متفرق شعراء

پُروقار لہجہ

ممکن ہو جس قدر بھی رکھ پُر وقار لہجہ
کردار پر جو تیرے لائے نکھار لہجہ

باتوں سے تیری خوشبو آئے گلاب جیسی
صبحِ نسیم جیسا ہو گل فشار لہجہ

دل جیتنے اگر ہیں کوشش سدا یہ کرنا
ہو گفتگو میں تیری تقویٰ شعار لہجہ

اک مستقل مزاجی حاصل تجھے ہو ایسی
ہرگز نہ جو کہ بدلے پھر بار بار لہجہ

تہذیب اور تمدن کے دائرے میں رہ کر
ہر پل خلوصِ دل سے اپنا سنوار لہجہ

طرزِ کلام تیرا اتنا ہو پُرکشش سا
پہلو سے تیرے جھلکے شیریں ثمار لہجہ

تو نرمیٔ زباں سے کر گفتگو سبھی سے
بانٹے جو ہر کسی میں بس پیار پیار لہجہ

تجھ سے ملے جو کوئی بھولے دکھوں کو اپنے
دکھ بانٹتے ہوئے ہو، یوں غم گسار لہجہ

شبنم سی تازگی ہو ہر اک عمل میں تیرے
جو زندگی میں تیری لائے بہار لہجہ

اخلاق کے تقاضے یوں قدسیہؔ نبھا دے
ٹھہرے نہ تجھ پہ تیرا کچھ قرض دار لہجہ

(قدسیہ نور فضا)

مزید پڑھیں: خدمت دین کی برکات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button