انہوں نے اڑنے کی صلاحیت کھو دی، لیکن اس کے بدلے میں ان کے پروں نے طاقتور فِنز (flippers) کی شکل اختیار کر لی، جس سے وہ بہترین تیراک بن گئے۔ آج پینگوئن کو دنیا کے بہترین تیراک پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا میں قدیم پینگوئن کے فوسلز بھی دریافت کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ماضی میں پینگوئنز کی کچھ اقسام آج کے پینگوئن سے کہیں زیادہ بڑی تھیں۔ کچھ فوسلز سے پتا چلتا ہے کہ یہ قدیم پینگوئن انسان سے بھی لمبے تھے اور ان کا وزن ایک سو کلوگرام سے زیادہ ہو سکتا تھا۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ پینگوئن کی تاریخ نہایت قدیم اور دلچسپ ہے۔

پینگوئن کا اصل ماحول ٹھنڈے سمندری پانی ہیں۔ ان کے جسم کی ساخت، ان کی چربی کی تہ (blubber) اور ان کے پر سب کچھ اس طرح بنا ہوا ہے کہ وہ سخت سردی میں بھی زندہ رہ سکیں۔ لیکن یہی خصوصیات انہیں گرم علاقوں میں زندہ رہنے کے قابل نہیں بناتیں۔ خطِ استوا کے قریب پانی کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے، جو پینگوئن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے جسم زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے وہ جلدی تھک جاتے ہیں یا بیمار ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، خوراک بھی ایک اہم وجہ ہے۔ پینگوئن عموماً ٹھنڈے پانیوں میں پائی جانے والی مچھلیوں، کریل اور دیگر سمندری جانداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ خطِ استوا کے قریب ان کی پسندیدہ خوراک کم یا مختلف ہوتی ہے، جس سے ان کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح گرمی اور خوراک کی کمی دونوں مل کر خطِ استوا کو ایک قدرتی رکاوٹ بنا دیتے ہیں۔

ایک اَور دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی نصف کرے میں پینگوئن کو بڑے زمینی شکاری جانوروں کا زیادہ سامنا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر قطبی ریچھ (Polar Bear) صرف شمالی نصف کرے یعنی آرکٹک میں پایا جاتا ہے۔ چونکہ پینگوئن کبھی وہاں نہیں جاتے، اس لیے وہ اس خطرناک شکاری سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ قدرتی تقسیم پینگوئن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے، کیونکہ انہیں زمین پر نسبتاً کم خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پینگوئن اور قطبی ریچھ دونوں سرد ماحول کے نمائندہ جانور ہیں، لیکن ان کی دنیا ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ ایک جنوبی قطب کا بادشاہ ہے تو دوسرا شمالی قطب کا۔ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے اور یہی بات انہیں اور بھی منفرد بناتی ہے۔

اگرچہ کچھ پینگوئن کی اقسام خطِ استوا کے قریب تک پہنچ جاتی ہیں، جیسے کہ گالاپاگوس پینگوئن(Galápagos penguin)، لیکن وہ بھی خاص حالات میں زندہ رہتے ہیں، جہاں سمندری ٹھنڈی لہریں ان کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، وہ بھی عملی طور پر خطِ استوا کو عبور نہیں کرتے۔

ہر سال ۲۵؍اپریل کو ورلڈ پینگوئن ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد پینگوئنز کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ دنیا بھر میں پینگوئن کی ۱۸؍اقسام پائی جاتی ہیں ۔ یہ دن خاص طور پر پینگوئنز کی سالانہ شمال کی جانب نقل مکانی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب وہ خوراک اور افزائش کے لیے اپنے مسکن سے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ خوبصورت پرندے نہ صرف قدرت کا حسین شاہکار ہیں بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام کے توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ بے حد ضروری ہے۔

پس یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خطِ استوا پینگوئن کے لیے ایک غیر مرئی دیوار کی طرح ہے۔ یہ کوئی جسمانی رکاوٹ نہیں، بلکہ ماحولیاتی، حیاتیاتی اور ارتقائی عوامل کا مجموعہ ہے جو انہیں اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ قدرت نے اس طرح ایک توازن قائم کیا ہے، جس میں ہر جاندار اپنے مخصوص ماحول میں بہترین طریقے سے زندگی گزار سکتا ہے۔

(ابو الفارس محمود)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: یورپ میں اسلامی فنِ تعمیر کا منفرد شاہکارLedniceکا مینار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button