حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اگر اپنی حالتوں کو نہیں بدلیں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں

یہ جو علماء کہتے ہیں کہ [آفات ارضی وسماوی کی کثرت]عذاب تو ہے لیکن مسیح کی آمد سے اس کا تعلق نہیں …قرآن کریم تو ان کی بات کو رد کرتا ہے۔ قیامت کے روز قوم اللہ تعالیٰ سے سوال کرے گی کہ بگڑنے کی پیشگوئیاں تو پوری ہو گئیں اور ہم انتظار میں رہے کہ مسیح و مہدی آئیں، یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور ہمارے علماء بھی انتظار کرواتے رہے اور بغیر مسیح و مہدی کو بھیجے تُو نے ہم پر عذاب بھیج دیا۔ یہ بھی تو سوال اٹھنا چاہئے۔ پس قوم کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے اور اگر علماء کی نیت نیک ہے تو ان کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے۔

پس اب چاہے مسلمان ممالک ہوں یا ایشیا کا کوئی ملک ہو یا افریقہ ہو یا جزائر ہوں یا یورپ ہے یا امریکہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دعوے کے بعد اگر اپنی حالتوں کو نہیں بدلیں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما چکے ہیں کہ ’’اے یورپ!تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا !تو بھی محفوظ نہیں۔ اور اے جزائر کے رہنے والو !کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ مَیں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔ وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں ‘‘۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ269)

پس جہاں یہ دنیا کے لئے انذار ہے ہمارے لئے بھی فکر کا مقام ہے کہ اپنے دلوں کو پاک کریں ہم بھی کہیں ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ان لوگوں میں شامل ہو کر خدا کے حضور حاضر نہ ہوں جن کے دامن پر کسی بھی قسم کا داغ ہو۔

(خطبہ جمعہ ۲۷؍جنوری ۲۰۰۶ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍فروری ۲۰۰۶ء)

مزید پڑھیں: ہمیں اللہ تعالیٰ کیوں نظر نہیں آتا؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button