130ویں جلسہ سالانہ قادیان (2025ء) کے اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا معرکہ آرا، بصیرت افروز اور دل نشیں خطاب
تقویٰ خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ تورات اور انجیل کی تعلیمات کا۔
قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو ۔اس تقویٰ کے لفظ میں ہی اللہ تعالیٰ نے ساری باتیں بیان کر دی ہیں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہم سے جو عہد بیعت لیا ہے اس کی ہر احمدی کو ہر وقت جگالی کرتے رہنا چاہیے اور خاص طور پر اس جلسے میں شامل ہو کر اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے تبھی ہم آپؑ کی دعاؤں کے وارث بنیں گے
ہر احمدی کو شرائط بیعت کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ بہت سارے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ شرائط بیعت اپنے گھروں میں لٹکائی ہوئی ہیں۔ تو جو مخلصین ہیں وہ ایسے بھی ہیں۔ اگر ہم انہیں لٹکائے رکھیں گے تو اس سے پتہ لگتا رہے گا کہ شرائط بیعت کیا ہیں اور ساتھ ساتھ جب ہم پڑھتے رہیں گے تو اس میں اپنی اصلاح کی بھی کوشش ہوتی رہے گی اور یہ پتہ لگے گا کہ کس طرح میں نے حقیقی احمدی مسلمان بننا ہے اور کس طرح اپنے عہد بیعت کو ادا کرنا ہے اور پورا کرنا ہے
آج ایم ٹی اے کے ذریعے سے وہ لوگ بھی جلسے میں شامل ہو رہے ہیں جو قادیان میں تو نہیں لیکن کئی دیگر ممالک میں جہاں جلسے ہو رہے ہیں وہاں شامل ہیں۔ اس وقت میرے سامنے بھی ہزاروں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کے مقامی احمدیوں نے بھی انہی شرائط پر بیعت کی ہے اس لیے ان کو بھی ان باتوں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس جلسے میں جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا مختلف قومیں شامل ہورہی ہیں۔ اس وقت مختلف مقامات پر بیٹھے ہوئے لوگ ہمیں نظر آ رہے ہیں جو مختلف قوموں سے تعلق رکھتے ہیں
دنیا بھر میں ہر احمدی جو اس وقت میری یہ بات سن رہا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی روحانی ترقی اور عہد بیعت کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا ہے، ان پر حتّی الوسع عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کبھی ان چیزوں سے دور نہیں ہٹنا
تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔ اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔ پس یہ ایک ایسی بنیادی چیز ہے جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ اگر تقویٰ ہوگا تو تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا مسلمان ہونا اور ہمارا احمدی ہونا ہمیں فائدہ دے سکتا ہے ورنہ نہیں
ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تاکہ قبولیت دعا کا سُرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتیٔ ایمان کا حصہ لے
اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں تو یاد رکھو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ فتح کے لیے ضرورت ہے تقویٰ کی۔ اگر فتح چاہتے ہو تو متقی بنو
جماعت متقی بن جائے اور نمازوں میں خشوع و خضوع کی حالت کرے تو پھر ہی کامیابی ہے۔ آج کل دنیا کے جو حالات ہیں ان میں ہمیں خاص طور پر بہت زیادہ غور کرنا چاہیے اور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ حالات اللہ تعالیٰ کے غضب کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں حقیقی طور پر اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی ضرورت ہے
ہر ایک آپس کے جھگڑے، جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو۔ آپس کے جھگڑے چھوڑ کر بھائی بھائی بن کے رہو۔ ایک قوم بن کے رہو اور ایک خاص محبت اور پیار کا سلوک تم میں پیدا ہو جائے کہ یہی چیز تمہیں بچا سکتی ہے۔ یہی جماعت کا ایک خاصّہ ہونا چاہیے۔ یہی ایک نشان ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم میں سے ہر ایک کو اس لحاظ سے بھی اپنے جائزے لیتے رہنا چاہیے۔
عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ
جس کی بیعت ہم نے کی ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ ہمارے درد میں دعائیں کر کر کے اس پر غشی طاری ہو رہی ہے، ضعف پیدا ہو رہا ہے۔ اور ہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بنیادی حقوق بھی پوری طرح ادا نہیں کررہے یا بندوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے۔ پس یہ بہت سوچنے سمجھنے اور خوف کا مقام ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے وہ برکات نہ چھین لے جو بیعت میں آکر ہمیں ملنی چاہئیں
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک ان لوگوں میں شامل ہو جن کی آپؑ کو تلاش ہے اور پھر دین کی عظمت کے لیے اور دین کو پھیلانے کے لیے ہم اپنا کام کریں، اپنے فرائض ادا کریں۔ خاص طور پر اس زمانے میں جو لوگ واقفین زندگی ہیں انہیں بہت غور کرنا چاہیے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقفِ نو کی بھی ایک خاص کھیپ تیار ہو رہی ہے۔ ان کو تو خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی اس بات کو یاد رکھنا چاہیے
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں افراد جماعت کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین
(فرمودہ مورخہ28؍دسمبر2025ء بروزاتواربمقام ایوان مسرور، اسلام آباد ٹلفورڈ، یوکے)
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ قادیان اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس جلسہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ
’’یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ ‘‘اس لیے یہ عام جلسوں کی طرح نہیں ہے۔ فرمایا کہ’’ اس جلسہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 281-282، اشتہار 7 دسمبر 1892ء)
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ یہ جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا قومیں ان میں شامل ہو رہی ہیں۔
قادیان کی وہ بستی جسے کوئی جانتا نہ تھا آج اس کے جلسے میں مختلف ممالک کے لوگ اور قومیں شامل ہیں۔ اس وقت جو اطلاع ہے اس کے مطابق سینتیس ملکوں کی نمائندگی ہے۔
پس
یہ چیز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جلسہ خدا تعالیٰ کی خاص تائید لیے ہوئے ہے۔
لیکن ہمیں ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی برکات سے ہر وہ شخص فائدہ اٹھائے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے ہوئے اپنے عہد بیعت پر قائم ہو گا۔ جو لوگ اپنی روحانی اور اخلاقی بہتری اور ترقی کی طرف توجہ نہیں دیتے وہ اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہم سے جو عہد بیعت لیا ہے اس کی ہر احمدی کو ہر وقت جگالی کرتے رہنا چاہیے اور خاص طور پر اس جلسے میں شامل ہو کر اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے تبھی ہم آپؑ کی دعاؤں کے وارث بنیں گے
کیونکہ آپؑ نے جلسے میں شامل ہونے والوں کے لیے بہت دعائیں فرمائی ہیں اور انہیں کے لیے فرمائی ہیں جو مخلصین ہیں۔
آپ نے جو یہاں جلسے میں شامل ہوئے ہیں بہت سارے علمی اور دینی موضوعات پر علماء کی تقریریں سنی ہوں گی۔ یہ بڑی فائدہ مند علمی تقریریں ہوتی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے، اکثر نہیں بلکہ سب کی سب بہت ہی مفید ہوتی ہیں لیکن
ان تقریروں سے آپ اپنی زندگیوں میں تبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب آپ اپنے عہد بیعت کو اپنے سامنے رکھیں گے۔ اس عہد کی سچے دل سے جگالی کرتے رہنا، اس کو دہراتے رہنا ہر احمدی کا فرض ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد لوگ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے بیعت کس بات پر کی تھی۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا احمدی ہونے کا مقصد کیا ہے۔ جب ہم اس بات کو، اس مقصد کو یاد رکھیں گے تو تبھی ہم اس عہد کو پورا کرنے والے ہو سکتے ہیں جس کے لیے ہم نے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت میں شامل کیا ہے۔
آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ جو لوگ اسلام کی تعلیم کو بھول چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دور ہٹ رہے ہیں ان کو دوبارہ خدا تعالیٰ کے قریب لایا جائے اور اسلام کی تعلیم کے بارے میں ان کو بتا کر انہیں دوبارہ عملی طور پر وہ مسلمان بنایا جائے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنانا چاہتے تھے۔ یہ وہی مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تھا اور آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں پاک تبدیلیاں پیدا کر کے ان کو عملی مسلمان بنایا تھا۔پس یہ بہت اہم بات ہے جسے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ عہد بیعت میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام نے بہت سی شرائط رکھی ہیں۔
اس وقت میں ان شرائط کا تفصیل سے ذکر تو نہیں کر سکتا لیکن مختصراً بیان کر دیتا ہوں۔
سب سے پہلے آپؑ نے یہی فرمایا کہ جو میری بیعت میں شامل ہوتا ہے اس کے لیے بنیادی چیز یہ ہے کہ
وہ کبھی شرک نہیں کرے گا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 159)
اور شرک کیا ہے؟ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی کسی بت کو نہیں پوجا۔ ہم نے کسی کے آگے سجدہ نہیں کیا اس لیے ہم مشرک نہیں ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس کی جو تعریف فرمائی ہے وہ ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنی چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا :’’توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الااللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہیے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہیے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔‘‘آپؑ نے فرمایا: ’’یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔‘‘
(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350)
یعنی یہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتا۔ میرے ہر کام کو کرنے، اسے انجام دینے، اس کے اچھے نتیجے نکالنے کی قدرت صرف اللہ تعالیٰ ہی رکھتا ہے۔ اس لیے میں نے اسی کے سامنے جھکنا ہے۔پس اس باریک بینی سے ہمیں شرک سے بچنا ہوگا تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں کہ بکلّی اپنے آپ کو شرک سے پاک کر لیں۔
پھر آج کل کے زمانے میں بہت ساری برائیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سے بچنے کے لیے آپؑ نے فرمایا کہ جو میری بیعت میں شامل ہوتے ہیں وہ اس بات کا بھی عہد کریں کہ
کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے اور زنا کے قریب بھی نہیں جائیں گے۔
اب زنا نظروں کا بھی ہے اور خیالات کا بھی ہے۔ آج کل میڈیا کے جو مختلف ذرائع ہیں اور نئی نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جو باتیں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں ان میں ایسی باتیں بھی آ جاتی ہیں جو اگر عملی طور پر نہیں تو کم از کم زنا کے خیالات ضرور پیدا کر دیتی ہیں۔ اس میں بد نظری بھی آ جاتی ہے۔ بہت سارے لوگ مجھے اس بارے میں لکھتے ہیں۔ پس آپؑ نے فرمایا کہ اس سے بھی بچنا چاہیے۔
ہر قسم کے فسق و فجور، ظلم، خیانت، فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچنا ہے۔
یہ ہے میری بیعت کا حق ادا کرنا۔
اپنے نفسانی جوشوں سے مغلوب نہیں ہونا
بلکہ ان سے بچ کے رہنا ہے۔ جب تم ان سے بچ کے رہو گے تب ہی میری بیعت کا حق ادا کرو گے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159)
پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میرے ساتھ عہد بیعت باندھا ہے تو
پانچ وقت کی نمازیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ادا کرنی ہیں اور تہجد پڑھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو اور استغفار میں باقاعدگی اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو دل سے یاد کرو اور اس کی حمد کو اپنا ہر روزہ ورد بنا لو۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159)
لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قریب کس طرح ہوا جاتا ہے؟
تو اللہ تعالیٰ کے قریب اسی طرح ہوا جاتا ہے جس طرح آپؑ نے فرمایا ہے اورہم سے یہ عہد لیا ہے کہ مجھ سے بیعت کرنےو الا یہ عہد کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرے گا اور اس کی حمد کرے گا۔
جب تم اس کی حمد کرو گے اوراس کے احسانوں کو یاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا قرب خود بخود حاصل ہوتا چلا جائے گا۔
پس یہ وہ بنیادی چیز ہے جو ہمیں یاد رکھنی چاہیے۔
پھر آپؑ نے فرمایا اگر میرے ساتھ عہد بیعت باندھا ہے تو یہ بھی یاد رکھو کہ
اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کبھی کسی بھی قسم کی ناجائز تکلیف نہیں دینی۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ کسی اَور طرح سے۔
پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم میرے ساتھ منسلک ہو اور میرے سے عہد بیعت باندھا ہے تو یاد رکھو کہ
ہر حال میں چاہے وہ رنج کی حالت ہے یا خوشی کی حالت ہے ۔تنگی ہے یا آسانی کی حالت ہے۔ نعمتیں مل رہی ہیں یا کوئی ابتلا اور بلائیں آ رہی ہیں۔ ہر صورت میں خداتعالیٰ کے ساتھ ہمیشہ وفاداری کرنی ہے اور ہر حالت میں راضی بقضاء رہنا ہے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159)
اسی بات پر ہم بیعت کرتے ہیں ا ور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں، لاکھوں لوگ جو ہیں وہ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ جو پیدائشی احمدی ہیں ان کے بڑوں نے بیعت کی تھی۔ اور اسی عہد بیعت کو ہم ہر سال دہراتے بھی ہیں کہ ہم یہ سب کچھ کریں گے جو شرائط بیعت میں لکھا ہے لیکن ہمارے سامنے شرائط بیعت نہیں ہوتیں باوجود اس کے کہ اس بارے میں ایک کتاب بھی اب ہمارے سامنے ہے۔ اس لیے
ہر احمدی کو ان شرائط کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ بہت سارے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ شرائط بیعت اپنے گھروں میں لٹکائی ہوئی ہیں۔ تو جو مخلصین ہیں وہ ایسے بھی ہیں۔ اگر ہم انہیں لٹکائے رکھیں گے تو اس سے پتہ لگتا رہے گا کہ شرائط بیعت کیا ہیں اور ساتھ ساتھ جب ہم پڑھتے رہیں گے تو اس میں اپنی اصلاح کی بھی کوشش ہوتی رہے گی اور یہ پتہ لگے گا کہ کس طرح میں نے حقیقی احمدی مسلمان بننا ہے اور کس طرح اپنے عہد بیعت کو ادا کرنا ہے اور پورا کرنا ہے۔
ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اٹھانے کے لیے تیار ہونا چاہیے اور کسی بھی مشکل یا مصیبت کے وقت، مصیبت کے پیدا ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے منہ نہیں پھیرنا۔
بہت سارے لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہم نے اتنی دعائیں کیں لیکن پھر بھی ہم پر مشکلات وارد ہو رہی ہیں
تو ایسے لوگوں پر واضح ہو کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہماری دعاؤں میں کمی ہے یا پھر اللہ تعالیٰ مزید ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہماری کوئی اَور جگہ ہی نہیں ہےجہاں ہم جا سکیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جھکنا ہے۔ اور جب ہم اس کے سامنے جھکتے رہیں گے اور مستقل مزاجی سے اس کی عبادت کا حق ادا کرتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ پھر فضل بھی فرمائے گا۔
پھر ہم نے یہ عہد بھی کیا ہوا ہے کہ
جو غلط قسم کے رسم و رواج یا ہواو ہوس کی باتیں ہیں ہم نے ہمیشہ ان سے بچ کے رہنا ہے اور قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان پر مکمل طور پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے ان کو اپنا دستور العمل بنانا ہے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159)
اب اس کا ہم جائزہ لیں تو خود ہی ہمیں پتہ لگ جائے گا کہ کس حد تک ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ کیا ہم اللہ اور رسول کی باتوں پر سو فیصد عمل کرنے والے ہیں ؟ اگر نہیں تو ہمیں استغفار کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ قرآنی احکام کی تلاش کر کے اس کے اوامر اور نواہی کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پھر آپؑ نے فرمایا کہ اگر میری بیعت میں آئے ہو تو پھر یہ بیماریاں بھی چھوڑنی پڑیں گی یعنی
کبھی تکبر نہیں کرنا۔ تکبر کی بیماری کو مکمل طور پر چھوڑ دو۔ نخوت کو چھوڑ دو۔ اور ان نیکیوں کو اختیار کرنا ہوگا جیسے فروتنی ہے، عاجزی ہے، خوش خلقی ہے۔ ان کو اختیار کرنا ہو گا۔ حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔
تب ہی تم حقیقی احمدی بن سکتے ہو۔ پس اس بات کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ کس حد تک ہم میں یہ باتیں ہیں۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159)
پھر آپؑ نے فرمایا میری جماعت میں شامل ہوئے ہو اور میری بیعت کی ہے تو پھر یہ بھی عہد کرو کہ
دین کی عزت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان، اپنے مال، اپنی عزت، اپنی اولاد اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ عزیز سمجھو گے۔ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو گے اور دین کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہو گے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160)
ہم اپنے مختلف اجتماعات میں اور دوسرے موقعوں پر بھی یہ عہد دہراتے ہیں لیکن یہ عہد صرف دہرانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کو ہم نے اپنے سامنے بھی رکھنا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔
پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ یاد رکھو
تم میری بیعت کا حق تب ہی ادا کر سکتے ہو جب اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی ہو اور یہ ہمدردی محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو۔ جہاں تک تمہارا بس چلتا ہے جو طاقتیں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہیں ان سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ۔
اس کے لیے مالی قربانی بھی ہے، وقت کی قربانی بھی ہے اور دوسرے طریقوں سے مدد کرنے کے ذرائع بھی ہیں۔ تو جس طریقے سے بھی انسان دوسروں کی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی مدد کر سکتا ہے وہ کرنی چاہیے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160)
پھر آپؑ نے فرمایا کہ
بیعت کا حق تو تبھی ادا ہوگا جب تم مجھ سے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے کامل اطاعت کا نمونہ دکھاؤ گے۔
فرماتے ہیں کہ
محض اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ عہد کرو کہ آپؑ کی تمام معروف باتوں اور حکموں کی تعمیل کرو گے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160)
یہ عہد کرو کہ مرتے دم تک جو شریعت کی باتیں آپؑ نے ہمیں بتائی ہیں، جو دین کی باتیں آپؑ نے ہمیں بتائی ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو فرمائیں، آپؑ نے آگے پھیلائیں یا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے حکم دیے اور جس کی تعلیم حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام دیتے رہے ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے اس دنیا میں اس لیے آئے تھے کہ اسلام کی تعلیم پر جو زمانے اور غلط قسم کے لوگوں کی وجہ سے ایک طرح کی گرد پڑ گئی تھی اس کو صاف کر کے اور نکھار کر اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور اصل دین جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اس کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے اس پر عمل کروانے کی کوشش کی جائے اور اس کے لیے ایک جماعت تیار کی جائے۔ پس یہ ہیں وہ مقاصد جن کے لیے آپؑ آئے تھے۔ آپؑ نے فرمایا کہ
جب تمہاری یہ صورتحال ہوگی کہ ہر طرح سے میری اطاعت کرو گے اور کوئی بھی دنیاوی رشتہ، تعلق یا کسی بھی قسم کی حالت یا جو خادمانہ حالت ہےاس تعلق میں روک بننے والی نہیں ہوگی تب ہی تم بیعت کا حق ادا کر سکتے ہو۔
پس یہ بہت اہم بات ہے جسے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اگر ایسا ہوگا تو تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کا حق ادا کیا اور اس کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے آج ہم اس جلسے پر بھی آئے ہیں کیونکہ آپ نے جلسے کے مقاصد کے حوالے سے یہی بتایا کہ یہ دینی جلسہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص تائید سے یہ جلسہ جاری کیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں باخدا انسان بنا سکے۔ اب ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس حد تک ان باتوں پر عمل کر رہا ہے۔
آج ایم ٹی اے کے ذریعے سے وہ لوگ بھی جلسے میں شامل ہو رہے ہیں جو قادیان میں تو نہیں لیکن کئی دیگر ممالک میں جہاں جلسے ہو رہے ہیں وہاں شامل ہیں۔ اس وقت میرے سامنے بھی ہزاروں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کے مقامی احمدیوں نے بھی انہی شرائط پر بیعت کی ہے اس لیے ان کو بھی ان باتوں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس جلسے میں جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا مختلف قومیں شامل ہو رہی ہیں۔ اس وقت مختلف مقامات پر بیٹھے ہوئے لوگ ہمیں نظر آ رہے ہیں جو مختلف قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان سب کو ان باتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ پس جہاں ہم بیعت میں آکر اور جلسوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی روحانی ترقی کے سامان پیدا کر رہے ہیں وہاں
یہ بات بھی واضح ہے کہ اس جلسے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ایک وحدت پیداکر دی ہے۔
پس
دنیا بھر میں ہر احمدی جو اس وقت میری یہ بات سن رہا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی روحانی ترقی اور عہد بیعت کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا ہے۔ ان پر حتّی الوسع عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کبھی ان چیزوں سے دور نہیں ہٹنا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے جماعت کی بہتری اور ترقی کے لیے اور اپنے لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ بیعت میں شامل ہونے کے بعد تم کو کس طرح اور کن چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہیے، کس طرح اپنی اصلاح کرنی چاہیے، کن باتوں پر توجہ دینی چاہیے مختلف مواقع پر نصائح فرمائی ہیں۔ اس کے لیے آپؑ نے بنیادی چیز یہی بتائی کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ابتدا میں انسان کو یہی فرمایا تھا کہ جو متقی ہیں وہی نصیحت حاصل کر سکتے ہیں۔
پس
تقویٰ پیدا کرو۔ تبھی تم شرک سے بچ سکو گے۔ تبھی حقوق العباد ادا کر سکو گے اور تبھی اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کر سکو گے۔پس ہمیں اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جب تک عمل نہ ہو لفّاظی سے کام نہیں ہوتا۔ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے حق بیعت کو ادا کرنا چاہتے ہو تو پہلے تمہیں تقویٰ اور طہارت کو خود اختیار کرنا پڑے گا۔ اور جب تم یہ کرو گے تو پھر تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آ جاؤ گے۔اس کے ایسے مضبوط قلعے میں آ جاؤ گے جہاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ لوگوں کو یہ شکوے پیدا ہوتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔ ہم نے دنیا کے لیے یہ دعا کی، وہ دعا کی۔ تو پہلے ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نے اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے لیے دعا کی؟ کیا اپنے اندر وہ تقویٰ پیدا کیا جس کی خدا تعالیٰ نے ہمیں تلقین فرمائی تھی ؟اگر نہیں تو پھر ہمارے شکوے بے فائدہ ہیں۔ آپؑ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو !مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔ قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اور آج کل تو یہ صورتحال اَور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے خاص طور پر غیر مسلم دنیا میں، مغربی دنیا میں یہ باتیں بہت زیادہ بڑھتی جا رہی ہیں۔ فرمایا کہ اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی نہیں رہا تمہارا، روحانیت بھی ختم ہو گئی تو پھر دنیا سے تو نفرت ہو ہی رہی ہے اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں نہ آ جاؤ کہیں۔ پھر تو ختم ہی ہو گے تم۔فرمایا کہ تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قوّت قدسی ان میں سرایت کرے۔ آپؑ نے فرمایا اگر تم نے یہ مقابلہ کرنا ہے جو قومیں نفرت اور حقارت کی نظر سے تمہیں دیکھ رہی ہوں ان کی اس نفرت اور حقارت کو دور کرنا ہے تو پھر اپنی حالتوں کو بہتر کرنا پڑے گا۔ اپنے نفسوں کو پاک کرنا پڑے گا۔ اور جب یہ کرو گے تبھی اللہ تعالیٰ کی مدد بھی تمہارے شامل حال ہو گی۔ آپؑ نے فرمایا کہ اتنا کافی نہیں ہے کہ عہد بیعت کر لیا یا یہ کہہ دیا کہ میں مسلمان ہوں۔ ایک شخص کہتا ہے کہ ہاں الحمدللہ اسلام سچا ہے اور مَیں مسلمان ہوں۔ آپؑ نے فرمایا اصل چیز تقویٰ ہے اور طہارت ہے۔ فرمایا کہ
اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی تقویٰ اور طہارت کی راہیں اختیار کر لیں تو مَیں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو اور کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 65-66، ایڈیشن 2022ء)
تم نے اپنی سرحدوں کی ایسی حفاظت کر لی ہے کہ کوئی تم پر حملہ آور کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پس یہ باتیں ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں۔
پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ
تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔ اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔ پس یہ ایک ایسی بنیادی چیز ہے جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ اگر تقویٰ ہوگا تو تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا مسلمان ہونا اور ہمارا احمدی ہونا ہمیں فائدہ دے سکتا ہے ورنہ نہیں۔
اب تقویٰ کے مدارج اور مراتب کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں کہ یہ بہت سارے ہیں یعنی تقویٰ کے مدارج بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلبِ صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پا لیتا ہے۔ بنیادی چیز تقویٰ ہے۔ اگر اسے پیدا کر لو تو باقی مدارج طے ہوتے جائیں گےاور اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی پیدا ہوتا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(المائدۃ:28) کہ اللہ تعالیٰ تو متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدہ میں تخلّف نہیں ہوتا کبھی خلاف نہیں کرتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (الرعد:32) پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لیے غیر منفک شرط ہے جس سے کوئی انکار نہیں ہو سکتا تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔ تقویٰ اختیار نہیں کیا اور کہتا ہے میری دعائیں قبول ہو جائیں۔ پھر اس کو احمق ہی کہیں گے۔ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تقویٰ شرط رکھی ہے اور یہ بنیادی شرط تمہارے اندر نہیں اور تم خالص ہو کر ان باتوں پر عمل نہیں کر رہے جن پر عمل کرنے کی تمہیں اس وقت توفیق مل سکتی ہے۔ اور جو شرائط بیعت میں بھی آپؑ نے بیان کیا ہے تو وہ تقویٰ اگر تمہارے اندر نہیں ہے تو پھر ایسے شخص کو احمق اور نادان ہی کہیں گے کیونکہ تقویٰ تو اس میں ہے نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی قبولیت کی جو شرائط ہیں وہ ایک شخص پوری نہیں کرتا اور شکوہ یہ کرتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں یا میرا اللہ تعالیٰ سے تعلق نہیں بنتا۔ فرمایا لہٰذا
ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تاکہ قبولیت دعا کا سُرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتیٔ ایمان کا حصہ لے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 92-93 ایڈیشن 2022ء)
پھر ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں۔ مَیں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اگر ضرورت ہے اعمال صالحہ کی۔ خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جا سکتی ہے تو وہ یہی اعمال صالحہ ہیں۔ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ(فاطر:11) یعنی اسی کی طرف پاک کلمہ بلند ہوتا ہے۔ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔
اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں لیکن فتح اور نصرت اسی کو ملتی ہے جو متقی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرما دیا ہے کہ کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(الروم:48)کہ مومنوں کی نصرت ہمارے ذمے ہے اور لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا (النساء:142)کہ اللہ مومنوں پر کافروں کو راہ نہیں دیتا۔ اس لیے
یاد رکھو کہ تمہاری فتح تقویٰ سے ہے۔اگر تم فتح نہیں پا رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ نہیں ہے۔ تم صحیح مومن نہیں ہو۔اگر تقویٰ ہوگا تو تبھی تم کامیاب ہو گے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 165 ایڈیشن 2022ء)
اب یہ شکوہ کہ حالات خراب ہیں، فلاں جگہ تنگی ہے تو واضح ہو کہ
ان تنگیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ سے ایک خاص تعلق جوڑیں اور باریک بینی سے اس طرح توجہ دیں کہ ہماری کوئی حرکت، کوئی عمل، کوئی سوچ کسی بھی قسم کے شرک کو لیے ہوئے نہ ہو۔ کسی قسم کا چھپا ہوا مخفی شرک ہمارے اندر نہ ہو۔
پس یہ بہت اہم بات ہے جس کی نصیحت آپؑ نے ہمیں بار بار فرمائی ہے۔ اس طرف ہمیں ہمیشہ توجہ کرتے رہنا چاہیے۔
اسی طرح بیعت کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں کہ صرف بیعت کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ ضروری ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ
اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں تو یاد رکھو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ فتح کے لیے ضرورت ہے تقویٰ کی۔ اگر فتح چاہتے ہو تو متقی بنو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 214، ایڈیشن 2022ء)
آپؑ نے توجہ دلائی کہ
ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔
پھر خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم میں سے جو کچھ کر سکتا ہے اس کو لازم ہے کہ ان حملوں کے جواب دینے میں کوتاہی نہ کرےجو اسلام پر ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس میں اپنی بڑائی نہیں ہے۔ یہاں تبلیغ کرنے والے ہیں ان کو بھی میں نصیحت کر جاؤں میں نے پہلے بھی خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ جو لوگ اپنی بڑائی بیان کرنے لگ جاتے ہیں آپؑ نے فرمایا کہ
جواب دیتے وقت نیت یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 215، ایڈیشن 2022ء)
جہاں بھی مخالف کے مقابلے میں اپنی دلیل دینی ہے یا جواب دینا ہے وہاں اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ دیکھو! تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم اس بیعت کا حق ادا کرنے والے بنو۔ جو میرے مقاصد ہیں ان کو پورا کرنے والے بھی بنو۔ ان مقاصد کو پورا کرنے والے بنو اور بیعت کا حق ادا کرنے والے بنو۔ آپؑ نے فرمایا کہ
نمازوں میں عاجزی کرو۔ تہجد کی عادت ڈالو اور تہجد میں رو رو کر دعائیں مانگو کیونکہ خدا تعالیٰ گڑگڑانے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ
جماعت متقی بن جائے اور نمازوں میں خشوع و خضوع کی حالت کرے تو پھر ہی کامیابی ہے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 216، ایڈیشن 2022ء)
یہاں بھی بعض لوگ مجھے ملتے ہیں جو باہر سے بھی آئے ہوتے ہیں اور پاکستان سے بھی بعض لوگ آ کے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں اور بہت دعائیں کرتے ہیں۔ تو میں بعضوں کو یہی کہا کرتا ہوں کہ آپ بےشک بہت دعائیں کرتے ہوں گے لیکن ابھی وہ معیار نہیں حاصل ہوا جو ہونا چاہیے، اسے اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح باقی دنیا میں بھی اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے تو معیار مزید بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ جماعت کو متقی بننا پڑے گا اس لیے نمازوں میں خشوع و خضوع کی عادت ڈالو۔ لکھنے والے لکھتے ہیں اور بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ
ایک دن بڑے درد سے آپؑ نے فرمایا کہ اصلاح اور تقویٰ پیدا کرو ایسا نہ ہو کہ تم میری راہ میں روک بن جاؤ۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 216، ایڈیشن 2022ء)
اس میں بڑا درد ہے۔آپؑ نے فرمایا کہ
اگر میری بیعت کی ہے تو پھر اپنی اصلاح بھی کرو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے کا ایک درد پیدا کرو اور اللہ تعالیٰ نے جو باتیں کی ہیں ان پر عمل کرنے کا درد پیدا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم میرے مقصد اور مشن کو پورا کرنے میں کہیں روک بن جاؤ۔
آپؑ نے فرمایا کہ
ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے استغفار بھی ضروری ہے۔
فرماتے ہیں خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوااور تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔ اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ گویا نئی زندگی ہے۔ بیعت کا فائدہ تبھی ہے جب ہم اپنی زندگی میں ایک پاک تبدیلی پیدا کریں۔ ایک ایسی نئی زندگی اور تبدیلی پیدا کریں جو واضح ہو اور نظر آئے۔ فرمایا کہ استغفار کی کثرت کرو جن لوگوں کو کثرت اشغالِ دنیا کے باعث کم فرصتی ہے یعنی لوگ دنیا کے شغلوں اور کاموں میں پڑے رہتے ہیں اور انہیں استغفار اور دین کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں ملتی، ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ فرمایا کہ یہ جو دنیا میں پڑے ہوئے لوگ ہیں ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائضِ خداوندی فوت ہو جاتے ہیں اور وہ ادا نہیں کرتے۔ اس لیے مجبوری کی حالت میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لینا جائز ہے لیکن یہ عادت نہیں ہے۔
نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے لیکن یہ کہنا کہ میں بھول گیا اور نماز بھی نہیں پڑھی یہ غلط طریقہ ہے۔ اس سے ہمیشہ ہر احمدی کو بچنا چاہیے۔
بہت سے لوگ نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔اورجلسے پر آئے ہیں تو تین دن جلسے کے دوران جہاں جہاں بھی جلسے ہو رہے ہیں انہوں نے نمازوں اور تہجد کی طرف توجہ دی ہوگی اور رپورٹیں بھی یہی آ رہی ہیں کہ توجہ دے رہے ہیں لیکن جب گھروں میں جاتے ہیں تو وہ باقاعدگی نہیں رہتی جو ہونی چاہیے۔ اس لیے آپؑ نے فرمایا کہ
حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم و زیادتی نہ کرو۔ اگر یہ صحیح طرح ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی نعمتوں سے بھی نوازتا چلا جائے گا۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 241-242، ایڈیشن 2022ء)
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں
اللہ تعالیٰ کسی کی پروا ہ نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی۔
اگر صالح بندے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ضرور پرواہ کرتا ہے۔ ان کے جذبات کا بھی خیال رکھتا ہے۔ان کی دعائیں بھی سنتا ہے۔ فرمایا آپس میں اخوّت اور محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلافات کو چھوڑ دو۔ ہر ایک قسم کے ہزل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ۔ ہر طرح کے مذاق یا کسی قسم کا استہزاجو ایک دوسرے کا کرتے ہو اسے مکمل طور پر چھوڑ دو کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔
آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔ اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کر لو اور اس کی اطاعت میں واپس آ جاؤ۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے اور اس سے بچنے والے وہی ہیں جو کامل طور پر اپنے سارے گناہوں سے توبہ کر کے اس کے حضور میں آتے ہیں۔ پس
آج کل دنیا کے جو حالات ہیں ان میں ہمیں خاص طور پر بہت زیادہ غور کرنا چاہیے اور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ حالات اللہ تعالیٰ کے غضب کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں حقیقی طور پر اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی ضرورت ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں تم یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں ساعی ہو جاؤ گے،مکمل طور پر کوشش کرو گے، تو خدا تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کسان عمدہ پودوں کی خاطر کھیت میں سے ناکارہ چیزوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور اپنے کھیت کو خوشنما درختوں اور بارآور پودوں سے آراستہ کرتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے اور ہر ایک ضرر اور نقصان سے ان کو بچاتا ہے۔ مگر وہ درخت اور پودے جوپھول نہ لائیں، جو پھل نہ لائیں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں ان کی مالک پرواہ نہیں کرتا۔ کوئی مویشی آ کے ان کو کھا جاوے یا کوئی لکڑہارا ان کو کاٹ کر تنورمیں ڈال دےاس سے مالک کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سو ایسا ہی
تم بھی یاد رکھوکہ اگر تم خدا تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے تو کسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہیں دے گی۔
پس اگر بیعت کی ہے تو سچائی سے اس کا حق ادا کرنا ہوگا تب مخالفت تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے گی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر مخالفت اور تکلیف کوتم معمولی سمجھو گے۔
پھر فرمایا پر
اگر تم اپنی حالتوں کو درست نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا ایک سچا عہد نہ باندھو تو پھر اللہ تعالیٰ کو کسی کی پروا ہ نہیں۔
ہزاروں بھیڑیں اور بکریاں روز ذبح ہوتی ہیں پر ان پر کوئی رحم نہیں کرتا لیکن اگر ایک آدمی مارا جاوے تو کتنی زیادہ بازپُرس ہوتی ہے اور اس پر شور مچتا ہے۔ سو اگر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بے کار اور لاپروا ہ بناؤ گے تو تمہارا بھی ایسا ہی حال ہوگا۔ بہت زیادہ انذار ہے۔ بہت زیادہ آپؑ نے ڈرایا۔ پھر اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ چاہیے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ تاکہ کسی وبا کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہو سکے۔ یعنی اللہ تعالیٰ پھر تمہاری دعائیں قبول کرے گا اور تم بلاؤں اور وباؤں سے محفوظ رہو گے۔ فرمایا کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پرنہیں ہوسکتی۔
ہر ایک آپس کے جھگڑے، جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو۔ آپس کے جھگڑے چھوڑ کر بھائی بھائی بن کے رہو۔ ایک قوم بن کے رہو اور ایک خاص محبت اور پیار کا سلوک تم میں پیدا ہو جائے کہ یہی چیز تمہیں بچا سکتی ہے یہی جماعت کا ایک خاصّہ ہونا چاہیے، یہی ایک نشان ہونا چاہیے۔ اس لیے ہمیں، ہر ایک کو اپنے اس لحاظ سے بھی جائزے لیتے رہنا چاہیے۔
فرمایا
عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔
چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوڑو۔ اہم کام دیکھو کیا ہیں۔ لوگ تمہاری مخالفت کریں گے پر تم ان کو نرمی سے سمجھاؤ اور جوش کو ہرگز کام میں نہ لاؤ یہ میری وصیت ہے اور
اس بات کو وصیت کے طور پہ یاد رکھو کہ ہرگز تندی اور سختی سے کام نہ لینا بلکہ نرمی اور آہستگی اور خلق سے ہر ایک کو سمجھاؤ۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 242-243، ایڈیشن 2022ء)
پس یہ نصائح آپؑ نے بڑے درد سے فرمائیں۔
پھر ایک جگہ بڑے درد کا اظہار کرتے ہوئے آپؑ نے اپنے ایک الہام کا ذکر کیا جو 22؍جون 1899ء کا ہے کہ
بہت دفعہ خداکی طرف سے یہ الہام ہواکہ تم لوگ متقی بن جاؤ اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہو گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو فرمایا۔ پس یہ بنیادی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتائی کہ اپنی جماعت میں یہ پیدا کرو۔ آپؑ نے فرمایا
اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ مَیں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچا تقویٰ اور طہارت اختیار کرے۔
پھر فرمایا
مَیں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
یہ حال ہے میرا تم لوگوں کے صدمے میں کہ اللہ تعالیٰ جماعت میں ایسا تقویٰ پیدا کر دے۔
پس اس بات کو سن کر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کس حد تک تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھانے والے ہیں
جس کی بیعت ہم نے کی ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ ہمارے درد میں دعائیں کر کر کے اس پر غشی طاری ہو رہی ہے، ضعف پیدا ہو رہا ہے۔اور ہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بنیادی حقوق بھی پوری طرح ادا نہیں کررہے یا بندوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے۔ پس یہ بہت سوچنے سمجھنے اور خوف کا مقام ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے وہ برکات نہ چھین لے جو بیعت میں آکر ہمیں ملنی چاہئیں۔
فرمایا
جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔
خود کو متقی نہیں سمجھنا۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں متقی بننا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی نصرت کو شامل حال ہونے کے لیے متقی بننا ضروری ہے۔ فرمایا
تقویٰ خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ تورات اور انجیل کی تعلیمات کا۔ قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو۔ اس تقویٰ کے لفظ میں ہی اللہ تعالیٰ نے ساری باتیں بیان کر دی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ذمہ داریاں اس تقویٰ کے لفظ میں بیان فرما دی ہیں۔ پس اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ جب ہم اس پر غور کرتے ہوئے شرائط بیعت کی طرف لوٹیں گے تو ہمیں ساری باتوں کی حقیقت بھی سمجھ آ جائے گی۔ آپؑ نے فرمایا
میں اس فکر میں بھی ہوں کہ اپنی جماعت میں سے سچے متقیوں، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں اور منقطعین الی اللہ کو الگ کروں اور بعض دینی کام ان کے سپرد کروں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 276، ایڈیشن 2022ء)
آپ نے ایسے لوگوں کی تلاش کی کہ ان کو سلیکٹ (select)کروں۔ پھر ان کو یہ کام دوں۔ پس
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک ان لوگوں میں شامل ہو جن کی آپؑ کو تلاش ہے اور پھر دین کی عظمت کے لیے اور دین کو پھیلانے کے لیے ہم اپنا کام کریں، اپنے فرائض ادا کریں۔ خاص طور پر اس زمانے میں جو لوگ واقفین زندگی ہیں انہیں بہت غور کرنا چاہیے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقفِ نو کی بھی ایک خاص کھیپ تیار ہو رہی ہے۔ ان کو تو خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی اس بات کو یاد رکھنا چاہیے
اور جیسا کہ میں نے کہا عمومی طور پر بھی ہر فرد جماعت کا فرض ہے کہ تقویٰ پر چلے اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام کی دعاؤں کا وارث بنے۔
آپؑ نے اپنے ماننے والوں کے لیے ایک دعا کی ہے کہ
’’اے ربّ العالمین! تیرے احسانوں کامیں شکر نہیں کر سکتا۔ تُو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔ میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تُو راضی ہو جائے۔ میں تیری وَجْہِ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پروارد ہو۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 217، ایڈیشن 2022ء)
پس یہ دعائیں جو آپؑ نے کی ہیں۔ یہ آپؑ نے ہمیں سکھانے کے لیے کی ہیں اور ہمیں یہ دعا کرنے کی تلقین فرمائی ہے کہ یہ دعا کرو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو، اس کے لیے دعا مانگو۔ اللہ تعالیٰ اس تعلق کو بڑھاتا چلا جائے۔ پس اگر ہم ان باتوں پر عمل کریں گے تو ہم انشاء اللہ تعالیٰ ان مقاصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے جن کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آئے تھے اور جن کے حصول کے لیے ہم نے آپؑ سے عہد بیعت باندھا ہے۔ اگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی دعاؤں کا وارث بننا ہے اور خاص طور پر ان دعاؤں کاوارث بننا ہے جو جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے آپؑ نے کی ہیں تو ہمیں ہمیشہ ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا ہوگا۔
عہد بیعت کو سمجھنے اور دہرانے کے لیے جیسا کہ میں نے کہا اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھیں یا ایسی جگہ پر رکھیں جہاں نظر پڑتی رہے۔ لوگ بہت ساری چیزیں فریم لگا کر رکھتے ہیں۔ اگر یہ بھی لگا کے رکھ لیں تو اس سے فائدہ ہی ہوگا۔
اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا ہو اور اس کوشش میں ہو کہ ہم نے شرائط بیعت کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بے شمار نصائح بہت درد کے ساتھ کی ہیں۔ بعض کو میں نے اس وقت آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔ آپؑ کی جو نصائح ہیں اور جو دعائیں ہیں جو آپؑ نے ہمارے لیے کی ہیں اگر ہم نے ان کا وارث بننا ہے تو ہمیں اپنے عملوں کو بدلنا پڑے گا۔ اپنے اندر ایک واضح تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔ جب یہ ہوگا تو تبھی ہم اس مقصد کو پانے والے ہوں گے جو بیعت کا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔
٭…٭…٭
لوگوں نے جو ترانے پڑھنے ہیں پڑھ لیں۔
ترانوں کے بعد فرمایا:
اچھا میں حاضری بتا دوں۔
اس وقت قادیان کی حاضری ہے تیرہ ہزار آٹھ سو پندرہ۔(13,815)۔
مختلف قومیں یہاں شامل ہیں۔ اور اس وقت یہاں
یوکے میں اسلام آباد میں ہماری حاضری تین ہزار تین سو پینسٹھ (3,365) ہے
اور مختلف جگہوں پہ جلسے ہو رہے ہیں۔ بعض جگہ ویسے لوگ اکٹھے ہیں، جمع ہوئے ہیں۔ چھ سات جگہ تو جلسے ہو رہے ہیں۔ افریقہ کے حالات آجکل کافی خراب ہیں اس کے باوجود وہاں لوگوں نے بڑی قربانی کی ہے۔ بڑی تکلیف برداشت کر کے جلسہ میں شامل ہوئے ہیں ۔
نائیجر میں اس وقت تین ہزار تین سو چالیس (3،340)لوگ ہیں۔ برکینا فاسو میں چھ ہزار ایک سو اکتالیس (6،141)ہیں۔ برکینا فاسو کے حالات تو خاص طور پر بہت خراب ہیں۔ سینیگال میں پندرہ سو دس (1,510)ہیں۔ فرنچ گیانا میں پچاس(50) کے قریب لوگ ہیں۔ بہت چھوٹی سی جماعت ہے۔ چیک ریپبلک میں ایک سو ستاون (157)ہیں۔ یہاں بھی چھوٹی سی جماعت ہے۔ گنی بساؤ میں پانچ ہزار پچاس (5،050)ہیں۔ ٹوگو گیارہ سو ستائیس (1,127)ہیں۔ یہ بھی چھوٹا سا ملک ہے۔ کونگو کنشا سامیں لوگ بیٹھے اس وقت سن رہے ہیں۔ ان کو ورچوئل فیڈ ہو رہی ہے۔ یہ دوہزار تین سو سینتالیس (2،347)ہیں جو وہاں ہمارے مرکزمیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جرمنی میں اس وقت وقف نو کا اجتماع ہو رہا ہے وہاں تین ہزار تین سو پچاس(3،350) واقفینِ نو جلسہ سن رہے ہیں۔ تو
یہ باہر کے لوگ جو سن رہے ہیں وہ ٹوٹل تئیس ہزار کےاوپر ہیں۔
اور اللہ کے فضل سے اس وقت گھروں کے علاوہ جو لوگ مختلف جگہوں پہ بیٹھے سن رہے ہیں یا مختلف مراکز میں بیٹھے ہوئے سن رہے ہیں۔ ان کے علاوہ جو لوگ اجتماعی طور پر جماعتی انتظام کے تحت سن رہے ہیں یا جہاں جلسے ہو رہے ہیں ان کی
کُل تعداد اس وقت تقریباً چالیس ہزار بن جاتی ہے۔
جزاک اللہ۔ اللہ تعالیٰ سب شامل ہونے والوں کو ان نیک باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔ السلام علیکم ورحمة اللہ۔
٭…٭…٭




